گم شدہ معنی کی تلاش

محمد حسن عسکری کا تنقیدی مطالعہ

روایت کا ادراک اور اس سے بغایت جیسے جملوں کا ہم استعمال نہیں اصراف بلکہ استحصال کرتے ہیں۔ یہ رویہ کس قدر مطالعہ اور غور و فکر چاہتا ہے اس کا اندازہ محمد حسن عسکری کی تحریروں کو پڑھنے کے بعد ہوتا ہے۔ محمد حسن عسکری کسی خاص تحریک یا نظریے کی قید سے آزاد تھے۔ یہی آزادی ان کے یہاں ایسے جہان کی سیر کراتی ہے جس آنے والے مفکرین کے زاویوں پر گہرا اثر ڈالا اور انھیں ایک مضبوط فکری سلسلے کا پابند بنایا۔ پروفیسر سرور الہدیٰ کی یہ کتاب عسکری کی تحریروں کی روشنی میں ان کے رویے کو نشان زد بھی کرتی ہے اور ان کے ذریعے قائم کیے گئے مباحث کو آگے بھی بڑھاتی ہے۔ ایک اچھی تصنیف کی اس سے بہتر شناخت کیا ہو سکتی ہے۔ کتاب کے مشمولات اس طرح ہیں:
محمد حسن عسکری دلی میں
lعسکری اور متحدہ ہندوستان
lعسکری کا تصورِ روایت
lعسکری کی نظریاتی تنقید
lعسکری: ادب اور معروضیت کے مباحث
lعسکری اوراردو ادب کی موت کا اعلان
lمحمدحسن عسکری اور فنونِ لطیفہ کے مباحث
lفکشن سے متعلق عسکری کے خیالات
lجزیرے کا اختتامیہ
lعسکری کے خیالات نثر سے متعلق
lجدید نظم کے بارے میں عسکری کے خیالات
lعسکری کی میر تنقید
lعسکری کی غالب تنقید
lمحمد حسن عسکری اور اکبر الہ آبادی
lمحمد حسن عسکری کے ’مشرق‘ کی جیت اور ہار
lکلیم الدین احمد، محمد حسن عسکری اور شمس الرحمن فاروقی
lعسکری اور رینے گینوں
lمحمد حسن عسکری اور محمدحسن
lعسکری اور بودلیئر
lمحمد حسن عسکری اور جیمز جوئس
lعسکری اور ٹامس مان
lژید کے روزنامچے کا ایک ورق
lعسکری، سرمایہ داری اور تنقید
lعسکری اور کامیو کا ’طاعون‘
lعسکری اور ژولیاں باندا
lیونگ اور عسکری
lحسن عسکری سے متعلق شمس الرحمن فاروقی سے ایک گفتگو
lمحمد حسن عسکری: حالات و کوائف
mکتابیات

غالب کا خود منتخب فارسی کلام اور اس کا طالب علمانہ مطالعہ

جناب بیدار بخت صاحب کی شخصیت اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے بڑی جاذبیت رکھتی ہے۔ ان کی کتاب ’غالب کا خود منتخب فارسی کلام اور اس کا طالب علمانہ مطالعہ‘ غالب فہمی میں خوبصورت اضافہ ہے۔ غالب نے اپنی اردو اور فارسی شاعر ی کے دو انتخاب کےے تھے۔ دونوں ہی ان کی زندگی مےں شائع نہ ہو سکے۔ پہلا ذو لسانی انتخاب ’گل رعنا‘ کے نام سے 1828 مےں کےا تھا جب وہ اپنی پنشن کے سلسلے مےں کلکتہ گئے ہوئے تھے۔ گل رعنا کے اےک قلمی نسخے کی درےافت مالک رام (1906-1993) نے 1957 مےںکی تھی۔ ان کا مرتب کےا ہوا انتخاب 1970 مےں چھپا۔ گل رعنا کے انتخاب کے اےک مدت بعد غالب نے 1966 مےں نواب کلب علی خاں (1835-1887)، والیِ رام پور، کی فرمائش پر اپنی شاعری کا اےک اور ذو لسانی انتخاب کےا تھا۔ اسے امتےاز علی خاں عرشی (1904-1981) نے 1942مےں ’انتخاب غالب‘ کے نام سے مےں شائع کےا تھا۔یہ کتاب ’انتخاب غالب‘ کے متن کو ترجمے کے ساتھ متعارف کراتی ہے۔ مصنف نے اشعار کے معنی کے ساتھ ان کا زمانہ¿ تحریر بھی درج کیا ہے جس سے مفاہیم کے ساتھ غالب کے تخلیقی سفر کا بھی بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

خاتمہ’ گلِ رعنا‘ اور غالب کاسفر کلکتہ

ابو محمد سحر

خاتمہ’ گلِ رعنا‘ اور غالب کاسفر کلکتہ

غالبیات کی اکثر لاینحل گتھیاں خود غالب کے بیانات کی کوتاہیوںا ور اختلافات کے علاوہ تاریخوں کے اندراج کے سلسلے میں ان کے حیران کن روےّے کا نتیجہ ہیں۔ بیشتر تحریروں میں تاریخوں کے محذوف ہونے یا ناقص رہ جانے سے معلوم ہوتاہے کہ وہ تاریخوں کے ٹھیک ٹھیک اندراج کو کوئی خاص اہمیت نہ دیتے تھے۔ بعض تحریروں پر پہلے تاریخیں درج تھیں لیکن جب غالب نے ان کو کتابی شکل میں مرتب کیاتو تاریخیں خارج کردیں۔ جابجا یہ صورت بھی ہے کہ تاریخ اور مہینہ تو ہے لیکن سنہ غائب ہے۔ اب کوئی اللہ کا بندہ ان سے پوچھتا کہ کسی کتاب کے مندرجات میں سنہ کے بغیر صرف تاریخ اور مہینہ برقرار رکھنے کا کیا منشا تھا۔ جیساکہ راقم الحروف نے ایک اور مضمون میں لکھاہے ”تاریخوں کے معاملے میں انہوں نے ماہرین غالبیات کے ساتھ ستم ہی نہیں بلکہ ستم ظریفی بھی کی ہے، ستم اس لحاظ سے کہ تاریخ بالکل حذف کردی ہے اور ستم ظریفی اس لحاظ سے کہ دن ،تاریخ اور مہینہ لکھ کر چھوڑ دیاہے۔“کلّیاتِ نثرغالب میں دیباچہ¿ ’گل رعنا‘ سے تاریخ مطلقاً محذوف ہے تو خاتمہ¿ گلِ رعنا میں آغامیر کی مدح کی نثر کے بعد صرف ”دوم محرم الحرام“لکھا ہواہے۔ ’گلِ رعنا‘کے قلمی نسخے مملوکہ¿ خواجہ محمد حسن میں دیباچے کی پوری تاریخ درج ہے لیکن خاتمے میں آغامیرکی مدح کی نثرکے آخر میں دوم محرّم الحرام کا بھی پتانہیں۔ خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘میں مولوی فضل حق کے نام غالب کاایک فارسی خط بھی شامل ہے جو انہوں نے فیروزپور جھرکہ سے لکھا تھا۔ اس کی تاریخِ تحریر گلِ رعنایا ’کلّیاتِ نثر غالب‘ کے کسی نسخے میں نہیں ملتی۔ باندہ کے محمد علی خاں کے نام اپنے قیامِ باندہ ہی کے ایک خط میں غالب نے ان دونوں فارسی تحریروں کو نقل کیاہے لیکن اس میں بھی تاریخیں سرے سے مفقود ہیں۔1
معتمدالدّولہ آغامیر، وزیراودھ، کی مدح کی نثر در صعنتِ تعطیل غالب نے کلکتے جاتے ہوئے لکھنو¿ کے قیام کے زمانے میں ان سے ملاقات کے دوران پیش کرنے کے لےے لکھی تھی۔ جانبین کی شانِ ریاست اس ملاقات کی تاب نہ لاسکی لیکن نثر محفوظ رہ گئی اور غالب نے اسے’ گلِ رعنا‘کے خاتمے میں شامل کردیا۔ اگر دہلی سے غالب کی روانگی اور لکھنو میں قیام کی تاریخوں کاصحیح علم ہتاتواس نثرکا سنہ آسانی سے اخذ کیاجاسکتاتھا۔ سوءاتفاق کہ یہاں بھی واقعات تو اکثر معلوم ہیں لیکن تاریخیں گوشہ¿ گمنامی میں ہیں۔ شیخ اکرام کا قیاس ہے کہ غالب دوم محرم الحرام1242ھ (اگست1826ئ) سے پہلے دہلی سے روانہ ہوچکے تھے2۔مولانا غلام رسول مہر کے مطابق ”اغلب یہ ہے ہ وہ عید شوال 1242ھ کے بعد یعنی اپریل 1827 میں روانہ ہوئے ہوں3۔مالک رام صاحب کی رائے میں وہ نومبر دسمبر1826 (جمادی الاوّل1242ھ) میں دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔4 ان قیاسات میں دہلی سے غالب کی روانگی کے زمانے میں جتنا اختلاف پیدا ہوتاہے اسی نسبت سے لکھنو¿ میں قیام کی مدّت میںبھی فرق رونماہوجاتاہے جس کی وجہ سے اس نثر کے لکھنے کا سنہ1242ھ (۶۲۸۱ئ) بھی ہوسکتاہے اور 1243ھ (1827ئ) بھی۔ چنانچہ شیخ محمد اکرام 1242ھ کے حق میں معلوم ہوتے ہیں تو مولانامہر کا رجحان 1243ھ کی طرف ہے۔ سیّد اکبرعلی ترمذی اور ان کی تقلید میں سیّد وزیرالحسن عابدی نے اس مسئلے کی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرکے اس نثرکی تاریخ 2 محرم الحرام 1242ھ (5اگست1826) مان لی ہے5۔کچھ ایسی ہی صورتِ حال میں سید وزیرالحسن عابدی نے مولوی فضل حق کے نام خط کا زمانہ¿ تحریر 1825ءکے وسط میں قرار دیا ہے۔6 جیساکہ آئندہ سطور سے واضح ہوگاتاریخ وزمانہ کا تعین پہلی صورت میں صحیح اور دوسری صورت میں تقریباً صحیح ہے لیکن کچھ ایسے شواہدو دلائل کامحتاج ہے جن کی طرف اب تک خاطرخواہ توجہ نہیں کی گئی ہے۔
خاتمہ ’گلِ رعنا‘میں غالب نے لکھاہے کہ وہ نواب احمد بخش خاں سے ملاقا ت کے لےے فیروزپور جھرکہ گئے تھے چونکہ مولوی فضلِ حق کی اجازت کے بغیر سفرکرناان کی طبیعت پر بار گزراتھااس لےے ان کو بڑا دکھ ہوااور جب وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچے اور سفر کی تکان دور ہوئی توانہوں نے مولوی فضل حق کو صنعتِ تعطیل میں ایک خط لکھا۔فیروزپور میں ان کا مقصد حاصل نہ ہوااور وہ دہلی واپس آگئے۔ اس کے ایک عرصے کے بعد انہیں پھر سفرکا خیال دامن گیر ہوا۔ ہونا تو یہ چاہےے تھاکہ وہ کلکتے جاتے لیکن پہلے لکھنو¿ پہنچنے کااتفاق ہوا۔7 لیکن اپنی پنشن کے سلسلے میں 28 اپریل 1828 کو کلکتے میں انہوں نے جودرخواست گورنر جنرل کے دفترمیں پیش کی تھی اس میں یہ بیان کیاہے کہ ایک بارجو وہ دہلی سے فیروزپور کے لےے نکلے تو قرض خواہوں کے خوف کی وجہ سے دہلی واپس نہ جاسکے بلکہ فرّخ آباد ہوتے ہوئے کانپور پہنچے اور پھر لکھنو اور باندے میں قیام کرنے کے بعد کلکتے کا رخ کیا۔8 مالک رام صاحب خاتمہ ’گلِ رعنا‘ (کلّیاتِ نثرِ غالب) کے بیان کو ترجیح دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

”وہ جب سفر پرروانہ ہوئے تو چونکہ روانگی سے پہلے مولوی فضل حق خیرآبادی سے وداعی ملاقات نہیں کرسکے تھے اس لےے ان سے ملنے کو واپس گئے اور پھر دوبارہ سفر پر روانہ ہوئے۔ کلّیات کابیان صحیح معلوم ہوتاہے۔ درخواست میں انہوں نے اختصار سے کام لیااور اس کاذکر مناسب خیال نہیں کیا“۔9
چونکہ خاتمہ¿ ’گل رعنا‘ میں غالب نے یہ نہیں لکھاکہ وہ مولوی فضل حق سے وداعی ملاقات کے لےے فیروزپور سے دہلی واپس آئے تھے اس لےے ڈاکٹر محمود الٰہی نے دہلی آنے کے سلسلے میں مالک رام صاحب کے بیان کردہ اس سبب کو بے بنیاد قرار دیاہے۔ انہوں نے غالب کی درخواست کی تفصیلات اورنواب احمد بخش خاں کے بعض حالات کی مناسبت سے یہ استدلال بھی کیاہے کہ خاتمہ¿ گلِ رعنامیں غالب نے فیروزپورکے جس سفرکاذکرکیاہے اس سے وہ دہلی واپس آگئے تھے لیکن اس کے بعد انہوں نے فیروزپورکاایک اور سفرکیا۔وہاں سے نواب احمد بخش خاں کے اصرار پر وہ بھرت پورگئے اور پھر فیروزپور آئے تو دہلی واپس نہیں آئے بلکہ وہیں سے کلکتے کی طرف روانہ ہوگئے10۔ لیکن خاتمہ¿ گلِ رعنامیں کلکتے کے سفر سے قبل فیروزپور کے کسی اور سفرکاذکر نہیں کیاگیا۔ باندے کے مولوی محمدعلی خاں کے نام اپنے ایک خط میں انہوں نے مولوی فضل حق کے نام اس خط کو نقل کرنے سے پہلے جوصراحت کی ہے اس سے خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘کی طرح صرف اتنا معلوم نہیں ہوتاکہ یہ خط انہوں نے فیروزپور سے لکھا تھابلکہ یہ بھی پتا چلتا ہے کہ فیروزپورکے جس سفرسے یہ خط متعلق ہے وہ انہوں نے ”درمبادیِ بسیج سفرِ مشرق“ یعنی سفرِ مشرق کے ارادے کے اوائل میں کیا تھا11۔چنانچہ خاتمہ¿ ’گل رعنا‘میں فیروزپورکے جس سفرکاذکر ہے اس کو سفرِ کلکتہ کے سلسلے سے الگ نہیں کیا جاسکتااور یہ ماننے کے سواچارہ نہیں کہ کلکتے جانے سے پہلے فیروزپورکایہ آخری سفر تھاجو غالب نے کیاتھا۔اس کے برعکس ڈاکٹر محمود الٰہی نے اپنے قیاس کی بنیاددرخواست کے ان بیانات پر رکھی ہے۔
”سرچارلس مٹکاف کے آنے کے بعد بھرت پورکا معاملہ پیش آگیااور وہ راجہ بھرت پورکو بچانے اور راج کے شورہ پشتوں کو سزادینے میں مصروف ہوگئے۔ نواب احمدبخش خاںبھی وہاں جارہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے بھی ساتھ چلنے کوکہا۔
میں اس زمانے میں اپنے بھائی کی بیماری کی وجہ سے ایک مصیبت میں گرفتار تھا۔مزیدبرآں قرض خواہوں نے تقاضوں اور شوروغوغا سے میرا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ اس لےے میں اس سفرکے لےے کسی طرح تیار نہیں تھا۔
اس کے باوجود اس توقع پرکہ مجھے مٹکاف صاحب کی خدمت میں سلام کرنے کا موقع مل جائے میں نے اپنے بھائی کوبخاراور ہذیان کی حالت میں چھوڑا، چارآدمیوں کو اس کی نگہداشت کے لےے مقرر کیا۔کچھ قرض خواہوں کو طرح طرح کے وعدوں سے چپ کرایا۔دوسروں کی نظرسے چوری چھپے بھیس بدل کر کسی طرح کاسازوسامان لےے بغیر سومشکلوں سے نواب احمد بخش خاں کے ساتھ بھرت پور کے لےے روانہ ہوگیا۔“12
اگر اس وقت قرض خواہوں کی طرح مرزایوسف بھی دہلی میں تھے اور بھرت پور جانے سے پہلے ان کی تیمارداری اور قرض خواہوں کی تسلی کاانتظام غالب نے خود دہلی آکر کیاتھاتوہ نہایت عجلت میں دہلی آئے ہوں گے اور وہاں ان کے قیام کی مدت بہت مختصر رہی ہوگی۔اس سے خاتمہ¿’ گلِ رعنا‘کے ”بیخودی گریبانم گرفت و بازم بہ دہلی آورد“ اور ”روزگاری دراز بخاک نشینی سپری شد“13 یعنی واپس آنے اورپھر ایک عرصے کے بعد سفر پر روانہ ہونے کی توجیہہ نہیں ہوسکتی۔ فیروزپورسے دہلی کی وہ واپسی جس کا خاتمہ¿ گلِ رعنامیںذکر ہے بلاشبہ کسی ایسی ہنگامی واپسی سے مختلف ہے جس کا درخواست سے گمان ہوتاہے۔ چنانچہ کسی وقتی پریشانی میں غالب فیروزپورسے دہلی واپس آئے ہوں یا نہ آئے ہوں وہ بالآخر فیروزپور سے دہلی اس طرح واپس آئے کہ کلکتے جانے سے قبل پھر فیروزپور نہیں گئے اور اس لحاظ سے خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘کااظہار حقیقت پر مبنی ہے۔
خاتمہ¿ ’گل رعنا‘ کی عدمِ صحت پر اگر اختصارکی دلیل لائی جاسکتی ہے تو درخواست کے مفصل بیانات کی عدمِ صحت پر مقدمہ بازی کی مصلحتوں کے پیش نظر استدلال کیاجاسکتاہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کلکتے پہنچتے ہی غالب کویہ احساس دلایا جاچکاتھاکہ ان کو اپنا مقدمہ پہلے دہلی کے رزیڈنٹ کے سامنے پیش کرنا چاہےے تھا۔رائے چھج مل کے نام کلکتے سے اپنے پہلے ہی خط میں انہوں نے یہ استفسارکیا تھا:
”اگر بندہ رادر پیچ و خمِ استغاثہ حاجت بداں افتد کہ دردارالخلافت وکیلی از جانبِ خود قرارباید داد صاحب این زحمت گوارا خواہند کردیانے۔ہرچہ دراین مادہ مضمر ِضمیر باشد بے تکلف باید نوشت۔“14
چنانچہ انہوں نے اپنی درخواست میں سب سے زیادہ زور اسی پر صرف کیاہے کہ دہلی میں ان کے لےے دوبھر ہوگیاتھااور وہ وہاں کسی کو منھ دکھانے کے قابل نہ تھے۔اسی وجہ سے وہ فیروزپور سے بالارادہ کلکتے روانہ ہونے کے بجائے سرچارلس مٹکاف سے ملاقا ت کی جستجومیں سیدھے کانپور پہنچے تھے۔ مقصد یہ تھاکہ کانپورسے ان کی معیت میں دہلی واپس آئیں گے اور کسی مناسب موقع پر ان سے اپنا احوال بیان کریں گے لیکن کانپور پہنچتے ہی وہ بیمار پڑگئے اور انہیں علاج کی غرض سے لکھنو¿ جانا پڑا۔ سوال پیدا ہوتاتھاکہ اگر وہ پہلے سے کلکتے جانے کا ارادہ نہ رکھتے تھے تو باندے سے دہلی کیوں نہ لوٹ گئے۔ اس کا جواز انہوں نے یہ پیش کیاکہ جب قرض خواہوں کے ڈراور مالی مشکلات کی وجہ سے وہ فیروزپور سے دہلی نہ جاسکے تھے تو اب باندے سے دہلی کیونکر جاسکتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں یہ خیال بھی آیاکہ دہلی ہویاکلکتہ، دونوں جگہ قانون توایک ہی ہے15۔گویا کلکتے جانے کا خیال انہیں باندے میں آیاتھالیکن رائے جھج مل کے نام ان کے اس خط سے جوانہوںنے لکھنو¿ سے کانپور پہنچنے کے بعدلکھاتھایہ بات بھی ثابت ہے کہ یہ ارادہ پہلے سے تھا:
”بتاریخِ بست و ششم ذیقعدہ روز جمعہ ازاں ستم آباد برآمدم و بتاریخِ بست ونہم در دارالسّرور کانپور رسیدم و اینجادوسہ مقام گزیدہ رہگرایِ باندہ میشوم در آنجا چند روز آرامیدہ۔ اگر خدا می خواہد و مرگ اماں میدہد بکلکتہ می رسم“16
غرض یہ کہ درخواست کی ساری تفصیل و تاویل کا منشاگورنر جنرل کویہ باور کراناتھاکہ دہلی میں چارہ جوئی کرناان کے لےے ممکن نہ تھااوروہ بڑی مصیبتوں اور مجبوریوں میں کلکتے پہنچے تھے تاکہ مقامی حکام کو نظرانداز کرکے ان کی درخواست قبول کرلی جائے۔ لیکن جیساکہ اندیشہ تھا 20 جون 1828 17 کوان کی درخواست پریہی حکم صادرہواکہ مقدمہ پہلے دہلی میں پیش کیا جائے۔
سرکاری پنشن کے سلسلے میں غالب کی درخواست کی ایسی باتوںکو آنکھ بند کرکے قبول نہیں کیا جاسکتاجوان کے مفادپر کسی طرح اثرانداز ہوسکتی تھیں۔ تاہم بے ضرر حالات یا ایسے واقعات کے بیان میں وہ پہلو تہی نہیںکرسکتے تھے جوانگریز حکّام کے علم میں ہوسکتے تھے۔ درخواست میںغالب کے اس قسم کے بیانات کو اگرکچھ ایسے تاریخی واقعات سے مطابق کیا جائے جن کا صحیح زمانہ معلوم ہوسکتاہے تو ان کی نقل و حرکت کے بارے میں غیر تحقیقی قیاسات کی دھند بہت کچھ چھٹ سکتی ہے۔ مثلاً غالب فیروزپور اس وقت پہنچتے تھے جب نواب احمد بخش خاں قاتلانہ حملے کے بعد بسترِ علالت سے اٹھے تھے اور ان کی الورکی مختیاری جاتی رہی تھی۔ اس کے فوراً بعد کازمانہ وہ ہے جب دہلی کے رزیڈنٹ سرڈیوڈآکٹرلونی بھرت پور پر فوج کشی کے حکم کے خلاف گورنر جنرل لارڈ ایمبرسٹ کے ردِّ عمل کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفادے چکے18 تھے اور ان کی وفات کے بعد ان کی جگہ 26 اگست 1825 کو سرچارلس مٹکاف کا تقرر ہوچکاتھا19۔اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ غالب اپریل1825 کے لگ بھگ فیروزپور پہنچ گئے تھے اور مولوی فضل حق کے نام صنعتِ تعطیل میں ان کا خط اسی زمانے کاہے۔یہ تعیّنِ زمانی اس خط کے مندرجہ ذیل اقتباس کے بھی عین مطابق ہے:
”امّاعمِ کامگاردروہم و ہراسِ مکرواسدِ اعداودردِ عدمِ محاصلِ سرکارِ الور وملال در آمدِ دگرہا سرگرم و سو گوار و گم کردہ¿ آرام“20
دہلی سے میرزاعلی بخش خاں کے نام دوفارسی خطوں سے معلوم ہوتاہے کہ کسی زمانے میں غالب نواب احمدبخش خاں سے ملنے کے لےے بہت بے چین تھے اورفیروزپورجانے میں اس لےے متامل تھے کہ انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ نواب احمد بخش خاں دہلی آنے والے تھے۔اسی بے چینی میں انہوں نے کسی میرامام علی کی معرفت نواب احمد بخش خاں کوایک عرضداشت بھی بھیجی تھی۔ نواب سے ان کو توقع نہ تھی لیکن ان کے بعض احباب کہتے تھے کہ وہ نواب سے اپنا دردِ دل نہیں بیان کرتے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس کاتدارک نہ کریں، اس لےے وہ کوشاں تھے تھے کہ نواب سے انہیں جواب مل جائے اور وہ ان دوستانِ ناصح کو خیرباد کہہ کر مشرق کی سمت روانہ ہوجائیں۔ پھر اس صورت میں کہ نواب کے دہلی آنے کی خبرغلط ہووہ چاہتے تھے کہ ان سے ملاقات کے لےے خود فیروزپور چلے جائیں:
”یک چندبامیدِ نواب صاحب ساختم وازتاب آتشِ انتظارگداختم نشستہ ام بعد ا بیکہ مجرم بزنداں نشیند و می بینم انچہ کافر بجہنم بیند۔ بہ فیروزپور بہر آں نیامدہ بودم کہ بازم بدہلی باید آمد۔نواب صاحب مرا بلطفِ زبانی فریفتند و بکرشمہ¿ ستمی کہ بالتفات میمانست از راہ بردند میرامام علی را با عرضداشت بخدمتِ نواب فرستادہ ام یاراں میگفتند کہ توبہ نواب نمیگرائی و دردِ دل باوی نمیگوئی ورنہ از کجاکہ نواب بچارہ برنخیزد اینہا کہ میکنم از بہرِ زباں بندی ایں اداناشناسانست۔ خدا را طرح آن افگنید کہ میرامام علی زودبرگردند و بمن پیوندند تا دوستانِ ناصح را خیرباد گویم و بسر و برگی کہ ندارم بشرق پویم۔“

”شنیدہ میشودکہ نواب بدہلی می آیند باری از صدق و کذب این خبررقم کنید من آں میخواہم کہ اگر خبرِ عزیمتِ نواب دروغ بودہ باشد خود بہ فیروز پور رسم و شرف قدمبوسِ عم عالی مقدار و مسرتِ دیدارِ شما در یابم“21
یہ حالات اور خطوط بھی اپریل 1825 کے لگ بھگ غالب کے فیروزپورجانے سے قبل کے سواکسی اور زمانے کے نہیں ہوسکتے۔ فیروزپور میں نواب احمد بخش خاں کی حالت دیکھنے کے بعد غالب کی مایوسیاں اور پختہ ہوگئی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے مولوی فضل حق کو لکھاتھاکہ :
”او را مہر کو کہ کس را دل دہد و ہمم در اصلاحِ حال کس گمارد و مرا دلِ آسودہ¿ رام و طورِ آرام کوکہ سرِصداع آلودہ درکوہسار مالم و دل را درطمع امدادِ کار سالہا در ورطہ¿ طولِ امل دارم۔“22
لیکن معلوم ہوتاہے کہ نواب احمد بخش خاں کی باتوں سے پھر کچھ امید بندھی اور وہ ان کے کہنے پر بھرت پور روانہ ہوگئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے بھرت پورکاسفرکیاتھا۔ ’پنج آہنگ‘ کے پہلے دو حصے یعنی آہنگِ اوّل اور آہنگِ دوم اسی سفرکے دوران لکھے گئے تھے۔ غالب نے آہنگِ اوّل کی تمہید میں لکھا ہے:
”در سالِ یکہزارودوصدوچہل و یک ہجری کہ گیتی ستانانِ انگلشیہ بھرت پور لشکر کشیدہ وہ آں روئیں دژرا درمیان گرفتہ اند من دریں یورش باجناب مستطاب عمِ عالی مقدار فخرالدولہ دلاورالملک نواب احمد بخش خاں بہادر و گرامی بردار ستودہ خوی مرزا علی بخش خاں بہادر ہم سفر ست روزانہ برفتار ہم قدیم و شبانہ بیک خیمہ فرود می آئیم۔“ 23
دہلی کے رزیڈنٹ اور راجپوتانے میں گورنرجنرل کے ایجنٹ کی حیثیت سے سرچارلس مٹکاف کا تقرر تو 26 اگست 1825 کو ہواتھالیکن دہلی میں ان کے وارد ہونے کی تاریخ 21 اکتوبر 1825 ہے۔ نومبر میں شہرکے باہران کاکیمپ لگایا گیااور انہوں نے بھرت پورکی مسافت شروع کی24۔ چنانچہ نواب احمد بخش خاں کے ساتھ غالب بھی اسی زمانے میں بھرت پور گئے ہوں گے۔ 6 دسمبر کو مٹکاف متھرا پہنچااور کمانڈر انچیف لارڈ کمبر میئرکی فوجوں سے مل گیا25۔18جنوری 1826کو ایک بڑے قتلِ عام کے بعد بھرت پورمیں انگریزوں کو ’شاندار کامیابی‘ حاصل ہوئی۔26
اس مقام پر رائے جھج مل کے نام غالب کاایک اور خط غورطلب ہے۔جیساکہ اس کے مضمون سے منکشف ہوتاہے یہ خط فتحِ بھرپور کے بعد فیروزپور سے لکھا گیاتھا۔ نواب احمد بخش خاں کی واپسی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے غالب اس وقت بھی بڑی کشمکش اور بیچارگی میں مبتلا تھے۔ رائے جھج مل، غالب کے دیگر دوستوں کی طرح نواب احمدبخش خاں کے ہمرکاب تھے۔ لہٰذا غالب نے اپنی پریشاں خاطری کا حال لکھ کر ان سے یہ معلوم کرنا چاہاتھاکہ نواب احمد بخش خاں فیروزپور کب واپس آرہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
”ہرچند در وطن نیم اماقربِ وطن نیز قیامت است۔ ہنوز بااہلِ کاشانہ راہِ نامہ و پیام داشت۔ ہرچہ دیدہ میشود آشوبِ چشم بود و ہرچہ شنیدہ میشود زحمتِ گوش است۔ نیم جانی کہ ازاں ورطہ بروں آوردہ ام ودیعتِ خاکِ فیروزپور است کہ مراایں ہمہ اقامتِ اضطراری اتفاق افتاد و مرگی کہ منش بہزار آرزواز خدامیخواہم مگر ہمدریں سرزمین موعوداست کہ ایں قدردرنگ درافتادگیہا روداد۔ ہرچہ از اخبارِ معاودتِ نواب شنیدہ میشود راہی بحرف مدعا ی ِمن ندارد چہ سربسر آں افسانہ نکبتِ الوریاں و آرائش صفوفِ قتال وازگوں۔ گشتن کارہاے اعداد درست آمدن فال سگالانِ دولت فخریہ است۔ کلمہ¿ مختصر یکہ نواب صاحب دراینقدر عرصہ رونق افزایِ فیروزپور خواہند گشت از کسی شنیدہ نمیشود و دلِ مضطرتسلّی نمی پذیر و دوستانیکہ در رکابِ نواب صاحب اند وازین جملہ آں مہرباں بصفتِ اسد نوازی غالب پروری بیشتراز بیشتر متّصف اند واماندگانِ تنگنائے اضطراب بسلامی یاد نمی فرمایند خدارا کرم نمایند۔ واز تعیّنِ زمانِ معاودت رقم فرمایند۔“26
اگرغالب کایہ خط فتح بھرت پور اور نواب احمد بخش خاں کے فیروزپور واپس آنے کے درمیانی زمانے کاہے تو اس سے قیاس کیا جاسکتاہے کہ غالب نواب احمد بخش خاں سے پہلے بھرت پور سے فیروزپور واپس آگئے تھے اور اس صورت میں انہیں نواب احمد بخش خاں کے فیروزپور واپس آنے کاشدت سے انتظار تھا۔
بھرت پورسے سرچارلس مٹکاف کے دہلی واپس آنے کی صحیح تاریخ کاتو علم نہیں لیکن جان ولیم کے مطابق بھرت پورمیں انتظامات مکمل کرلینے کے بعد گرم ہواو¿ں کے آغاز نے ان کو لازمی طورسے دہلی واپس آنے پر مجبور کیا۔27غالب کی درخواست کے مطابق واپسی میں وہ تین دن فیروزپور میں بھی رہے تھے۔ غالب اس وقت فیروزپورمیں تے اور چونکہ نواب احمد بخش خاں نے خلافِ وعدہ غالب کا ان سے تعارف نہیں کرایاتھااس لےے ان کے دہلی جانے کے بعد وہ نواب احمد بخش خاں سے بالکل مایوس ہوچکے تھے28۔ چنانچہ خاتمہ¿ ’گل رعنا‘کی روسے مارچ 1826 یا اس کے آس پاس غالب کا فیروزپور سے دہلی واپس آجانا یقینی ہے۔
آغامیرکی مدح کی نثرکی تاریخ کے لےے دہلی سے غالب کی روانگی سے زیادہ لکھنو¿ میں ان کے قیام کے زمانے کا تعیّن اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سلسلے میںبھی اب تک رائے جھج مل کے نام ان کے ایک خط اور بعض قرائن سے صرف اتنا ثابت ہے کہ وہ ذیقعدہ 1242ھ (جون 1827ئ) میں لکھنو¿ میں تھے اور 26 ذیقعدہ1242ھ جو جمعہ کے دن وہاں سے روانہ ہوکر 29 ذیقعدہ1242ھ کو کانپور پہنچے تھے، نیز یہ کہ کانپور سے باندے اور پھر کلکتے جانے کاارادہ تھا29۔اس روشنی میں اگر آغامیر کی مدح کی نثرکی تاریخِ تصنیف2 محرم الحرام1242ھ فرض کی جائے تو لکھنو¿ میں ان کے قیام کا زمانہ جیساکہ شیخ محمد اکرام نے صراحت کی ہے تقریباً گیارہ ماہ ہوجاتاہے30۔مولانا غلام رسول مہرکے نزدیک یہ امر مستبعد ہے اور زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ غالب 26ذیقعدہ 1242ھ (27جون 1828ئ) کو لکھنو¿ سے جانے کے بعد آغامیرکے دربار میں باریابی کی توقع میں کانپور سے پھر لکھنو¿ واپس آئے اور انہوں نے2 محرم الحرام1243ھ (26 جولائی1827) کو یہ نثر سرانجام دی31۔مالک رام صاحب جب دہلی سے غالب کی روانگی کی تاریخ نومبر، دسمبر1826 قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ نثرکی تاریخ کے سلسلے میں مولانا مہرکے ہم خیال ہیں۔ لیکن ایک تو لکھنو¿ سے چل دینے کے بعد دوبارہ غالب کے وہاں جانے کے لےے کوئی ثبوت موجود نہیں، دوسرے رائے جھج مل کے نام ان کے جس خط کی بناپر لکھنو¿ سے ان کی روانگی کی تاریخ 26 ذیقعدہ1242ھ (27جون 1827) قرار پاتی ہے اسی میں انہوں نے آغامیرکاذکر بڑی حقارت سے کیاہے اور اشارةً ان سے شرفِ ملاقات حاصل نہ ہونے کے اس واقعے کابھی ذکرکیاہے جوان کے ساتھ پیش آیا تھا:
”خلاصہ¿ گفتگو ایں کہ اعیانِ سرکار لکھنو¿ بامن گرم جوشید ندانچہ درباب ملازمت قرار یافت خلاف آئینِ خویشتن داری وننگ شیوہ¿ خاکساری بود۔ تفصیل ایں اجمال جزبہ تقریر ادا نتواں کردہرچہ درآں بلاد از کرم پیشگی و فیض رسانیِ ایں گدا طبع سلطان صورت یعنی معتمدالدّولہ آغامیرشنیدہ مشیود بخداکہ حال برعکس است“ 32
ان حالات میں نثر پیش کرنے کے لےے ان کے دوبارہ لکھنو¿ جانے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
درخواست کے مطابق غالب گورنر جنرل کے ورود کی خبر پھیلنے کے بعد کانپور روانہ ہوئے تھے اور جب گورنر جنرل کانپورمیں وارد ہوئے تو وہ لکھنو¿ میں صاحب فراش تھے:
”انہی دنوں نواب گورنر جنرل بہادرکے ورود کی خبر پھیلی۔ یقین تھاکہ سرچارلس مٹکاف بھی ان کی پذیرائی اور استقبال کے لےے جائیںگے۔ لہٰذامیں نے فیصلہ کیاکہ کانپور جاو¿ں اور وہاں سے ان کی معیّت میں واپس آو¿ں اور راستے میں کسی مناسب موقع پر ان کی خدمت میںحاضر ہوکر اپنی مصیبت اور بے بسی اور قرض کاسارا افسوسناک احوال ان سے کہوں اور انصاف کا طالب ہوں۔
غرض میں اس ارادے سے فرخ آباداور کانپور کی طرف روانہ ہوگیا۔ بدقسمتی سے جوں ہی کانپور پہنچا میں یہاں بیمارپڑگیا، یہاں تک کہ ہلنے جلنے کی سکت بھی جاتی رہی۔ چونکہ اس شہرمیں ڈھنگ کاکوئی معالج نہیں ملا اس لےے مجبوراً ایک کرائے کی پالکی میں گنگاپارلکھنو¿ جانا پڑا۔یہاں میں پانچ مہینے سے کچھ اوپر بستر پر پڑا رہا۔ یہیں میں نے نواب گورنر جنرل بہادرکے ورود اور بادشاہِ اودھ کے ان کے استقبال کو جانے کی خبر سنی۔ لیکن ان دونوں میں چارپائی سے اٹھنے تک کے قابل نہیں تھا۔ غرض کہ لکھنو¿ کی آب و ہوابالکل میرے راس نہیں آئی۔33
لارڈایمہرسٹ جو اس زمانے میں گورنرجنرل تھے4 اگست 1826 ءکو کلکتے سے روانہ ہوئے تھے۔ بھاگل پور، غازی پور، رام نگر، مرزاپور، الٰہ آباد اور فتح پور ہوتے ہوئے 18نومبر 1826ءکو وہ کانپور پہنچے 20 نومبر کو بادشاہِ اودھ (غازی الدین حیدر) نے ان سے ماقا ت کی۔ دوسرے دن انگریزوں نے بادشاہِ اودھ سے جوابی ملاقات کی یکم دسمبرکو یہ قافلہ لکھنو¿ پہنچااور سال کے اختتام پر برطانوی علاقعے میں واپس آگیا۔ 8 جنوری1827کو اس کاورود آگرے میں ہوا۔34 چونکہ غالب گورنر جنرل کے ورودکی خبر پھیلنے پر کانپورکی طرف روانہ ہوئے تھے اس لےے قیاس کیاجاسکتاہے کہ وہ دہلی سے جولائی 1826 میں روانہ ہوئے ہوں گے۔ لارڈ ایمہرسٹ کے کانپور پہنچنے کی تاریخ معلوم ہونے سے اس میں کوئی شبہہ نہیں رہتاکہ وہ 18 نومبر 1826 کو نہ صرف یہ کہ لکھنو¿ میں تھے بلکہ وہاں کافی پہلے سے ٹھہرے ہوئے تھے اور وہ تمام قیاسات جن میں نومبر 1826 کے بعد دہلی سے ان کی روانگیِ سفر بیان کی گئی ہے مطلقاً ردہوجاتے ہیںچونکہ وہ 26 ذیقعدہ 1242 ھ (27جون 1827) کو لکھنو¿ سے کانپور چلے گئے تھے اور ان کے دوبارہ لکھنو¿ جانے کے بارے میں کوئی اشارہ موجود نہیں اس لےے یہ بھی یقینی ہے کہ آغامیر کی مدح کی نثر انہوں نے2 محرم الحرام 1242ھ (5 اگست 1826) کو مکمل کی تھی۔
ان مباحث کا ماحصل یہ ہے کہ غالب اپریل 1825 کے لگ بھگ فیروزپور گئے تھے۔اسی زمانے میں انہوں نے مولوی فضل حق کے نام صنعتِ تعطیل میں اپنا فارسی خط لکھا۔ نومبر 1825 میں انہوں نے نواب احمد بخش خاں کے ساتھ بھرت پورکاسفرکیااورمارچ 1826 سے کچھ قبل فیروزپور آگئے بھرت پورجانے کی تیاری میں اگر وہ نہایت عجلت میں فیروزپورسے دہلی آئے تھے تو اس سے اس سفرکے سلسلے کو منقطع نہیں کیا جاسکتاجوکلکتے روانہ ہونے سے پہلے فیروزپور کا آخری سفر تھا۔ تقریباً ایک سال کے بعد غالب مارچ 1826 میں کانپور روانہ ہوئے اور جلدہی لکھنو¿ پہنچ گئے جہاں انہوں نے 2 محرم الحرام 1242ھ (5اگست 1826) کو صنعت تعطیل میں آغامیر کی مدح میں فارسی نثر سرانجام دی۔ نومبر 1826 سے جون 1827(ذیقعدہ1242ھ) تک تقریباً آٹھ ماہ وہ یقینی طورپر لکھنو¿ میں تھے۔ جس طرح انہوں نے اپنی درخواست میں مصلحةًکلکتے کے سفر سے پہلے فیروزپورسے دہلی آنے کااظہارنہیں کیااسی طرح ان کایہ بیان کہ وہ لکھنو¿ میںپانچ ماہ سے کچھ اوپر مقیم رہے کسی مصلحت پر مبنی ہے اور جب ان کے بیان کے برخلاف لکھنو¿ میں ان کے قیام کی مدّت کم سے کم آٹھ ماہ ثابت ہے تو یہ مدّت ایک سال بھی تسلیم کی جاسکتی ہے۔
مالک رام صاحب کا قیاس ہے کہ خواجہ حاجی نے غالب کے خسر نواب الٰہی بخش خاں معروف کے انتقال (1826۔1242ھ) کے شاید ایک ہی سال پہلے وفات پائی تھی35۔سید اکبر علی ترمذی نے غالباً اسی بناپر یہ لکھ دیا ہے کہ خواجہ حاجی کاانتقال 1825 میں ہوا36۔خاندانی پنشن کے سلسلے میں غالب کی باقاعدہ کوشش کا آغاز خواجہ حاجی کی وفات سے قبل ممکن نہیں لیکن غالب کے بعض سوانح نگاروں کا یہ خیال درست نہیں کہ اس کی نوبت نواب الٰہی بخش خاں معروف کی وفات کے بعد آئی۔ 1242ھ یعنی معروف کا سالِ وفات اگست 1826 سے شروع ہوکر جولائی 1827 میں ختم ہوا تھا۔ موجودہ تفصیلات سے ثابت ہوتاہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی کوششیں اس سے قبل ہی تیز کردی تھیں اور کلکتے جانے کاارادہ کرلیاتھابلکہ وہ اس سے پہلے دہلی سے روانہ ہوچکے تھے۔ تعجب ہے کہ اثنائے سفرکے کسی خط میں انہوں نے معروف کی وفات کاذکرنہیں کیا۔ اس کے علاوہ کلکتے میںایک طرف تو وہ اس بنیادپر چارہ جوئی کر رہے تھے کہ فیروزپور سے دہلی جانا ان کے لےے ممکن نہ تھا اور دوسری طرف خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘ میں یہ لکھ رہے تھے کہ وہ فیروزپورسے دہلی واپس آئے تھے۔ فیروزپور سے دہلی واپس آنے کے تقریباً پانچ ماہ کے بعدوہ کلکتے کے لےے روانہ ہوئے تو اس مدت پر بھی خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘کایہ فقرہ کہ ”روزگاری دراز بہ خاک نشینی سپری شد“ پوری طرح منطبق نہیںہوتا۔لیکن ان وجوہ سے اگر غالب کے سفروحضرکے بعض مراحل کے تعینِ زمانی میں کچھ شکوک باقی رہ جاتے ہیں تو انہیں نئی معلومات او رمآخذ کی دستیابی کے بغیر دور نہیں کیا جاسکتا۔ محقق کے لےے دستیاب مواد کے حدود کاادراک اوراپنی تلاشِ نارساکا اعتراف ضروری ہے۔ غیر تحقیقی قیاس آرائی سے بات بٹھانے کے رجحان نے غالبیات میں ایسے گل کھلائے ہیں کہ اب اس سے جتنا اجتناب برتاجائے اتناہی بہتر ہے۔

(’غالبیات اور ہم ‘ازابو محمد سحر)

حواشی:
1۔ دیکھےے نامہاے فارسیِ غالب،مرتبہ سید اکبر علی ترمذی،ص11-15
2۔غالب نامہ،طبع دوم، ص25
3۔غالب از مہر، طبع سوم، ص92
4۔گل رعنامرتبہ¿ مالک رام، مقدمہ،ص7
5۔دیکھےے نامہائے فارسی غالب مرتبہ سید اکبرعلی ترمذی، مقدمہ¿ انگلیسی، ص21 اور گل رعنامرتبہ سید وزیرالحن عابدی، مقدمہ، ص50
6۔گل رعنامرتبہ سید وزیرالحسن عابدی، مقدمہ، ص50
7۔کلیاتِ نثرِ غالب،کانپور، 1888،ص64-65
8۔ذکرِ غالب کچھ نئے حالات از مالک رام، افکار، غالب نمبر، 1969، ص46 تا54 اور ذکر غالب از مالک رام، طبع چہارم، ص 60تا69
9۔ذکر غالب، کچھ نئے حالات از مالک رام، افکار، غالب نمبر، 1969، حاشیہ، ص51
10۔غالب کا سفر کلکتہ از ڈاکٹر محمود الٰہی، اردو، کراچی، شمارہ خصوصی بیادِ غالب، حصہ دوم، 1969، ص83 تا88 نیز کتاب، لکھنو¿، اکتوبر 1969، ص29 تا 31
11۔ملاحظہ ہو نامہاے فارسیِ غالب،10
12۔ذکر غالب کچھ نئے حالات، افکار، کراچی، غالب نمبر، ص49،50
13۔ کلیات نثر غالب،ص64
14۔کلیات نثر،غالب،ص159
15۔ذکر غالب کچھ نئے حالات، افکار، غالب نمبر،1969،ص51
16۔کلیات نثر غالب،ص158
17۔نامہ ہاے فارسی غالب، مقدمہ انگلیسی،ص32
18۔ The cambride history of India, vol. V. second indian print, 1963, p. 577
19۔ Selections from the papers of lord Metcalfe by Jhon William Kaye
ذکرِ غالب،ص 61کے مطابق آکٹرلونی کاانتقال 15جولائی 1825 کو ہوا۔
20۔کلیاتِ نثر غالب،ص64
21۔ایضاً،98-99
22۔کلیات نثر غالب،ص64
23۔ایضاً،ص4
24۔The life and corespondence of charles, lord netcalfe by Jhon Willian Kaye, Vol. II, 1858, p. 139
25۔The life and correspondence of Charles, Lord Metcalfe, Vol. II, p. 156.
26۔ کلیاتِ نثر غالب،ص155-156
27۔The life and correspondence of Charles, Lord Metcalfe, Vol. II, p. 156.
28۔ذکر غالب کچھ نئے حالات، افکار، غالب نمبر، 1969،ص50
29۔کلیاتِ نثر غالب، ص158۔ خط میں سنہ درج نہیں ہے لیکن غالب 1243ھ سے پہلے لکھنو¿ پہنچ گے تھے۔ اس لےے یہ واقعات لازمی طورپر 1242ھ سے متعلق ہیں۔
30۔غالب نامہ،ص25
31۔غالب،ص92
32۔کلیاتِ نثرِ غالب،ص157۔ An Oriental Biographical Dictionaryمیں معتمدالدولہ آغامیرکی معزولی کاسنہ 1826 درج ہے جس کا اعادہ نامہاے فارسیِ غالب (مقدمہ¿ انگلیسی۔ص21) میں بھی کیاگیاہے۔
33۔ذکرِ غالب، کچھ نئے حالات، افکار، غالب نمبر، 1969،ص50
34۔Lord Amherst By Mrs. Thackery Ritchie and Mr. Richardson Evans, pp. 176,177,179 and 180 and A Comprehensive History of India by Henry Beveridge, Vol. III, pp. 187-188
35۔ذکرِ غالب، ص57-58 ۔ مالک رام صاحب نے معروف کا سالِ وفات گلشن بے خار، ص184 کے حوالے سے درج کیاہے۔ گلشنِ بے خارمیں صرف 1242ھ ہے اور یہی سنہ ہجری بزمِ سخن مرتبہ¿ سید علی حسن خاں (ص106) اور این اورینٹل باﺅگرافیکل ڈکشنری مرتبہ¿ ٹامس ولیم بیل (ص244) میںبھی ملتاہے۔
36۔نامہاے فارسیِ غالب، مقدمہ¿ انگلیسی،ص19

غالب: دنیائے معانی کا مطالعہ

پروفیسر انیس اشفاق اردو کے ان دانشوروں میں ہیں جو اپنی جامعیت اور اس جامعیت کے اعلیٰ معیار کو نبھانے کا حوصلہ و ہنر رکھتے ہیں۔ شاعری، ناول نگاری اور تنقید ان کا خاص میدان ہے۔ انھوں نے کلاسیکی اور جدید مباحث پر جو کچھ لکھا وہ صحیح معنوں میں اضافہ کہے جانے کے لائق ہے۔ زیر نظر کتاب ان کے ایسے مضامین کو مجموعہ ہے جو غالب سے متعلق ہیں۔ اس کتاب میں آٹھ فکر انگیز مضامین شامل ہیں۔
۱۔ غالب اور ہم
۲۔ غالب کے شعری اسالب کا ارتقا
۳۔ غالب کی شاعری کا علامتی نظام
۴۔ اردو شاعری غالب کے بغیر
۵۔ غالب، ادب شناسی اور ایوان غالب
۶۔ غالب کی شاعری میں ہمہ زمانی معانی
۷۔ غالب اور بجنوری بوطیقا
۸۔ میر و غالب کی تعبیریں اور شمس الرحمٰن فاروق کے مقدمات
صفحات 129، قیمت 200 روپے

غالب اور وفاکا تصوّر

ظ۔انصاری

غالب اور وفاکا تصوّر

دہر میں نقش وفا وجہِ تسلّی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ، جو شرمندہ معنی نہ ہوا
دیوان اردو کے شروع کی غزلوں میں یہ شعر آتاہے اور یہ اس قدر مشہور ہے کہ پڑھنے والے اس پر سے سرسری گزر جاتے ہیں، حالاں کہ اگر غالب کی پوری زندگی، پورے کلام اور گہری سوچ کے پورے اُتار چڑھاو¿ کو اوّل تاآخر غور سے دیکھا اور جانچا جائے تو اس شعرکوبھی شروع سے آخر تک پھیلایا جاسکتاہے؛ یہاں تک کہ ہم اِسے اُن کاآخری شعربھی کہہ سکتے ہیں۔ ’نقشِ وفا“ ”شرمندہ¿ معنی“ ضرورہوا،لیکن ہر سطح اورہر ایک صورتِ حال میں اس کے معانی بدلتے گئے۔اِس درجہ بدلتے گئے کہ عام فہوم میں وہ اپنے مقررّہ معانی سے محروم ہوگیااوربالآخر پتاچلاکہ سوالیہ علامتوں کے درمیان اور اُن کے ساتھ بسر کرنے والا ہمارایہ عظیم شاعر ”وفا“ کے طے شدہ تصوّر کو ”وجہِ تسلّی “ نہیں سمجھتا۔
آگے کی غلط فہمی سے بچاو کی خاطر،اور راے عامّہ کی رعاتی کرتے ہوئے، یہیں اتنا کہتے چلیں کہ ”وفا“ کوفی الحال نہ Loyaltyکالفظ پورا پڑتاہے، نہ Faithfulnessکا، Devotionکا، اور نہ Total Commitmentکا، البتّہ یہ تینوں پرحاوری ہے۔ بے وفائی کا مطلب غدّاری یابے ایمانی بھی نہیںہے۔ نہ یہ فکری سطح پربے ایمانی کے مرادف ہے۔بلکہ یہ ایک رویّہ ہے فرماں برداری اور سعادت مندی کے برعکس۔ مان لینے اور تسلّی پانے کے برخلاف؛ اس میں خیال اور برتاو کا مسلسل تغیّر، لگاتار اَدَل بدل، ترمیم اور ردّوقبول کی پے در پے کشمکش شامل ہے۔
یوں دیکھےے تو بلاخوفِ تردید کہا جاسکتاہے کہ غالب بے وفاشخص، ایک بے وفا شاعر، بے وفا فنکار ہے۔ زندگی کی آزمائش میں پورااترنے کے سوااس کے نزدیک ”وفا“ کا کوئی تصور نہیں؛ وفاداری کووہ آدمی کے زندہ، توانااور داناوجودکے لےے بے معنی قرار دیتاہے۔
آگرے میں آنکھ کھولی توباپ، چچااور نانا سب کے سب فوجی افسر تھے۔ باپ شاہ عالم کی نکمّی فوج میں رسالداری کر رہے ہیں، کل حیدرآباد جاکر نظام الملک کے ہاں تین سو سواروں کے افسر، تین برس بعدمہاراجہ الورکی فوج میں اور وہیں مارے گئے۔
”در خاک راج گڑھ پدرم را بود مزار“ (قصیدہ ۵۸۵)
چچاکاحال بھی معلوم ہے۔ مراٹھا راج کی طرف سے آگرے کے صوبیدارہیں، اور جیسے ہی دیکھتے ہیں کہ جنرل لارڈلیک کافوجی پلّہ بھاریہے،وہ شہرکو دشمن کے حوالے کرکے پنا منصب بچا لیتے ہیں۔
آگرے پرلارڈلیک کے طوفانی حملے سے پہلے کشمیری رئیس غلام حسین اپنی بیٹی مراٹھوں کے مغل صوبیدارنصراللہ بیگ کے بھائی سے بیاہ دیتے ہیں اور خودبھی پہلے مغلوںسے، پھر مراٹھوں سے اورپھر فوراً انگریزوں سے معاملہ کرلیتے ہیں۔ پہلے وہ مراٹھوں کی طرف سے کمیدان Commandantتھے؛ بعدمیں انگریزوں نے ان کی جاگیر بحال رکھی۔ یہ وہ نانا ہیں جن کے گھرمیں تبداللہ بیگ کا یتیم پلابڑھا۔
جن لڑوں کے ساتھ غالب کااٹھنابیٹھنا، پتنگیں لڑانا، پینگیں بڑھانا معمول تھاان میں مہاراجہ بنارس، چیت سنگھ کے جلاوطن وارث کنور بلوان سنگھ شامل ہیں۔جن کے بزرگوں نے شاہِ اودھکے زیرسایہ رہتے ہوئے اندرخانہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاملہ کرلیاتھا،یہاں تک کہ آگے چل کر، جب وارن ہیسٹٹنگز کے چھوٹے سے لشکرکواہلِ بنارس نے مارپیٹ کرختم کردیاتو ہیسٹٹنگزکوبمشکل زندہ سلامت رکھابلکہ ایک بڑی رقم سے خفیہ طورپر مدد بھی کی۔
ننھیال اور ددھیال اور ہم عمر عزیوں کی حویلیوں میں یتیم، مگر نازپروردہ اسداللہ یہ سب دیکھتا، سنتااور سوچتاہوگا،اثر لیتاہوگا۔ جس خاندان میں شادی ہوئی، وہاں بزرگ خاندان مغل شاہی منصبدار فخرالدولہ نواب احمد بخش خاں اپنی چھوٹی سی میواتی ریاست سنبھالنے کی خاطر انگریز کمپنی کے جنگ جو مہم پسندوں سے معاملہ کرلیتاہے اورحملہ آوروں کے اشارے بلکہ سپورٹ سے بھرت پورریاست پراچانک حملہ کردیتاہے۔ بھرت پور کی لوٹ اور حصّے بخرے میں اُسے بھی جاگیر انعام ملتی ہے۔ کمپنی دہلی کے نواح میںاپنے ایک طاقتور مخالف، راجہ بھرتپورکو کچل ڈالتی ہے۔
سسرال کاسب سے باعزت امیرخوداپنے قریبی رشتہ دار عبداللہ بیگ اور نصراللہ بیگ کے وارثوں کے نام کی جاگیر صاحب ایجنٹ سے مل کراپنی جاگیرمیں ملالیتاہے۔ اور لڑکوں لڑکیوں کاحق مارنے میں دریغ نہیں کرتا۔ وہ بھی جب اسداللہ کااس کی بھتیجی سے رشتہ طے ہوچکاہے۔
چودہ پندرہ برس کی عمر سے،شادی کے بعد غالب کا مستقل ٹھکانا سسرالی عزیزوں، یا لوہارو والوں میں ہوگیا۔ ان کا منچلا برادرِ نسبتی، جوبیوی کا سوتیلابھائی تھا،نواب شمس الدین، ظاہر ہے کہ یوں ہی دوسرے بھائیوں سے بگڑا ہواتھا، مرزا نوشہ کو کیا خاطر میں لاتاجو باپ دادا کے گھرسے کوئی جاگیر بھی نہ رکھتے تھے اوراپنا حق جتاتے تھے۔ سسرال میں اوّلین دشمن انہیں وہی نظر آیا۔ او ریہ ذاتی دشمن ایسا تھاکہ ایک طرف سپرنٹنڈنٹ ولیم فریزرکواپنے باپ فخرالدولہ کے رشتے سے چچا کہتاتھا، دوسری طرف اس کے قتل کی سازش کی اور قتل کرادیا۔ جس کی سرگوشیاں قریب کے عزیزوں میںہوتی ہوں گی۔غالب کے کان تک بھی ضرور پہنچی ہوں گی اور پھر انہیں دنوں انگریز سٹی مجسٹریٹ کا لوہارو والوں کے داماد مرزانوشہ کے گھر آنا جانا۔ عجب نہیں کہ دلّی والوں میں جو افواہ غالب کے مخبرہونے کی پھیلی، اس میں کسی قدر سچائی بھی ہو۔وہ اپنے حصے کی جاگیر کا روپیہ کمپنی کے سرکاری خزانے سے طلب کر رہے تھے۔
اسی وسیع اور پے چیدہ منظر میں نوعمراسداللہ، اور بعدکے مرزانوشہ کی اٹھان کازمانہ اور ماحول بٹی ہوئی وفاداریوں، بدلتی ہوئی وفاداریوں سے پارہ پارہ ہے۔ جوان امیرزادے کے پاو¿ں تلے ریتیلی زمین ہے،اور جدھر نظر اٹھتی ہے اُدھر باربار بدلتاہوا منظر۔ اوروں کی طرح، اپنی پائدار حیثیت اور ہم چشمو ںمیں عزت آبرو بنائے رکھن کی خاطر مرزانوشہ کو وفاداری کے تصوّر میں ضرور جھول نظر آتا ہوگا۔
”وفا“ پہلے قبائلی اور پھر جاگیرداری نظا کا کلیدی لفظ رہا ہے۔ وفاکس سے؟ خاندان سے، قبیلے سے، جس کا نمک کھایااُس سے، جس ذات یا برادری، یا جاتی میںجنم لیا، پَلے بڑھے، اُس سے۔ جس دھرتی کو بویا جوتااُس سے۔ جو مذہب، عقیدہ یا سنسکار اوپرسے ملااُس سے؟ رہن سہن، پیشہ و توشہ، طور رطریقے سے وفا؟ ایک حال پر صدیوں چلنے والے سماج کے لےے یہ وفاداری بیچ کی کیلی تھی جس نے اپنے بندھن پکّے پکڑے تھے۔ لیکن وقت کی رفتار نے جب چال بڑھائی، ہندسستانی بھی وسطی دَور سے نکل کر مَرکنٹائل رشتوں کی طرف پہلے بڑھا،پھر لپکااور اس نے بوژوازی کے اقتدار کے لےے راہ بنانی شروع کی تو ذات برادری، گاو¿ں گراو¿ں کے رشتے ڈھیلے پڑے رعیت اور مزارع شہری کاروبار کی جانب بڑھنے کو آزادہوئے۔ پچھلی دو صدیوں کی معاشی سماجی سرگرمیوں کاچارٹ دیکھتے چلے جائےے تو یہ عقدہ کھلے گاکہ وفاداریوں کی گڑھیاں ڈھیتی چلتی گئیں اور کمرشیل دولت اندوزی کے اِنڈسٹریل پیداوار میں لگنے سے وفاکا تصورایسا بدلاکہ ٹھیک ایسے وقت جب ۷۵۸۱ءمیں ہندوستانی زبان کاعلاقہ جنگ آزادی کے شعلوں میں لپٹا ہواتھا، بمبئی، کلکتہ اور مدراس کی پری سی ڈینسیوں میں کارخانے اور کالج کھولے جارہے تھے اور یونیورسٹیاںقائم ہورہی تھیں۔ ہندوستانی سرمایہ کھلے بندوں ایسٹ انڈیا کمپنی کے سرمائے اور سرگرمی سے ہم آغوش ہورہاتھااوراس بالکل شروع کی Multinational سرمایہ کاری میں کوئی شرم کی بات بھی نہ تھی۔یہ صرف موٹی سی مثال ہے وفا کے مقررہ اور قدیم تصور کی ہولناک شکست کی۔ ۷۵ءکے بعدکے چالیس پچاس برس بعد تک جو ہوتارہاوہ کل کی سی بات ہے۔ بزرگوں کی نظراور کالج کے دَرنے ہمیں اس کا علم دے رکھاہے اسے بھی نظر میں رکھےے۔
۰۳برس کے غالب دہلی سے نکلتے ہیں۔ لکھنو ٹھیرتے ہیں۔ منزل کلکتہ کاگورنر جنرل سکریٹریٹ ہے۔ لیکن تھمتے ہوئے جارہے ہیں۔ لکھنو¿ میں صفات کاوہ مجموعہ جسے ”مشرقی“ کہتے ہیں کن کن صورتوں میں اُن صفات کے مجموعے سے سنگم بنارہاتھا جسے ’مغربی“ کے لیبل سے پہچانا جاتا ہے۔ کمپنی نے نواب سعادت علی خاں کے زمانے سے غالب کی آمدیاغازی الدین اور نصیرالدین حیدرکی براے نام ”شاہی“ حکومت سے کروڑوں روپیہ ہی سودی قرض نہیں لے رکھا تھابلکہ کاری گری دستکاری اور فنکاری کوبھی متاثر کیاتھا۔(اس پہلوپر تفصیل سے لکھا جاچکاہے)
لکھنو¿ کی اس دھوپ چھاو¿ں، فضااور طاقت کی دوعملی نے بھی یقینا غالب کوکافی کچھ سجھایاہوگا۔ پھر بنارس، ”عبادت خانہ ناقوسیاں اور کعبہ¿ ہندوستاں“ کا تفصیلی نظارہ، پھر باندہ کی طرّرار اور سُست رفتار نوابی، جو ۷۵ءمیں باغیوں کی چھاو¿نی بنی]اور نواب کو پھانسی دی گئی[عظیم آباد پٹنہ تو ۱۶۷۱ئ ۵۶۷۱ءکے معاہدوں میں ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج دُلاروں کی شکارگاہ بن چکاتھا۔ اور بالآخر کلکتہ جہاں گورنر جنرل کے محل کے سامنے ایران کا سفارت خانہ اور مدرسہ¿ عالیہ براجمان تھے۔ کلکتے سے غالب کے جوان، اثرپذیر اور زودرنج ذہن نے کیاسیکھا، کیا سمجھا،اس پراوروں نے کافی لکھاہے۔ ڈھائی برسکایہ غرضمندانہ بلکہ آرزومندانہ سفر جو”تَن کا سفر“ ہی نہیں، ’مَن“ کا سفر بھی تھا، جسمانی نہیں ،ذہنیسفر بھی ثابت ہوا،اوراس نے نئے قسم کے ایڈمنسٹریشن کی بے دردی اور وفاکے ہرتصورسے ناآشنائی اُن پر روشن کردی۔ یہاں برسبیلِ تذکرہ ان کے د و غیر معروف شعر نقل کرنابے محل نہ ہوگا:
آں کہ جوید از تو شرم و آں کہ خواہد از تو مہر
تقویٰ از مے خانہ و داد از فرنگ آرد ہمی
یا کلکتہ کے تاثرات پر ان کا قطعہ(۰۱)جویوں ختم ہوتاہے:
گفتم از بہرداد آمدہ ام گفت بگریز و سَر بسنگ مزن
غالب ۰۳۸۱ءمیں بکھرے ہوئے اپنے گھر لوٹ ےہیں۔ یہاں انگریزی تعلیم کی شروعات ہے۔ انگریزی علم و دانش کاچرچااوراس کے خلاف علوم قدیمہ سے وفاداری کا محاذ گرم ہے۔ اُدھر سے زمین کے گول ہونے اور زمین کے گھومنے کی خبر گھوم رہی ہے، اِدھر مولوی فضل حق خیرآبادی، غالب کے بزرگ دوست ”ابطال حرکة الارض“ تصنیف فرمارہے ہیں۔ شاہ ولی اللّہی مجاہدین کی جماعت میں فدائیوں کی سروسامان کی اور چندے کی رقموںکی ریل پیل ہے۔وہ تحریک جس کی موجودہ صورت کو آج کل Fundamentalکہا جاتاہے۔ غالب کے کئی ہم عصر اور ہم سَر اس تحریک کے ہمدرد ہیں یااس تحریک کے ہمنوا ہیں، مثلاً حکیم مومن خاں؛اس کے سیاسی پہلو سے ہمدردی، مگر ذہنی اور نظریاتی پہلو سے شدید اختلاف رکھتے ہیں مثلاً مفتی صدرالدین آزردہ، غالب کو مولوی فضل حق اپنے پروپگینڈے کاایک ہتھیار بنانا چاہتے ہیں، مروّت میں غالب پیچھے پیچھے ہولیتے ہیں، لیکن نتیج میں اُلٹی بات کہہ جاتے ہیں۔ ڈانٹ سن کر پھر اسے سیدھا کرتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے ک دانستہ یا نادانستہ ذہن ”غیر مقلدوں“ کی طرف جاتاہے یا نسبتہً آزادانہ بھٹکتا ہے۔
اتنی بڑی مذہبی سماجی تحریک جو دینی عقائدکی اصلاح کے ساتھ ساتھ ایسٹ انڈیا کمپنی کی اَندادُھند معاشی لوٹ کا توڑ کرنے کے لےے اٹھی تھی، پنجاب کی سکھ حکومت کے خلاف کس ہوشیاری سے موڑ دی گئی وار پھر دوتین سال میں خود ٹوٹ پھوٹ کربرابر ہوگئی۔ یہ غالب کی جوانی کے زمانے کا، اُن کی دہلی کا، ان کے طبقے کااور ماحول کااتنا زبردست ہیجان انگیز واقعہ تھاجو کہ کم و بیش دس برس دہلی سے کلکتہ تک گونجتارہامگر ان کے ہاں اس سے نہ وابستگی ملتی ہے،نہ نابستگی۔ دو راز کارچنداشارے ہیں، مثلاً:
عشرتِ قتل گہِ اہلِ تمنّا مت پوچھ
عید نظّارہ ہے شمشیر کا عُریاں ہونا
اُن دنوں ،اپنے بیان کے مطابق، وہ پچاس ہزارکے مقروض ہیں۔ گھر بیچا، زیور بیچا،اور کیا بیچا، کیسے قرض اداکیا،کیابھی یانہیں، ہمیں نہیں معلوم، صرف یہ معلوم ہے کہ ایک بار مقروض ہونے کی بناپر گرفتار ہوئے، دوسری بار خلافِ قانون جُوا کھیلنے اور جُوا کھلانے کی علّت میں قید خانے پہنچے۔اس حالت میں وہ ایک طرف اُس دربارِ بے بہار سے چلتے چلاتے کچھ نچوڑ لینے کی فکر میں ہیں جہاں ان کے ذوقِ سخن کی سچی داد دینے والاکوی نہیں، دوسری طرف ہرایک آیندوروند انگریز عہدہ دار سے رشتہ جوڑنے میں، جس کے متعلق کچھ امید ہے کہ اگر شاعری کی نہیں توث کم از کم رئیسی شان کی ہی قدر کرے گا۔ قصیدے اور قطعے لکھ لکھ کر دونوں سمتوں میں رَواں کرتے ہیں، اس خیال سے کہ ایک دربار دار شاعرکے پاس کلام منظوم کے علاوہ نذر کرنے کو اور ہے بھی کیا! وہ ”رَسن تابیِ آواز“ کو قید حیات کی ایک مشقت اور وفاداری کے اظہار کو محض ایک سلسلہ جنبانی شمار کرتے ہیں۔
یہی بیس برس ہیں۔ (۰۳۸۱ءسے ۰۵۸۱ءتک) جب وہ تمام وفاو¿ں اور وفاداریوں سے قطعی بدگمان اور اگلے پچھلے تمام بندھنوں سے بدعہدہوکر محض اپنی تکمیل میں لگ جاتے ہیں(”ترکِ صحبت کردم و دربند تکمیل خودم“) عین پختگی کے ززانے میں وہ اب اس مقام پر کھڑے ہیں، جہاں کعبہ اُن کے پیچھے ہے اور کلیسا اُن کے آگے۔ دونوں سے رشتہ ہے اور دونوں سے آزادگی۔ چناں چہ بے قراری اور بے یقینی کے بخشے ہوئے اِس قرار نے انہیں فارسی شعر گوئی میںاوراپنے کلام کی ترمیم و تصحیح میں لگارکھاہے۔ یہاں تک کہ اتفاق سے اُن پر شاہِ اودھ اور لال قلعے کی نظرالتفات پڑتی ہے۔ اور وہ زمانے کی اس شوخی کا مجبوراً استقبال کرتے ہیں۔ نتیجہ ان کے اردو خطوط اور اردو کلام میں ظاہر ہے۔ جو یقینا تب تک کے روےّے سے ہٹی ہوئی بات تھی۔
غالب اپنے گھرمیںہیں۔ ملنا جلنا، آنا جانا، محفلیں اور چُہلیں کرناموقوف۔ اخبار اور کتاب سے سروکار ہے۔ محل سرامیں صرف ایک برا دم بھرکو کھانا کھانے جاتے ہیں۔ دن بھر مردانے میں رہتے ہیں۔ یہ کون سی ازدواجی زندگی ہے؟
نوجوانی تک، جب انہیں ننھیالی اور ددھیالی عزیزوں کی شفقت میسر تھی، جیسی بھی لااُبالی زندگی گزاری ہو، لیکن گھر بار سنبھالنے کے بعدسے انہیں نئی ذمّہ داریوں کااحساس ہوگیااور جہاں تک بن پڑااِدھر سے غفلت نہیں برتی۔ غفلت تو نہیں، البتہ ”بے وفائی“ ضرور کرتے رہے۔ شادی شدہ زندگی میں ازدواجی بے وفائی کے دوواقعے ایسے ہیں جن کا اقرار خود غالب نے کیاہے اور چوں کہ دونوں کا انجام جان لیوا حادثوں پر ہوا۔ غالب کی بیوی اُمراو¿ بیگم کو ضرور ان کی خب تھی۔ (ملاحظہ ہوچراغِ دیر مثنوی میں”زتونالاں ولے درپدہ¿ تو“)
ایک وہ تعلق جو رئیسانہ شان میں شامل تھا۔ خوش مذاق مگر پابند قسم کی طواف مغل جان کے مکان پر حاضری، دل لگی اور خوش وقتی۔ ایک اور خوب رو خوشحال حاتم علی مہر پہلے وہیںآتے جاتے رہے ہوں گے۔ اس خاتون نے مہر کاذکر تعریفی لفظوں میں غالب سے بھی کیاجس سے اُن میں رقابت نہ سلگی۔ تعلق کی نوعیت ظاہر ہے۔ مغل جان کے انتقال پر حاتم علی مہر نے دردِ دل غالب کو لکھاتو وہ تسلی دے رہے ہیں، درد میں شریک ہیں مگر اس واقعے کو دل پر نہیں لیتے۔ بلکہ اُلٹاسمجھاتے ہیں کہ ان کاتوشروع سے کسی بزرگ کی نصیحت پر عمل رہاے کہ ”زہدووَرَع ہمیں منظور نہیں، ہم مانعِ فِسق و فجور نہیں، مصری کی مکھی بنو، شہدکی مکھی نہ بنو“ یہ بات غالب نے گھُماپھراکر کئی بار کہی ہے،مثلاً:
در دَہر فرو رفتہ¿ لذّت نتواں بود
برقند، نہ بر شہد نشیند مگسِ ما
مغل جان کے واقعے کو افسانوی حیثیت مل گئی۔ غالب ویسے ہی بے وفائی میں بدنام تھے، اس واقعے نے کچھ کمی بیشی نہ کی ہوگی۔
دوسرا واقعہ کسی خاندانی خاتون کاہے۔ جن کی وپری تصویر، غالب کے ایسے اشعار میں ملتی ہے جنہیں محفل تخیلی تجربہ یا دورکا جلوہ نہیں کہا جاسکتا۔ ہم سب یکساں طورپر جانتے ہیں کہ کسی بھی فنکارکاہرایک نقش اس کے ذاتی تجربے کا نشان مندنہیںہوا کرتا۔ لیکن ایسے اشعرااور اشاروں سے کہاں تک نظرچُرائےے جو صاف صاف چلتی پھرتی تصویریں دکھاتے اور غالب کی ذہنی کیفیت سمجھنے میںہماری مدد کرتے ہیں۔ مثلاً بیوی سے بے وفائی کا یہ دوسرا واقعہ۔جوسایہ¿ دیوارمیں ایک زمانے تک چلتارہا،سُلگتا رہا۔
کشیدہ قامت، تیکھے نقوش، گورے رنگ، بَرق چشم، دراز گیسواور نازک مزاج کوئی ہم قبیلہ نوجوان خاتون تھیں جنہیں ذوقِ سخن بی میسر تھااور غالب کواپناکلام بغرض اصلاح بھیجا کرتی تھی۔ حمیدہ سلطان نے اپنی نانی کی زبانی اس خاتون کا تخلص ”ترک“ بتایاہے۔ موصوفہ نے اس خاتون کو دیکھابھی ہوگا۔اگر انہوں نے نہیں دیکھا،صرف سنا تو ہم نے غالب کی زبانی سنااور اس کے کلام میں ”تُرک“ کودیکھابھی کیوں کہ ہم نے غالب کے زخمِ جگر کو دیکھا۔
”تُرک“نام یا تخلص کی کسی شاعرہ کا کلم آج تک دیکھنے میں نہیں آیا، عین ممکن ہے یہ استادی شاگردی شاعرانہ اور برے بیت ہواور اس پردے میں غالب خاندان کی کسی معزّز خاتون سے ایسے ٹوٹ کر ملے ہوں، ملتے رہے ہوں کہ گھر والوں کو خبر ہوگئی۔ نہ صرف اِس اختلاط کی خبر، بلکہ اس کے نتیجے کی بھی۔ خود غالب کے دےے ہوئے اشاروں سے ، ایک مدّت بعد جب افواہ سرد ہوچکی، وہ غزل، جس میں واقعی شاعر نے پورے حادثے کا ماتم کیا ہے ۔
”ہاے ہاے“ کی ردیف کے ساتھ انجام سنادیتی ہے۔ اردو فارسی کے کوئی چودہ ہزار اشعار میں یہ واحد غزل ہے جس میں محبوبہ کی موت کاانہوں نے ایک Monumantمونومنٹ نصب کیا ہے اور وہ بھی اپنے مزاج کے خلاف”ہاے ہاے“ کی صداپر۔
اس غزل اور اس سے رشتہ رکھن والے چندفارسی اشعار کو غور سے پڑھنے والوں پر یہ جتانا کچھ ضرور نہیں کہ غالب سے اس خاتون کے تعلقات یہاں تک پڑھنے والوں پر یہ جتانا کچھ ضرور نہیں کہ غالب سے اس خاتون کے تعلقات یہاں تک بڑھے کہ بالآخر وہ حاملہ ہوگئی اور چوں کہ معاملہ ایک معزز خاندان کی بیٹی کاتھا،اور غالب نے اپنی ذمہ داری میں اضافہ قبول کرنے سے پہلوتہی کی۔اُس نے خاموشی سے جان دے دی اور اس جواں مرگی پر معاملہ دب گیا۔ حمیدہ سلطان لکھتی ہیں کہ جب اس شاعرہ کا انقال ہوا، غالب بیمارپڑگئے تھے۔ ہاں ایساہی ہوگا۔ غالب کو البتہ اس بیماری سے کبھی شفا نہ ہوئی کیوں کہ سالہاسال اُن کے ضمیر میں اُس کی وفااراپنی بے وفائی کاکانٹا کھٹکتارہا،ورنہ اِن اشعار کاکیا مطلب؟
شرم رسوائی سے جا چھپنا نقابِ خاک میں
ختم ہے اُلفت کی تجھ پر پردہ داری ہاے ہاے
خاک میں ناموسِ پیمان محبت مل گئی
اُٹھ گئی دنیا سے راہ رسمِ یاری ہاے ہاے
بہتر ہوگاکہ ہم وفااور بے وفائی کے اصل مفہوم کی جڑ تک پہنچنے یااپنے طورپر اس کو Defineکرنے میں کسی قدر غالب کے اشعار سے بھی کام لیتے چلیں۔
اُن کی ایک فارسی غزل ہے جسے قریب ک لوگ بھی پوری طرح نہ سمجھ پائے تھے اور خود شاعرکو مطلع کامفہوم بیان کرناپڑا:
من بَوفا مُردم و رقیب بَدَر زد
نیمہ لبَش اَنگبین و نیم تَبرزَد
وفااور رقیب کے ساتھ شہد اور مصری کے تلازمے یہاں بھی دہرائے گئے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ شاعر نے وفامیں جان دینااپنے لےے اور مصری کی ڈلی چکھ کر اُڑ جانا رقیب کے لےے فرض کرلیاہے۔ یہ بات انہوں نے دوسرے طریقے ایک آدھ بار کہی ضرور ہے:
جو منکرِ وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
کیوں بدگماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
یہاں رقیب وفانہیں کرتا،وفاکافریب دیتاہے اور محبوب وفاکے ہر دعوے سے منکر ہے اس لےے وہ رقیب کے فریب میں بھی نہیں آنے والا۔ رقیب اور وفاکے سارے تلازمے اور متعلقات کوایک ساتھ رکھ کر دیکھےے تو کھُلے گاکہ یہ خود غالب ہیں جن سے وفا کی اُمید نہیں کی جاتی اور ان کے ہردعوای وفاکو فریبِ وفا شمار کیا جاتاہے۔ یہاں تک کہ وہ خود وفاکی اصلیت سے بدگماں ہوجاتے ہیں۔
وفا، محبوب اور رقیب کے مثلّث کوانہوں نے روشنی اور تاریکی کے زاوےے بدل بدل کردیکھاہے،کوئی گوشہ چھوڑا نہیں۔
۷۴۹۱ ءمیں دہلی دروازے کے باہر جیل میں ہیں اور عام مجرموں کے ساتھ رکھے گئے ہیں۔ جان عذاب میں ہے۔ عزیزوں نے بدنامی کے خوف سے منھ پھیر لیاہے، کوئی خبرگیری تک کا روادار نہیں (رواے مصطفٰے خاں شیفتہ کے)غضب کا ”حبسیّہ“لکھاہے جوپہلے ہی بندمیں شکایت سے شروع ہوتاہے:
ہلہ دُزدانِ گرفتار وفا نیست بشہر
خویشتن را بہ شمار ہمدم و ہمراز کنم
قصیدہ (۹۴)در مدح فرماں رواے اوَدھ میں تشبیب ہی میں وفاکی جنسِ ناروا کا روناہے:
ناروا بود بہ بازار جہاں جنسِ وفا
رونقے گشتم و از طالع دُکاں رفتم
مشہور و مقبول غزل ہے جسے ایرانی موسیقار نے بھی گایا ہے:
زماگسستی و با دیگراں گرو بستی
بیا کہ عہدِ وفا نیست اُستوار بیا
اور اس کایہ ضرب المثل شعر:
وداع و وصل جدگانہ لذّتے دارد
ہزار بار برو صد ہزار بار بیا
رفتہ رفتہ ایسا وقت آگیاہے کہ غالب نہ محبوب سے وفاکے طالبہیں، نہ احباب سے، نہ زمانے سے:
نہ آں بودکہ وفا خواہد از جہاں غالب
بدیںکہ پُرسد و گویند ہست، خُرسندست
”جومنکرِ وفاہو“والاخیال ایک بارسے زیادہ دہرایاگیاہے اور وفاکے مثلث میں خود شاعرکارویّہ یا تصوّر ہم پر روشن ہوتاہے:
خوشم کہ دوست خود و¿ں مایہ بے وفا باشد
کہ در گماں نسگالم اُمیدگاہِ کسش
حدہوگئی کہا یک غزل میں ”غلط بود غلط“ کی ردیف رکھ کر وفاکے ہرایک تصور کو اس تار میں پرودیاہے:
تکیہ بر عہد زبان تو غلط بود علط
کایں خود از طرزِ بیانِ تو غلط بود غلط
دل نہادن بہ پیامِ تو خطا بود خطا
کام جُستن زلبان تو غلط بود غلط
آخر اے بوقلموں جلوہ کجائی؟ کا ینجا
ہرچہ دادند نشانِ تو غلط بود غلط
وفا کا مقررّہ مفہوم غالب کے لےے زدگی کے ہرحال، ہرمرحلے، ہر ماحول میں جگہ چھوڑتاچلا جاتاہے۔ حسن محبوب کی وفاسے بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی، کیوں کہ وہ ان کا مقصود نہیں:
تیری وفاسے کیا ہو تسلّی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ ہزاروں ستم ہوئے بہت سے؟
اور خوداپنی وفا سے دست بردار ہوتے ہیں:
وفا کیسی، کہاں کاع شق، جب سر پھوڑنا ٹھیرا
تو پھر اسے سنگ دل تیر ہی سنگ آستاں کیوں ہو!
یہ ان کا عملی نقطہ نظر ہے، زندگی اور فن کے بارے میں ایک سوچا سمجھا، نپا تفلا رویّہ۔ایک مستحکم، قائم بالذّات
مجبوری و دعواے گرفتاریِ الفت
دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے
عین ممکن ہے کہ یہاں،ہمارے خیال کو رَد کرنے کے لےے غالب کا کوئی پرستاراس قسم کے اشعار یاد دلائے جو پہلے سے کافی مشہور ہیں وار وفاکی عظمت جتاتے ہیں،مثلاً
وفاداری بشرطِ اُستواری اصل ایماں ہے
مرے بُت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
نہیں کچھ سبحہ و زُنّارکے پھندے میں گیرائی
وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
غور کیجےے تو یہاں بھی انہوںنے وفاکے اس تصورکو، اس کے انتہاسے کمال کو شیخ و برہمن کے سپرد کرکے پنی جان چھڑائی ہے۔برہمن اگر اپنی وفامیں اُستوارہے تو اسے صلہ دیجے۔ اول تو برہمن گاڑانہیں، جلایا جاتاہے، پھر کعبے میں کسی کو دفن نہیں کرتے۔ برہمن کووہاں دفن کیجےے کیوں کہ وہ اپنی آزمائش میں ”زنّارکے پھندے کی گرفتاری“ میں سارا جیون بِتاگیاہے یعنی وہ عمل اس سے سرزد ہواہے جسے لوگ وفاکی استواری کا آئڈیل سمجھتے ہیں۔جو لوگ وفاکی عظمت کے ایسے ہی قائل ہیں اب وہ برہمن کی ارتھی چتاکے لےے نہیں دفنانے کے لےے تیار کریں۔ اور وہ بھی کہاں؟ توپھر غالب اپنے لےے کیا پسند کرتے ہیں؟ بے وفائی؟ بد عہدی؟مصری کی مکّھی بن کر لذّت چکھنااو راڑ جانا؟ نہیں۔ وہ زندگی کو اس سے زیادہ گہرائی کے ساتھ، جدلیاتی تجزےے کے ساتھ دیکھتے ہیں اور رنگارنگ تقاضوں کی ملک میں دیکھتے ہیں۔ ہم یہاں وفاکے اس پہلو کواشارةً عرض کریں گے۔
(صاحبو،سمی نارکے معزز حاضرین! آپ جو فلسفے اور عمرانیات کا سُتھراذوق رکھتے ہیں، آپ کے سامنے خیال اور عمل کے دیرینہ اور باہمی تعلق پر روشنی ڈالنا کچھ ضرور نہیں) خیال اور عمل میں کون اول ہے،یہ وہی مسئلہ ہے کہ Being(وجود) اور (Thinking)(شعور) میں کون فیصلہ کن ہے۔ سائنسی مادیت کانظریہ ماننے والے عمل وک، خارجی حالات (پیداواری طرز و تعلقات) یا ماحول کے عمل کو انسان کے ذہن و شعورپر حاوی بلکہ اُن کا راہنمامانتے ہیں۔ اسی سبب سے ہم نے غالب اور وفاکے تصور میں خارجی حالات کو پس منظرکے طورپر پیش کیا۔ اب خود خیال اور عمل کے رشتے سے دانش وَر فنکارکا وطیرہ بھی دیکھےے۔
اوّل یہ کہ ”رِچا“ (fjpk)اور Rifnalمیں دونوں دست و گریباں ہیں۔”رِچا“ یا خیال، بلکہ دستوئیفسکی کے طرز فکری نظام میں Ideaہے جو کسی شحص اور سماج کی روح میں رواں رہتاہے۔ آئڈیااپنی شناخت کے ساتھ عملی رسوم کی شاخت طلب کرتاہے اوراسے جنم دیتاہے۔ جب کوئی ”رچا“ بڑھ کر ”ری چوئل“ میں نشوونما پاتاہے تو نظریہ سماجی عمل بن جاتاہے۔ اب سنےے کہ خیال وفا بیزار ہےا ور ایکشن وفا طلب۔ خیال یا آئیڈیاکوایکشن میں، انفرادیاور اجتماعی عمل میں ڈھلنے، فرداور جماعت کوہم آہنگ کرنے اور ہمنوا رکھنے کے لےے وفاپرزور دنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ وفاکے مشروط تصورکے بغیر کوئی ”رِچا“ پھیل کر ”رِچوئل“ نہیں بنتا، نہیں بن سکتا۔اور جو نظرےّے کسی سماجی نظام کو جنم دے کریہ اضرار کرتے ہیں کہ پارٹییا سوسائٹی ان کا مقصود ہے، وہ فرد کو ثانوی حقیقت دے دیتے ہیں،جو اقبال کے لفظوں میں:
فرد قائم ربط ملّت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
آپ نے دیکھابرتاہوگاکہ خیال کی لچک یا عقیدے کی آوارگی سے بے مروَتی برتنے والے سماجی نظام مُرتدکو سنگسارDissenterاور کو Exoellکر دیتے ہیں۔ عمل کی اجتماعی نوعیت کی خاطر انہیں اصرار ہوتاہے کہ خیال کے سوتے سے پھوٹاہوااور زمانے بھرکی آلائشیں لپیٹے ہوئے جو عقیدہ طے شدہ ہے اسے جوں کا توں قبول یا تمامتر رد کردیا جائے۔ اسے وہ ”وفاداری بشرطِ استوار“ یعنی مشروط و وفاقرار دیتے ہیں۔ جب کہ خیال بجاے خود غیر مشروط ہے اور بے وفائی کی روح لےے بغیر توانااور تازہ دم نہیں رہتا۔
اب ذراغالب کاوہ مشہور زمانہ شعر پڑھ کر سوچےے کہ وہ کیا کہہ رہاہے:
”ترکِ رسوم“ دراصل ایک معنی میں ترکِ وفاہے۔کیوں کہ رسوم ہی تو ہی ںجو عمل میںوفا کا اظہار کرتی ہیں یہ ”رِچا“ نہیں ”ری چوئل‘ کا مجموعہ ہیں۔ فنکار اور وفادار نظریہ ساز اور نظریہ پرست میں یہیں آکے انترپڑتا ہے۔ فنکار اپنے عہداور ماحول میں سانس لے کر، ”ہر رنگ میں بہارکے اثبات“ پر زوردیتاہے۔وہ ایسا دانش ور ہے جو پوری دیانت داری کے باوجود، بلکہ دیانت داری کے ساتھ کسی بھی مسلمہ عقیدے، طے شدہ سانچے، یا طاقتِ فرماں رواسے، وقت کے عام چلن سے، یا بستگیِ رسم و رہِ عام“ سے جزوی یا کلّی، عارضی یا مستقل بے وفائی کرنے پر مجبور ہے۔ وہ خود اپنے سودوزیاں سے غافل یا بے نیاز بلکہ ذاتی مفادکا کھلا دشمن ہوکر بھی وفاکے معمول سے بگڑ بیٹھتا ہے اور راہِ صواب کے بجاے بھٹکنے اور تلاش کرتے رہنے کو ترجیح دیتاہے۔ وہ خود کو بالآخر اپنا غیر فرض کرلیتاہے۔ جیساکہ غالب نے اپنے بارے میں ایک آٹوبائیگرفیکل (سوانحی) بے تکلف خط میں لکھاہے۔وہ جب کہتاہے:
عیش و غم در دل نمی اِستد خوشا آزادگی
بادہ و خونابہ یکسانست در غربالِ ما
یا
ایماں بہ غیب تفرقہ ہا رُفت از ضمیر
ز اسما گمشتہ ایم و مفسمّی نوشتہ ایم
تو اَس ”آزادگی“ کے خدوخال اُبھارتاہے جوخیال کے بدلتے ہوئے بھاو¿ (Hkko)کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔وہ ”اسما“ یا Ritualsکی پوٹلی دریاکنارے چھوڑ کر خیال کے گرداب میں اُترتا ہے اور مسمّی کی تلاش جاری رکھتاہے۔ اس کی وفا صرف اپنی فکرکے تقاضوں سے ہوتی ہے۔ جو گلوب کی طرح گردش کرتی اور روشنی و تاریکی کے عالم میں مبتلا رہتی ہے۔
فنکار اپنی عصری سطح سے بلند تبھی ہوگاجب وہ دانش وری میں قدم رکھے اور اپنے وقت کے وانش وَر ہوتے ہیں جن کی وفااپنی دانش کے تقاضوں سے برقرار رہے۔ ان تقاضوں سے جوہر عہد، ہرایک دَور اور سماجی ارتقاکے ہر ایک مرحلے میں تغیر پسنداور ”بے وفا“ رہے ہیں۔ جسے غالب کے متعلق اس سلسلے میں کچھ کلام ہو وہ ان کے قصیدوں کی تشبیبیں دیکھے، بعض مثنویاں دیکھے جہںا اس دانش ور فنکارنے اپنا سوچا سمجھا رویّہ یا Atitudeایک تسلسل کے ساتھ بیان کردیاہے،مثلاً بینند“ کی ردیف والا قصیدہ(نمبر۶۲)
دل نہ بندند بہ نیرنگ و دریں دیرِ دو رنگ
ہرچہ بینند بہ عنوان تماشا بینند
خود تصوف کا نظریہ ،جس میں غالب نے فقیہوںکی بحثابحثی سے بچنے کے لےے پناہ لی تھی، ان کے ہاں ایک مکمل عقیدہ یا اعتقادی نظام نہیں، بلکہ ایک اخلاقی برتاو ہے۔ اپنے خطوں میں یہ راز افشابھی کردیاہے۔ کسی کوکبھی مشورہ نہ دیاکہ تم تصوف اختیار کرو، کھل کرکہہد یاکہ تصوف و نجوم، انہوں نے بس یوں ہی لگارکھاہے۔ ورنہ ان باتوںم یںکیا رکھاہے۔
”بے وفائی“ کے اس برتاو میں ہمارا دانش ور فنکار اس مقام کو پہنچ جاتاہے جہاں فرانس کے روسو اور بالزاک جیسے انسائیکلوپیڈسٹ اپنے وقتوں میں پہنچے تھے۔ وہ صرف قافیہ پیمائی کی خاطر نہیں کہتاکہ:
بامن میا ویز اے پدر، فرزند آزر رانگر
ہرکس کہ شد صاحب نظر، دینِ بزرگاں خوش نکرد
یہاں پدر سچ مچ کاپدرنہیں بلکہ رسوم اور سکّہ بند عقائد کے پاسبان یا کوتوال ہیں جو پہلے رسمی مذاہب کی تقدیر میں لکھے تھے اب ”اِزموں“ کے حصے میںآرہے ہیں۔
کفر و دیں چیست، ُز آلائشِ پندارِ وجود
پاک شو پاک کہ ہم کفرِ تو دینِ تو شود
غالب کے اس ”بے وفایانہ، تصوراور برتاو میں کفر و دیں کے تمام مروجہ تصورات کی دیواریں دھنس گئی ہیں اور مادرپدر آزاد انسانی تفکر سربلندہوجاتاہے:
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال
ہیں وَرَق گردانیِ نیرنگِ یک بت خانہ ہم

خاتمہ گلِ رعنا اور غالب کاسفر کلکتہ

ابو محمد سحر

خاتمہ گلِ رعنا اور غالب کاسفر کلکتہ

غالبیات کی اکثر لاینحل گتھیاں خود غالب کے بیانات کی کوتاہیوںا ور اختلافات کے علاوہ تاریخوں کے اندراج کے سلسلے میں ان کے حیران کن روےّے کا نتیجہ ہیں۔ بیشتر تحریروں میں تاریخوں کے محذوف ہونے یا ناقص رہ جانے سے معلوم ہوتاہے کہ وہ تاریخوں کے ٹھیک ٹھیک اندراج کو کوئی خاص اہمیت نہ دیتے تھے۔ بعض تحریروں پر پہلے تاریخیں درج تھیں لیکن جب غالب نے ان کو کتابی شکل میں مرتب کیاتو تاریخیں خارج کردیں۔ جابجا یہ صورت بھی ہے کہ تاریخ اور مہینہ تو ہے لیکن سنہ غائب ہے۔ اب کوئی اللہ کا بندہ ان سے پوچھتا کہ کسی کتاب کے مندرجات میں سنہ کے بغیر صرف تاریخ اور مہینہ برقرار رکھنے کا کیا منشا تھا۔ جیساکہ راقم الحروف نے ایک اور مضمون میں لکھاہے ”تاریخوں کے معاملے میں انہوں نے ماہرین غالبیات کے ساتھ ستم ہی نہیں بلکہ ستم ظریفی بھی کی ہے، ستم اس لحاظ سے کہ تاریخ بالکل حذف کردی ہے اور ستم ظریفی اس لحاظ سے کہ دن ،تاریخ اور مہینہ لکھ کر چھوڑ دیاہے۔“کلّیاتِ نثرغالب میں دیباچہ¿ ’گل رعنا‘ سے تاریخ مطلقاً محذوف ہے تو خاتمہ¿ گلِ رعنا میں آغامیر کی مدح کی نثر کے بعد صرف ”دوم محرم الحرام“لکھا ہواہے۔ ’گلِ رعنا‘کے قلمی نسخے مملوکہ¿ خواجہ محمد حسن میں دیباچے کی پوری تاریخ درج ہے لیکن خاتمے میں آغامیرکی مدح کی نثرکے آخر میں دوم محرّم الحرام کا بھی پتانہیں۔ خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘میں مولوی فضل حق کے نام غالب کاایک فارسی خط بھی شامل ہے جو انہوں نے فیروزپور جھرکہ سے لکھا تھا۔ اس کی تاریخِ تحریر گلِ رعنایا ’کلّیاتِ نثر غالب‘ کے کسی نسخے میں نہیں ملتی۔ باندہ کے محمد علی خاں کے نام اپنے قیامِ باندہ ہی کے ایک خط میں غالب نے ان دونوں فارسی تحریروں کو نقل کیاہے لیکن اس میں بھی تاریخیں سرے سے مفقود ہیں۔1
معتمدالدّولہ آغامیر، وزیراودھ، کی مدح کی نثر در صعنتِ تعطیل غالب نے کلکتے جاتے ہوئے لکھنو¿ کے قیام کے زمانے میں ان سے ملاقات کے دوران پیش کرنے کے لےے لکھی تھی۔ جانبین کی شانِ ریاست اس ملاقات کی تاب نہ لاسکی لیکن نثر محفوظ رہ گئی اور غالب نے اسے’ گلِ رعنا‘کے خاتمے میں شامل کردیا۔ اگر دہلی سے غالب کی روانگی اور لکھنو¿ میں قیام کی تاریخوں کاصحیح علم ہتاتواس نثرکا سنہ آسانی سے اخذ کیاجاسکتاتھا۔ سوءاتفاق کہ یہاں بھی واقعات تو اکثر معلوم ہیں لیکن تاریخیں گوشہ¿ گمنامی میں ہیں۔ شیخ اکرام کا قیاس ہے کہ غالب دوم محرم الحرام1242ھ (اگست1826ئ) سے پہلے دہلی سے روانہ ہوچکے تھے2۔مولانا غلام رسول مہر کے مطابق ”اغلب یہ ہے ہ وہ عید شوال 1242ھ کے بعد یعنی اپریل 1827 میں روانہ ہوئے ہوں۔3مالک رام صاحب کی رائے میں وہ نومبر دسمبر1826 (جمادی الاوّل1242ھ) میں دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔4ان قیاسات میں دہلی سے غالب کی روانگی کے زمانے میں جتنا اختلاف پیدا ہوتاہے اسی نسبت سے لکھنو¿ میں قیام کی مدّت میںبھی فرق رونماہوجاتاہے جس کی وجہ سے اس نثر کے لکھنے کا سنہ1242ھ (۶۲۸۱ئ) بھی ہوسکتاہے اور 1243ھ (1827ئ) بھی۔ چنانچہ شیخ محمد اکرام 1242ھ کے حق میں معلوم ہوتے ہیں تو مولانامہر کا رجحان 1243ھ کی طرف ہے۔ سیّد اکبرعلی ترمذی اور ان کی تقلید میں سیّد وزیرالحسن عابدی نے اس مسئلے کی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرکے اس نثرکی تاریخ 2 محرم الحرام 1242ھ (5اگست1826) مان لی ہے5۔کچھ ایسی ہی صورتِ حال میں سید وزیرالحسن عابدی نے مولوی فضل حق کے نام خط کا زمانہ¿ تحریر 1825ءکے وسط میں قرار دیا ہے۔6 جیساکہ آئندہ سطور سے واضح ہوگاتاریخ وزمانہ کا تعین پہلی صورت میں صحیح اور دوسری صورت میں تقریباً صحیح ہے لیکن کچھ ایسے شواہدو دلائل کامحتاج ہے جن کی طرف اب تک خاطرخواہ توجہ نہیں کی گئی ہے۔
خاتمہ ’گلِ رعنا‘میں غالب نے لکھاہے کہ وہ نواب احمد بخش خاں سے ملاقا ت کے لےے فیروزپور جھرکہ گئے تھے چونکہ مولوی فضلِ حق کی اجازت کے بغیر سفرکرناان کی طبیعت پر بار گزراتھااس لےے ان کو بڑا دکھ ہوااور جب وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچے اور سفر کی تکان دور ہوئی توانہوں نے مولوی فضل حق کو صنعتِ تعطیل میں ایک خط لکھا۔فیروزپور میں ان کا مقصد حاصل نہ ہوااور وہ دہلی واپس آگئے۔ اس کے ایک عرصے کے بعد انہیں پھر سفرکا خیال دامن گیر ہوا۔ ہونا تو یہ چاہےے تھاکہ وہ کلکتے جاتے لیکن پہلے لکھنو¿ پہنچنے کااتفاق ہوا۔7 لیکن اپنی پنشن کے سلسلے میں 28 اپریل 1828 کو کلکتے میں انہوں نے جودرخواست گورنر جنرل کے دفترمیں پیش کی تھی اس میں یہ بیان کیاہے کہ ایک بارجو وہ دہلی سے فیروزپور کے لےے نکلے تو قرض خواہوں کے خوف کی وجہ سے دہلی واپس نہ جاسکے بلکہ فرّخ آباد ہوتے ہوئے کانپور پہنچے اور پھر لکھنو¿ اور باندے میں قیام کرنے کے بعد کلکتے کا رخ کیا۔8 مالک رام صاحب خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘ (کلّیاتِ نثرِ غالب) کے بیان کو ترجیح دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

”وہ جب سفر پرروانہ ہوئے تو چونکہ روانگی سے پہلے مولوی فضل حق خیرآبادی سے وداعی ملاقات نہیں کرسکے تھے اس لےے ان سے ملنے کو واپس گئے اور پھر دوبارہ سفر پر روانہ ہوئے۔ کلّیات کابیان صحیح معلوم ہوتاہے۔ درخواست میں انہوں نے اختصار سے کام لیااور اس کاذکر مناسب خیال نہیں کیا“۔9
چونکہ خاتمہ¿ ’گل رعنا‘ میں غالب نے یہ نہیں لکھاکہ وہ مولوی فضل حق سے وداعی ملاقات کے لےے فیروزپور سے دہلی واپس آئے تھے اس لےے ڈاکٹر محمود الٰہی نے دہلی آنے کے سلسلے میں مالک رام صاحب کے بیان کردہ اس سبب کو بے بنیاد قرار دیاہے۔ انہوں نے غالب کی درخواست کی تفصیلات اورنواب احمد بخش خاں کے بعض حالات کی مناسبت سے یہ استدلال بھی کیاہے کہ خاتمہ¿ گلِ رعنامیں غالب نے فیروزپورکے جس سفرکاذکرکیاہے اس سے وہ دہلی واپس آگئے تھے لیکن اس کے بعد انہوں نے فیروزپورکاایک اور سفرکیا۔وہاں سے نواب احمد بخش خاں کے اصرار پر وہ بھرت پورگئے اور پھر فیروزپور آئے تو دہلی واپس نہیں آئے بلکہ وہیں سے کلکتے کی طرف روانہ ہوگئے10۔ لیکن خاتمہ¿ گلِ رعنامیں کلکتے کے سفر سے قبل فیروزپور کے کسی اور سفرکاذکر نہیں کیاگیا۔ باندے کے مولوی محمدعلی خاں کے نام اپنے ایک خط میں انہوں نے مولوی فضل حق کے نام اس خط کو نقل کرنے سے پہلے جوصراحت کی ہے اس سے خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘کی طرح صرف اتنا معلوم نہیں ہوتاکہ یہ خط انہوں نے فیروزپور سے لکھا تھابلکہ یہ بھی پتا چلتا ہے کہ فیروزپورکے جس سفرسے یہ خط متعلق ہے وہ انہوں نے ”درمبادیِ بسیج سفرِ مشرق“ یعنی سفرِ مشرق کے ارادے کے اوائل میں کیا تھا11۔چنانچہ خاتمہ¿ ’گل رعنا‘میں فیروزپورکے جس سفرکاذکر ہے اس کو سفرِ کلکتہ کے سلسلے سے الگ نہیں کیا جاسکتااور یہ ماننے کے سواچارہ نہیں کہ کلکتے جانے سے پہلے فیروزپورکایہ آخری سفر تھاجو غالب نے کیاتھا۔اس کے برعکس ڈاکٹر محمود الٰہی نے اپنے قیاس کی بنیاددرخواست کے ان بیانات پر رکھی ہے۔
”سرچارلس مٹکاف کے آنے کے بعد بھرت پورکا معاملہ پیش آگیااور وہ راجہ بھرت پورکو بچانے اور راج کے شورہ پشتوں کو سزادینے میں مصروف ہوگئے۔ نواب احمدبخش خاںبھی وہاں جارہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے بھی ساتھ چلنے کوکہا۔
میں اس زمانے میں اپنے بھائی کی بیماری کی وجہ سے ایک مصیبت میں گرفتار تھا۔مزیدبرآں قرض خواہوں نے تقاضوں اور شوروغوغا سے میرا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ اس لےے میں اس سفرکے لےے کسی طرح تیار نہیں تھا۔
اس کے باوجود اس توقع پرکہ مجھے مٹکاف صاحب کی خدمت میں سلام کرنے کا موقع مل جائے میں نے اپنے بھائی کوبخاراور ہذیان کی حالت میں چھوڑا، چارآدمیوں کو اس کی نگہداشت کے لےے مقرر کیا۔کچھ قرض خواہوں کو طرح طرح کے وعدوں سے چپ کرایا۔دوسروں کی نظرسے چوری چھپے بھیس بدل کر کسی طرح کاسازوسامان لےے بغیر سومشکلوں سے نواب احمد بخش خاں کے ساتھ بھرت پور کے لےے روانہ ہوگیا۔“12
اگر اس وقت قرض خواہوں کی طرح مرزایوسف بھی دہلی میں تھے اور بھرت پور جانے سے پہلے ان کی تیمارداری اور قرض خواہوں کی تسلی کاانتظام غالب نے خود دہلی آکر کیاتھاتوہ نہایت عجلت میں دہلی آئے ہوں گے اور وہاں ان کے قیام کی مدت بہت مختصر رہی ہوگی۔اس سے خاتمہ¿’ گلِ رعنا‘کے ”بیخودی گریبانم گرفت و بازم بہ دہلی آورد“ اور ”روزگاری دراز بخاک نشینی سپری شد“13 یعنی واپس آنے اورپھر ایک عرصے کے بعد سفر پر روانہ ہونے کی توجیہہ نہیں ہوسکتی۔ فیروزپورسے دہلی کی وہ واپسی جس کا خاتمہ¿ گلِ رعنامیںذکر ہے بلاشبہ کسی ایسی ہنگامی واپسی سے مختلف ہے جس کا درخواست سے گمان ہوتاہے۔ چنانچہ کسی وقتی پریشانی میں غالب فیروزپورسے دہلی واپس آئے ہوں یا نہ آئے ہوں وہ بالآخر فیروزپور سے دہلی اس طرح واپس آئے کہ کلکتے جانے سے قبل پھر فیروزپور نہیں گئے اور اس لحاظ سے خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘کااظہار حقیقت پر مبنی ہے۔
خاتمہ¿ ’گل رعنا‘ کی عدمِ صحت پر اگر اختصارکی دلیل لائی جاسکتی ہے تو درخواست کے مفصل بیانات کی عدمِ صحت پر مقدمہ بازی کی مصلحتوں کے پیش نظر استدلال کیاجاسکتاہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کلکتے پہنچتے ہی غالب کویہ احساس دلایا جاچکاتھاکہ ان کو اپنا مقدمہ پہلے دہلی کے رزیڈنٹ کے سامنے پیش کرنا چاہےے تھا۔رائے چھج مل کے نام کلکتے سے اپنے پہلے ہی خط میں انہوں نے یہ استفسارکیا تھا:
”اگر بندہ رادر پیچ و خمِ استغاثہ حاجت بداں افتد کہ دردارالخلافت وکیلی از جانبِ خود قرارباید داد صاحب این زحمت گوارا خواہند کردیانے۔ہرچہ دراین مادہ مضمر ِضمیر باشد بے تکلف باید نوشت۔“14
چنانچہ انہوں نے اپنی درخواست میں سب سے زیادہ زور اسی پر صرف کیاہے کہ دہلی میں ان کے لےے دوبھر ہوگیاتھااور وہ وہاں کسی کو منھ دکھانے کے قابل نہ تھے۔اسی وجہ سے وہ فیروزپور سے بالارادہ کلکتے روانہ ہونے کے بجائے سرچارلس مٹکاف سے ملاقا ت کی جستجومیں سیدھے کانپور پہنچے تھے۔ مقصد یہ تھاکہ کانپورسے ان کی معیت میں دہلی واپس آئیں گے اور کسی مناسب موقع پر ان سے اپنا احوال بیان کریں گے لیکن کانپور پہنچتے ہی وہ بیمار پڑگئے اور انہیں علاج کی غرض سے لکھنو¿ جانا پڑا۔ سوال پیدا ہوتاتھاکہ اگر وہ پہلے سے کلکتے جانے کا ارادہ نہ رکھتے تھے تو باندے سے دہلی کیوں نہ لوٹ گئے۔ اس کا جواز انہوں نے یہ پیش کیاکہ جب قرض خواہوں کے ڈراور مالی مشکلات کی وجہ سے وہ فیروزپور سے دہلی نہ جاسکے تھے تو اب باندے سے دہلی کیونکر جاسکتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں یہ خیال بھی آیاکہ دہلی ہویاکلکتہ، دونوں جگہ قانون توایک ہی ہے15۔گویا کلکتے جانے کا خیال انہیں باندے میں آیاتھالیکن رائے جھج مل کے نام ان کے اس خط سے جوانہوںنے لکھنو¿ سے کانپور پہنچنے کے بعدلکھاتھایہ بات بھی ثابت ہے کہ یہ ارادہ پہلے سے تھا:
”بتاریخِ بست و ششم ذیقعدہ روز جمعہ ازاں ستم آباد برآمدم و بتاریخِ بست ونہم در دارالسّرور کانپور رسیدم و اینجادوسہ مقام گزیدہ رہگرایِ باندہ میشوم در آنجا چند روز آرامیدہ۔ اگر خدا می خواہد و مرگ اماں میدہد بکلکتہ می رسم“16
غرض یہ کہ درخواست کی ساری تفصیل و تاویل کا منشاگورنر جنرل کویہ باور کراناتھاکہ دہلی میں چارہ جوئی کرناان کے لےے ممکن نہ تھااوروہ بڑی مصیبتوں اور مجبوریوں میں کلکتے پہنچے تھے تاکہ مقامی حکام کو نظرانداز کرکے ان کی درخواست قبول کرلی جائے۔ لیکن جیساکہ اندیشہ تھا 20 جون 1828 17 کوان کی درخواست پریہی حکم صادرہواکہ مقدمہ پہلے دہلی میں پیش کیا جائے۔
سرکاری پنشن کے سلسلے میں غالب کی درخواست کی ایسی باتوںکو آنکھ بند کرکے قبول نہیں کیا جاسکتاجوان کے مفادپر کسی طرح اثرانداز ہوسکتی تھیں۔ تاہم بے ضرر حالات یا ایسے واقعات کے بیان میں وہ پہلو تہی نہیںکرسکتے تھے جوانگریز حکّام کے علم میں ہوسکتے تھے۔ درخواست میںغالب کے اس قسم کے بیانات کو اگرکچھ ایسے تاریخی واقعات سے مطابق کیا جائے جن کا صحیح زمانہ معلوم ہوسکتاہے تو ان کی نقل و حرکت کے بارے میں غیر تحقیقی قیاسات کی دھند بہت کچھ چھٹ سکتی ہے۔ مثلاً غالب فیروزپور اس وقت پہنچتے تھے جب نواب احمد بخش خاں قاتلانہ حملے کے بعد بسترِ علالت سے اٹھے تھے اور ان کی الورکی مختیاری جاتی رہی تھی۔ اس کے فوراً بعد کازمانہ وہ ہے جب دہلی کے رزیڈنٹ سرڈیوڈآکٹرلونی بھرت پور پر فوج کشی کے حکم کے خلاف گورنر جنرل لارڈ ایمبرسٹ کے ردِّ عمل کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفادے چکے18 تھے اور ان کی وفات کے بعد ان کی جگہ 26 اگست 1825 کو سرچارلس مٹکاف کا تقرر ہوچکاتھا19۔اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ غالب اپریل1825 کے لگ بھگ فیروزپور پہنچ گئے تھے اور مولوی فضل حق کے نام صنعتِ تعطیل میں ان کا خط اسی زمانے کاہے۔یہ تعیّنِ زمانی اس خط کے مندرجہ ذیل اقتباس کے بھی عین مطابق ہے:
”امّاعمِ کامگاردروہم و ہراسِ مکرواسدِ اعداودردِ عدمِ محاصلِ سرکارِ الور وملال در آمدِ دگرہا سرگرم و سو گوار و گم کردہ¿ آرام“20
دہلی سے میرزاعلی بخش خاں کے نام دوفارسی خطوں سے معلوم ہوتاہے کہ کسی زمانے میں غالب نواب احمدبخش خاں سے ملنے کے لےے بہت بے چین تھے اورفیروزپورجانے میں اس لےے متامل تھے کہ انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ نواب احمد بخش خاں دہلی آنے والے تھے۔اسی بے چینی میں انہوں نے کسی میرامام علی کی معرفت نواب احمد بخش خاں کوایک عرضداشت بھی بھیجی تھی۔ نواب سے ان کو توقع نہ تھی لیکن ان کے بعض احباب کہتے تھے کہ وہ نواب سے اپنا دردِ دل نہیں بیان کرتے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس کاتدارک نہ کریں، اس لےے وہ کوشاں تھے تھے کہ نواب سے انہیں جواب مل جائے اور وہ ان دوستانِ ناصح کو خیرباد کہہ کر مشرق کی سمت روانہ ہوجائیں۔ پھر اس صورت میں کہ نواب کے دہلی آنے کی خبرغلط ہووہ چاہتے تھے کہ ان سے ملاقات کے لےے خود فیروزپور چلے جائیں:
”یک چندبامیدِ نواب صاحب ساختم وازتاب آتشِ انتظارگداختم نشستہ ام بعد ا بیکہ مجرم بزنداں نشیند و می بینم انچہ کافر بجہنم بیند۔ بہ فیروزپور بہر آں نیامدہ بودم کہ بازم بدہلی باید آمد۔نواب صاحب مرا بلطفِ زبانی فریفتند و بکرشمہ¿ ستمی کہ بالتفات میمانست از راہ بردند میرامام علی را با عرضداشت بخدمتِ نواب فرستادہ ام یاراں میگفتند کہ توبہ نواب نمیگرائی و دردِ دل باوی نمیگوئی ورنہ از کجاکہ نواب بچارہ برنخیزد اینہا کہ میکنم از بہرِ زباں بندی ایں اداناشناسانست۔ خدا را طرح آن افگنید کہ میرامام علی زودبرگردند و بمن پیوندند تا دوستانِ ناصح را خیرباد گویم و بسر و برگی کہ ندارم بشرق پویم۔“

”شنیدہ میشودکہ نواب بدہلی می آیند باری از صدق و کذب این خبررقم کنید من آں میخواہم کہ اگر خبرِ عزیمتِ نواب دروغ بودہ باشد خود بہ فیروز پور رسم و شرف قدمبوسِ عم عالی مقدار و مسرتِ دیدارِ شما در یابم“21
یہ حالات اور خطوط بھی اپریل 1825 کے لگ بھگ غالب کے فیروزپورجانے سے قبل کے سواکسی اور زمانے کے نہیں ہوسکتے۔ فیروزپور میں نواب احمد بخش خاں کی حالت دیکھنے کے بعد غالب کی مایوسیاں اور پختہ ہوگئی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے مولوی فضل حق کو لکھاتھاکہ :
”او را مہر کو کہ کس را دل دہد و ہمم در اصلاحِ حال کس گمارد و مرا دلِ آسودہ¿ رام و طورِ آرام کوکہ سرِصداع آلودہ درکوہسار مالم و دل را درطمع امدادِ کار سالہا در ورطہ¿ طولِ امل دارم۔“22
لیکن معلوم ہوتاہے کہ نواب احمد بخش خاں کی باتوں سے پھر کچھ امید بندھی اور وہ ان کے کہنے پر بھرت پور روانہ ہوگئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے بھرت پورکاسفرکیاتھا۔ ’پنج آہنگ‘ کے پہلے دو حصے یعنی آہنگِ اوّل اور آہنگِ دوم اسی سفرکے دوران لکھے گئے تھے۔ غالب نے آہنگِ اوّل کی تمہید میں لکھا ہے:
”در سالِ یکہزارودوصدوچہل و یک ہجری کہ گیتی ستانانِ انگلشیہ بھرت پور لشکر کشیدہ وہ آں روئیں دژرا درمیان گرفتہ اند من دریں یورش باجناب مستطاب عمِ عالی مقدار فخرالدولہ دلاورالملک نواب احمد بخش خاں بہادر و گرامی بردار ستودہ خوی مرزا علی بخش خاں بہادر ہم سفر ست روزانہ برفتار ہم قدیم و شبانہ بیک خیمہ فرود می آئیم۔“ 23
دہلی کے رزیڈنٹ اور راجپوتانے میں گورنرجنرل کے ایجنٹ کی حیثیت سے سرچارلس مٹکاف کا تقرر تو 26 اگست 1825 کو ہواتھالیکن دہلی میں ان کے وارد ہونے کی تاریخ 21 اکتوبر 1825 ہے۔ نومبر میں شہرکے باہران کاکیمپ لگایا گیااور انہوں نے بھرت پورکی مسافت شروع کی24۔ چنانچہ نواب احمد بخش خاں کے ساتھ غالب بھی اسی زمانے میں بھرت پور گئے ہوں گے۔ 6 دسمبر کو مٹکاف متھرا پہنچااور کمانڈر انچیف لارڈ کمبر میئرکی فوجوں سے مل گیا25۔18جنوری 1826کو ایک بڑے قتلِ عام کے بعد بھرت پورمیں انگریزوں کو ’شاندار کامیابی‘ حاصل ہوئی۔26
اس مقام پر رائے جھج مل کے نام غالب کاایک اور خط غورطلب ہے۔جیساکہ اس کے مضمون سے منکشف ہوتاہے یہ خط فتحِ بھرپور کے بعد فیروزپور سے لکھا گیاتھا۔ نواب احمد بخش خاں کی واپسی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے غالب اس وقت بھی بڑی کشمکش اور بیچارگی میں مبتلا تھے۔ رائے جھج مل، غالب کے دیگر دوستوں کی طرح نواب احمدبخش خاں کے ہمرکاب تھے۔ لہٰذا غالب نے اپنی پریشاں خاطری کا حال لکھ کر ان سے یہ معلوم کرنا چاہاتھاکہ نواب احمد بخش خاں فیروزپور کب واپس آرہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
”ہرچند در وطن نیم اماقربِ وطن نیز قیامت است۔ ہنوز بااہلِ کاشانہ راہِ نامہ و پیام داشت۔ ہرچہ دیدہ میشود آشوبِ چشم بود و ہرچہ شنیدہ میشود زحمتِ گوش است۔ نیم جانی کہ ازاں ورطہ بروں آوردہ ام ودیعتِ خاکِ فیروزپور است کہ مراایں ہمہ اقامتِ اضطراری اتفاق افتاد و مرگی کہ منش بہزار آرزواز خدامیخواہم مگر ہمدریں سرزمین موعوداست کہ ایں قدردرنگ درافتادگیہا روداد۔ ہرچہ از اخبارِ معاودتِ نواب شنیدہ میشود راہی بحرف مدعا ی ِمن ندارد چہ سربسر آں افسانہ نکبتِ الوریاں و آرائش صفوفِ قتال وازگوں۔ گشتن کارہاے اعداد درست آمدن فال سگالانِ دولت فخریہ است۔ کلمہ¿ مختصر یکہ نواب صاحب دراینقدر عرصہ رونق افزایِ فیروزپور خواہند گشت از کسی شنیدہ نمیشود و دلِ مضطرتسلّی نمی پذیر و دوستانیکہ در رکابِ نواب صاحب اند وازین جملہ آں مہرباں بصفتِ اسد نوازی غالب پروری بیشتراز بیشتر متّصف اند واماندگانِ تنگنائے اضطراب بسلامی یاد نمی فرمایند خدارا کرم نمایند۔ واز تعیّنِ زمانِ معاودت رقم فرمایند۔“26
اگرغالب کایہ خط فتح بھرت پور اور نواب احمد بخش خاں کے فیروزپور واپس آنے کے درمیانی زمانے کاہے تو اس سے قیاس کیا جاسکتاہے کہ غالب نواب احمد بخش خاں سے پہلے بھرت پور سے فیروزپور واپس آگئے تھے اور اس صورت میں انہیں نواب احمد بخش خاں کے فیروزپور واپس آنے کاشدت سے انتظار تھا۔
بھرت پورسے سرچارلس مٹکاف کے دہلی واپس آنے کی صحیح تاریخ کاتو علم نہیں لیکن جان ولیم کے مطابق بھرت پورمیں انتظامات مکمل کرلینے کے بعد گرم ہواو¿ں کے آغاز نے ان کو لازمی طورسے دہلی واپس آنے پر مجبور کیا۔27غالب کی درخواست کے مطابق واپسی میں وہ تین دن فیروزپور میں بھی رہے تھے۔ غالب اس وقت فیروزپورمیں تے اور چونکہ نواب احمد بخش خاں نے خلافِ وعدہ غالب کا ان سے تعارف نہیں کرایاتھااس لےے ان کے دہلی جانے کے بعد وہ نواب احمد بخش خاں سے بالکل مایوس ہوچکے تھے28۔ چنانچہ خاتمہ¿ ’گل رعنا‘کی روسے مارچ 1826 یا اس کے آس پاس غالب کا فیروزپور سے دہلی واپس آجانا یقینی ہے۔
آغامیرکی مدح کی نثرکی تاریخ کے لےے دہلی سے غالب کی روانگی سے زیادہ لکھنو¿ میں ان کے قیام کے زمانے کا تعیّن اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سلسلے میںبھی اب تک رائے جھج مل کے نام ان کے ایک خط اور بعض قرائن سے صرف اتنا ثابت ہے کہ وہ ذیقعدہ 1242ھ (جون 1827ئ) میں لکھنو¿ میں تھے اور 26 ذیقعدہ1242ھ جو جمعہ کے دن وہاں سے روانہ ہوکر 29 ذیقعدہ1242ھ کو کانپور پہنچے تھے، نیز یہ کہ کانپور سے باندے اور پھر کلکتے جانے کاارادہ تھا29۔اس روشنی میں اگر آغامیر کی مدح کی نثرکی تاریخِ تصنیف2 محرم الحرام1242ھ فرض کی جائے تو لکھنو¿ میں ان کے قیام کا زمانہ جیساکہ شیخ محمد اکرام نے صراحت کی ہے تقریباً گیارہ ماہ ہوجاتاہے30۔مولانا غلام رسول مہرکے نزدیک یہ امر مستبعد ہے اور زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ غالب 26ذیقعدہ 1242ھ (27جون 1828ئ) کو لکھنو¿ سے جانے کے بعد آغامیرکے دربار میں باریابی کی توقع میں کانپور سے پھر لکھنو¿ واپس آئے اور انہوں نے2 محرم الحرام1243ھ (26 جولائی1827) کو یہ نثر سرانجام دی31۔مالک رام صاحب جب دہلی سے غالب کی روانگی کی تاریخ نومبر، دسمبر1826 قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ نثرکی تاریخ کے سلسلے میں مولانا مہرکے ہم خیال ہیں۔ لیکن ایک تو لکھنو¿ سے چل دینے کے بعد دوبارہ غالب کے وہاں جانے کے لےے کوئی ثبوت موجود نہیں، دوسرے رائے جھج مل کے نام ان کے جس خط کی بناپر لکھنو¿ سے ان کی روانگی کی تاریخ 26 ذیقعدہ1242ھ (27جون 1827) قرار پاتی ہے اسی میں انہوں نے آغامیرکاذکر بڑی حقارت سے کیاہے اور اشارةً ان سے شرفِ ملاقات حاصل نہ ہونے کے اس واقعے کابھی ذکرکیاہے جوان کے ساتھ پیش آیا تھا:
”خلاصہ¿ گفتگو ایں کہ اعیانِ سرکار لکھنو¿ بامن گرم جوشید ندانچہ درباب ملازمت قرار یافت خلاف آئینِ خویشتن داری وننگ شیوہ¿ خاکساری بود۔ تفصیل ایں اجمال جزبہ تقریر ادا نتواں کردہرچہ درآں بلاد از کرم پیشگی و فیض رسانیِ ایں گدا طبع سلطان صورت یعنی معتمدالدّولہ آغامیرشنیدہ مشیود بخداکہ حال برعکس است“ 32
ان حالات میں نثر پیش کرنے کے لےے ان کے دوبارہ لکھنو¿ جانے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
درخواست کے مطابق غالب گورنر جنرل کے ورود کی خبر پھیلنے کے بعد کانپور روانہ ہوئے تھے اور جب گورنر جنرل کانپورمیں وارد ہوئے تو وہ لکھنو¿ میں صاحب فراش تھے:
”انہی دنوں نواب گورنر جنرل بہادرکے ورود کی خبر پھیلی۔ یقین تھاکہ سرچارلس مٹکاف بھی ان کی پذیرائی اور استقبال کے لےے جائیںگے۔ لہٰذامیں نے فیصلہ کیاکہ کانپور جاو¿ں اور وہاں سے ان کی معیّت میں واپس آو¿ں اور راستے میں کسی مناسب موقع پر ان کی خدمت میںحاضر ہوکر اپنی مصیبت اور بے بسی اور قرض کاسارا افسوسناک احوال ان سے کہوں اور انصاف کا طالب ہوں۔
غرض میں اس ارادے سے فرخ آباداور کانپور کی طرف روانہ ہوگیا۔ بدقسمتی سے جوں ہی کانپور پہنچا میں یہاں بیمارپڑگیا، یہاں تک کہ ہلنے جلنے کی سکت بھی جاتی رہی۔ چونکہ اس شہرمیں ڈھنگ کاکوئی معالج نہیں ملا اس لےے مجبوراً ایک کرائے کی پالکی میں گنگاپارلکھنو¿ جانا پڑا۔یہاں میں پانچ مہینے سے کچھ اوپر بستر پر پڑا رہا۔ یہیں میں نے نواب گورنر جنرل بہادرکے ورود اور بادشاہِ اودھ کے ان کے استقبال کو جانے کی خبر سنی۔ لیکن ان دونوں میں چارپائی سے اٹھنے تک کے قابل نہیں تھا۔ غرض کہ لکھنو¿ کی آب و ہوابالکل میرے راس نہیں آئی۔33
لارڈایمہرسٹ جو اس زمانے میں گورنرجنرل تھے4 اگست 1826 ءکو کلکتے سے روانہ ہوئے تھے۔ بھاگل پور، غازی پور، رام نگر، مرزاپور، الٰہ آباد اور فتح پور ہوتے ہوئے 18نومبر 1826ءکو وہ کانپور پہنچے 20 نومبر کو بادشاہِ اودھ (غازی الدین حیدر) نے ان سے ماقا ت کی۔ دوسرے دن انگریزوں نے بادشاہِ اودھ سے جوابی ملاقات کی یکم دسمبرکو یہ قافلہ لکھنو¿ پہنچااور سال کے اختتام پر برطانوی علاقعے میں واپس آگیا۔ 8 جنوری1827کو اس کاورود آگرے میں ہوا۔34 چونکہ غالب گورنر جنرل کے ورودکی خبر پھیلنے پر کانپورکی طرف روانہ ہوئے تھے اس لےے قیاس کیاجاسکتاہے کہ وہ دہلی سے جولائی 1826 میں روانہ ہوئے ہوں گے۔ لارڈ ایمہرسٹ کے کانپور پہنچنے کی تاریخ معلوم ہونے سے اس میں کوئی شبہہ نہیں رہتاکہ وہ 18 نومبر 1826 کو نہ صرف یہ کہ لکھنو¿ میں تھے بلکہ وہاں کافی پہلے سے ٹھہرے ہوئے تھے اور وہ تمام قیاسات جن میں نومبر 1826 کے بعد دہلی سے ان کی روانگیِ سفر بیان کی گئی ہے مطلقاً ردہوجاتے ہیںچونکہ وہ 26 ذیقعدہ 1242 ھ (27جون 1827) کو لکھنو¿ سے کانپور چلے گئے تھے اور ان کے دوبارہ لکھنو¿ جانے کے بارے میں کوئی اشارہ موجود نہیں اس لےے یہ بھی یقینی ہے کہ آغامیر کی مدح کی نثر انہوں نے2 محرم الحرام 1242ھ (5 اگست 1826) کو مکمل کی تھی۔
ان مباحث کا ماحصل یہ ہے کہ غالب اپریل 1825 کے لگ بھگ فیروزپور گئے تھے۔اسی زمانے میں انہوں نے مولوی فضل حق کے نام صنعتِ تعطیل میں اپنا فارسی خط لکھا۔ نومبر 1825 میں انہوں نے نواب احمد بخش خاں کے ساتھ بھرت پورکاسفرکیااورمارچ 1826 سے کچھ قبل فیروزپور آگئے بھرت پورجانے کی تیاری میں اگر وہ نہایت عجلت میں فیروزپورسے دہلی آئے تھے تو اس سے اس سفرکے سلسلے کو منقطع نہیں کیا جاسکتاجوکلکتے روانہ ہونے سے پہلے فیروزپور کا آخری سفر تھا۔ تقریباً ایک سال کے بعد غالب مارچ 1826 میں کانپور روانہ ہوئے اور جلدہی لکھنو¿ پہنچ گئے جہاں انہوں نے 2 محرم الحرام 1242ھ (5اگست 1826) کو صنعت تعطیل میں آغامیر کی مدح میں فارسی نثر سرانجام دی۔ نومبر 1826 سے جون 1827(ذیقعدہ1242ھ) تک تقریباً آٹھ ماہ وہ یقینی طورپر لکھنو¿ میں تھے۔ جس طرح انہوں نے اپنی درخواست میں مصلحةًکلکتے کے سفر سے پہلے فیروزپورسے دہلی آنے کااظہارنہیں کیااسی طرح ان کایہ بیان کہ وہ لکھنو¿ میںپانچ ماہ سے کچھ اوپر مقیم رہے کسی مصلحت پر مبنی ہے اور جب ان کے بیان کے برخلاف لکھنو¿ میں ان کے قیام کی مدّت کم سے کم آٹھ ماہ ثابت ہے تو یہ مدّت ایک سال بھی تسلیم کی جاسکتی ہے۔
مالک رام صاحب کا قیاس ہے کہ خواجہ حاجی نے غالب کے خسر نواب الٰہی بخش خاں معروف کے انتقال (1826۔1242ھ) کے شاید ایک ہی سال پہلے وفات پائی تھی35۔سید اکبر علی ترمذی نے غالباً اسی بناپر یہ لکھ دیا ہے کہ خواجہ حاجی کاانتقال 1825 میں ہوا36۔خاندانی پنشن کے سلسلے میں غالب کی باقاعدہ کوشش کا آغاز خواجہ حاجی کی وفات سے قبل ممکن نہیں لیکن غالب کے بعض سوانح نگاروں کا یہ خیال درست نہیں کہ اس کی نوبت نواب الٰہی بخش خاں معروف کی وفات کے بعد آئی۔ 1242ھ یعنی معروف کا سالِ وفات اگست 1826 سے شروع ہوکر جولائی 1827 میں ختم ہوا تھا۔ موجودہ تفصیلات سے ثابت ہوتاہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی کوششیں اس سے قبل ہی تیز کردی تھیں اور کلکتے جانے کاارادہ کرلیاتھابلکہ وہ اس سے پہلے دہلی سے روانہ ہوچکے تھے۔ تعجب ہے کہ اثنائے سفرکے کسی خط میں انہوں نے معروف کی وفات کاذکرنہیں کیا۔ اس کے علاوہ کلکتے میںایک طرف تو وہ اس بنیادپر چارہ جوئی کر رہے تھے کہ فیروزپور سے دہلی جانا ان کے لےے ممکن نہ تھا اور دوسری طرف خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘ میں یہ لکھ رہے تھے کہ وہ فیروزپورسے دہلی واپس آئے تھے۔ فیروزپور سے دہلی واپس آنے کے تقریباً پانچ ماہ کے بعدوہ کلکتے کے لےے روانہ ہوئے تو اس مدت پر بھی خاتمہ¿ ’گلِ رعنا‘کایہ فقرہ کہ ”روزگاری دراز بہ خاک نشینی سپری شد“ پوری طرح منطبق نہیںہوتا۔لیکن ان وجوہ سے اگر غالب کے سفروحضرکے بعض مراحل کے تعینِ زمانی میں کچھ شکوک باقی رہ جاتے ہیں تو انہیں نئی معلومات او رمآخذ کی دستیابی کے بغیر دور نہیں کیا جاسکتا۔ محقق کے لےے دستیاب مواد کے حدود کاادراک اوراپنی تلاشِ نارساکا اعتراف ضروری ہے۔ غیر تحقیقی قیاس آرائی سے بات بٹھانے کے رجحان نے غالبیات میں ایسے گل کھلائے ہیں کہ اب اس سے جتنا اجتناب برتاجائے اتناہی بہتر ہے۔

(’غالبیات اور ہم ‘ازابو محمد سحر)

حواشی:
1۔ دیکھےے نامہاے فارسیِ غالب،مرتبہ سید اکبر علی ترمذی،ص11-15
2۔غالب نامہ،طبع دوم، ص25
3۔غالب از مہر، طبع سوم، ص92
4۔گل رعنامرتبہ¿ مالک رام، مقدمہ،ص7
5۔دیکھےے نامہائے فارسی غالب مرتبہ سید اکبرعلی ترمذی، مقدمہ¿ انگلیسی، ص21 اور گل رعنامرتبہ سید وزیرالحن عابدی، مقدمہ، ص50
6۔گل رعنامرتبہ سید وزیرالحسن عابدی، مقدمہ، ص50
7۔کلیاتِ نثرِ غالب،کانپور، 1888،ص64-65
8۔ذکرِ غالب کچھ نئے حالات از مالک رام، افکار، غالب نمبر، 1969، ص46 تا54 اور ذکر غالب از مالک رام، طبع چہارم، ص 60تا69
9۔ذکر غالب، کچھ نئے حالات از مالک رام، افکار، غالب نمبر، 1969، حاشیہ، ص51
10۔غالب کا سفر کلکتہ از ڈاکٹر محمود الٰہی، اردو، کراچی، شمارہ خصوصی بیادِ غالب، حصہ دوم، 1969، ص83 تا88 نیز کتاب، لکھنو¿، اکتوبر 1969، ص29 تا 31
11۔ملاحظہ ہو نامہاے فارسیِ غالب،10
12۔ذکر غالب کچھ نئے حالات، افکار، کراچی، غالب نمبر، ص49،50
13۔ کلیات نثر غالب،ص64
14۔کلیات نثر،غالب،ص159
15۔ذکر غالب کچھ نئے حالات، افکار، غالب نمبر،1969،ص51
16۔کلیات نثر غالب،ص158
17۔نامہ ہاے فارسی غالب، مقدمہ انگلیسی،ص32
18۔ The cambride history of India, vol. V. second indian print, 1963, p. 577
19۔ Selections from the papers of lord Metcalfe by Jhon William Kaye
ذکرِ غالب،ص 61کے مطابق آکٹرلونی کاانتقال 15جولائی 1825 کو ہوا۔
20۔کلیاتِ نثر غالب،ص64
21۔ایضاً،98-99
22۔کلیات نثر غالب،ص64
23۔ایضاً،ص4
24۔The life and corespondence of charles, lord netcalfe by Jhon Willian Kaye, Vol. II, 1858, p. 139
25۔The life and correspondence of Charles, Lord Metcalfe, Vol. II, p. 156.
26۔ کلیاتِ نثر غالب،ص155-156
27۔The life and correspondence of Charles, Lord Metcalfe, Vol. II, p. 156.
28۔ذکر غالب کچھ نئے حالات، افکار، غالب نمبر، 1969،ص50
29۔کلیاتِ نثر غالب، ص158۔ خط میں سنہ درج نہیں ہے لیکن غالب 1243ھ سے پہلے لکھنو¿ پہنچ گے تھے۔ اس لےے یہ واقعات لازمی طورپر 1242ھ سے متعلق ہیں۔
30۔غالب نامہ،ص25
31۔غالب،ص92
32۔کلیاتِ نثرِ غالب،ص157۔ An Oriental Biographical Dictionaryمیں معتمدالدولہ آغامیرکی معزولی کاسنہ 1826 درج ہے جس کا اعادہ نامہاے فارسیِ غالب (مقدمہ¿ انگلیسی۔ص21) میں بھی کیاگیاہے۔
33۔ذکرِ غالب، کچھ نئے حالات، افکار، غالب نمبر، 1969،ص50
34۔Lord Amherst By Mrs. Thackery Ritchie and Mr. Richardson Evans, pp. 176,177,179 and 180 and A Comprehensive History of India by Henry Beveridge, Vol. III, pp. 187-188
35۔ذکرِ غالب، ص57-58 ۔ مالک رام صاحب نے معروف کا سالِ وفات گلشن بے خار، ص184 کے حوالے سے درج کیاہے۔ گلشنِ بے خارمیں صرف 1242ھ ہے اور یہی سنہ ہجری بزمِ سخن مرتبہ¿ سید علی حسن خاں (ص106) اور این اورینٹل باﺅگرافیکل ڈکشنری مرتبہ¿ ٹامس ولیم بیل (ص244) میںبھی ملتاہے۔
36۔نامہاے فارسیِ غالب، مقدمہ¿ انگلیسی،ص19

عہدِ جدید میں غالب

نیر مسعود

عہدِ جدید میں غالب

1969 
میں غالب صدی تقریبات عالمی پیمانے پر منائی گئیں جن کے نتیجے میں غالب کی شہرت کا دائرہ دیکھتے دیکھتے نہایت وسیع ہوگیا۔اسی کے ساتھ غالب اور اُن کے فن سے ہماری واقفیت کا دائرہ بھی وسیع ہوا۔ اِن تقریبات کے دوران غالب کی شخصیت اور فن کے اُن گوشوں پربھی روشنی پڑی جن پر ابھی تک زیادہ بالکل غور نہیں ہواتھا۔ اب یہ غالب کے فن کی قوت اور اُن کی شخصیت کے پیچ و خم کا کرشمہ تھاکہ سیکڑوں کتابیںاور ہزاروں مضمون مل کربھی اُن کو کسی دائرے میں گھیر نہیں سکے، البتہ ان مطالعوں نے غالب کوہمارے ذہنوں سے قریب تر کردیااور انہیںبہت سے ایسے ذہنوں تک بھی پہنچا دیاجن کو عام حالات میں غالب سے مانوس ہونے کا موقع شاید نہ ملتا۔ یہ غالب کی تازہ مقبولیت کی ایک صورت تھی جو غالب صدی کے ذریعے انہیں حاصل ہونے والی شہرت کی آوردہ تھی۔ لیکن شہرت بالعموم دیرپا مقبولیت کی ضمانت نہیں ہواکرتی۔غالب کی یہ تازہ مقبولیت بھی ایک حد تک عارضی تھی اور اس کا بڑا حصہ غالب صدی کی ہماہمی ختم ہونے کے بعد زائل ہوگیا۔
اس ہنگامی مقبولیت کے متوازی غالب کی وہ استمراری مقبولیت ہے جو اُن کے دورانِ حیات سے لے کر آج تک چلی آرہی ہے، اگرچہ یہ خیال آج بھی بعض ذہنوں میں راسخ ہے کہ غالب کے اپنے عہدنے اُن کی قدر نہیں کی۔یہ غلط فہمی (غالب کے بارے میں بیشتر دوسری غلط فہمیوں کی طرح خود غالب کی پھیلائی ہوی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اُن کو اپنی زندگی ہی میں جتنی مقبولیت حاصل ہوگئی تھی اتنی اقبال کے سواشاید کسی اور اُردو شاعرکو جیتے جی ہاتھ نہ آسکی۔
ظاہر ہے اس استمراری مقبولیت کی بنیاد غالب کی شاعری پر قائم ہے جس کی مختلف خصوصیتیں مختلف زمانوں اور مختلف حلقوں میںان کو اردوکاصفِ اوّل کا شاعر تسلیم کراتی رہیںاور ایک مدت تک غالب کویہ امتیاز حاصل رہاکہ اردوکے کسی اہلِ قلم پر اُن سے زیادہ کتابیں اور مضامین نہیں لکھے گئے(اب اس خصوص میں اقبال غالب سے آگے ہیں)۔
لیکن غالب کی شاعری میں کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جن کی موجودگی میں یہ شاعری مجموعہ¿ اضداد نظر آنے لگتی ہے اوریہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شاعرایسے شعرکہہ سکتا ہو:

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ توکیا ہے
تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پُرزے
دیکھنے ہم بھی بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا

میں نے کہا کہ ”بزمِ ناز چاہےے غیر سے تہی“
سُن کے ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یوں!

پُر ہوں میںشکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑےے پھر دیکھےے کیا ہوتاہے
اُسی شاعر نے ایسے شعر بھی کہے ہیں:
عشق بے ربطیِ شیرازہ¿ اجزاے حواس
وصل زنگارِ رُخِ آئنہ¿ حسنِ یقیں

بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہہ غبار
یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا

بے خودی بسترِ تمہیدِ فراغت ہو جو
پُر ہے سائے کی طرح میرا شبستاں مجھ سے

ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ در رہنِ سخن
تھا طلسمِ قفلِ ابجد خانہ¿ مکتب مجھے

معلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہ
تیغِ ستم آئینہ تصویر نما ہے
بلکہ یہی شاعر ایسے شعربھی کہہ چکاتھا:
کرتی ہے عاجزی سفرِ سوختن تمام
پیراہنِ خَسَک میں غُبارِ شرر ہے آج

جوہرِ آئینہ فکرِ سخن موے دماغ
عرضِ حسرت پسِ زانوے تامّل تاچند

کرے ہے لطفِ اندازِ برہنہ گوئی خوباں
بہ تقریبِ نگارش ہاے سطرِ شعلہ یاد آتش

چشمِ پرواز و نفس خفتہ، مگر ضعفِ امید
شہپرِ کاہ پےِ مُژدہ رسانی مانگے

نگہہ معمارِ حسرت ہاچہ آبادی چہ ویرانی
کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامانِ صحرا ہے
عرصے تک اُردو کا تنقیدی مزاج اور ہمارا ادبی مذاق غالب کے اس کلام سے ہم آہنگ نہ ہوسکا۔ یہاں غالب نے نامانوس ،خلافِ محاورہ اور فارسی نمااُردو میں پیچ در پیچ استعاروں کے ذریعے ایسے غریب مضامین باندھے اور ایسے انوکھے شعری پیکر خلق کےے تھے جن کا ہماری مانوس دنیاکی حقیقتوں سے بہ ظاہر کوئی تعلق نہ تھااوراسی وجہ سے ان شعروں کو مشکل اور مبہم ہی نہیں، مہمل کہہ کربھی مستردکیا جاتاتھا۔ خود غالب نے معذرت کے انداز میں اِن ’مضامینِ خیالی‘ سے ا پنی وقتی دل بستگی کا اعتراف کیااو ریہ اعلان بھی کیاکہ بعدمیں وہ راہ راست پر آگئے۔ اپنے شعری روےے میں تبدیلی کامزیداور مستحکم تر ثبوت انھوں نے اس طرح فراہم کیاکہ اپنابہت سا کلام خود مسترد کردیااور کہاکہ انھوں نے اپنے اس قسم کے شعروں والے ابتدائی ”دیوان کو دور کیا،اوراق یک قلم چاک کےے، د س پندرہ شعر واسطے نمونے کے دیوانِ حال میں رہنے دےے“۔ اپنے اس منتخب اور متداول دیوانِ حال کے دیباچے میں غالب نے یہ بھی اعلان کردیاکہ جو شعراس دیوان میں شامل نہیں ہیں انہیںمیرے ”آثارِ تراوشِ رگِ کلک“ میں نہ سمجھا جائے اور مجھ کو ان شعروں کی تحسین سے ممنون اور تنقیص میں ماخوذ نہ کیا جائے۔
اس طرح غالب نے وقتی طورپر ادبی دنیاکوایک بہت بڑے مغالطے میں ڈال دیا۔ وہ یہ کہ اُن کا وہ مشکل کلام، جسے سہولت کی خاطر ’بیدلانہ‘ کلام کہا جاسکتاہے، عمدہ اور اصلی شاعری کے معیار پر پورانہیں اُترتا، اور خود غالب کے اعلانِ برا¿ت کے بعد قابل اعتنا نہیں رہ جاتا۔ یہ سراسر آوردکی شاعری ہے جس کے پسِ پُشت شاعرکے حقیقی جذبات و خیالات کارفرما نہیں ہیں اوریہاں غالب مناسب پیرایہ¿ اظہار میں عام انسانی واردات کی عکاسی کرنے کے بجاے اپنے غیر معتدل اور پیچیدہ ذہن کی بھول بھلیاں میں بھٹکنے لگے ہیںاور کم عمری کی وجہ سے عجزِ بیان کاشکارہوئے ہیں۔
لیکن عہدِ جدید میں یہی کلام غالب کی مقبولیت کاتازہ سبب بنااور جن عناصرکی بناپر ابھی تک اسے لائقِ اعتنانہیں سمجھا گیاتھاانہیںعناصر نے اسے جدید ذہن کے لےے سب سے زیادہ قابلِ توجّہ اور قابلِ قبول ٹھہرایا۔ اس انقلاب کا بڑا سبب اُرد ادب میں جدیدیت کا فروغ اور اس سے وابستہ تنقیدی نظریات ہیں۔ ان نظریات کے تحت شعرمیں اظہار و ابلاغ کے مسائل خاص طورپر زیرِ بحث آئے اور جدید نقادوں نے جن امورپر زوردیاوہ مجملاً یہ ہیں:
ضروری نہیں کہ شعرکے جو معنی شاعرکے ذہن میں ہوں وہی قاری کی بھی سمجھ میں آئیں۔ مکمل ابلاغ، یعنی بات کواس طرح کھول کر کہہ دیناکہ وہ فوراً اور پوری کی پوری واضح ہوجائے، شعرکی خوبی نہیں۔ شعرکی خوبی یہ ہے کہ اسے سمجھنے کے بعدبھی اس میں کچھ مفاہیم باقی رہ جانے کااحساس ہو۔کسی بھی کلام کو یقین کے ساتھ مہمل نہیں کہا جاسکتا، علی الخصوص مبہم کلام کو۔ ابہام شعرکا عیب نہیں، حسن ہے۔ مبہم شعر ٹھیک سے سمجھ میں نہ آنے کے باوجود اچھامعلوم ہو سکتا ہے اور مختلف النّوع تاثّر پیدا کرسکتاہے۔ شعرکی زبان کو زیادہ سے زیادہ غیر رسمی اور نثرکی زبان سے زیادہ سے زیادہ دُور ہونا چاہےے۔ بالواسطہ، استعاراتی اور علامتی پیرایہ شعرکابہترین پیرایہ ہے، وغیرہ۔ مثالیں دینے کی ضرورت نہیں، ان کے بغیربھی سمجھا جاسکتاہے کہ یہ سارے تنقیدی خیالات غالب کے بیدلانہ کلام کاجواز فراہم کر رہے ہیں، درحالے کہ اِن کا اصل مقصد جدید شاعری کاجواز فراہم کرنااور اُن الزاموں کارفع کرناتھاجو شروع میں جدید شاعروں پر بہ کثرت وارد ہو رہے تھے اور جن کا لُبِّ لباب یہ ہے کہ ان شاعرو ںکے کلام کا بیشتر حصہ چیستانی، مبہم، بلکہ مہمل ہے، انہیں زبان کے استعمال کا سلیقہ نہیں اور وہ مطابقِ محاورہ فصیح زبان کے بجائے مصنوعی اور نامانوس زبان استعمال کرکے عجزِ بیان کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یعنی جدید شاعروں کوبھی انہیں اعتراضوں کا سامنا کرناپڑاجن سے غالب دوچار ہوئے تھے۔اس طرح فطری طورپر غالب جدید شاعروں اور نقادوں کے مزاج کے قریب آگئے اور اُن کی استمراری مقبولیت نے عہدِ جدید میں اپنے لےے تازہ اسباب پیدا کرلےے۔ لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہوناچاہےے کہ عہدِ جدید کاذہن غالب کے صرف بیدلانہ شعروں کی بناپر اُن کو پسند کرتاہے۔ یہ ذہن اِن شعروں کو قبول کرتااور لائقِ تحسین مانتاہے اگرچہ اُسے اِن شعروں کی بناپراُن کو پسند کرتاہے۔ یہ ذہن اِن شعروں کو قبول کرتااور لائقِ تحسین مانتاہے اگرچہ اُسے اِن شعروں کے مفاہیم روشن نہ ہونے کا اعتراف بھی ہے، لیکن اِن شعروں سے قطع نظر غالب کے نسبتہً صاف اور سہل شعروں نے بھی عہدِ جدید کے سیاق و سباق میں نئی معنویت پیدا کرلی ہے اور مجموعی حیثیت سے بھی نیاعہد دوسرے تمام کلاسیکی شاعروں سے زیادہ غالب کو اپنے ذہن کے قریب پاتااور غالب کو جدید ذہن کا مالک جانتاہے۔ اس لےے کہ تفکر، تشکیک اور ناآسودگی کے احساس کی وہ صورتیںجو عہدِ جدید کاخاصّہ ہیں، غالب کے یہاں بھی مل جاتی ہیں۔ اسی لےے شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
”اُردو کے تمام بڑے شاعروں میںغالب سے زیادہ ذاتی اور کائناتی المےے کااحساس کسی کونہیں تھااور بیسویں صدی کے ذہن کی جیسی پیش آمد (Anticipation)غالب کے یہاں ہے ویسی بیسویں صدی کے بھی بہت سے شعراکونصیب نہیںہوی۔“
دوسرے جدید نقادبھی فاروقی کے ہم نوا ہیں۔ اس سلسلے میں غالب کے بہت سے ایسے شعر عہدِ جدید کے ادبی پیش منظرپر روشن ہوئے جن کواس سے قبل زیادہ توجہ کا مستحق نہیں سمجھا گیاتھا،مثلاً:
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
کوئی آگاہ نہیں باطنِ ہم دیگر سے
ہے ہراک فرد جہاں میں ورقِ ناخواندہ
دیر و حرم آئینہ¿ تکرارِ تمنا
واماندگیِ شوق تراشے ہے پناہیں
ہوں گرمیِ نشاطِ تصوّر سے نغمہ سنج
میں عندلیبِ گلشن ناآفریدہ ہوں
ہجومِ سادہ لوحی پنبہ¿ گوشِ حریفاں ہے
وگر نہ خواب کی مضمر ہیں افسانے میں تعبیریں
آخر میں اس نئی صورتِ حال کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ عہدِ جدید میں غالب نے بیرون ِ ملک بھی ذہنوں کو متاثرکیاہے اور اس اثراندازی کے اسباب غالب کی شخصیت اور شاعری ہی کی طرح مختلف بلکہ متضاد ہیں۔ روسی نقّاد غالب کا مطالعہ کرتے ہیں توانہیں سماجی شعور، عوام دوستی اور سامراج دشمنی میں اپنے معاصروں سے آگے پاتے ہیں۔جدید امریکی شاعرہ ایڈرین رِچ کو جب غالب کی کچھ غزلوں کے انگریزی ترجمے دےے گئے تو اُسے ان غزلو میں خیال کے ارتکازاور ہمہ گیری کی بہ یک وقت موجودگی نے حیران کردیا۔ اُس نے ان اشعار کے مضامین کو انگریزی میں نظم کیااور اعتراف کیاکہ غالب کے شعروں کو انگریزی نظم کے سانچے میں ڈھلنے کے لےے اُسے ایسے واضح نقوش اور پیکر تیار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی جن کے پیچھے پرچھائیوں، بازگشتوں اور عکس در عکس کاایک سلسلہ موجودہو،اور ان نظموں کااجمال اورچُستی مغربی قارئین کو جاپانی ہائکو، یاالگزنڈرپوپ یایونانی شاعری کی بیتوںکے اجمال اور چستی سے بالکل مختلف ہو۔
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عہدِ جدید میں غالب کی مقبولیت نے اپنے لےے نئے میدان تلاش کرلےے ہیں اور آئندہ زمانوں میں بھی غالب کاانتظار کر رہی ہے۔

مرقع چغتائی

محمد عبدالرحمن چغتائی

مرقع چغتائی

غالب کے مصور نسخہ کی داستان تخلیق

            غالب کے مصور ایڈیشن، مرقع چغتائی کی تخلیق کے سلسلے میں اس سے قبل بھی کچھ گزارشات پیش کرچکا ہوں اور اس موقع پر بھی چند نئے اضافوں اور وضاحتوں کے بعد یہی داستان دہراتا ہوں۔ اس عظیم اور فنی پیش کش کی اہمیت پر اس بیان سے بھی کافی روشنی پڑے گی۔

            میری زندگی اورمیرے فن کی داستان میں 1919 بہت اہم سال ہے۔ یہ سال وہ ہے جب میرے فن کی ابتدا ہوئی۔ یہی زمانہ ہے جب مجھے اپنے مستقبل سے روشناس ہونے کا موقع ملااور یہ احساس زندگی کاجزو بن گیا۔ احساس یہ تھا کہ مجھے آئندہ ایک بڑا فنکار بننا ہے اور اسی کے لیے  جینا ہے۔ یہ خودی کی بیداری تھی۔ اس سے قبل میں کچھ افسانے اور کہانیاں بھی لکھتا تھا اور اب بھی لکھتا ہوں، لیکن یہ محض ایک شوقیہ مشغلہ تھا اور ہے۔

            1924 میرے امتحان اور خود اعتمادی کی آزمائش کا سال تھا اور اس کے اظہار کاموقع بھی پیدا ہوا۔ میں ان دنوں میو اسکول آف آرٹ لاہورمیں ایک انچارج کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ اس عہدہ سے جب گلوخلاصی کی نوبت آئی تو اس وقت میں رخصت پر تھا۔ چھٹیاں گزار کر جب ادارے میں واپس آیاتو کالج کے پرنسپل سے آمنا سامنا ہوا۔ یہ ایک انگریز افسر تھا۔ فنکار اور منتظم بھی بہت اچھا تھا۔ اس نے مجھ پر ظاہرکیا کہ چھٹیوں کے دوران میں سنیما دیکھتا رہاہوں!۔ یہ ایک چغل خور کی حرکت تھی۔ چغل خور کون تھا، میں اس کو اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ شخص میری فنی کامیابی اور ہردلعزیزی کو دیکھ دیکھ کر جلتا تھا اور میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اورایسے موقع کی تلاش میں تھا کہ میرے خلاف کان بھرسکے۔ بلکہ مجھے نقصان پہنچنے کا امکان بھی پیدا ہوا۔

            یہ وہ زمانہ تھا کہ میری بنائی ہوئی تصاویر کی نمائش ہو رہی تھی۔”پنجاب فائن آرٹ سوسائٹی“ کی پہلی نمائش ہوئی تو اس میں کام کی غیر معمولی قدر کی گئی۔ کئی تصاویر کم وبیش چھ سات ہزار میں فروخت بھی ہوئیں۔ ان کا بیشتر حصہ ہزہائینس میر صادق عباسی بہاول پورنے خرید فرمایا تھا۔ یہ پہلا فاتحانہ معرکہ تھا۔ جس وجہ سے قدرتاً حاسدوں کابھی ایک گروہ پیدا ہوگیا۔ میں نے موقع پراپنے آپ کو ایسے حاسدوں کے بیچ میں کھڑا ہوا پایا۔ مگر حاسدانہ کوششوں اور کشاکش کے ساتھ حقیقی قدر افزائی نے بھی میری ذات، فن اور مستقبل پر گہرا اثرڈالا۔

            ذکر انگریز پرنسپل کا تھا میں نے اس کے سامنے کہا کہ اطلاع غلط ہے۔ میرے اس انکار پروہ تن گیا کہنے لگا۔ بڑے قابل اعتماد آدمی نے مجھے باوثوق طریقہ پر بتایا ہے اس کی اطلاع غلط نہیں ہے میں نے دہرایا وہ مجھ سے زیادہ تو نہیں ہوسکتا۔ میں اپنے آپ پرکامل اعتماد رکھتا ہوں اور ذمہ دار بھی سمجھتا ہوں۔

            ممکن ہے گفتگو طول پکڑ جاتی لیکن میں بات کو ادھورا چھوڑ کر واپس چلا آیا اور راستے ہی میں اس بات کا فیصلہ کیا کہ ان حالات میں مجھے اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوجانا چاہیے۔ اس خود اعتمادی کی بنا پر ہی میں نے استعفیٰ دے دیا۔ انگریز پرنسپل کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے ایسی جرات سے کام لیا۔ میرا استعفیٰ دیکھ کر وہ کچھ پریشان بھی ہوا۔ کالج کے اساتذہ کوبلا لیا اور بڑے خلوص سے سمجھانے لگا کہ میں استعفیٰ واپس لوں۔

            اس نے میرے روشن مستقبل پربھی روشنی ڈالی اور کہنے لگا ہو سکتا ہے تم ایک دن اس انسٹی ٹیوشن کے پرنسپل ہوجاو مگر زیادہ حجت نہ کی اور ایک ماہ کی تنخواہ چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا۔ یہ مالی قربانی اس وقت میرے اور میرے خاندان کے لیے معنی رکھتی تھی، بالخصوص اس وجہ سے کہ یہاں تک پہنچنے کے لیے جتنے پاپڑ بیلے تھے، بہت فاصلے طے کیے تھے، بڑی ریاضت اور انتھک کوششیں کرنے کے بعد ہی یہاں تک پہنچا تھا۔

            اس کے بعد میں ملازمت کے پھندے میں کبھی نہ پھنسا ہمیشہ اس جال سے بچ کر نکل گیا۔ خدا کے فضل سے کامیاب، مجھے اس وقت مدراس، حیدرآباد دکن اور میواسکول آرٹ (موجودہ نیشنل آرٹ کالج) کے پرنسپل کی اسامی کے لیے پیش کش کی گئی۔ مگر میں ملازمت کوکبھی ترجیح نہ دے سکتا تھا۔ اس لیے اس طرف سے نفور رہا۔

            ملازمت سے سبکدوشی کے بعد میرے کانوں میں عجیب قسم کی طرح کی پیشنگوئیاں بلکہ بدگوئیاں پڑتی رہیں۔ مگر میں سنی ان سنی کر دیتا تھا۔ صحیح تھا کہ اس وقت میری گھریلو زندگی ان جرات مندانہ اقدام کی اجازت نہ دیتی تھی۔ صرف اس ملازمت واحد کا سلسلہ تھا جس سے زندگی کو سہارا مل رہا تھا۔ مگر آفریں ہے میری محترمہ والدہ کو کہ انہوں نے میری ڈھارس بندھائی اور اس جرات کو میرے حق میں فال نیک قرار دیا اور دعا دی کہ اللہ ہمیں کسی کا محتاج نہ کرے گا۔

            ہم تین بھائی ہیں۔میں بڑاہوں ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی منجھلے اور عبدالرحیم چغتائی سب سے چھوٹے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ میری اس جرات پر مشوّش تھے۔ ایک طرح عبداللہ کا سوچنا بھی ٹھیک تھا۔ اس کا تعلق حالات کی سفاکی، غربت اور ضروریات زندگی سے تھا۔ بعض اور ذہنی عوامل بھی تھے اور یہ مزاجوں، نیز اقدار زندگی کے باب میں زاویہ نظر کے فرق سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

            بہرکیف یہ ان دنوں کی بات ہے جب ویمبلے، انگلستان میں سرکاری اہتمام سے ایک بہت بڑی نمائش فن منعقد ہورہی تھی اور برطانوی نوآبادیات کے فنکار اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ یہ 1923 کا واقعہ ہے۔ میرے کام کے نمونے بھی اس نمائش میں شریک تھے، بلکہ حصہ لینے والے فنکاروں کی تصاویر میں سب سے زیادہ میری ہی تصویریں تھیں۔ میرے فن کی شہرت اور قدردانی اب اس منزل پر پہنچ چکی تھی کہ کوئی بھی فنکار اس پر فخر کرسکتا ہے۔ خود میرے پرنسپل نے جس سے بعد کو میرا جھگڑا بھی ہوا، میرے فن کا قدردان تھا اور بڑے خوش آہنگ الفاظ میں میرے ہنر پر اظہار خیال بھی کرچکا تھا۔ اس نے سچ کہا تھا کہ میں ایک نئے دبستان فن کا خالق بنوں گا اور اس طرح جدید ہندستانی فن میں ایک نئے ردعمل کی پیشینگوئی کی جاسکتی ہے۔ ان واقعات نے میرے دل پر گہرا اثر ڈالا میں سوچتا تھا مجھے فن کی عظمت کو اونچا لے جانا چاہیے۔ میرے معاشرے میں صدیوں سے جو فنی اقدار نظر انداز کی جارہی ہیں ان کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ 1924 میں جب میں نے استعفیٰ دیا تو یہی رجحانات اور محرکات ذہنی تھے جو مجھے اکسا رہے تھے اور میں نے سود و زیاں کے چکروں میں پڑے بغیر مستقبل سے اپنا رشتہ جوڑ لیا۔ عقل محو تماشائے لب بام ہی رہی اور میرا عشق فن سفاک حالات کی آتش نمرود میں بے جھجک کود پڑا۔

            معاش کا چکر، ایک کبھی نہ ختم  ہونے والا چکر، اپنے محور پر گھوم رہا تھا اور کئی سوتے پھوٹ رہے تھے۔ گھریلو مشکلات اور خاندانی مسائل میرے لیے آزمائش و امتحان کے مرحلے تھے میں سوچتا تھا یہ ذاتی انسانی فرائض بھی کچھ کم اہم نہیں۔ مگر صرف ملازمت بھی کوئی بڑا شرف و مرتبہ نہ تھا میں سوچتا فن کے فرائض بھی تو ہیں۔ وہ بھی تو میرا دامن کھینچتے ہیں۔

            وہ جب میرا دامن کھینچتے تومیں پنسل پکڑ لیتا، سامنے سفید کاغذ ہوتا، تصور ابھرتے، اپنا پیکر ڈھونڈتے اور فن کے پیکر و پیراہن وجود میں آتے چلے جاتے۔ اس دور آزمائش میں قناعت سب سے بڑا سہارا ثابت ہوئی۔ میں ضمیر کی آواز کو لبیک کہتا رہا اور جذبے روشن سے روشن تر ہوتے چلے گئے۔ میں محسوس کرتا یہ گھاٹیاں طے کرنا اور یہ فراز عبور کرجانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ مجھے یقین تھاکہ بہت جلد اس منزل تک پہنچ جاوں گا جہاں زندگی فراواں چشموں سے عبارت ہوگی۔ ہرشے شاداب و شادکام ہوگی، جہاں مدوجزرتو ہوں گے مگر الجھنوں کی یہ کیفیت نہ ہوگی۔

            ڈاکٹر تاثیر سے میرا رابطہ بہت شروع سے تھا اور یہ زندگی کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔ اس میں زندگی کی امنگیں اور بلند نظری کے اتنے امکانات کروٹیں لیتے تھے کہ ہم دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوسرے کے قریب آگئے، دھندلے نقوش ابھرابھر کر پختگی اور انفرادیت پاتے چلے گئے پھر ان روابط نے معین اشکال اختیار کرنی شروع کیں، انفرادیت اور افادیت کے پہلووں پر روشنی کی چھوٹ پڑنے لگی۔ ہم ان امکانات کو شناخت بھی کرنے لگے ایسے نشانات زندگی جس سے آشنا ہوئے بغیر انسان ان کے قریب نہیں آسکتا۔

            تاثیر بجائے خود ایک انجمن تھا اپنی ذات میں اور ایک انجمن وہ تھی جواس کے دائیں بائیں جلو میں رہتی۔ میرے چھوٹے بھائی عبدالرحیم جن کا ابھی ذکر آیا، ایک دن غالب کا کوئی شعر پڑھ رہے تھے۔ تاثیر بھی بیٹھے تھے۔ رحیم کہنے لگے، تاثیر صاحب یہ تصویر ”سیاہ پوش“ غالب کے شعرکی مفسر ہے۔ اس تصور کی ترجمانی اس تصویر میں دیکھیے۔ اپنی عادت کے موافق تاثیر نے پہلے تو کچھ تامل کیا، پھر نقش کو دیکھا اور ایک دم تائید میں کلمات ادا کیے۔ کہنے لگے! رحیم صاحب آپ نے بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ چغتائی صاحب کو غالب کے اشعار اپنی مخصوص طرزنگارش میں مصور کرنے چاہئیں۔ یہ بڑا کام ہوگا۔

            بات کافی آگے بڑھی اور کچھ ہیولی بننے لگا۔ اس سے قبل میں علامہ اقبال کے بعض اشعار کومصور کرنے کی کوشش کربھی چکا تھا مگر غالب کے باب میں میں نے عرض کیا کہ اس کا مطالعہ نہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ پہلے اقبال کے کلام کو مصور صورت میں پیش کروں۔

            مگر کسی نے میری ایک نہ سنی۔ میں تصویریں برابر بناتا رہا اور یہ تصویریں جب وجود میں آجاتیں تو ڈاکٹر تاثیر اور رحیم غالب کے اشعار پر ان تصویروں کو منطبق کرتے۔ ان کی برجستگی و ابلاغ پر گفتگو کرتے اور بہت سے فیصلے کیے جاتے، خیالات کا تبادلہ بہت سے نئے نکتے سمجھاتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گزرا ہوا دن آنے والے دن کے لیے بہت سے نئے گلہائے شگفتہ دے جاتا عملی سرگرمی کا دور برابر قائم رہا۔ یہ وہ دن تھے جب اردو صحافت بالخصوص ہمارے رسائل، نئی زندگی سے روشناس ہو رہے تھے، بڑی سرگرمی اور گہماگہمی تھی۔ میرا گھر، ادب کے  ادا شناسوں اور احباب کے لیے ایک مرکزی جگہ بن چکا تھا، عجیب حیات پرور ماحول تھا، جدھر نظر اٹھتی زندگی نئی کروٹ لیتی اور مچلتی نظر آتی، ہرایک کچھ نہ کچھ کر رہا تھا اور ادب و فن نئی نئی راہیں ڈھونڈ رہے تھے۔

            انہیں دنوں دیوان غالب کا ایک نیا ایڈیشن جرمنی سے طبع ہوکر آیا۔ لوگ اس کی بہت تعریف کر رہے تھے، اب میں سوچتا ہوں وہ ایڈیشن ہی میری اور تاثیر کی گہری دوستی کا موجب بنا۔ اس میں غالب کی ایک شبیہہ بھی لگی ہوئی تھی۔ تاثیر نے جب مجھے وہ تصویردکھائی تومیں نے اس کی بہت بری طرح مذمت کی اور کہا کہ اس تصویر کا چھپنا شاعر کے دونِ مرتبت ہے۔ اس بات کا تاثیر پر بڑا اثر ہوا اور اس نے گھر پہنچنے سے پہلے اس تصویر کو پھاڑ کر دیوان سے الگ کردیا اور دوسرے دن اپنے اس ردعمل کی کہانی مجھے سنائی۔ اس کے بعد آرٹ سے اس کا لگاو بڑھتا چلاگیا۔ ”بنگال اسکول“ کی تحریک فن اس وقت زوروں پر تھی۔ جدید ہندستانی آرٹ پر اس کا جادو چل رہا تھا۔ ہر جگہ اس کاچرچا تھا۔ فنی نقطہ نظر سے ہم نے بھی اسے پرکھا جانا اور حسب موقع خالص مشرقی نقطہ نگاہ سے اسے سراہا بھی۔

            میرے فن میں تاثیر کی دلچسپی برابر بڑھ رہی تھی اور اس نے ”نیرنگ خیال“ ہی کے ذریعے نہیں اور بہت سی جگہوں پربھی اس سلسلے کو بڑھایا۔ ہر موقع پر اس کا وسیع مطالعہ علم و فن اپنا نقش چھوڑ جاتا تھا میرا خیال ہے کہ فن پر لکھنے والوں میں اس جیسی پہنچ اور سوجھ بوجھ کا کسی اور نے ثبوت نہیں دیا۔

            میں غالب کے اشعار کی تصویری تفسیر کا ذکر کر رہا تھا یہ تصاویر برابر بن رہی تھیں، اچھی خاصی تعداد جمع ہوگئی۔ مگر میں ابھی تک اس خیال کا ہی موید تھا کہ اگرہمیں کچھ کرنا ہی ہے تو پہلے اقبال کے کلام کو مصور کرنا چاہیے تاکہ وہ روایات جو تین چار سو سال سے نظر انداز کی جارہی تھیں ان میں پھر سے زندگی پیدا ہو۔ مگر اس مرحلہ پر علامہ اقبال کے ایک قریبی محسن و محب نے رائیلٹی کا سوال پیدا کر دیا تھا اور یہاں سے مسئلہ دوسرا رخ اختیار کرتا ہے۔

            جیسا کہ عرض کیا میرے فن نے کافی شہرت حاصل کرلی تھی پھر بھی ہم حالات کی تنگنائے میں سے بہت مشکل سے گزر رہے تھے اور ایسے مراحل سے دوچار تھے جن کا علم ہم تینوں بھائیوں کے سوا کسی کونہ تھا۔ زندگی کے تقاضوں نے بری طرح زچ کر رکھاتھا۔ شب و روز ہم اونچی پرواز کے لیے پر تولتے تھے، اڑنے کو بہت جی چاہتا تھا۔ مگر پھر مسکرا کر رہ جاتے تھے۔ زندگی ایسی ہی افتادوں کا نام ہے۔

            غالب کا مصور نسخہ مکمل کرنے کا خیال میرے چھوٹے بھائی، رحیم کے دل میں ایسا سمایا کہ وہ برابر اس دھن میں لگا رہا اور اس لگن نے ہی مجھے بھی کام پر لگائے رکھا، غیب سے ”مضامین“ خیال میں آتے رہے اور مرقع کی شکل بنتی چلی گئی۔ ایکا ایکی مدراس کے مشہور نقاد فن، ڈاکٹر جیمز کزنزنے میری کچھ تصویریں حاصل کرنے کا تقاضا کیا۔ وہ یہ تصاویر مہارانی کوچ بہار کے محل کے لیے خریدنا چاہتے تھے۔ میں نے ان کے سامنے ایک پبلیکیشن کا تصور پیش کیا اور کچھ تجویزیں سامنے رکھیں۔ مگر ابھی یہ خط و کتابت آپس میں رہی تھی کہ مہارانی کوچ بہار نے ایک قدرشناس کی حیثیت سے مجھے پانچ ہزار کا چیک روانہ کردیا تا کہ میں اپنے پروگرام پر دلجمعی کے ساتھ کام کرسکوں۔ حالات کے پیش نظر اس وقت کے یہ پانچ ہزار ہمارے لیے گویا پانچ لاکھ سے کم نہ تھے۔ اس کی خبر جب میری والدہ صاحبہ کو پہنچی تو وہ فرمانے لگیں کہ یہی تو میرا وہ سہانا خواب تھاجو میں دیکھ رہی تھی۔

            ”نیرنگ خیال“ کی مقبولیت حکیم یوسف حسن کے تعاون اور ڈاکٹر تاثیر کی کاوشوں نے بڑی مدد کی اور ہرموڑ پر اپنی ہمدردی، خلوص اور پاک طینتی کا ثبوت دیا۔ ان دنوں ڈاکٹر تاثیر، بدرالدین بدر، ڈاکٹر نذیراور غلام عباس تقریباً ہر وقت میرے گھر پرموجود رہتے کبھی کبھار حفیظ جالندھری، ہری چند اختر، مجید ملک، پطرس بخاری اور سید امتیاز علی تاج بھی رونق بزم بنتے اور غالب کی اشاعت کے سلسلے میں اپنی دلچسپی کا اظہار فرماتے۔ اکثر کوئی نہ کوئی نئی بات ہاتھ آتی وہ ہمدردیاں، خلوص، وہ ہنگامہ پرور فضائیں جن کی طرف ایک دنیا کی نظریں لگی رہتی تھیں جب یاد آتی ہیں تو دل کہتا ہے کاش وہ ماضی واپس آسکتا۔ مگر ماضی کبھی واپس نہیں آتا۔ کسی قیمت پر یہ جنس حاصل نہیں ہوسکتی۔ میں ان دوستوں کی بلند نگاہی کے طفیل اپنی دھن میں لگارہا اور ایسا ڈول ڈالتا رہا کہ مرقع چغتائی اپنا معیار آپ ہو، اس کی مقبولیت کاعالم یہ ہو کہ اک خلق ”اس کے گرد آوے“ پورا برصغیر یک زباں ہوکر اس کی داد دے اور باہر بھی وہ قدرومنزلت ہو کہ فن کی لاج رہے اور یہ کہا جا سکے کہ اب تک اس بلند معیار اور ذوق کی کوئی دوسری کتاب اس برصغیر سے پیش نہ ہوئی تھی۔

            میری تصاویر کا چرچا اب کافی دور دور پہنچ چکا تھا مہاراجہ پٹیالہ کوبھی میرے فن نے اپنی طرف متوجہ کیا اور میرے ارادوں کا علم ہونے پر انہوں نے میری تصویریں خریدیں اور اچھی خاصی رقم عنایت کی جس کی وجہ سے یہ قطعی ہو گیا کہ ”مرقع چغتائی“ شائع ہو سکے گا۔

            ”نیرنگ خیال“ کی سرگرمیاں تو اس سلسلے میں جاری تھیں کہ ”انقلاب“، ”احسان“، ”زمیندار“، ”ہمایوں“، ”عالمگیر“ ”مخزن“۔ نیز دہلی اور حیدرآباد دکن کے اخبارات و رسائل نے بھی میری تحریک فن کا پر جوش خیرمقدم کیا اور ان سب نے اپنا تعاون بھی دیا۔ پھر یہ تحریک و تصور اس قدر آگے بڑھ گیا کہ اگر ہم چاہتے بھی کہ مرقع چغتائی طبع نہ ہو، تو ایسا نہ کرسکتے تھے! اس کے بعد ایسے حالات خود بخود ظہور میں آئے کہ سوائے دیوان غالب مصور کی تکمیل کے اور کوئی کام میرے لیے نہ رہا میں جو کبھی مصروفیتوں کی تلاش میں رہتا تھا،اب اتنامصروف تھا اور کام میں ایسا گھراہوامحسوس کرنے لگا کہ سارے فرائض کو سرانجام دینے میں دشواری معلوم ہوئی۔

            تصویروں کے بلاک، تصویروں کی حفاظت، دیوان کی تصحیح۔ دیوان کو کسی اعلیٰ خطاط سے لکھوانا پھر اس کتابت سے بلاک بنوانا، آرائش و حسن کاری کے لیے نئے نئے ڈیزائن تیار ہونا ایک دوسرا درد سر تھا۔ پھر کتاب کی جلد بندی کا کام تھا۔ طباعت کے لیے خاص الخاص قسم کے کاغذ کی فراہمی راہ کا ایک اور سنگ گراں تھا۔ غرض ہر قدم توجہ اور کوششوں کا محتاج تھا۔ ذوق نظر اور کدوکاوش کے علاوہ بے دریغ خرچ کا بھی سوال تھا۔ واقعات و ضرورت نے مل کر حسب ضرورت روپیہ بھی فراہم کردیا۔ غالب کے مصور ایڈیشن کے سلسلے میں زر تبادلہ کا مسئلہ رائیلٹی کا قصہ بھی نہ تھا۔ غرض کلام اقبال کے سلسلے میں جو حائیلات تھے وہ اگر غالب کے سلسلے پیش آتے تو بھلایہ مرقع کیسے منصہ شہود پر آتا۔

            رحیم نے اگرمرقع چغتائی شائع کرنے کے لیے مجھے اکسایا تھا تو اس نے اس کا سارا بار خود اٹھایا اور بڑے سلیقے سے ان کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مرقع چغتائی جیسی کتاب اس وقت اردو کی سفیر بنی ہوئی ہے اور دنیا کے ہراہم مرکز علم، ادب و فن نیز لائبریریوں، عجائب خانوں اور فنی نگارخانوں میں موجود ہے اس کے معیار نے مشرق کے آرٹ اور اردو کو پہلو بہ پہلو پیش کیا ہے اور اس کی اہمیت نے اردوکو بین الاقوامی مرتبہ پر پہنچا دیا ہے۔

            اب مراحل تیاری کی داستان بھی سن لیجیے۔ سب سے پہلے کاتب کی تلاش ہوئی۔ ڈاکٹر تاثیر اور میں نے لاہور کے کئی مشہور خطاطوں کواس کام کی اہمیت جتلائی اور منہ مانگی رقم دینے کابھی یقین دلایا مگر ہوا یہ کہ ہمارے الفاظ یہاں آکر بے اثر ہو گئے، جب ایسا نظر آیا تو بھائی عبدالرحیم نے خود ہی قدیم طرز خط کے استاد منشی اسد اللہ کا انتخاب کیا اور یہ بیل منڈھے چڑھی۔ انہوں نے ہماری ضرورت کو سمجھا، کام کی نوعیت کوجانا اور پھر ایسی جانفشانی و محبت سے اس کام میں شریک ہوئے کہ آخری لفظ لکھنے تک ان کاوہی شوق و جذبہ کارفرمارہا۔ بحمداللہ آج بھی دنیا ان کے اس کام سے مطمئن ہے۔ اس وقت مرقع چغتائی کے ان کاتب، بابا اسداللہ صاحب کی عمر 65 سال کے لگ بھگ تھی۔

            آج بلاک بنوانے اور ایسی کتابیں چھاپنے کے لیے کافی سہولتیں موجود ہیں۔ ایسے پریس اور بلاک ساز وصناع بھی ہیں جن پر پورا بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ مگرمیں جن دنوں کی بات کررہا ہوں وہ اور وقت تھا اس وقت اپنی نوعیت کا یہ کام اکیلا ہی تھا اور اتنا مشکل اور پیچیدہ کہ اس کا حل سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ بلاک سازی اور چھپائی کی اعلیٰ مشینیں خود فراہم کریں اور یہ سارا فنی کام بھی خود سنبھالیں اس ضمن میں جو جوپریشانیاں، تکلیفیں اور سنگ گراں حائل ہوئے ان کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ہم نے ہمت نہ ہاری اور مشکلوں کے حل تلاش کرتے رہے۔ میرے ماموں زاد بھائی معراج الدین صاحب اور میرے چھوٹے بھائی عبدالرحیم چغتائی نے جس تندہی اور حق شناسی کا ثبوت دیا وہ میری انتہائی عزیز یاد ہے۔ یہ علمی ادبی اور فنی نوعیت کی خدمت تھی، کوئی خزانہ ہاتھ نہیں آرہا تھا۔

            اس کام کے سلسلے میں جب پر وقار الفاظ اور وقیع آوازوں نے فضا میں ارتعاش پیدا کیا تو اس وقت کی انگریز حکومت بھی کچھ متوجہ ہوئی۔ لارڈ لن لتھ گواورلارڈ پیلی فوکس وائسراوں نے جہاں سر فضل حسین اور سرسکندرحیات خاں جیسے مشیروں سے میری بابت مشورہ کیا اور ان بزرگوں نے حکومت انگلشیہ سے میرے لیے ”نائٹ ہڈ“ کی سفارش بھی کی مگر لطیفہ یہ ہوا کہ فن کی منزلت تو دھری رہ گئی اور میری ناداری اور پرانے لاہور کی چاردیواری میں رہائش کی قید سامنے آگئی۔ چنانچہ ”سر“ بدل کر خان بہادر کی شکل اختیار کر گیا! مگراس پر بھی علمی حلقوں نے یہ احساس دلایا کہ فن کی کچھ توپوچھ ہوئی مثلاً ”ٹائمز آف انڈیا“ نے ہی لکھا کہ اس ایک صدی کے عرصہ میں یہ تیسرا خطاب ہے جو علم و فن کے سلسلے میں حکومت ہند نے جدید ہندستانی آرٹ کے ایک نامور فنکار کو دیا ہے۔ یہ اعزاز تو خیر تھا ہی مگر میں جسے عزیز تر سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ میرے مخلص دوستوں اور رفقائے کارنے آخری دم تک میرا ساتھ نہ چھوڑا اور جو بھی برگ و بار آئے انہیں کی مساعی خلوص کا نتیجہ تھا۔

            جن دنوں غالب کا مصور ایڈیشن ارتقا کی منزلیں طے کررہا تھا میں تاثیر کو باربار یاد دلا رہا تھا کہ وہ وقت کے تقاضے کے مطابق اس پروگرام کو عملی شکل دیں جو ان کے ذہن میں تھی۔ عبدالرحمن بجنوری کی بعض ابتدائی کوششوں کے پیش نظر وہ کچھ اور کام سوچ رہے تھے۔ وہ بعض ایسی باتوں کو سامنے لانے والے تھے جن پر پہلے عمل نہ ہوا تھا مگر افسوس کہ آرزووں کی بلندی کے باوجود انہیں سرانجام نہ دے سکے۔ علم و ادب کا توخیر نقصان ہوا ہی مگر مجھے اس کابڑا افسوس رہا۔ مگر ان کی ذات سے مجھے یہ فائدہ برابر ہوتا رہا کہ کام کے سلسلے میں وہ مہمیز ثابت ہوئے میں نے ضرورت کا لحاظ کرتے ہوئے اس مرقع کے لیے سخن ہائے گفتنی خود تحریر کیا تھا۔ یہ ایک تعارف ہے اس تعارف کا مقصد یہ تھاکہ ایک خاص طبقہ اہل ذوق و نظر اس نہج فن کی طرف کھنچے اور اس میں وہ فنی شعورو ادراک پیدا ہو جو میرا زاویہ فکر تھا اس میں شک نہیں کہ یہ سخن ہائے گفتنی اس بارہ خاص میں کامیاب ہوا یعنی یہ کہ ترقی پسند عناصر فن اور ذوق جمال کی تسکین و تلاش کرنے والوں میں احساس پیدا ہوگیا۔

            میرے بھائی عبدالرحیم اور ڈاکٹر تاثیر نے مصور نسخہ غالب کی جو داغ بیل ڈالی تھی وہ چھ سات روپے کا ایک مصور ایڈیشن تھا مگر کتاب پر پچیس ہزار کے قریب خرچ آچکاتھا۔ جب نوبت یہ پہنچی توپھر قیمت کا سوال ایک اور ہی طرف ذہن میں آیا میرے سامنے یورپ کی بعض فنی مطبوعات تھیں۔ مگر میں نے فیصلہ کیا کہ اگر اپنے ملک میں بدذوقی یا کم مائیگی کے باعث پوری طرح خیر مقدم نہ ہوا اور یہ ایڈیشن یونہی پڑا رہاتب بھی وہ ایک یادگار چیز ضرور ہوگا، ایک ناقابل فراموش یادگار۔ اس بات پر کافی سوچتا رہا اور آخرالامر یہ تجویز پیش کی کہ اس کا ایک خاص الخاص (ڈی لکس) ایڈیشن الگ تیار ہو جس کی قیمت ایک سو دس روپے مقرر کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کی صرف دوسودس کاپیاں شائع ہوں گی۔ بعض دوستوں نے اس پر مجھے آنکھیں دکھائیں، کسی نے ہنسی اڑائی اور بعض نے کہا اردو پڑھنے والے ابھی چھ سات روپے کی کتاب پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ ایسا گراں قیمت نسخہ کیسے خریدیں گے؟ میں نے جواب دیا یہ سب ٹھیک، مگر میں نے اپنے فن کے بل بوتے پر اتنا بڑا حوصلہ کیا ہے اور اسے ایسا ہی بنا رہا ہوں اب یہ مرقع ایسے سانچے میں ڈھل چکا ہے کہ اردو نہ جاننے والے بھی اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور خلوص کے ہاتھ اس کی طرف پھیلیں گے۔ غالب کے پرستاروں کی دنیا بھی ایسی گئی گزری نہیں ہے وہ بھی شعروفن سے اپنے لگاو کاعملی ثبوت دیں گے۔

            بہرکیف غالب کے مرقع چغتائی خاص ایڈیشن کا اعلان کردیا گیا۔ آرڈر آنے شروع ہوگئے ہر مذہب و ملت کے لوگوں، غریبوں اور امیروں نے سب نے ہی آرڈر بھیجے۔ یہ خاص ایڈیشن شائع ہونے سے پہلے ہی فروخت ہوچکا تھا۔ ایک تاجر کو اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کا پورا حق بھی تھا اور موقع بھی۔ مگر ہم کاروباری ہتھکنڈوں سے قطعی ناواقف اور تجارت کے فن میں کورے تھے اس لیے یہ موقع بھی ہمیں کچھ نہ دے سکا۔

            میں اپنے قدردانوں اور ان ذی شعور لوگوں کا ذکر کیا کروں جن میں سے ہر ایک کا خلوص، دیدہ وری اور فن آگاہی میرے لیے معاون ثابت ہوئی اور میرا آرٹ پنپا، بہر نوع یہ ضرور ہے کہ میرے خاندان کے مسائل اور بے اطمینانی ایک حد تک ضرور ختم ہو گئی۔ غالب کی شاعرانہ عظمت کے ساتھ میرے فن کے تقاضے مجھے برابر یہی کہتے رہے کہ ان دیانت دارانہ کوششوں میں ایسی کوئی بات نہ آنے پائے جو انتشار حالات کا باعث ہواور میں پھر ایسی جرات ہی نہ کرسکوں یوں تو ہرایک خواہاں تھا کہ میری یہ تخلیقی کوششیں ایک مرتب کتاب کی شکل میں آجائیں اور یہی عوامی تقاضے میرے لیے بہت بڑی ڈھارس تھی۔ مرقع چغتائی جیسی کوئی کتاب اردو میں نہ تھی مگر جب اس کا غلغلہ بلند ہوا تو اس جنس کے خریدار بھی نہ جانے کہاں کہاں سے پیدا ہوگئے۔ فن کاعالم یہ تھا کہ میری تکنیک بالکل نئی اور جدا تھی، نگارش کا انداز اجنبی پراسرار خطوں کی کشش اپنا انفرادی اپیل رکھتی تھی۔ یہ سب باتیں چونکانے والی تھیں۔ انہوں نے اپنی جگہ خود بنائی اور جدید ہندستانی آرٹ میں ایک نئے تجربہ کااضافہ ہوا۔ فن میں وہ قنوطیت جوبدھ اور بدھ کی سمادھی سے آگے نہ بڑھ سکی تھی، اس سے گریز شروع ہوا۔ ہم عصر مصوروں کے سامنے یہ انوکھی چیز لاکر کچھ کام کر دکھانا ویسے بھی کوئی آسان مرحلہ نہ تھا مگر ایرانی، مغل اور اجنتا روایات کے سہارے میں نے اپنے فنی موقف کے لیے وہ جگہ ضرور نکالی جوایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوئی یہ تحسین فن کی ایک نئی کاوش تھی، اس نے رمزنگاری اور رمز شناسی کا چلن پیدا کیا اور آرٹ نے نیا مرتبہ پایا۔

            اپنے فن کے سلسلے میں چند باتیں عرض کروں۔ میرے بعض نقوش بالکل انفرادی ہیں۔ میں نے اپنے نقوش میں مشرق رموز بھی پیدا کیے ہیں۔ نیز علامتیں ہیں جو ہماری ثقافتی ثروت کی نشانیاں ہیں۔ میں نے بعد میں بھی کچھ تجربے کیے اور انہیں نیاپن دیا۔ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ وہ لوگ تھے جو نئی نئی تحریکوں، نئی باتوں، رجحانوں اور انکشافات سے دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ فن اور ثقافت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں وہ کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔ ذوق نظر نے ہمیشہ روح حیات کا ساتھ دیاہے اور دیتا رہے گا مگر کام کرنے کا وہ زمانہ شاید اب مشکل ہی سے ہاتھ آئے جیسا کہ عرض کیا میں سب قدر دانوں اور مداحوں کے خلوص دل کا معترف ہوں۔ خواص بھی اور عوام بھی۔ انہیں نے اس مرقع کو پیش کرنے کے اسباب پیدا کیے۔ خواص کے ذکر میں میں مہارانی کوچ بہارکا نام لے چکا ہوں، جو سرفہرست ہے پھر ان کی والدہ محترمہ مہارانی بڑودہ ہیں۔ مہاراجہ پٹیالہ، سراکبرحیدری وزیراعظم حیدرآباد دکن، مہارانا شمشیر جنگ بہادر نیپال وغیرہ۔ ان لوگوں کی قدردانی سے مرقع کو وجود بخشنے میں مدد ملی بعض وہ نام بھی ہیں جن کا ذکر بصد احترام کرنا ضروری ہے۔ مثلاً سرتیج بہادر سپرو، سرسالار جنگ بہادر، سرعبدالقادر، نواب احمد یار خاں دولتانہ، سرکرشن پرشاد شاد، میاں نظام الدین بارود خانہ لاہور وغیرہ ان سب نے میری کوششوں کوسراہا۔

            جب مرقع چغتائی پہلی بار تیار ہواتواس کی ایک جلد دربار غالب میں اس طرح پیش کی گئی کہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کے پائیں شاعر کے مرقد پر نذرانہ عقیدت رکھ دیا گیا یہ ان کی خدمت میں خراج تھا ایک فنکار کا اور یہ امانت ان تک پہنچادی گئی۔ مگرمعلوم نہیں وہ کون بے باک تھاجواس خراج عقیدت کوبیتا بیٹھا۔ معلوم نہیں اس وقت یہ امانت کس کے پاس ہے؟

            یہ سب توہوا۔ امیدوں سے بڑھ کر قدرافزائی ہوئی مگر تجارتی چکر سمجھ میں نہیں آیا اور دیدے پھاڑ پھاڑ کر ہم ان باتوں کی طرف دیکھتے رہے اور عجب احوال رہا۔ عام ایڈیشن سے بڑے بڑے امکانات وابستہ تھے۔ مگر ہوا وہی کہ سرمایہ دارتاجر اپنا کام کر گیا اور ان باتوں کی نافہمی سب کچھ چٹ کرگئی، جمالیاتی قدریں اور امنگیں ترستی رہیں۔

مرقع چغتائی

محمد عبدالرحمن چغتائی

مرقع چغتائی

غالب کے مصور نسخہ کی داستان تخلیق

            غالب کے مصور ایڈیشن، مرقع چغتائی کی تخلیق کے سلسلے میں اس سے قبل بھی کچھ گزارشات پیش کرچکا ہوں اور اس موقع پر بھی چند نئے اضافوں اور وضاحتوں کے بعد یہی داستان دہراتا ہوں۔ اس عظیم اور فنی پیش کش کی اہمیت پر اس بیان سے بھی کافی روشنی پڑے گی۔

            میری زندگی اورمیرے فن کی داستان میں 1919 بہت اہم سال ہے۔ یہ سال وہ ہے جب میرے فن کی ابتدا ہوئی۔ یہی زمانہ ہے جب مجھے اپنے مستقبل سے روشناس ہونے کا موقع ملااور یہ احساس زندگی کاجزو بن گیا۔ احساس یہ تھا کہ مجھے آئندہ ایک بڑا فنکار بننا ہے اور اسی کے لیے  جینا ہے۔ یہ خودی کی بیداری تھی۔ اس سے قبل میں کچھ افسانے اور کہانیاں بھی لکھتا تھا اور اب بھی لکھتا ہوں، لیکن یہ محض ایک شوقیہ مشغلہ تھا اور ہے۔

            1924 میرے امتحان اور خود اعتمادی کی آزمائش کا سال تھا اور اس کے اظہار کاموقع بھی پیدا ہوا۔ میں ان دنوں میو اسکول آف آرٹ لاہورمیں ایک انچارج کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ اس عہدہ سے جب گلوخلاصی کی نوبت آئی تو اس وقت میں رخصت پر تھا۔ چھٹیاں گزار کر جب ادارے میں واپس آیاتو کالج کے پرنسپل سے آمنا سامنا ہوا۔ یہ ایک انگریز افسر تھا۔ فنکار اور منتظم بھی بہت اچھا تھا۔ اس نے مجھ پر ظاہرکیا کہ چھٹیوں کے دوران میں سنیما دیکھتا رہاہوں!۔ یہ ایک چغل خور کی حرکت تھی۔ چغل خور کون تھا، میں اس کو اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ شخص میری فنی کامیابی اور ہردلعزیزی کو دیکھ دیکھ کر جلتا تھا اور میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اورایسے موقع کی تلاش میں تھا کہ میرے خلاف کان بھرسکے۔ بلکہ مجھے نقصان پہنچنے کا امکان بھی پیدا ہوا۔

            یہ وہ زمانہ تھا کہ میری بنائی ہوئی تصاویر کی نمائش ہو رہی تھی۔”پنجاب فائن آرٹ سوسائٹی“ کی پہلی نمائش ہوئی تو اس میں کام کی غیر معمولی قدر کی گئی۔ کئی تصاویر کم وبیش چھ سات ہزار میں فروخت بھی ہوئیں۔ ان کا بیشتر حصہ ہزہائینس میر صادق عباسی بہاول پورنے خرید فرمایا تھا۔ یہ پہلا فاتحانہ معرکہ تھا۔ جس وجہ سے قدرتاً حاسدوں کابھی ایک گروہ پیدا ہوگیا۔ میں نے موقع پراپنے آپ کو ایسے حاسدوں کے بیچ میں کھڑا ہوا پایا۔ مگر حاسدانہ کوششوں اور کشاکش کے ساتھ حقیقی قدر افزائی نے بھی میری ذات، فن اور مستقبل پر گہرا اثرڈالا۔

            ذکر انگریز پرنسپل کا تھا میں نے اس کے سامنے کہا کہ اطلاع غلط ہے۔ میرے اس انکار پروہ تن گیا کہنے لگا۔ بڑے قابل اعتماد آدمی نے مجھے باوثوق طریقہ پر بتایا ہے اس کی اطلاع غلط نہیں ہے میں نے دہرایا وہ مجھ سے زیادہ تو نہیں ہوسکتا۔ میں اپنے آپ پرکامل اعتماد رکھتا ہوں اور ذمہ دار بھی سمجھتا ہوں۔

            ممکن ہے گفتگو طول پکڑ جاتی لیکن میں بات کو ادھورا چھوڑ کر واپس چلا آیا اور راستے ہی میں اس بات کا فیصلہ کیا کہ ان حالات میں مجھے اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوجانا چاہیے۔ اس خود اعتمادی کی بنا پر ہی میں نے استعفیٰ دے دیا۔ انگریز پرنسپل کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے ایسی جرات سے کام لیا۔ میرا استعفیٰ دیکھ کر وہ کچھ پریشان بھی ہوا۔ کالج کے اساتذہ کوبلا لیا اور بڑے خلوص سے سمجھانے لگا کہ میں استعفیٰ واپس لوں۔

            اس نے میرے روشن مستقبل پربھی روشنی ڈالی اور کہنے لگا ہو سکتا ہے تم ایک دن اس انسٹی ٹیوشن کے پرنسپل ہوجاو مگر زیادہ حجت نہ کی اور ایک ماہ کی تنخواہ چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا۔ یہ مالی قربانی اس وقت میرے اور میرے خاندان کے لیے معنی رکھتی تھی، بالخصوص اس وجہ سے کہ یہاں تک پہنچنے کے لیے جتنے پاپڑ بیلے تھے، بہت فاصلے طے کیے تھے، بڑی ریاضت اور انتھک کوششیں کرنے کے بعد ہی یہاں تک پہنچا تھا۔

            اس کے بعد میں ملازمت کے پھندے میں کبھی نہ پھنسا ہمیشہ اس جال سے بچ کر نکل گیا۔ خدا کے فضل سے کامیاب، مجھے اس وقت مدراس، حیدرآباد دکن اور میواسکول آرٹ (موجودہ نیشنل آرٹ کالج) کے پرنسپل کی اسامی کے لیے پیش کش کی گئی۔ مگر میں ملازمت کوکبھی ترجیح نہ دے سکتا تھا۔ اس لیے اس طرف سے نفور رہا۔

            ملازمت سے سبکدوشی کے بعد میرے کانوں میں عجیب قسم کی طرح کی پیشنگوئیاں بلکہ بدگوئیاں پڑتی رہیں۔ مگر میں سنی ان سنی کر دیتا تھا۔ صحیح تھا کہ اس وقت میری گھریلو زندگی ان جرات مندانہ اقدام کی اجازت نہ دیتی تھی۔ صرف اس ملازمت واحد کا سلسلہ تھا جس سے زندگی کو سہارا مل رہا تھا۔ مگر آفریں ہے میری محترمہ والدہ کو کہ انہوں نے میری ڈھارس بندھائی اور اس جرات کو میرے حق میں فال نیک قرار دیا اور دعا دی کہ اللہ ہمیں کسی کا محتاج نہ کرے گا۔

            ہم تین بھائی ہیں۔میں بڑاہوں ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی منجھلے اور عبدالرحیم چغتائی سب سے چھوٹے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ میری اس جرات پر مشوّش تھے۔ ایک طرح عبداللہ کا سوچنا بھی ٹھیک تھا۔ اس کا تعلق حالات کی سفاکی، غربت اور ضروریات زندگی سے تھا۔ بعض اور ذہنی عوامل بھی تھے اور یہ مزاجوں، نیز اقدار زندگی کے باب میں زاویہ نظر کے فرق سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

            بہرکیف یہ ان دنوں کی بات ہے جب ویمبلے، انگلستان میں سرکاری اہتمام سے ایک بہت بڑی نمائش فن منعقد ہورہی تھی اور برطانوی نوآبادیات کے فنکار اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ یہ 1923 کا واقعہ ہے۔ میرے کام کے نمونے بھی اس نمائش میں شریک تھے، بلکہ حصہ لینے والے فنکاروں کی تصاویر میں سب سے زیادہ میری ہی تصویریں تھیں۔ میرے فن کی شہرت اور قدردانی اب اس منزل پر پہنچ چکی تھی کہ کوئی بھی فنکار اس پر فخر کرسکتا ہے۔ خود میرے پرنسپل نے جس سے بعد کو میرا جھگڑا بھی ہوا، میرے فن کا قدردان تھا اور بڑے خوش آہنگ الفاظ میں میرے ہنر پر اظہار خیال بھی کرچکا تھا۔ اس نے سچ کہا تھا کہ میں ایک نئے دبستان فن کا خالق بنوں گا اور اس طرح جدید ہندستانی فن میں ایک نئے ردعمل کی پیشینگوئی کی جاسکتی ہے۔ ان واقعات نے میرے دل پر گہرا اثر ڈالا میں سوچتا تھا مجھے فن کی عظمت کو اونچا لے جانا چاہیے۔ میرے معاشرے میں صدیوں سے جو فنی اقدار نظر انداز کی جارہی ہیں ان کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ 1924 میں جب میں نے استعفیٰ دیا تو یہی رجحانات اور محرکات ذہنی تھے جو مجھے اکسا رہے تھے اور میں نے سود و زیاں کے چکروں میں پڑے بغیر مستقبل سے اپنا رشتہ جوڑ لیا۔ عقل محو تماشائے لب بام ہی رہی اور میرا عشق فن سفاک حالات کی آتش نمرود میں بے جھجک کود پڑا۔

            معاش کا چکر، ایک کبھی نہ ختم  ہونے والا چکر، اپنے محور پر گھوم رہا تھا اور کئی سوتے پھوٹ رہے تھے۔ گھریلو مشکلات اور خاندانی مسائل میرے لیے آزمائش و امتحان کے مرحلے تھے میں سوچتا تھا یہ ذاتی انسانی فرائض بھی کچھ کم اہم نہیں۔ مگر صرف ملازمت بھی کوئی بڑا شرف و مرتبہ نہ تھا میں سوچتا فن کے فرائض بھی تو ہیں۔ وہ بھی تو میرا دامن کھینچتے ہیں۔

            وہ جب میرا دامن کھینچتے تومیں پنسل پکڑ لیتا، سامنے سفید کاغذ ہوتا، تصور ابھرتے، اپنا پیکر ڈھونڈتے اور فن کے پیکر و پیراہن وجود میں آتے چلے جاتے۔ اس دور آزمائش میں قناعت سب سے بڑا سہارا ثابت ہوئی۔ میں ضمیر کی آواز کو لبیک کہتا رہا اور جذبے روشن سے روشن تر ہوتے چلے گئے۔ میں محسوس کرتا یہ گھاٹیاں طے کرنا اور یہ فراز عبور کرجانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ مجھے یقین تھاکہ بہت جلد اس منزل تک پہنچ جاوں گا جہاں زندگی فراواں چشموں سے عبارت ہوگی۔ ہرشے شاداب و شادکام ہوگی، جہاں مدوجزرتو ہوں گے مگر الجھنوں کی یہ کیفیت نہ ہوگی۔

            ڈاکٹر تاثیر سے میرا رابطہ بہت شروع سے تھا اور یہ زندگی کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔ اس میں زندگی کی امنگیں اور بلند نظری کے اتنے امکانات کروٹیں لیتے تھے کہ ہم دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوسرے کے قریب آگئے، دھندلے نقوش ابھرابھر کر پختگی اور انفرادیت پاتے چلے گئے پھر ان روابط نے معین اشکال اختیار کرنی شروع کیں، انفرادیت اور افادیت کے پہلووں پر روشنی کی چھوٹ پڑنے لگی۔ ہم ان امکانات کو شناخت بھی کرنے لگے ایسے نشانات زندگی جس سے آشنا ہوئے بغیر انسان ان کے قریب نہیں آسکتا۔

            تاثیر بجائے خود ایک انجمن تھا اپنی ذات میں اور ایک انجمن وہ تھی جواس کے دائیں بائیں جلو میں رہتی۔ میرے چھوٹے بھائی عبدالرحیم جن کا ابھی ذکر آیا، ایک دن غالب کا کوئی شعر پڑھ رہے تھے۔ تاثیر بھی بیٹھے تھے۔ رحیم کہنے لگے، تاثیر صاحب یہ تصویر ”سیاہ پوش“ غالب کے شعرکی مفسر ہے۔ اس تصور کی ترجمانی اس تصویر میں دیکھیے۔ اپنی عادت کے موافق تاثیر نے پہلے تو کچھ تامل کیا، پھر نقش کو دیکھا اور ایک دم تائید میں کلمات ادا کیے۔ کہنے لگے! رحیم صاحب آپ نے بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ چغتائی صاحب کو غالب کے اشعار اپنی مخصوص طرزنگارش میں مصور کرنے چاہئیں۔ یہ بڑا کام ہوگا۔

            بات کافی آگے بڑھی اور کچھ ہیولی بننے لگا۔ اس سے قبل میں علامہ اقبال کے بعض اشعار کومصور کرنے کی کوشش کربھی چکا تھا مگر غالب کے باب میں میں نے عرض کیا کہ اس کا مطالعہ نہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ پہلے اقبال کے کلام کو مصور صورت میں پیش کروں۔

            مگر کسی نے میری ایک نہ سنی۔ میں تصویریں برابر بناتا رہا اور یہ تصویریں جب وجود میں آجاتیں تو ڈاکٹر تاثیر اور رحیم غالب کے اشعار پر ان تصویروں کو منطبق کرتے۔ ان کی برجستگی و ابلاغ پر گفتگو کرتے اور بہت سے فیصلے کیے جاتے، خیالات کا تبادلہ بہت سے نئے نکتے سمجھاتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گزرا ہوا دن آنے والے دن کے لیے بہت سے نئے گلہائے شگفتہ دے جاتا عملی سرگرمی کا دور برابر قائم رہا۔ یہ وہ دن تھے جب اردو صحافت بالخصوص ہمارے رسائل، نئی زندگی سے روشناس ہو رہے تھے، بڑی سرگرمی اور گہماگہمی تھی۔ میرا گھر، ادب کے  ادا شناسوں اور احباب کے لیے ایک مرکزی جگہ بن چکا تھا، عجیب حیات پرور ماحول تھا، جدھر نظر اٹھتی زندگی نئی کروٹ لیتی اور مچلتی نظر آتی، ہرایک کچھ نہ کچھ کر رہا تھا اور ادب و فن نئی نئی راہیں ڈھونڈ رہے تھے۔

            انہیں دنوں دیوان غالب کا ایک نیا ایڈیشن جرمنی سے طبع ہوکر آیا۔ لوگ اس کی بہت تعریف کر رہے تھے، اب میں سوچتا ہوں وہ ایڈیشن ہی میری اور تاثیر کی گہری دوستی کا موجب بنا۔ اس میں غالب کی ایک شبیہہ بھی لگی ہوئی تھی۔ تاثیر نے جب مجھے وہ تصویردکھائی تومیں نے اس کی بہت بری طرح مذمت کی اور کہا کہ اس تصویر کا چھپنا شاعر کے دونِ مرتبت ہے۔ اس بات کا تاثیر پر بڑا اثر ہوا اور اس نے گھر پہنچنے سے پہلے اس تصویر کو پھاڑ کر دیوان سے الگ کردیا اور دوسرے دن اپنے اس ردعمل کی کہانی مجھے سنائی۔ اس کے بعد آرٹ سے اس کا لگاو بڑھتا چلاگیا۔ ”بنگال اسکول“ کی تحریک فن اس وقت زوروں پر تھی۔ جدید ہندستانی آرٹ پر اس کا جادو چل رہا تھا۔ ہر جگہ اس کاچرچا تھا۔ فنی نقطہ نظر سے ہم نے بھی اسے پرکھا جانا اور حسب موقع خالص مشرقی نقطہ نگاہ سے اسے سراہا بھی۔

            میرے فن میں تاثیر کی دلچسپی برابر بڑھ رہی تھی اور اس نے ”نیرنگ خیال“ ہی کے ذریعے نہیں اور بہت سی جگہوں پربھی اس سلسلے کو بڑھایا۔ ہر موقع پر اس کا وسیع مطالعہ علم و فن اپنا نقش چھوڑ جاتا تھا میرا خیال ہے کہ فن پر لکھنے والوں میں اس جیسی پہنچ اور سوجھ بوجھ کا کسی اور نے ثبوت نہیں دیا۔

            میں غالب کے اشعار کی تصویری تفسیر کا ذکر کر رہا تھا یہ تصاویر برابر بن رہی تھیں، اچھی خاصی تعداد جمع ہوگئی۔ مگر میں ابھی تک اس خیال کا ہی موید تھا کہ اگرہمیں کچھ کرنا ہی ہے تو پہلے اقبال کے کلام کو مصور کرنا چاہیے تاکہ وہ روایات جو تین چار سو سال سے نظر انداز کی جارہی تھیں ان میں پھر سے زندگی پیدا ہو۔ مگر اس مرحلہ پر علامہ اقبال کے ایک قریبی محسن و محب نے رائیلٹی کا سوال پیدا کر دیا تھا اور یہاں سے مسئلہ دوسرا رخ اختیار کرتا ہے۔

            جیسا کہ عرض کیا میرے فن نے کافی شہرت حاصل کرلی تھی پھر بھی ہم حالات کی تنگنائے میں سے بہت مشکل سے گزر رہے تھے اور ایسے مراحل سے دوچار تھے جن کا علم ہم تینوں بھائیوں کے سوا کسی کونہ تھا۔ زندگی کے تقاضوں نے بری طرح زچ کر رکھاتھا۔ شب و روز ہم اونچی پرواز کے لیے پر تولتے تھے، اڑنے کو بہت جی چاہتا تھا۔ مگر پھر مسکرا کر رہ جاتے تھے۔ زندگی ایسی ہی افتادوں کا نام ہے۔

            غالب کا مصور نسخہ مکمل کرنے کا خیال میرے چھوٹے بھائی، رحیم کے دل میں ایسا سمایا کہ وہ برابر اس دھن میں لگا رہا اور اس لگن نے ہی مجھے بھی کام پر لگائے رکھا، غیب سے ”مضامین“ خیال میں آتے رہے اور مرقع کی شکل بنتی چلی گئی۔ ایکا ایکی مدراس کے مشہور نقاد فن، ڈاکٹر جیمز کزنزنے میری کچھ تصویریں حاصل کرنے کا تقاضا کیا۔ وہ یہ تصاویر مہارانی کوچ بہار کے محل کے لیے خریدنا چاہتے تھے۔ میں نے ان کے سامنے ایک پبلیکیشن کا تصور پیش کیا اور کچھ تجویزیں سامنے رکھیں۔ مگر ابھی یہ خط و کتابت آپس میں رہی تھی کہ مہارانی کوچ بہار نے ایک قدرشناس کی حیثیت سے مجھے پانچ ہزار کا چیک روانہ کردیا تا کہ میں اپنے پروگرام پر دلجمعی کے ساتھ کام کرسکوں۔ حالات کے پیش نظر اس وقت کے یہ پانچ ہزار ہمارے لیے گویا پانچ لاکھ سے کم نہ تھے۔ اس کی خبر جب میری والدہ صاحبہ کو پہنچی تو وہ فرمانے لگیں کہ یہی تو میرا وہ سہانا خواب تھاجو میں دیکھ رہی تھی۔

            ”نیرنگ خیال“ کی مقبولیت حکیم یوسف حسن کے تعاون اور ڈاکٹر تاثیر کی کاوشوں نے بڑی مدد کی اور ہرموڑ پر اپنی ہمدردی، خلوص اور پاک طینتی کا ثبوت دیا۔ ان دنوں ڈاکٹر تاثیر، بدرالدین بدر، ڈاکٹر نذیراور غلام عباس تقریباً ہر وقت میرے گھر پرموجود رہتے کبھی کبھار حفیظ جالندھری، ہری چند اختر، مجید ملک، پطرس بخاری اور سید امتیاز علی تاج بھی رونق بزم بنتے اور غالب کی اشاعت کے سلسلے میں اپنی دلچسپی کا اظہار فرماتے۔ اکثر کوئی نہ کوئی نئی بات ہاتھ آتی وہ ہمدردیاں، خلوص، وہ ہنگامہ پرور فضائیں جن کی طرف ایک دنیا کی نظریں لگی رہتی تھیں جب یاد آتی ہیں تو دل کہتا ہے کاش وہ ماضی واپس آسکتا۔ مگر ماضی کبھی واپس نہیں آتا۔ کسی قیمت پر یہ جنس حاصل نہیں ہوسکتی۔ میں ان دوستوں کی بلند نگاہی کے طفیل اپنی دھن میں لگارہا اور ایسا ڈول ڈالتا رہا کہ مرقع چغتائی اپنا معیار آپ ہو، اس کی مقبولیت کاعالم یہ ہو کہ اک خلق ”اس کے گرد آوے“ پورا برصغیر یک زباں ہوکر اس کی داد دے اور باہر بھی وہ قدرومنزلت ہو کہ فن کی لاج رہے اور یہ کہا جا سکے کہ اب تک اس بلند معیار اور ذوق کی کوئی دوسری کتاب اس برصغیر سے پیش نہ ہوئی تھی۔

            میری تصاویر کا چرچا اب کافی دور دور پہنچ چکا تھا مہاراجہ پٹیالہ کوبھی میرے فن نے اپنی طرف متوجہ کیا اور میرے ارادوں کا علم ہونے پر انہوں نے میری تصویریں خریدیں اور اچھی خاصی رقم عنایت کی جس کی وجہ سے یہ قطعی ہو گیا کہ ”مرقع چغتائی“ شائع ہو سکے گا۔

            ”نیرنگ خیال“ کی سرگرمیاں تو اس سلسلے میں جاری تھیں کہ ”انقلاب“، ”احسان“، ”زمیندار“، ”ہمایوں“، ”عالمگیر“ ”مخزن“۔ نیز دہلی اور حیدرآباد دکن کے اخبارات و رسائل نے بھی میری تحریک فن کا پر جوش خیرمقدم کیا اور ان سب نے اپنا تعاون بھی دیا۔ پھر یہ تحریک و تصور اس قدر آگے بڑھ گیا کہ اگر ہم چاہتے بھی کہ مرقع چغتائی طبع نہ ہو، تو ایسا نہ کرسکتے تھے! اس کے بعد ایسے حالات خود بخود ظہور میں آئے کہ سوائے دیوان غالب مصور کی تکمیل کے اور کوئی کام میرے لیے نہ رہا میں جو کبھی مصروفیتوں کی تلاش میں رہتا تھا،اب اتنامصروف تھا اور کام میں ایسا گھراہوامحسوس کرنے لگا کہ سارے فرائض کو سرانجام دینے میں دشواری معلوم ہوئی۔

            تصویروں کے بلاک، تصویروں کی حفاظت، دیوان کی تصحیح۔ دیوان کو کسی اعلیٰ خطاط سے لکھوانا پھر اس کتابت سے بلاک بنوانا، آرائش و حسن کاری کے لیے نئے نئے ڈیزائن تیار ہونا ایک دوسرا درد سر تھا۔ پھر کتاب کی جلد بندی کا کام تھا۔ طباعت کے لیے خاص الخاص قسم کے کاغذ کی فراہمی راہ کا ایک اور سنگ گراں تھا۔ غرض ہر قدم توجہ اور کوششوں کا محتاج تھا۔ ذوق نظر اور کدوکاوش کے علاوہ بے دریغ خرچ کا بھی سوال تھا۔ واقعات و ضرورت نے مل کر حسب ضرورت روپیہ بھی فراہم کردیا۔ غالب کے مصور ایڈیشن کے سلسلے میں زر تبادلہ کا مسئلہ رائیلٹی کا قصہ بھی نہ تھا۔ غرض کلام اقبال کے سلسلے میں جو حائیلات تھے وہ اگر غالب کے سلسلے پیش آتے تو بھلایہ مرقع کیسے منصہ شہود پر آتا۔

            رحیم نے اگرمرقع چغتائی شائع کرنے کے لیے مجھے اکسایا تھا تو اس نے اس کا سارا بار خود اٹھایا اور بڑے سلیقے سے ان کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مرقع چغتائی جیسی کتاب اس وقت اردو کی سفیر بنی ہوئی ہے اور دنیا کے ہراہم مرکز علم، ادب و فن نیز لائبریریوں، عجائب خانوں اور فنی نگارخانوں میں موجود ہے اس کے معیار نے مشرق کے آرٹ اور اردو کو پہلو بہ پہلو پیش کیا ہے اور اس کی اہمیت نے اردوکو بین الاقوامی مرتبہ پر پہنچا دیا ہے۔

            اب مراحل تیاری کی داستان بھی سن لیجیے۔ سب سے پہلے کاتب کی تلاش ہوئی۔ ڈاکٹر تاثیر اور میں نے لاہور کے کئی مشہور خطاطوں کواس کام کی اہمیت جتلائی اور منہ مانگی رقم دینے کابھی یقین دلایا مگر ہوا یہ کہ ہمارے الفاظ یہاں آکر بے اثر ہو گئے، جب ایسا نظر آیا تو بھائی عبدالرحیم نے خود ہی قدیم طرز خط کے استاد منشی اسد اللہ کا انتخاب کیا اور یہ بیل منڈھے چڑھی۔ انہوں نے ہماری ضرورت کو سمجھا، کام کی نوعیت کوجانا اور پھر ایسی جانفشانی و محبت سے اس کام میں شریک ہوئے کہ آخری لفظ لکھنے تک ان کاوہی شوق و جذبہ کارفرمارہا۔ بحمداللہ آج بھی دنیا ان کے اس کام سے مطمئن ہے۔ اس وقت مرقع چغتائی کے ان کاتب، بابا اسداللہ صاحب کی عمر 65 سال کے لگ بھگ تھی۔

            آج بلاک بنوانے اور ایسی کتابیں چھاپنے کے لیے کافی سہولتیں موجود ہیں۔ ایسے پریس اور بلاک ساز وصناع بھی ہیں جن پر پورا بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ مگرمیں جن دنوں کی بات کررہا ہوں وہ اور وقت تھا اس وقت اپنی نوعیت کا یہ کام اکیلا ہی تھا اور اتنا مشکل اور پیچیدہ کہ اس کا حل سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ بلاک سازی اور چھپائی کی اعلیٰ مشینیں خود فراہم کریں اور یہ سارا فنی کام بھی خود سنبھالیں اس ضمن میں جو جوپریشانیاں، تکلیفیں اور سنگ گراں حائل ہوئے ان کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ہم نے ہمت نہ ہاری اور مشکلوں کے حل تلاش کرتے رہے۔ میرے ماموں زاد بھائی معراج الدین صاحب اور میرے چھوٹے بھائی عبدالرحیم چغتائی نے جس تندہی اور حق شناسی کا ثبوت دیا وہ میری انتہائی عزیز یاد ہے۔ یہ علمی ادبی اور فنی نوعیت کی خدمت تھی، کوئی خزانہ ہاتھ نہیں آرہا تھا۔

            اس کام کے سلسلے میں جب پر وقار الفاظ اور وقیع آوازوں نے فضا میں ارتعاش پیدا کیا تو اس وقت کی انگریز حکومت بھی کچھ متوجہ ہوئی۔ لارڈ لن لتھ گواورلارڈ پیلی فوکس وائسراوں نے جہاں سر فضل حسین اور سرسکندرحیات خاں جیسے مشیروں سے میری بابت مشورہ کیا اور ان بزرگوں نے حکومت انگلشیہ سے میرے لیے ”نائٹ ہڈ“ کی سفارش بھی کی مگر لطیفہ یہ ہوا کہ فن کی منزلت تو دھری رہ گئی اور میری ناداری اور پرانے لاہور کی چاردیواری میں رہائش کی قید سامنے آگئی۔ چنانچہ ”سر“ بدل کر خان بہادر کی شکل اختیار کر گیا! مگراس پر بھی علمی حلقوں نے یہ احساس دلایا کہ فن کی کچھ توپوچھ ہوئی مثلاً ”ٹائمز آف انڈیا“ نے ہی لکھا کہ اس ایک صدی کے عرصہ میں یہ تیسرا خطاب ہے جو علم و فن کے سلسلے میں حکومت ہند نے جدید ہندستانی آرٹ کے ایک نامور فنکار کو دیا ہے۔ یہ اعزاز تو خیر تھا ہی مگر میں جسے عزیز تر سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ میرے مخلص دوستوں اور رفقائے کارنے آخری دم تک میرا ساتھ نہ چھوڑا اور جو بھی برگ و بار آئے انہیں کی مساعی خلوص کا نتیجہ تھا۔

            جن دنوں غالب کا مصور ایڈیشن ارتقا کی منزلیں طے کررہا تھا میں تاثیر کو باربار یاد دلا رہا تھا کہ وہ وقت کے تقاضے کے مطابق اس پروگرام کو عملی شکل دیں جو ان کے ذہن میں تھی۔ عبدالرحمن بجنوری کی بعض ابتدائی کوششوں کے پیش نظر وہ کچھ اور کام سوچ رہے تھے۔ وہ بعض ایسی باتوں کو سامنے لانے والے تھے جن پر پہلے عمل نہ ہوا تھا مگر افسوس کہ آرزووں کی بلندی کے باوجود انہیں سرانجام نہ دے سکے۔ علم و ادب کا توخیر نقصان ہوا ہی مگر مجھے اس کابڑا افسوس رہا۔ مگر ان کی ذات سے مجھے یہ فائدہ برابر ہوتا رہا کہ کام کے سلسلے میں وہ مہمیز ثابت ہوئے میں نے ضرورت کا لحاظ کرتے ہوئے اس مرقع کے لیے سخن ہائے گفتنی خود تحریر کیا تھا۔ یہ ایک تعارف ہے اس تعارف کا مقصد یہ تھاکہ ایک خاص طبقہ اہل ذوق و نظر اس نہج فن کی طرف کھنچے اور اس میں وہ فنی شعورو ادراک پیدا ہو جو میرا زاویہ فکر تھا اس میں شک نہیں کہ یہ سخن ہائے گفتنی اس بارہ خاص میں کامیاب ہوا یعنی یہ کہ ترقی پسند عناصر فن اور ذوق جمال کی تسکین و تلاش کرنے والوں میں احساس پیدا ہوگیا۔

            میرے بھائی عبدالرحیم اور ڈاکٹر تاثیر نے مصور نسخہ غالب کی جو داغ بیل ڈالی تھی وہ چھ سات روپے کا ایک مصور ایڈیشن تھا مگر کتاب پر پچیس ہزار کے قریب خرچ آچکاتھا۔ جب نوبت یہ پہنچی توپھر قیمت کا سوال ایک اور ہی طرف ذہن میں آیا میرے سامنے یورپ کی بعض فنی مطبوعات تھیں۔ مگر میں نے فیصلہ کیا کہ اگر اپنے ملک میں بدذوقی یا کم مائیگی کے باعث پوری طرح خیر مقدم نہ ہوا اور یہ ایڈیشن یونہی پڑا رہاتب بھی وہ ایک یادگار چیز ضرور ہوگا، ایک ناقابل فراموش یادگار۔ اس بات پر کافی سوچتا رہا اور آخرالامر یہ تجویز پیش کی کہ اس کا ایک خاص الخاص (ڈی لکس) ایڈیشن الگ تیار ہو جس کی قیمت ایک سو دس روپے مقرر کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کی صرف دوسودس کاپیاں شائع ہوں گی۔ بعض دوستوں نے اس پر مجھے آنکھیں دکھائیں، کسی نے ہنسی اڑائی اور بعض نے کہا اردو پڑھنے والے ابھی چھ سات روپے کی کتاب پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ ایسا گراں قیمت نسخہ کیسے خریدیں گے؟ میں نے جواب دیا یہ سب ٹھیک، مگر میں نے اپنے فن کے بل بوتے پر اتنا بڑا حوصلہ کیا ہے اور اسے ایسا ہی بنا رہا ہوں اب یہ مرقع ایسے سانچے میں ڈھل چکا ہے کہ اردو نہ جاننے والے بھی اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور خلوص کے ہاتھ اس کی طرف پھیلیں گے۔ غالب کے پرستاروں کی دنیا بھی ایسی گئی گزری نہیں ہے وہ بھی شعروفن سے اپنے لگاو کاعملی ثبوت دیں گے۔

            بہرکیف غالب کے مرقع چغتائی خاص ایڈیشن کا اعلان کردیا گیا۔ آرڈر آنے شروع ہوگئے ہر مذہب و ملت کے لوگوں، غریبوں اور امیروں نے سب نے ہی آرڈر بھیجے۔ یہ خاص ایڈیشن شائع ہونے سے پہلے ہی فروخت ہوچکا تھا۔ ایک تاجر کو اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کا پورا حق بھی تھا اور موقع بھی۔ مگر ہم کاروباری ہتھکنڈوں سے قطعی ناواقف اور تجارت کے فن میں کورے تھے اس لیے یہ موقع بھی ہمیں کچھ نہ دے سکا۔

            میں اپنے قدردانوں اور ان ذی شعور لوگوں کا ذکر کیا کروں جن میں سے ہر ایک کا خلوص، دیدہ وری اور فن آگاہی میرے لیے معاون ثابت ہوئی اور میرا آرٹ پنپا، بہر نوع یہ ضرور ہے کہ میرے خاندان کے مسائل اور بے اطمینانی ایک حد تک ضرور ختم ہو گئی۔ غالب کی شاعرانہ عظمت کے ساتھ میرے فن کے تقاضے مجھے برابر یہی کہتے رہے کہ ان دیانت دارانہ کوششوں میں ایسی کوئی بات نہ آنے پائے جو انتشار حالات کا باعث ہواور میں پھر ایسی جرات ہی نہ کرسکوں یوں تو ہرایک خواہاں تھا کہ میری یہ تخلیقی کوششیں ایک مرتب کتاب کی شکل میں آجائیں اور یہی عوامی تقاضے میرے لیے بہت بڑی ڈھارس تھی۔ مرقع چغتائی جیسی کوئی کتاب اردو میں نہ تھی مگر جب اس کا غلغلہ بلند ہوا تو اس جنس کے خریدار بھی نہ جانے کہاں کہاں سے پیدا ہوگئے۔ فن کاعالم یہ تھا کہ میری تکنیک بالکل نئی اور جدا تھی، نگارش کا انداز اجنبی پراسرار خطوں کی کشش اپنا انفرادی اپیل رکھتی تھی۔ یہ سب باتیں چونکانے والی تھیں۔ انہوں نے اپنی جگہ خود بنائی اور جدید ہندستانی آرٹ میں ایک نئے تجربہ کااضافہ ہوا۔ فن میں وہ قنوطیت جوبدھ اور بدھ کی سمادھی سے آگے نہ بڑھ سکی تھی، اس سے گریز شروع ہوا۔ ہم عصر مصوروں کے سامنے یہ انوکھی چیز لاکر کچھ کام کر دکھانا ویسے بھی کوئی آسان مرحلہ نہ تھا مگر ایرانی، مغل اور اجنتا روایات کے سہارے میں نے اپنے فنی موقف کے لیے وہ جگہ ضرور نکالی جوایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوئی یہ تحسین فن کی ایک نئی کاوش تھی، اس نے رمزنگاری اور رمز شناسی کا چلن پیدا کیا اور آرٹ نے نیا مرتبہ پایا۔

            اپنے فن کے سلسلے میں چند باتیں عرض کروں۔ میرے بعض نقوش بالکل انفرادی ہیں۔ میں نے اپنے نقوش میں مشرق رموز بھی پیدا کیے ہیں۔ نیز علامتیں ہیں جو ہماری ثقافتی ثروت کی نشانیاں ہیں۔ میں نے بعد میں بھی کچھ تجربے کیے اور انہیں نیاپن دیا۔ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ وہ لوگ تھے جو نئی نئی تحریکوں، نئی باتوں، رجحانوں اور انکشافات سے دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ فن اور ثقافت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں وہ کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔ ذوق نظر نے ہمیشہ روح حیات کا ساتھ دیاہے اور دیتا رہے گا مگر کام کرنے کا وہ زمانہ شاید اب مشکل ہی سے ہاتھ آئے جیسا کہ عرض کیا میں سب قدر دانوں اور مداحوں کے خلوص دل کا معترف ہوں۔ خواص بھی اور عوام بھی۔ انہیں نے اس مرقع کو پیش کرنے کے اسباب پیدا کیے۔ خواص کے ذکر میں میں مہارانی کوچ بہارکا نام لے چکا ہوں، جو سرفہرست ہے پھر ان کی والدہ محترمہ مہارانی بڑودہ ہیں۔ مہاراجہ پٹیالہ، سراکبرحیدری وزیراعظم حیدرآباد دکن، مہارانا شمشیر جنگ بہادر نیپال وغیرہ۔ ان لوگوں کی قدردانی سے مرقع کو وجود بخشنے میں مدد ملی بعض وہ نام بھی ہیں جن کا ذکر بصد احترام کرنا ضروری ہے۔ مثلاً سرتیج بہادر سپرو، سرسالار جنگ بہادر، سرعبدالقادر، نواب احمد یار خاں دولتانہ، سرکرشن پرشاد شاد، میاں نظام الدین بارود خانہ لاہور وغیرہ ان سب نے میری کوششوں کوسراہا۔

            جب مرقع چغتائی پہلی بار تیار ہواتواس کی ایک جلد دربار غالب میں اس طرح پیش کی گئی کہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کے پائیں شاعر کے مرقد پر نذرانہ عقیدت رکھ دیا گیا یہ ان کی خدمت میں خراج تھا ایک فنکار کا اور یہ امانت ان تک پہنچادی گئی۔ مگرمعلوم نہیں وہ کون بے باک تھاجواس خراج عقیدت کوبیتا بیٹھا۔ معلوم نہیں اس وقت یہ امانت کس کے پاس ہے؟

            یہ سب توہوا۔ امیدوں سے بڑھ کر قدرافزائی ہوئی مگر تجارتی چکر سمجھ میں نہیں آیا اور دیدے پھاڑ پھاڑ کر ہم ان باتوں کی طرف دیکھتے رہے اور عجب احوال رہا۔ عام ایڈیشن سے بڑے بڑے امکانات وابستہ تھے۔ مگر ہوا وہی کہ سرمایہ دارتاجر اپنا کام کر گیا اور ان باتوں کی نافہمی سب کچھ چٹ کرگئی، جمالیاتی قدریں اور امنگیں ترستی رہیں۔

 غالب کی ایک غزل کا ممکنہ محرک

محمدضیاء الدین احمد شکیب

 غالب کی ایک غزل کا ممکنہ محرک

:غالب نے ایک غزل

“غنچہ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

بوسے کو پوچھتاہوں میں، منھ سے مجھے بتا کہ یوں”

          1816 اور 1821 کے درمیانی زمانے میں کہی ہے(1)۔ گویا جب ان کی عمر کم از کم انیس سال اور زیادہ سے زیادہ چوبیس سال تھی۔ گمانِ غالب یہی کہتا ہے کہ انیس، بیس یا اکیس سال کے ہوں گے کہ ابھی فارسی کی طرف ان کا میلان نہیں ہوا تھا اور وہ اردو ہی میں کمالِ فن کے حصول کے لیے کوشاں تھے۔ اس زمانے میں وہ اسد تخلص کیا کرتے تھے۔ چناں چہ اس غزل کا مقطع پہلے یوں تھا:

جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی

شعر اسد کے ایک دو پڑھ کے اسے سنا کہ یوں(2)

بعد میں انہوں نے مقطع کا دوسرا مصرع بدل دیا اور اس میں اسد کی جگہ غالب تخلص رکھ کر شعر کو یوں کردیا؎

جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی

گفتہ غالب اک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں(3)

          اس تبدیلی سے پہلے والا مصرع شاعر کی ناپختگی کا غماز ہے۔ ساتھ ہی یہ وہ زمانہ تھاجب وہ بیدل کی پیروی میں دقیق مضامین کو اردو غزل میں باندھتے اور ریختے میں اظہا رکی نئی راہیں نکالنے اور گنجائش پیدا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ اگرچہ اس وقت تک ولی، سراج، میر تقی میر اور سودا نے ریختے کو کہیں کا کہیں پہنچا دیاتھا اور ان سب کے یہاں یہ ادعا ملتا ہے کہ ان لوگوں نے ریختہ جیسی چیز پر توجہ دے کر اس کا مرتبہ اونچا کیا۔ ان کایہ ادعا غلط بھی نہیں تھا۔ لیکن غالب نے ریختے میں نئے امکانات محسوس کیے۔ یعنی اظہار کے ایسے امکانات جو فارسی کی نسبت اردو میں زیادہ ہیں۔ چناں چہ ریختے میں کہی ہوئی اس غزل کو انہوں نے رشکِ فارسی کے طور پر پیش کیا۔ ہر باصلاحیت شاعر اپنے لیے ایک نیا راستہ نکالنے کی کوشش کرتاہے۔

          اس غزل سے ایک اور بات ظاہر ہوتی ہے کہ غالب نے یہ غزل کسی فارسی غزل کے ردِّ عمل میں کہی۔ مقطع کے تیور یہ بھی بتاتے ہیں کہ جیسے کسی نے ان کو کوئی فارسی غزل سنائی ہو اور کہا ہو کہ ”دیکھو ریختے میں یہ بات کہاں آسکتی ہے“۔ اس بات کو غالب نے ایک چیلنج کے طور پر لیا۔ خاص طورپر اس زمانے میں جب وہ ریختے ہی کو اپنا وسیلہ اظہار بنائے ہوئے تھے۔ وہ فارسی کے توڑ پر اردو میں غزل کہنے بیٹھ گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی فارسی غزل تھی جس کے ردِّ عمل میں یہ سب کچھ ہوا۔

          فارسی میں”کہ یوں“ کی ردیف کے لیے ”ہم چناں“ یا ”ہم چنیں“ کی ردیف ہوسکتی ہے۔ چناں چہ حضرت امیر خسروؒ کے یہاں اس ردیف میں کئی غزلیں ہیں، مگر ایک غزل اسی بحر اور اسی مزاج کی ہے۔ اس کے اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں:

تنگ نبات چوں بود لب بہ کشا کہ ہم چنیں

آبِ حیات چوں رود خیز و بیا کہ ہم چنیں

ہر کہ بگویدت کہ تو دل بچہ شکل میں بری

از سرِ کوی ناگہاں مست برآ کہ ہم چنیں

ہر کہ بہ گویدت کہ جان چوں بود اندرونِ تن

یک نفسے بیا نشین در برما کہ ہم چنیں

ہر کہ بگویدت کہ گل خندہ چگونہ می زند

 غنچہ شکرینِ خود باز کشا کہ ہم چنیں

ور بہ تو گویم ای پسرکت بہ کنار چون کشم

تنگ ببند برمیاں بندِ قبا کہ ہم چنیں

ہر کہ پری طلب کند چہرہ خود بد و نمای

ہر کہ ز زلف دم زند زلف کشا کہ ہم چنیں

لاف وفا زنی ولے نیست براے نام را

در تو نشان از وفا ہم بہ وفا کہ ہم چنیں

ہر کہ نخواند ہیچ گہ نامہ عشق چون بود

قصہ حالِ خسروش باز نما کہ ہم چنیں

          پروفیسر انامیری شمل نے مرزا غالب کے اپنے جرمن ترجمے میں یہی خیال ظاہر کیا ہے کہ غالب نے یہ غزل خسروؒ کی اس غزل سے متاثر ہو کر کہی ہے۔ لیکن یہ بات قرینِ قیاس نہیں ہے کہ غالب خسرو کی غزل کے مقابل اردو غزل پیش کرکے یہ کہیں کہ یہ ریختہ رشکِ فارسی ہے۔ ایسا دعویٰ وہ اپنے کسی معاصر یا ہم چشم کے کلام کے حوالے سے ہی کرسکتے تھے۔ ہمارا خیال ہے کہ غالب نے یہ غزل اپنے ایک معاصر نواب وجیہہ الدین خاں معنی کی ایک غزل کے جواب میں کہی تھی۔

          نواب وجیہہ الدین خاں معنی نواب تاج الدین خاں کے پڑ پوتے تھے۔ نواب تاج الدین خاں عمدة الامراء معین الملک اسدالدولہ خان بہادر ذوالفقار جنگ والا جاہ دوم، نواب آف آرکاٹ (وفات 15 جولائی 1810) کے ہم جد اور داماد تھے۔ یہ خاندان فاروقی الاصل اور حضرت فرید الدین گنج شکرؒ کی اولاد سے تھا اور یوپی کے قصبہ گوپامﺅ میں بس گیا تھا۔ والا جاہ اول کے والد نواب سراج الدولہ انورالدین خاں بہادر شہامت جنگ تھے جو نواب میر قمرالدین خاں آصف جاہ اول، بانیِ ریاستِ حیدرآباد کی دعوت پر گوپامﺅ سے دکن گئے اور ناظم ارکاٹ کے عہدے پر فائز ہوئے۔(4)

          وجیہہ الدین خاں معنی کی صحیح تاریخِ پیدائش تو معلوم نہیں ہوسکی تاہم قرائن سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ اٹھارویں صدی کے آخری دہے میں پیدا ہوئے۔ اور عمر میں غالب سے کسی قدر بڑے ہوں گے۔ وجیہہ الدین خاں معنی کا انتقال 27 ربیع الاول 1286ھ مطابق 2 دسمبر 1869ء کو گویا غالب کے انتقال کے کوئی دس مہینے بعد ہوا۔(5) حیدرآباد میں حضرت آغا داودؒ کی درگاہ میں تدفین ہوئیں۔ سنگِ سیاہ کی بنی ہوئی قبر ابھی موجود ہے۔

          اس سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ انیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں غالب کے خاندان کے تعلقات حیدرآباد سے کئی طرح کے رہے ہیں۔ اس زمانے کی ابتدا تک ان کے والد مرزاعبداللہ بیگ تین سو سواروں کی جمعیت سے برسوں حیدرآباد میں ملازم رہے۔ پھر انہوں نے یہ ملازمت چھوڑی۔ پہلے دہلی اور پھر الور چلے گئے جہاں وہ 1802ء میں مارے گئے۔ 1841ء اور 1827ء کی درمیانی مدت میں ان کے بھائی مرزا یوسف حیدرآباد میں نہایت مقتدر عہدے پر سرفراز رہے۔ اسی دوران ان کے بہنوئی مرزا اکبر بیگ حجِ بیت اللہ سے فارغ ہوکر حیدرآباد پہنچے اور مہاراجہ چندولال کے مہمان رہے۔ ظاہر ہے کہ ان روابط کی وجہ سے مرزا غالب کو حیدرآباد کے اور حالات سے واقفیت رہتی ہوگی۔(6)

          یہی زمانہ نواب وجیہہ الدین خاں معنی کی جوانی کا تھا۔ معنی کی تعلیم و تربیت اعلیٰ پیمانے پر ہوئی تھی۔ وہ فارسی میں اعلیٰ درجے کے شعر کہتے تھے۔ غالب کی طرح ان کی جوانی کے کلام میں رنگین مضامین ہیں لیکن رفتہ رفتہ ان کے مزاج اور شاعری دونوں میں ایک صوفیانہ رنگ پیدا ہو گیا۔ ان کی غزلیں جیسے:

          “من نیم واللہ یاراں من نیم” آج بھی برِصغیر میں جگہ جگہ قوالیوں میں گائی جاتی ہیں۔

          معنی کا کلام ان کے پڑپوتے اور میرے رفیق دیرینہ جناب یوسف الدین خاں صاحب، جو اب برطانیہ کے شہری ہیں، کے یہاں محفوظ تھا۔ میرے اصرار پر اب انہوں نے اس کی اشاعت کا اہتمام کیاہے۔ اسی دیوان سے یہاں وہ غزل نقل کی جاتی ہے جو اس گفتگو کی محرک ہے۔ (8)

صبح چگونہ در دمد رو بنما کہ ہم چنیں

شام چگونہ سر زند زلف کشا کہ ہم چنیں

فصلِ بہار یا سمن چوں برسد بہ چمن چمن

خندہ زنان بسوے من زود بیا کہ ہم چنیں

گفتمش ای کرشمہ دان نازِ تو خوں کند چساں

دست نہادہ برمیاں کرد ادا کہ ہم چنیں

دستِ زدین کشیدہ ام کفرِ تو برگزیدہ ام

ہیچ بتے نہ دیدہ ام نامِ خدا کہ ہم چنیں

شد بچہ رنگ غنچہ را دستِ صبا گرہ کشا

از سر ناز وا نما بند قبا کہ ہم چنیں

پیشِ مریضِ سکستہ دم چوں بود آئینہ بہم

بر رخِ من بنہ صنم روے صفا کہ ہم چنیں

پر سد اگر کسی ز تو شیفتہ چوں کنی بگو

برزدہ چشمکے بہ او دل بہ ربا کہ ہم چنیں

بر افقِ فلک چساں مہر بود ضیا فشاں

اے مہ آسمانِ جاں بام برآ کہ ہم چنیں

فتنہ بلند چوں شود حشر بپا چگوں شود

 خلق چساں زبوں شود خیز زجاکہ ہم چنیں

گفت کسے زیار مست جاں بہ بدن چگونہ ہست

 آمدہ ناگہاں نشست در برِ ماکہ ہم چنیں

رفت چگو نہ زین سرا معنی خاکسارِ ما

مشت غبار، خاک را دہ بہ ہوا کہ ہم چنیں

          صاف ظاہر ہے کہ یہ غزل امیر خسروؒ کی زمین اور انہیں کے اتباع میں کہی گئی۔ او ربعض اشعار میں تو خسرو ہی کے مضامین کی الٹ پھیر ہے۔ “مثلاً در برماکہ ہم چنیں” والا شعر۔

معنی نے غزل کو زیادہ شوخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کوشش میں بعض جگہ وہ ابتذال کی حد کو پہنچ گئے۔ جس کو غالب نے محسوس کیا۔ اس سے پہلے کہ ان غزلوں کے بارے میں اور کچھ کہا جائے غالب کی غزل کو بھی سامنے رہنے دیجیے۔ غنچہ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں بوسے کو پوچھتا ہوں میں منھ سے مجھے بتا کہ یوں

پرسشِ طرزِ دل بری کیجیے کیا؟ کہ بن کہے

 اس کے ہر ایک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں

رات کے وقت مَے پیے، ساتھ رقیب کو لیے

آوے وہ یاں، خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یوں

غیر سے رات کیا بنی؟ یہ جو کہا، تو دیکھیے

سامنے آن بیٹھا اور یہ دیکھنا کہ یوں

بزم میں اس کے رو بہ رو، کیوں نہ خموش بیٹھیے

اس کی تو خامشی میں بھی، ہے یہی مدعا کہ یوں

میں نے کہا کہ “بزمِ ناز چاہےے غیر سے تہی”

سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

مجھ سے کہا جو یار نے “جاتے ہیں ہوش کس طرح؟”

دیکھ کے میری بیخودی چلنے لگی ہوا کہ یوں

کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی؟

آئینہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں

گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوال

موج محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں

جو یہ کہے کہ “ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی؟”

گفتہ غالب ایک با رپڑھ کے اسے سنا کہ یوں

          معنی اور غالب دونوں کی غزلیں ایک ہی بحر میں ہیں۔ دونوں کے قافیے اور ردیفیں ایک ہیں۔ ”ہم چنیں“ کاترجمہ ”کہ یوں“ نہایت سلیس اور خالص ریختہ ہے۔ تاہم نثار احمد فاروقی کی اطلاع کے مطابق یہ زمین غالب کے ایک پیش رو شاہ نصیرکی نکالی ہوئی ہے۔ (8) ریختے کی یہی شان ہے کہ اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ کم سے کم ہوں۔ دونوں غزلوں میں بہت سے الفاظ مشترک ہیں جیسے:

غنچہ، ادا، ناز، ہوا، آئینہ، خدا، دل، پا۔

          کئی الفاظ اور فقرے ایسے ہیں کہ جو اس فارسی غزل میں آئے ہوئے لفظوں یا فقروں کاترجمہ ہیں جیسے:

بنما: دکھا؛ بیا؛آئیں؛ گفتمش: میں نے کہا(جویارسے)؛ کروادا: نکلے ہے یہ ادا۔

          چوں بود آئینہ بہم: آئینہ بہم: آئینہ دار بن گئی؛ پرسداگر کسی زتو(جویہ کہے کہ۔۔۔)

          آمدہ ناگہاں نشست: سامنے آن بیٹھنا؛ رفت چگونہ: جاتے ہیں(ہوش) کس طرح؛وہ بہ ہوا: (چلے لگی ہوا) لفظوں سے کہیں زیادہ تلازمات اور محاکات میں مماثلتیں ہیں۔ کہیں کہیں تو شعر کے جواب میں شعر کہا گیا ہے۔ الغرض غالب کی غزل میں معنی کی غزل کی گونج صاف سنائی دیتی ہے۔

          زیرِ نظر غزلوں میں وہ خسرو کی غزل ہو کہ غالب کی یا معنی کی سب میں جو بات مشترک ہے وہ مضامین کی شوخی ہے۔ شوخ مضامین کی ادایگی میں اس بات کا بڑا اندیشہ ہوتاہے کہ شوخی حدِ ابتذال میں نہ چلی جائے۔ یعنی بات صرف طریقہ اظہار کی ہے۔ ورنہ عریاں سے عریاں مضمون اس طرح ادا کیا جا سکتا ہے کہ اس سے اظہار پر ابتذال کا الزام نہ آئے۔ کم از کم اس زمانے کا معیارِ فکر و فن یہی تھا۔ غالب نے اپنے ریختے میں مضامین کو شوخ سے شوخ تر کردیا۔ لیکن انہیں اس طرح بیان کیاہے کہ وہ فارسی سے زیادہ شائستہ ہیں۔ یہ ایک نہایت مشکل کام تھا لیکن نوجوان غالب اس مہم سے بہ حسن و خوبی عہدہ برآ ہوا۔ معنی کایہ شعر لیجیے:

شد بچہ رنگ غنچہ را دستِ صبا گرہ کشا

از سرِ ناز وا نما بند قبا کہ ہم چنیں

          مطلب یہ ہواکہ جب معشوق کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر اس سے کوئی یہ پوچھے کہ صبا کا ہاتھ کلی کی گرہ کس طرح کھولتا ہے تو معشوق کو چاہےے کہ ناز کے ساتھ اپنی قبا کے بند کھول کر دکھلائے کہ اس طرح۔ غالب نے مضمون کو زیادہ شوخ کر دیا لیکن ابتذال ایک دل کش معاملہ بندی میں چھپ کر رہ گیا۔

غنچہ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

بوسے کو پوچھتا ہوں میں منھ سے مجھے بتا کہ یوں

یقینا غالب کے شعر میں اشارات کی جو زبان ہے اس میں ایک پوری تہذیب اور شائستگی ہے۔

          اسی طرح معنی کا ایک شعر ہے:

پرسد اگر کسی زتو شیفتہ چوں کنی بگو

بر زدہ چشمکی بہ او دل بربا کہ ہم چنیں

          مطلب یہ ہوا کہ معشوق کو پھر مشورہ دیا جا رہا کہ اگر کوئی اس سے پوچھے کہ ”کہو“ تم کسی کو عاشق کس طرح بناتے ہو؟ تو معشوق کو چاہیے کہ آنکھ مار کر اس کا دل اڑالے اور کہے کہ ”اس طرح“ یا ”یوں“۔ اس مضمون میں کئی طرح کا ابتذال ہے۔ معشوق کو اس طرح کے مشورے دینا حد درجہ گری ہوئی بات ہے۔ دوسرے یہ کہ آنکھ مارنا بجائے خود اک مبتذل فعل ہے۔ اس شعر میں ابتذال نے شوخی کی لطافت کو غارت کردیا۔ اس بات کا اندازہ اس وقت ہوتاہے جب اس کے مقابل غالب کایہ اردو شعر پڑھاجائے:

غیر سے رات کیا بنی؟ جو یہ کہا، تو دیکھیے

سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں

اب اس شعر میں آنکھ مارنے کی بات ہے تو سہی لیکن لفظوں میں کہی نہیں گئی۔ مضمون میں شوخی بلاکی آگئی ہے۔ لیکن یہ شوخی، شوخی سے زیادہ شرارت لگتی ہے۔ اس لیے اس میں ابتذال کا احساس نہیں ہوتا بلکہ ہنسی آتی ہے۔

          بعض اشعار کے نفسِ مضمون میں کسی نہ کسی طرح مناسبت ہے۔ جیسے معنی نے کہا:

پیش مریضِ سکتہ دم چوں بود آئینہ بہم

بر رخِ من بنہ صنم روے صفا کہ ہم چنیں

          اس شعر میں ایک مضمون”حیرت“ کابھی مضمر ہے جو شعر کے ظاہری مضمون سے کہیں زیادہ لطیف ہے۔ گمان ہوتاہے کہ غالب کا ذہن حیرت کے لطیف مضمون کی طرف گیا اور انہو ںنے یہ شعر کہا:

کب مجھے کوے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی

آئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یوں

          ان چند باتوں کے علاوہ غالب کی اس غزل میں او رکئی ایسی باتیں ہیں جن سے اندازہ ہوتاہے کہ جب وہ یہ غزل کہہ رہے تھے، ان کے سامنے معنی کی یہ غزل تھی۔

          اس غزل سے غالب کا سارا ادعایہ رہاہے کہ ریختہ رشکِ فارسی ہوسکتاہے۔ یہ بات غالب اس زمانے میں کہہ رہے ہیں جب ایسا سوچنا بھی محال تھا۔ اچھے ریختے کے لےے یہ بھی ضروری تھاکہ اس میں ہندی زیادہ ہو اور عربی و فارسی کے الفاظ کم ہوں۔ اس غزل میں غالب نے ہندی روز مرہ اور محاوروں کو جس کثرت سے برتاہے وہ اس دور میں کہے ہوئے ان کے اور اشعار کے لفظوں کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے مضامین کو مقابلے کی فارسی غزل کے مضامین سے زیادہ بلند اور لطیف کردیا اور تیسرے شوخ سے شوخ مضمون کو اردو میں اس چابک دستی اور خوب صورتی سے پیش کیا ہے کہ فارسی اس کے سامنے مبتذل محسوس ہونے لگی۔

حواشی:

1۔ دیوانِ غالب کامل، تاریخی ترتیب سے، مرتبہ کالی داس گپتا رضا،اشاعت سوم، ممبئی۔ 1995

2۔ دیوانِ غالب، نسخہ حمیدیہ، مرتبہ حمید احمد خان، مجلس ترقی ادب، لاہور۔1983

3۔ کلیاتِ خسرو جلد سوم، مرتبہ اقبال صلاح الدین و سید وزیرالحسن عابدی، پیکیجز لمیٹڈ، لاہور، 1974

4۔ تواریخِ والاجاہی، مرتبہ چندر شیکھرن، گورنمنٹ پریس، مدراس۔ 1957، و نیز تزکِ والاجاہی مترجمہ ایس محمد حسین نینار۔ یونیورسٹی آف مدراس، مدراس۔ 1934

5۔ دیوانِ معنی، انسٹی ٹیوٹ آف انڈین پرشین اسٹڈیز، اقبال اکیڈمی، ماں صاحب ٹینک، حیدرآباد

6۔ غالب او رحیدرآباد از محمد ضیاءالدین احمد شکیب، ادبی ٹرسٹ، حیدرآباد۔ 1969

7۔ دیوانِ معنی محولہ بالا۔

8۔ نثار احمد فاروقی نے بہ حوالہ تذکرہ بے جگراز خیراتی لعل بے جگر لکھاہے کہ ”ایک بار شاہ نصیر میرٹھ آئے اور یہاں کے شاعروں کو یہ مصرعہِ طرح دیاکہ غزلیں کہیں۔ ع”کردے سخن میں تو ذرا بندِ قبا کو وا کہ یوں“ دیکھیے ماہ نامہ نگار، لکھنو ستمبر 1959