غالب کی ایک نئی شرح

اشرف رفیع

غالب کی ایک نئی شرح

                غالب بہت پرانے شاعر نہیں ہیں لیکن اب تک غالب کا مطالعہ جن جن نقاط نظر سے کیاگیایا ان کے بعد کی نسلوں نے انہیں جس جس روپ میں دیکھا، سمجھا اور سمجھایاہے۔ اس سے پتا چلتاہے کہ غالب کی فکر میں نہ صرف غیر معمولی تنوع ہے بلکہ ان کی شخصیت میں مختلف زمانوں میں مختلف انداز سے دیکھے اور سمجھے جانے کا عجیب و غریب طلسم موجود ہے۔ غالب کو سمجھنے کاوہ زمانہ تھاجب ان کی بات وہ سمجھتے تھے یا خدا سمجھتا تھا او راب یہ بھی زمانہ ہے کہ شارحین غالب آگہی کا دام شنیدن بچھائے جارہے ہیں مگر ابھی تک غالب کے عنقائے مدعا کو گرفتار کرنے میں کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔

                غالب نے اپنے خطوط میں اپنے بعض اشعار کی تشریح کی ہے۔ یعنی اپنے کلام کی سب سے پہلے شرح خود غالب نے کی ہے۔ غالب کے بعد حالی نے ’مقدمہ شعروشاعری‘ اور ’یادگار غالب‘ میں غالب کے کلام کو سمجھانے کی کوشش کی۔ حالی کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتاگیا۔ چیدہ چیدہ اشعار کی شرح کو نظر انداز کربھی دیں تو غالب کے شارحین کی تعداد سترکے قریب پہنچ جاتی ہے۔ 1921 میں دیوان غالب جدید المعروف بہ نسخہ حمیدیہ کا پہلا ایڈیشن مرتبہ مفتی محمد انوارالحق سامنے آیا تو فہم غالب کے نئی جہتوں کے امکانات روشن تر ہوتے گئے۔ غالب کا مروجہ دیوان در حقیقت ان کے سہل ترین اشعار کا انتخاب ہے۔ نسخہ حمیدیہ سامنے آیاتو اندازہ ہواکہ غالب کے اُن اشعار کی تو شرح ہوئی ہی نہیں جو حقیقتاً تشریحِ طلب ہیں۔ غالب کی جتنی شرحیں 1940 تک لکھی گئیں تھیں وہ صرف ان کے مروجہ دیوان کی شرحیں تھیں۔ حیدرآباد کی ایک نامور علمی ادبی شخصیت سید ضامن کنتوری نے سب سے پہلے نسخہ حمیدیہ کی شرح لکھی۔ اپنے ”پیش حرف“ میں وہ لکھتے ہیں کہ عزیزوں اور دوستوں کی فرمائش اور اصرار پر انہوں نے نسخہ حمیدہ کی شرح کی۔ اس کے بعد انہیں خیال آیاکہ متعارف دیوان کی غزلیں رہ گئی ہیں انہیں بھی ادھورا کیوں چھوڑیں۔ ”ہوتے ہوتے یہ کام مکمل ہوگیا“۔ یہ کام انہوں نے سرسٹھ برس کی عمر میں مکمل کیا۔ اپنے ”پیش حرف“ میں اس کا اظہار کرتے ہیں کہ ”سرسٹھ برس کا فرسودہ دماغ اور جوان غالب کے کلام کی شرح!“ غالب کی شرح کرتے ہوئے اکثر شارحین نے کسی نہ کسی طرح اپنے عجز کا اظہار کیاہے، ضامن کنتوری بھی اس سے بری نہ رہ سکے وہ اپنی سرسٹھ برس کی عمر میں غالب کو جوان اور خود کو بوڑھا سمجھتے ہیں۔

                سید محمد ضامن کنتوری ،کنتور کے ضلع بارہ بنکی میں پیداہوئے چھ سات برس کی عمر میں اپنے والد کنتوری کے ساتھ حیدرآباد آئے۔ عربی، فارسی ادبیات کے مطالعہ کے بعد انگریزی پڑھی زبان و ادب کابھی گہرا مطالعہ کیا۔ شعرفہمی اور سخن سنجی ورثے میں ملی تھی۔ شاعری کے ساتھ ساتھ علمِ عروض و قوافی میں والد کی رہنمائی حاصل تھی۔ اُن کی زندگی ہی میں استادِ فن کی حیثیت حاصل کرلی اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔ انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے تھے۔ دفتر بگی خانہ میں انگریزی کے مترجم ہوگئے۔ نیرنگ مقال (کلیات اردو) ار تنگ خیال (دیوان فارسی) طریق سعادت (نثر) بالک پھلواری(بچوں کی نظمیں) قواعد کنتوری (دوجلدوں میں) عبرت کدہ سندھ (تاریخ) ارمغان فرنگ (انگریزی شعراءکا تذکرہ اور ان کی نظمو ںکے تراجم) شہید وفا (نظم کا ترجمہ) اور آوارہ وطن (گولڈ اسمتھ کی نظم کا ترجمہ) ان کا وقیع سرمایہ فکر و فن ہے۔ ایک ادبی رسالہ لسان الملک (1922) میں نکالنا شروع کیاتھاجو زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔

                ضامن کنتوری کو نہ صرف عربی فارسی اور انگریزی ادبیات پر عبور حاصل تھا بلکہ وہ تاریخِ عرب، ایران و ہند پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی فکر مجتہدانہ اور منطق و فلسفہ کی مستحکم بنیادوں پر قائم تھی۔ ان میں غالب کے عہد، ان کے فن اور مرتبہ فکر کو سمجھنے کی زبردست صلاحیت تھی جس کی وجہ سے ان کی شرح اپنے عصر کی بیشتر شرحوں میں وسعت فکر، ندرتِ توجیہہ اور معروضیت کی وجہ سے وقیع تر ہوگئی ہے۔ اکثر شارحین نے اپنی شرحیں رسائل اور اخبارات میں شائع کی ہیں مگر ضامن کنتوری کی یہ شرح ابھی تک منظر عام پر نہ آسکی۔ اس شرح کا تعارف سب سے پہلے ڈاکٹر ضیاءالدین شکیب نے 1969  میں اپنی مرکة الآرا تصنیف ”غالب اور حیدرآباد“ میں کروایاتھا۔

                شرحِ ضامن میں غزلوں کی جملہ تعداد (376) ہے جبکہ نسخہ حمیدیہ میں جملہ (275) غزلیں شامل ہیں۔ سہ شنبہ 21 اگست 1934 کو غزلوں کی شرح مکمل ہوئی۔ اس کے بعد قصائد، مثنوی، قطعات اور رباعیات کی شرح سہ شنبہ 25 دسمبر 1934  کو پائے تکمیل کو پہنچی۔ یہ معلوم نہ ہوسکاکہ شرح لکھنے کا آغاز کب ہوا اور شرح کتنے عرصے میں مکمل ہوئی۔ بہرحال اس شرح کے مطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ شرح طباطبائی کے بعد کئی اعتبار سے یہ ایک معتبر شرح ہے۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ چند اہم اسباب و نکات پر یہاں روشنی ڈالی جاتی ہے۔

                1۔ ضامن کنتوری نے تفہیم و تشریح کا بارگراں خود اٹھایاہے۔ اکثر اشعار کی تشریح کئی صفحات پر محیط ہے۔ ان کا مطلب مختلف زاویوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

                2۔ بعض اشعار کی شرح میں سخن سنجی کا بوجھ قاری پر ہی ڈالاہے۔ مثلاً

زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے

ہرچند خط سبز و زمرد رقمی ہے

                کی شرح میں لکھتے ہیں ”اس شعر کے الفاظ تو نہایت قیمتی اور چمکدار ہیں لیکن ان میں بہم کیا ربط ہے؟ اور معنی شعر کے کیا ہیں؟ اسے سمجھنے والے ہی سمجھیں گے“

                3۔ کئی مقامات پر شرح کرنے کے ساتھ ساتھ مشروحہ شعر کے ہم معنی اشعار فارسی کے معروف شاعرو ںکے کلام سے نقل کےے ہیں، تاکہ غالب کی تفہیم میں آسانی ہو اور قاری کا ذہن وسعت پاسکے۔ ان شاعروں میں بیدل، نظیری، عرفی، خاقانی، قاآنی، بلخی، سعدی، حافظ اور مولانا روم سے استفادہ کیا ہے۔

                4۔ جہاں بطور دلیل ،مثال یابرائے تفہیم مزید فارسی اشعار لائے ہیں بیشتر مقامات پر ان کا ترجمہ بھی کردیاہے۔

                5۔ فارسی میں شرح نویسی کی جو طاقتور روایت کارفرمارہ چکی ہے وہ کثیرالجہات تھی یعنی شرح لکھنے والا شعر کا مفہوم لکھنے کے ساتھ اس شعر سے متعلق ضروری نکات بھی لکھتا جاتا تھا، یہی انداز اس شرح کا بھی ہے۔ اشعار کی شرح کے ذیل میں زبان و بیان محاورہ دلی و لکھنو، بلاغت و فصاحت، عروض و قافیہ، فلسفہ و منطق کے بہت سے مسائل بکھرے ہوئے ہیں۔ مثلاً اس شعر میں:

بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر

ہر ذرے کی نقاب میں دل بے قرار ہے

“نقاب“ کی تذکیر و تانیث میں لکھنو اور دلی کے فرق کی نشاندہی کی ہے، کہتے ہیں: ”نقاب کو چاہے مونث پڑھےے یا چاہے مذکر، اس لےے کہ لکھنو میں تانیث اور دہلی میں اب بھی بہ تذکیر بولتے ہیں“۔

آگے چل کر شرح کے ختم پر کہتے ہیں ۔”بے پردہ کا لفظ اس شعر میں محض نقاب کی رعایت سے استعمال ہواہے لیکن بے محل ہے“۔

                مآل اچھاہے، سال اچھاہے والی غزل کے ایک شعر میں تنافر لفظی کی شکایت اس طرح کی ہے۔

ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا

جس طرح کا کہ کسی میںہو کمال اچھا ہے

شرح میں لکھتے ہیں ”صاف شعر ہے مصرع ثانی میں تین کاف کا، کہ، کسی یکجاہوگئے ہیں“۔

6۔ اشعار کاوہی مفہوم عموماً لکھاگیاہے جس پر شعر کے الفاظ، ظاہری طورپر دلالت کرتے ہیں ایسی قیاس آرائی کو دخل نہیں دیاگیاہے جس کا تعلق شرح لکھنے والے کی اپنی جولانی طبع او رنکتہ آرائی سے ہوتاہے۔

7۔ اس شرح کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انہو ںنے کلام غالب کے سارے الفاظ کی بہ استناد صراحت کردی ہے۔ خواہ وہ الفاظ آسان ہوں کہ مشکل اور ساتھ ہی متروک الفاظ کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اس شرح سے مدد لے کر فرہنگِ غالب مرتب کی جاسکتی ہے۔

8۔ غزل کی زبان اشارات کی زبان ہے۔ ان اشارات کا زندگی پر کب؟ کہاں اور کیسے اطلاق ہوتاہے جب تک اس کی وضاحت نہ ہو شعر کا صحیح عرفان حاصل نہیں ہوسکتا۔ ضامن کنتوری نے اس کی پوری کوشش کی ہے کہ ہر شعر کو زندگی کی تجربہ گاہ میں لاکے دیکھیں۔ مبالغہ آمیز اور پیش پا افتادہ تجربات پر انہوں نے صاف اعتراض کردیاہے۔ غالب کے اس مشہور شعر پر انہو ںنے بڑی سخت تنقید کی ہے:

پلادے اوک سے ساقی جو مجھ سے نفرت ہے

پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے، شراب تو دے

                ان کی تنقید نہ لسانی ہے نہ فکری بلکہ طبقاتی تہذیب پر ہے۔طویل تشریح کے بعد دو ٹوک لہجے میں کہتے ہیں ”بہرحال یہ شعر کہنے کا نہیں تھااو رنہ اِسے شعر کہہ سکتے ہیں ہاں نظم واقعہ ہے“ اسی غزل کے مقطع پر طباطبائی نے محاورے اور زبان کی بحث کی ہے۔ ضامن کنتوری نے زبان اور محاورے کا کوئی مسئلہ نہیں اٹھایا بلکہ صاف صاف کہہ دیاکہ ”یہ بھی غزل کا شعرنہیں ہے اور کسی واقعہ پر مبنی معلوم ہوتاہے۔اگر غالب کہنا چاہتے تو اس سے بہتر پہلو نکال سکتے تھے“۔

ان اشارات سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ ضامن کا تنقیدی نقطہ نظر زندگی سے دوری پسند نہیں کرتااو ریہ بھی کہ وہ غالب سے مرعوب نہیں بلکہ انہیں اصلاح دینے کی جرات بھی کرسکتے ہیں اور بھی کئی اشعار کی شرح میں یہی ان کا واضح اور متاثر کن رویہ ہے۔

10۔ ایک اور شعر ہے جس کی شرح میں وہ غالب پر اعتراض کرتے ہیں۔ شعر ہے:

نہ پوچھ حال، شب و روز ہجر کا غالب

خیالِ زلف و رخِ دوست صبح و شام رہا

                شرح میں صرف اتنا لکھتے ہیں ”زلف و رخ کو شب و روز سے تشبیہہ دینا مقصود ہے“ آگے کڑا اعتراض کرتے ہیں کہ ”او ریہ تشبیہہ درجہ ابتذال کو پہنچ گئی ہے“ یعنی تشبیہہ کے اس گئے گزرے معیار کی وہ غالب سے توقع نہیں رکھتے اس لےے اس کی مزید تشریح بھی انہوں نے گوارانہیں کی۔

۱۱۔          ضامن کنتوری نے بعض اشعار کی تعریف میں بھی کوئی کمی نہیں کی ہے۔ کہیں کہیں پوری غزل کوبھی سراہاہے۔اس تعریف و تحسین میں انہو ںنے فنی محاسن کے ساتھ ساتھ جذباتی بہاوکو بھی پیش نظر رکھاہے۔ اس موقع پر غالب کی مشہور غزل ”کوئی دن اور“ کی مثال دی جاسکتی ہے۔ لکھتے ہیں ”غالب کی یہ غزل جذباتی شاعری کی بے نظیر مثال ہے، صرف یہی ایک غزل کسی شاعر کے کمال شاعری اور صحتِ ذوق کو ثابت کرنے کے لےے کافی ہے‘ ایک اور شعر:

غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے

یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے

                اس میں بندش کی تعریف کی ہے” اس شعر کی بندش مستحق ہزار آفریں ہے اگرچہ ہے کچھ نہیں، صرف لفظوں کی الٹ پھیر ہے“

12۔ بعض فلسفیانہ اور صوفیانہ مزاج کے اشعار کی تشریح میں گئے بغیر صرف شعر کی ندرت زبان و بیان کی تعریف کردی ہے جیسے اس شعر کی شرح:

قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا

                میں طباطبائی نے بھی اختصار سے کام لیاہے۔ ضامن کنتوری نے صرف ایک ترکیب کی وضاحت کی ”دیدہ بینا چشم عارف“ اور صرف اتنا کہہ دیا مضمون پرانا ہے مگر بندش نئی اور بالکل نئی ہے۔

13۔ شرح نویسی میں ضامن کنتوری کا بنیادی رجحان نفس مضمون تک پہنچنے کا ہے اس کے لیے مشکل الفاظ کے معنی دےے ہیں پھر اصطلاحات، تلمیحات، تراکیب اور روایات کی وضاحت کی ہے لیکن جہاں انہوں نے ایسی وضاحت کو ضروری نہیں سمجھا وہاں صرف نفس مضمون کی طرف اشارہ کردیا۔ کہیں صرف اصطلاحات کی وضاحت کرکے بات ختم کردی جیسے یہ شعر:

نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خطِ غبار، حیف

رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت ہزار حیف

                شرح کے بغیر اتنا لکھ دیا ”خط غبار اقسام خط سے ہے جن کی پاشانی میں غبارکی صورت پیدا ہوتی ہے جیسے خط ریحان، خط گلزار، خط طغرا وغیرہ“

14۔ شرح نویسی کے دوران جہاں جہاں املا، تلفظ اور نئے الفاظ کے تعارف کے مسائل آئے ہیں وہاں وہاں انہوں نے ان مسائل کی تشریح بھی کردی ہے۔ مثلاً ’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘کے قطع کی تشریح میں جو بحث کی ہے وہ قابل توجہ ہے۔

15۔ نسخہ حمیدیہ کے بعض اشعار پر جنہیں متداول دیوان میں شامل نہیں کیاگیا”نظری“ کرنے کے اسباب کی تلاش بھی کی ہے جیسے مندرجہ ذیل شعر میں تشریح کے بعد ”شعر کو نظری کرنے کا باعث“ بتلایاہے:

شوخی مضراب جولاں آبیار نغمہ ہے

ہر گریز ناخن مطرب بہار نغمہ ہے

”شعر کو نظری کرنے کا باعث یہ معلوم ہوتاہے کہ جولاں مصدر ہے۔ اس کو صفت (اسم فاعل) کی جگہ استعمال کیاہے لیکن چاہتے تو پس و پیش سے سیدھا کرلیتے اس طرح: شوخی، جولانِ مضراب الخ“

16۔ ضامن کنتوری نے قواعد کنتوری دو جلدوں میں لکھی ہے جس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس فن میں ان کی نظر کتنی گہری ہے۔ شاید اسی لےے جہاں جہاں موقع ملتاہے فن عروض کے رموز اور فصاحت و بلاغت کے مسائل بیان کرنے سے بھی وہ نہیں چوکتے۔ شارحین غالب میں یہ جرات مندانہ رویہ سب سے پہلے ہمیں طباطبائی کے یہاں ملتاہے۔ ضامن کنتوری بھی اس معاملے میں طباطبائی سے کم نہیں۔ ایسے میں وہ تشریح کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیتے چنانچہ

بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر

متاع خانہ زنجیر کی صدا معلوم

                اس شعر کی تشریح پر اتنی توجہ نہیں کی جتنی فکر سخن کے مراحل پر۔ آمد و آورد کے مسئلے پر ایک تفصیلی بحث کے علاوہ فصاحت و بلاغت کے رموز کی تشریح کرتے ہوئے شعر کے مدارج متعین کےے ہیں۔ فصاحت و بلاغت کی مختصر اور دلچسپ تعریف اس طرح کی ہے ”بلاغت سوچو اور لکھو، فصاحت لکھو اور سوچو“ پھر کلام کی سجاوٹ کے لےے زرین مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے کلام پر کلام غیر کی طرح نکتہ چینی کے لےے دماغ کو آمادہ کریں“ ان تمام مسائل کے منجملہ شعر کی تشریح چار پانچ صفحات پر محیط ہے۔

عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے

کہ اپنے سائے سے سر پانو سے ہے دو قدم آگے

                اس شعر کی شرح میں تقطیع کرتے ہوئے عروضی بحث کی ہے اور تعقید پر اعتراض کیاہے۔ بحث ملاحظہ ہو۔

                ”عجب نشا=مفاعیلن؛تَ سِ جلّا=فعلاتن؛ دَ کے چلے= مفاعلن؛ ہَ ہم آگے= فعلاتن بحر محتبث مثمن مجنون الارکان۔ اصل اس بحر کی دایرہ میں مُس تفع لن فاعلاتن فاعلاتن ہے۔ فارسی والوں نے آخری رکن کو گراکر مس تفع لن فاعلاتن کو چاربار کرلیا۔ اس طرح یہ چھ رکن کی بحر آٹھ رکن ہوگئی یعنی مُس تفع لن فاعلاتن مس تفع لن فاعلاتن ایک مصرع اور پھر مُس تفع لن فاعلاتن مُس تفع لن فاعلاتن دوسرا مصرع۔ اس غزل کے وزن میں زحاف خُبن کا عمل کیاہے یعنی مُس کا س اور فا کی الف ہر جگہ سے گرادیا ہے۔ نشاط=بالفتح خوشی و شادمانی۔ پہلے مصرع میںنہایت ناگوار تعقید واقع ہوئی ہے۔ کہتا ہے کہ ہم کو اپنے قتل کی ایسی خوشی ہے کہ مقتل جارہے ہیں تو ہمارے سرکاسایہ پانو کے سائے سے دو قدم آگے آگے چلتاہے۔ اگر آفتاب رہرو کی پشت پر ہوتو سایہ سامنے پڑتاہے۔ اس کیفیت سے شاعر نے یہ مضمون پیداکیاہے جو ایک لطیفہ شاعرانہ ہے“۔ ”اسی طرح  ”اڑتی پھرے ہے خاک مری کوے یا رمیں“ کی شرح میں حشو کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔

16۔ غالب کے دیوان کا مطلع غالب فہمی میں بڑی اہمیت رکھتاہے۔ تمام شارحین نے اسے اپنے اپنے طورپر سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔خود مرزا غالب نے سب سے پہلے اس طرف توجہ کی اس کے باوجود شارحین کو کہنا پڑا ”المعنی فی باطن الشاعر“ عقدہ کھلا کہ عقدہ نہیں کھلا۔ ضامن کنتوری نے اس شعر کی تہہ داری اور لفظوں کی پرتیں کھولنے کے بجائے صرف لفظ ”نقش“ پر فکر کو مرکوز کیاہے۔ نقش پرہستی کا اطلاق کرکے عالم مشیت کی عقدہ کشائی کی ہے۔ دیگر شارحین نے اس شعر کے ایک ایک لفظ سے بحث کی ہے اس کے باوجود شعر سلجھنے کے بجائے الجھتا ہی گیا۔ ضامن کنتوری نے صرف ایک متصوفانہ پہلو پر غور کیاہے۔ طویل بحثوں سے قطع نظر طباطبائی کا نام لئے بغیر کہہ دیاکہ ”نقش اپنی ہستی کی بے اعتباری او ربے توقیری کا شاکی ہے پھر اب اعتراض ہی کیاباقی رہا“

18۔ جہاں صوفیانہ مسائل آئے ہیں ضامن کنتوری ان کی بڑی تفصیل میں نکل گئے ہیں احادیث و آیات سے مدد لے کر صوفیانہ مسائل کی وضاحت کی ہے۔ کئی جگہوں پر صوفیانہ اصطلاحات اور استعاروں کے روایتی استعمال کا مذاق بھی اڑایاہے۔جیسے

                شکستِ رنگ کی لائی سحر، شبِ سنبل

                پہ زلفِ یار کا افسانہ ناتمام رہا

                اس شعر کی تشریح کے بعد مصرع اولی کی تازہ ونادر ترکیب کی تعریف کرتے ہوئے زلف دراز کے افسانے کی حیثیت کے بھید کھولتے ہوئے لکھتے ہیں ”یہ شعرائے متصوفین کی نہایت بھونڈی نقالی ہے۔ ان کی اصطلاح میں زلف سے مراد صفات باری ہیں۔ زلف ان معنوں میں ہوتو اس کی درازی کا حساب ہی کیا۔ صفات باری کی داستاں کہیں ختم بھی ہوسکتی ہے“

                قطرہ میں دجلہ دکھائی۔۔۔الخ والے شعری میں صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ مضمون پراناہے مگر بندش نئی اور بالکل نئی ہے۔

مرزا غالب مستقبل کے نقیب ہیں۔ ان کے اشعار جتنے کھلتے جاتے ہیں اتنے ہی الجھتے بھی جاتے ہیں۔اسی لےے جتنی شرحیں غالب کی منظرعام پر آئی ہیں اتنی آج تک اردو کے کسی شاعر کی نہیں لکھی گئیں۔ ضامن کنتوری کی یہ شرح سات نوٹ بکس کے (1308) صفحات پر مشتمل ہے۔ پہلی دو جلدیں نہایت صاف اور خوش خط لکھی ہوئی ہیں تیسری جلد کی دوکاپیاں ہیں۔ جن میں شامل تشریحات کی جگہ جگہ تصحیح، ترمیم اور اضافہ کیاہے۔ کچھ حصوں کو قلم زد بھی کردیاہے۔ چوتھی جلد میں (386) غزلیات کا حصہ تمام ہوتاہے اسی جلد کے آخری آٹھ صفحات پر قصائد و متفرقات کا سلسلہ شروع ہوتاہے جو پانچویں جلد پر ختم ہوتاہے اس کے آخری صفحہ (1308) پر ترقیمہ میں ہجری فصلی اور عیسوی تاریخِ تکمیل دی گئی ہے۔ عیسوی تاریخ 25 دسمبر 1934 روز سہ شنبہ ہے پیش حرف میں انہو ںنے صاف صاف لکھاہے کہ سرسٹھ سال کی عمر میں یہ شرح لکھی گئی ہے تو اس حساب سے ان کا سنہ پیدایش 1867 ہوتاہے۔ اس شرح کی تکمیل کے تقریباً دس سال بعد یعنی 1944، ستہتر برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوتاہے۔

                ضامن کی شرح کا یہاں جو تعارف پیش کیاگیاہے وہ انتہائی مختصر مگر کئی لحاظ سے ضروری تھا۔اس اختصار میں بہت سی خوبیاں زیر بحث آنے سے رہ گئیں تفصیل کے خیال سے نمونے اور حوالے بھی زیادہ نہیں دےے جاسکے مگر ان اشاروں سے شارح کے علمی مقام و مرتبہ، غالب فہمی میں ان کی پیش رفت کا اندازہ ہوتاہے۔ یہ ضخیم شرح ضامن کنتوری کو غالبیات کے میدان میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔

غالب کی مُہریں

حنیف نقوی

غالب کی مُہریں

          اشیا کی قدروقیمت کا تعیّن بالعموم ان کی ماہیت اور کیفیتِ ظاہری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات کوئی نسبتِ خاص کسی شے کو اس کی حیثیتِ ظاہری سے بلند تر کرکے اس مرتبہ و مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں اس کے دوسرے تمام اوصاف ہیچ و بے مقدار ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سربرآوردہ اور نامور شخصیات سے تعلق رکھنے والی بعض معمولی چیزیں بھی محض ان کی ذات سے نسبت کی بناپر غیر معمولی اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ جہاں تک اردو زبان و ادب کا تعلق ہے، غالب اس معاملے میں بھی اپنے تمام ہم مشربوں میں سابق وفائق ہیں کہ ان سے وابستہ ہر شے اس نسبتِ خاص کے انکشاف کے ساتھ از خود معتبر و محترم ہوجاتی ہے۔ ان کی مختلف مہریں جن کے نقش ان کی بے شمار تحریروں پر ثبت ہیں، اس ضمن میں بہ طورِ مثال پیش کی جاسکتی ہیں۔ مہروں کا رواج انیسویں صدی میں اور اس سے پہلے بہت عام تھا، چنانچہ یہ بات یقینی ہے کہ غالب کے بہت سے معروف و ممتاز معاصرین اور ان سے پہلے کے لاتعداد مشاہیر شعرا اور اہلِ علم نے اپنے ناموں کی مہریں تیار کرائی ہوں گی اور مرورِ ایام کے باوجود بعض کتابوں اور تحریروں پر ان کے نقوش کی موجودگی بھی خارج از امکان نہیں، تاہم ان کی تلاش و تحقیق اور ان سے متعلق گفتگو میں اہلِ علم کی دلچسپی کا ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جیسی دلچسپی کا مظاہرہ غالب کی مہروں کے سلسلے میں کیاگیاہے۔ البتہ ان کے بعض ہم نام و ہم تخلص یا صرف ہم نام حضرات کی مہریں محض اس غلط فہمی یا شبہے کی بنا پر کہ وہ غالب سے نسبت رکھتی ہیں، ضرور معرضِ بحث میں آتی رہی ہیں۔ نسبتیں کبھی کبھی کتنی اہم ہوجاتی ہیں، یہ اس کا بیّن ثبوت ہے۔

          تازہ ترین معلومات کے مطابق غالب نے اپنی زندگی کے محتلف ادوار میں کم از کم آٹھ (۸) مہریں بنوائی تھیں۔ مالک رام صاحب نے مندرجہ بالا عنوان (غالب کی مہریں) ہی کے تحت اپنے ایک مضمون میں جو ان کے مجموعہ مضامین ”فسانہ غالب“ میں شامل ہے، ان میں سے چھ (۶) مہروں کا مفصّل تعارف سپردِ قلم فرمایاہے۔ بعد کے جن مصنفین اور توقیت نگاروں نے اپنی نگارشات میں ان مہروں کا ذکر کیاہے، ان کا ماخذ یہی مضمون ہے۔ ڈاکٹر گیان چند کے نزدیک ”اس مضمون کا سب سے قابلِ قدر پہلو ان مہروں کا نفسیاتی مطالعہ ہے۱۔“ خود مالک رام صاحب کے ارشاد کے مطابق ”میرزا کی یہ مہریں ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت اور عام حالت کی مادّی ترجمان ہیں(انہوں) نے ان میں اپنی زندگی کے اہم واقعات کو بھردیا ہے۲۔“ پیشِ نظرسطور میں یہ دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ تجزیہ جو بہ ظاہر بہت محققانہ اور عالمانہ معلوم ہوتا ہے، کس حد تک مبنی بر حقیقت ہے؟

          دریافت شدہ مہروں میں سے دو قدیم ترین مہریں غالب نے 1231ھ (1815-16ع) میں کندہ کرائیں تھیں۔ ان میں سے ایک مہر پر خطِ نستعلیق میں ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ“ اور دوسری پر خطِ نسخ میں ”اسد اللہ الغالب“ نقش تھا۔ مالک رام صاحب کے مطابق پہلی مہر سے غالب کی ”اس زمانے کی سرمستی و رنگینی، رندی و ہوس پیشگی بہ درجہ اتم ظاہر ہے۔“ (ص81) جب کہ دوسری مہر”ان کے دلی خیالات و معتقدات کی مظہر ہے۔“(ص82) پہلے تاثر کی تائید میں منشی شیونرائن آرام اور مرزا حاتم علی مہر کے نام کے خطوط سے شطرنج کے کھیل سے دلچسپی، پتنگ بازی کے شوق اورایک ستم پیشہ ڈومنی کو مار رکھنے کے واقعات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

“غالب کے والد میرزاعبداللہ بیگ خاں کا عرف ”میرزا دولھا“ تھا، اسی لیے لوگ میرزا غالب کو بچپن ہی سے ”میرزانوشہ“ کہنے لگے۔ اس عرف کی پستی ظاہر ہے اور خود میرزا کو بھی بعد کو اس ”نالائق“ عرف سے نفرت ہوگئی تھی۔ مگر اس طوفانی زمانے میں بھلا ثقاہت کہاں قریب پھٹک سکتی تھی۔ یہ باتیں شعور اور تجربے سے حاصل ہوتی ہیں اور وہ ان کی عمر اور گرد و پیش کا اقتضا نہ تھا۔“ (ص81)

دوسری مہر کے سلسلے میں محترم مضمون نگا رکا ارشاد ہے:

          “اس مہرکی بناحضرتِ علی کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کا نام اسد اللہ تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا اور بعد کو ان کے دوسرے تخلص کی بنا بھی یہی ہوئی۔ چوں کہ سامنے کی چیز تھی اس لیے جب انہوں نے تخلص تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسد چھوڑ کر بلا تامّل غالب رکھ لیا“ (ص81)

          اس کے بعد حضرت علیؓ سے میرزا صاحب کی عقیدت اور ”شیعت سے شغف“ کو عبد الصمد سے زبانِ فارسی کی تحصیل اور ”ایران کے علوم و رسوم“ سے حصولِ واقفیت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے علائی کے نام 17جولائی 1862ء کے ایک خط کے حوالے سے ان کے مذہب و مسلک کی وضاحت کی ہے، جس کا لُبِّ لباب خود میرزا صاحب کے الفاظ میں حسب ذیل ہے:

“محمد علیہ السّلام پر نبوت ختم ہوئی مقطع نبوّت کا مطلع امامت اور امامت نہ اجماعی بلکہ مِن اللہ ہے، اور امام مِن اللہ علی علیہ السّلام ہیں، ثمّ حسن، ثمّ حسین تامہدی موعود علیہ السّلام “ (ص82)

          ایک ہی سال میں تیارشدہ ان دو مہروں کو دو مختلف بلکہ متضاد مزاجی کیفیات اور طبعی میلانات کی علامت قرار دے کر مالک رام صاحب نے اجتماعِ ضدّین کی جو مثال پیش فرمائی ہے، وہ عقلاً ممکن الوقوع تو ہے لیکن عملاً بعید از قیاس نظر آتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پہلی مہر میں نام کے ساتھ عرف کی موجودگی نہ تو عنفوانِ شباب کی رنگ رلیوں یا لابالی پن کی مظہر تھی اور نہ ثقاہت کے منافی۔ جیسا کہ خود مالک رام صاحب نے فرمایاہے، غالب بچپن ہی سے ”میرزانوشہ“ کے عرف سے معروف تھے، لیکن واقعہ صرف اتنا ہی نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ عرف شروع سے آخرِ عمر تک ان کے نام کا جزوِ لا ینفک بنارہا اور یہ بات ان کے لیے کسی بھی درجے میں ناگواری کا باعث نہ تھی۔ غالب کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ بنیادی نکتہ ذہن نشیں رکھنا اشد ضروری ہے کہ مصلحت اندیشی ان کے مزاج کا لابُدی خاصّہ تھی۔ اس معاملہ میں وہ اس قدر حسّاس واقع ہوئے تھے کہ ان سے عمداً کسی ایسے کام کی توقعی ہی نہیں کی جاسکتی تھی جو خلافِ مصلحت یا مقتضاے وقت کے منافی ہو۔ عرف کا معاملہ بھی اس سے مستثنٰی نہیں، چنانچہ اس کے ترک و اختیار کے سلسلے میں بھی ان کی تمام تر ترجیحات بہ ظاہر وقتی ضرورت اور حالات کے تقاضوں کا ردِّ عمل معلوم ہوتی ہیں۔ 1231ھ (1815-16ع) میں اس مہر کے کندہ کرانے کے بعد انہوں نے جہاں جہاں اس عرف کو اپنے قلم سے اپنی شناخت کا وسیلہ بنایا، ان میں سے مندرجہ ذیل تحریریں اب بھی محفوظ ہیں:

          (1) درخواست بہ نام سائمن فریزر مورخہ 28 اپریل 1828 ع ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ برادر زادہ نصر اللہ بیگ خاں جاگیردار سونک سونسا۔“3

          (2) عرضی دعویٰ پنشن مورخہ 28 اپریل 1828 ع ”میرا نام اسد اللہ خاں ہے اور عرف میرزا نوشہ“4

          (3) درخواست بہ نام ”سر حلقہ افرادِ دفتر کدہ کلکتہ“: ’اسمِ ایں فقیر اسد اللہ خان است و علَم مرزا نوشہ و تخلص غالب۔“5

          (4) عرضی بہ نام اینڈ ریواسٹرلنگ مورخہ 15 جولائی 1829 ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزانوشہ برادر زادہ کلانِ نصراللہ بیگ خاں۔“6

(5) عرضداشت مورخہ 11 اگست 1829 ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ برادر زادہ نصراللہ بیگ خاں جاگیردار سونک سونسا۔“7

(6) مکتوب بہ نام راے سدا سکھ مدیر اخبار جامِ جہاں نما مورخہ جمعہ، 25 صفر 1247ھ (5 اگست 1831ع) ”ایں ننگِ آفرینش کہ موسوم بہ اسد اللہ خاں و معروف بہ مرزا نوشہ و متخلص بہ غالب است۔“ 8

(7) دیباچہ دیوانِ اردو مرقوم بست و چہارم شہر ذی قعدہ 1248ھ (14 اپریل 1833ع) ”نگارندہ ایں نامہ بہ اسد اللہ خاں موسوم و بہ میرزا نوشہ معروف و بہ غالب متخلص است۔“9

(8) مکتوب بہ نام میر مہدی مجروح مورخہ 8 اگست1858ع ”وہ جو تم نے لکھا تھا کہ تیرا خط میرے نام کا میرے ہم نام کے ہاتھ جا پڑا، صاحب! قصور تمہارا ہے۔ کیوں ایسے شہر میں رہتے ہو جہاں دوسرا میر مہدی بھی ہو؟ مجھ کو دیکھو کہ میں کب سے دلّی میں رہتاہوں۔ نہ کوئی اپنا ہم نام ہونے دیا، نہ کوئی اپنا ہم عرف بننے دیا، نہ اپنا ہم تخلص بہم پہنچایا۔”

(9) خودنوشت براے تذکرہ شعرامرتبہ مولوی مظہر الحق مظہر: مرقومہ 1864ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ، غالب تخلص۔“10

          ان تحریروں سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ پسند و ناپسند سے قطعِ نظر غالب کو اس اعتراف و اظہار میں کوئی تامل نہ تھا کہ وہ ”مرزانوشہ“ کے عرف سے معروف ہیں۔ اگر وہ اسے اپنی شخصیت کا ایک لازمی جزونہ سمجھتے اور اس سے متنفّر یا بیزار ہوتے تو اس طرح باربار اس کا ذکر ہرگز نہ کرتے۔ ان کے اعزا، احباب اور معاصرین میں بھی ایسے متعدد حضرات شامل ہیں جنہیں اس عرف کے حوالے سے ان کا ذکر کرنے میں کوئی عذر مانع نہ تھا۔ اگراس میں ان کی ناخوشی یابے ادبی کا شائبہ ہوتا تو ان میں سے بعض لوگ یقینا اس سے احتراز برتتے۔ مثلاً:

          (1)  مولانا فضلِ حق خیرآبادی کے بڑے بھائی مولوی فضل عظیم نے 1241ھ 1826ء میں ”افسانہ بھرتپور“ کے نام سے فارسی میں ایک مثنوی لکھی تھی۔ یہ مثنوی مرزا غالب کی نظر سے گزر چکی تھی اور انہوں نے اس کی تاریحِ تصنیف بھی کہی تھی جو ان کے کلیات فارسی میں موجود ہے۔ مصنف نے اس مثنوی کے خاتمے پر یہ تاریخ نقل کرنے سے پہلے مرزا غالب کی تعریف میں بائیس شعر کہہ کر شاملِ کتاب کیے ہیں۔ ان اشعار کا عنوان انہوں نے ”در تعریف مرزا نوشہ صاحب“ قائم کیا ہے اور ایک شعر میں بھی ان کا ذکر ان کے اسی عرف کے ساتھ کیا ہے۔ شعر حسبِ ذیل ہے:

ز اوصافِ او ہر کسے آگہ است

کہ معروف با میرزا نوشہ است11

(2) نواب مصطفی خاں شیفتہ نے 1250ھ 1835ء میں تذکرہ ”گلشنِ بے خار“ تالیف کیا۔ اس میں مرزا صاحب کے ترجمہ احوال کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیاہے: ”غالب تخلص، اسمِ شریفش اسد اللہ خاں، المشتہر بہ مرزانوشہ“12

‘گلشنِ بے خار’ کا مسودہ طباعت سے پہلے مرزا صاحب کی نظر سے گزر چکا تھا۔ اگر نام کے ساتھ عرف کی شمولیت ان کے مزاج کے خلاف ہوتی تو وہ اس عبارت سے ”المشتہر بہ مرزا نوشہ“ کو بہ آسانی قلمزد کرسکتے تھے۔

          (3) سرسید کے برادرِ بزرگ سید محمد خاں بہادر نے اکتوبر 1841ء میں پہلی بار مرزا صاحب کا دیوانِ اردو اپنے لیتھوگرافک پریس سے شائع کیا تو اس کے سرورق پر ”دیوان اسداللہ خاں صاحب غالب تخلص، میرزا نوشہ صاحب مشہور کا“ لکھ کر گویا اس امر کی تصدیق کی کہ صاحبِ دیوان کا نام اسد اللہ خاں اور تخلص غالب ہے لیکن وہ عام طورپر مرزا نوشہ کے عرف سے مشہور ہیں۔

(4) دیوان کی اشاعت کے فوراً بعد سید محمد خاں بہادر کے لیتھوگرافک پریس ہی سے شائع ہونے والے ”سیدالاخبار“ کے 9 شوال 1357ھ 24 نومبر 1841ء کے شمارے میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا جس میں شائقین کو ”پنج آہنگ“ کی اشاعت کے لیے تیاری کی خوش خبری سنائی گئی تھی۔ اس کی ابتدابھی ”مرزا اسد اللہ خاں صاحب غالب تخلص، مرزا نوشہ صاحب مشہور“ سے ہوئی تھی۔

          منشی بال مکند بے صبر،غالب کے شاگرد کی حیثیت سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ انہوں نے اپنی اردو مثنوی ”لختِ جگر“ 1275ھ 1858ء میں نظر ثانی کے بعد بہ غرضِ اصلاح غالب کی خدمت میں پیش کی تھی۔ اس میں انہوں نے ”در شانِ مجمعِ کمالاتِ صوری و معنوی حضرت استادی جناب مولانا اسد اللہ خاں صاحب“ کے زیرِ عنوان جو اشعار کہے ہیں، ان میں ان کے نام، تخلص اور لقب (عرف) کا بیان اس طرح ہواہے:

نام اس کے سے کرتا ہوں میں آگاہ

اوّل ہے اسد اور آخر اللہ

مشہور تخلص اس کا غالب

مطلوبِ دلِ ہزار طالب

مرزا نوشہ لقب ہے اس کا

ثانی کوئی اور کب ہے اس کا16

(6) مکتوب بہ نام حسین مرزا مورخہ 29 اکتوبر 1859ء میں خود مرزا صاحب کا ارشاد ہے: “کاشی ناتھ بے پروا آدمی ہے۔ تم ایک خط تاکیدی اس کو بھی لکھ بھیجو۔ اکثر وہ کہا کرتا ہے کہ حسین مرزا صاحب جب لکھتے ہیں مرزا نوشہ ہی کو لکھتے ہیں۔”

          (7) مرزا یوسف کے انتقال کے پانچ برس بعد ان کی اہلیہ لاڈو بیگم نے یکم اکتوبر 1862ء کو ایک درخواست کے ذریعے ڈپٹی کمشنر سے یہ التجا کی کہ حکومت کی طرف سے ان کی مالی امداد کی جائے۔اس درخواست کے اندراجات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نے ان کے کوائف کا جو گوشوارہ مرتب کرکے کمشنر کو بھیجا تھا، اس کا ایک اندراج یہ بھی تھا کہ ”کبھی کبھی اس کے مرحوم خاوند کا بھائی مرزا نوشہ اس کی مدد کرتاہے14۔“ ظاہرہے کہ لاڈو بیگم نے اپنی درخواست میں ”مرزانوشہ“ ہی لکھا ہوگا۔

(8) 1867ء کے اواخر میں غالب نے ”قاطع القاطع“ کے مصنف مولوی امین الدین کے خلاف دہلی کی ایک عدالت میں ازالہ حیثیتِ عرفی کا مقدمہ دائر کیا۔ اس مقدمے میں ان کے وکیل مولوی عزیزالدین تھے۔ انہوں نے 15 دسمبر 1867ء کو پیش کردہ ایک درخواست کے آخر میں اپنے دستخط کے تحت خود کو ”وکیلِ مرزا اسداللہ خاں پنشن دارِ سرکاری عرف مرزا نوشہ“ اور 20 فروری 1868ء کی اسی سلسلے کی ایک اور تحریر کے خاتمے پر ”وکیلِ مرزا اسد اللہ خاں عرف مرزانوشہ“ لکھاہے۔15

(9) غالب کی وفات کے تیسرے دن ان کے فرزندِ متبنّٰی حسین علی خاں شاداں (پسرِ عارف) نے نواب کلب علی خاں کو اس حادثے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا تھا:

 ”بہ تاریخ 15 فروری سالِ حال مطابق 2 ذی قعدہ روزِ دوشنبہ وقت ظہر جناب دادا جان صاحب قبلہ نواب اسد اللہ خاں غالب عرف میرزا نوشہ صاحب نے اس جہانِ فانی سے رحلت کی۔“16

(10) مولانا حالی نے جو غالب کے عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے، ”یادگارِ غالب“ کا آغاز اس جملے سے کیا ہے:

“میرزا اسد اللہ خاں غالب المعروف بہ میرزانوشہ، المخاطب بہ نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ، المتخلص بہ غالب در فارسی واسد در ریختہ، شبِ ہشتمِ ماہِ رجب 1212 ہجری کو شہر آگرہ میں پیداہوئے۔“17

          عرف کے متواتر استعمال اور اس کے ساتھ شہرتِ عام کی ان مثالوں کے پیشِ نظر یہ باور کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ غالب واقعتا اس سے بیزار ہوں گے یا اسے بہ نظرِ حقارت دیکھتے ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ بھی واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک دوبا راپنے احباب کو اس کے استعمال سے روکابھی ہے اور اسے ”نالائق“ قرار دے کر ایک اعتبار سے اس کی مذمّت بھی کی ہے، لیکن اس کی وجہ ان کی وہی مصلحت اندیشی اور احتیاط پسندی تھی جو انہیں بہ وقتِ ضرورت خلافِ معمول فیصلے لینے پر مجبور کرتی رہتی تھی۔فروری 1828ء میں جب وہ اپنی پنشن کا مقدمہ حکومتِ عالیہ کے سامنے پیش کرنے کی غرض سے کلکتے پہنچے تو ایک ”نکوہیدہ سیرت“ ہم وطن (مرزا افضل بیگ) نے حکّام کو ان کی طرف سے بدظن کرنے کی غرض سے یہ افواہ اڑادی کہ اس تازہ وارد شخص نے اپنا نام بھی بدل لیاہے اور تخلص بھی۔ گویا یہ شخص فریبی اور جعل ساز ہے۔ اسی افواہ کے زیرِ اثر اعیانِ دفتر کو ان کا نام بہ غرضِ ملاقات اپنے افسرِ اعلیٰ تک پہنچانے میں تامّل تھا، کیوں کہ سرکاری کاغذات کے مطابق خاندانی پنشن ”مرزا نوشاہ“ کے نام جاری ہوئی تھی اور وہ ”مرزانوشہ متخلص بہ اسد“ کی منزل سے آگے بڑھ کر اب ”اسد اللہ خاں غالب“ کے طور پر روشناسِ خلق تھے۔ اس مرحلہ دشوار سے نبٹنے کے لیے مرزاصاحب نے اپنے دیوانِ اردو کے ایک قلمی نسخے کا سہارا لیا جسے مرتب ہوئے سات سال سے کچھ زیادہ مدت گزر چکی تھی او راس سفر میں اتفاقاً ان کے ساتھ تھا۔ اس دیوان میں وہ غزلیں بھی شامل تھیں جن کے مقطعوں میں پرانا تخلص (اسد) موجود تھااور وہ غزلیں بھی جن میں نیا تخلص (غالب) نظم ہواتھا۔ مزید برآں اس کے خاتمے پر 1231ھ کی وہ مہر بھی ثبت تھی جس کے نگینے پر ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ“ نقش تھا۔ غالب نے یہ دیوان ایک خط کے ساتھ ”سرحلقہ افرادِ دفتر“ (غالباً سائمن فریزر) کی خدمت میں پیش کردیا تا کہ وہ بہ طورِ خود فیصلہ کرسکیں کہ یہ افواہ کس حد تک درست ہے۔ خط میں انہوں نے لکھا تھا:

“آن مہر بہ ابطالِ دعویِ حداثتِ اسم مسکتِ مدعی است و در مسلّم نہ داشتنِ علَم برے سکوتِ ایں گمنام نیز کافی است۔ آرے اسمِ ایں فقیر اسد الہ خان است و علم مرزا نوشہ و تخلص غالب، لیکن ازیں جاکہ غالب کلمہ رباعی است و ظرفِ بعض بحور نشستِ آں رانیک برنتابد، فقیر لفظِ اسد راکہ مخففِ اسمِ عاصی است و معِ ہٰذا کلمہ ثلاثی، گاہ گاہ تخلص اختیار می کند۔“ 18

          اس تحریر سے غالب کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھاکہ اب سے بارہ سال پہلے بھی جب کہ یہ مہر تیار ہوئی تھی، وہ ”اسد اللہ خاں“ کے نام سے موسوم تھے۔ لہٰذا یہ مہر مدّعی کے اس دعوے کی تردید کے لیے کہ انہوں نے اپنا نام بدل لیا ہے، ایک مسکت دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیز یہ کہ ”مرزانوشہ“ انھی کاعرف ہے اور یہ ان کا اختیارِ تمیزی ہے کہ وہ چاہیں تو اسے استعمال کریں اور چاہیں تو ترک کردیں۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک وہ سرکاری خطوط اور عرضداشتوں میں اپنا نام ”اسد اللہ خاں عرف مرزانوشہ“ لکھتے رہے، بعد ازاں جب یہ قضیہ فیصل ہوگیاکہ ”مرزانوشہ“ بھی وہی ہیں اور ”اسد اللہ خاں“ بھی وہی تو انہوں نے اس دو عملی سے نجات پانے کے لیے آئندہ بہ نظر احتیاط صرف ”محمد اسد اللہ خاں“ یا ”اسد اللہ خاں“ لکھنے کا تہیّہ کرلیا۔ چنانچہ قیامِ کلکتہ کے اسی زمانے میں ایک بار اپنے دوست راے چھج مل کو خط لکھا تو پتے کے ذیل میں ان کے لکھے ہوئے مفصل نام کو موضوعِ گفتگو بناکر یہ سوال بھی کرڈالاکہ:

“برعنوانِ مکتوب کلمہ نواب راجزوِ اعظم (کذا=اسم) ساختن یعنی چہ و عرف پایانِ اسم رقم کردن چرا؟ سگِ دنیا را بہ اسد اللّٰہی شہرت دادن چہ کم است کہ نوابی و میرزائی برسرِ ہم باید افزود۔“19

          یہ بات بہ ظاہر انکسا رکے طورپر کہی گئی ہے لیکن اصل مقصد یہی معلوم ہوتاہے کہ نام کے ساتھ عرف نہ شامل کیا جائے تاکہ پڑھنے والے کا ذہن اس قضیہ نامرضیہ کی طرف منتقل ہی نہ ہو کہ مکتوب الیہ اب سے پہلے ”مرزانوشہ“ کے نام سے موسوم تھا اور اب اس نے اپنا نام بدل کر ”اسد اللہ خاں“ کر لیا ہے۔ اس کے بعد اگلے تیس (30) برسوں میں ان کی کوئی ایسی تحریر نہیں ملتی جس میں انہوں نے اس عرف سے بریّت کا اظہار کیا ہو یا کسی کو اس کے استعمال سے روکاہو۔ تا آن کہ یکم ستمبر 1858ء کو انہو ںنے مرزا ہرگوپال تفتہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا:

“صاحبِ مطبع (مفیدِ خلائق،آگرہ) نے خط کے لفافے پرلکھاہے:

”مرزانوشہ صاحب غالب“ للہ غور کرو، یہ کتنا بے جوڑ جملہ ہے۔ ڈرتاہوں کہ کہیں صفحہ اولِ کتاب پر بھی نہ لکھ دیں صرف اپنی نفرت عرف سے وجہ اس واویلا کی نہیں ہے بلکہ سبب یہ ہے کہ دلّی کے حکّام کو تو عرف معلوم ہے مگر کلکتے سے ولایت تک یعنی وزراکے محکمے میں اور ملکہ   عالیہ کے حضور میں کوئی اس نالائق عرف کو نہیں جانتا، پس اگر صاحبِ مطبع نے ”مرزانوشہ صاحب غالب“ لکھ دیاتو میں غارت ہوگیا، کھویاگیا، میری محنت رائگاں گئی، گویا کتاب کسی اور کی ہوگئی۔“

اس کے تیسرے دن ان سے دوبارہ یہ استدعا کی:

          منشی شیونرائن کو سمجھا دینا کہ زنہار عرف نہ لکھیں، نام اور تخلص بس، اجزاے خطابی کا لکھنا نامناسب بلکہ مضر ہے“۔

          ان بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب (دستنبو)کے سرورق پر صرف نام اور تخلص لکھنے اور عرف نہ لکھنے پر یہ اصرار فی الواقع اس مبیّنہ طورپر ”نالائق عرف“ سے نفرت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس احتیاط اور پیش بندی پر مبنی ہے کہ سرکاری کاغذات میں درج ان کے نام کے ساتھ اس عرف کی شمولیت ”وزراکے محکمے اور ملکہ عالیہ کے حضور میں“ کسی غلط فہمی کا سبب نہ بن جائے اور پھر کوئی ایسی صورتِ حال پیش نہ آجائے جیسی ایک بار کلکتے میں پیش آچکی تھی۔ غدر کے بعد کے مخصوص حالات اور انگریز حکّام کی مطلق العنانی کو مدِّ نظر رکھا جائے تو یہ اندیشہ کچھ بے جابھی نہ تھا۔ کلکتے میں انہیں ذاتی طورپر جو تجربہ ہوچکاتھا، ممکن ہے کہ اس قسم کے کچھ اور واقعات بھی ان کے علم میں ہوں۔ کم سے کم ایک واقعے کا ذکر خود ان کے ایک خط میں موجود ہے۔ یہ خط یوسف مرزا کے نام ہے اور قیاساً 1859ء کے وسط میں لکھاگیاہے۔ لکھتے ہیں:

“ایک لطیفہ پرسوں کا سنو:حافظ ممّو بے گناہ ثابت ہوچکے۔ رہائی پاچکے۔ حاکم کے سامنے حاضر ہواکرتے ہیں۔ املاک اپنی مانگتے ہیں۔ قبض و تصرف ان کا ثابت ہوچکا ہے، صرف حکم کی دیر۔ پرسوں وہ حاضر ہیں۔ مسل پیش ہوئی۔ حاکم نے پوچھا:

حافظ محمد بخش کون؟ عرض کیا میں۔ پھر پوچھا کہ حافظ ممّو کون؟ عرض کیا کہ میں۔ اصل نام میرا محمد بخش ہے، ممّوم ممّو مشہور ہوں۔ فرمایا: یہ کچھ بات نہیں، حافظ محمد بخش بھی تم، حافظ ممّو بھی تم، سارا جہان بھی تم، جو کچھ دنیا میں ہے، وہ بھی تم۔ ہم مکان کس کو دیں؟ مسل داخلِ دفتر ہوئی۔ میاں ممّو اپنے گھر چلے آئے۔

          جہاں ایک معمولی سے شبہے کی بنا پر اس طرح ایک جیتا ہوا مقدمہ ہارا جا سکتا ہے، وہاں غالب کا اپنے مفادات کے تحفظ میں ہرممکن احتیاط برتنا مقتضاے حال کے عین مطابق تھا۔ وہ یہ خطرہ مول لینے کے لیے کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہوسکتے تھے کہ نام اور عرف کے چکر میں حافظ محمد بخش عرف حافظ ممّو کی طرح ان کی مسل بھی داخلِ دفتر کردی جائے۔ تفتہ کے نام پنے محولّہ بالا دونوں خطوں میں سے پہلے خط میں انہوں نے جس تشویش کا اظہار کیا ہے اور دوسرے خط میں تاکید کی جو صورت اپنائی ہے، وہ بدیہی طورپر اسی قسم کے اندیشہ ہاے دور دراز کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر وہ واقعی اس ”نالائق عرف“ سے متنفّر ہوتے تو عام حالات میں بھی اپنے نام کے ساتھ اس کے الحاق کے خلاف کبھی نہ کبھی ضرور احتجاج کرتے، لیکن اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حد یہ ہے کہ 1865ء میں جب اسی کتاب (دستنبو) کا دوسرا ایڈیشن ”نسخہ صحیحہ مرسلہ مصنف“ کی بنیاد پر مطبع لٹریری سوسائٹی روہیل کھنڈ، بریلی سے شائع ہواتو اس کے سرورق پر ان کا پورا نام ”نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ، المتخلص بہ غالب عرف مرزانوشہ“ لکھا ہواتھا۔ نام کے ساتھ ”اجزاے خطابی“ اور ”عرف“ کے اس اندراج کو انہوں نے بعد کی کسی تحریر میں نہ تو ”نامناسب بلکہ مضر“ قرار دیا اورنہ اس پر کسی قسم کی ناگواری ظاہر کی۔

          دوسری مہر کے سلسلے میں مالک رام صاحب کا ارشاد ہے کہ ”اس کی بنا حضرت علی کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کا نام اسد اللہ تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا۔“ بعد میں جب انہوں نے تخلص تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسی لقب کی رعایت سے اسد کو چھوڑ کر غالب اختیار کرلیا (ص81) غالب نے ایک منقبتی قصیدے میں خود بھی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ تخلص کے اس انتخاب میں حضرت علی کے ”اسم و رسم“ کے اثرات شامل تھے۔ فرماتے ہیں:

اے کز نوازشِ اثرِ اسم و رسمِ تو

نامم زمانہ غالب معجز بیاں نہاد

          اس کے باوجود مالک رام صاحب کا یہ دعویٰ محتاجِ دلیل ہے کہ مرزا صاحب نے پہلے حضرت علی سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہا رکے طورپر یہ مہر کھدوائی،اس کے بعد اپنا تخلص اسد سے بدل کر غالب کیا۔اس کے برخلاف مرحوم اکبر علی خاں عرشی زادہ کا یہ استدلال زیادہ قرینِ صحت معلوم ہوتاہے کہ رجب 1231ھ (جون 1861ع) میں دیوان کے اولین دستیاب نسخے کی ترتیب کے وقت تک مرزا صاحب اسد تخلص کرتے تھے۔ بعد میں اسی سال کی کسی تاریخ کو انہوں نے غالب تخلص اختیار کیاتو یہ نئی باتخلص مہر کندہ کرائی۔ 20

          اگر اس مہر کی وساطت سے صرف ”دلی خیالات و معتقدات“ کا اظہار مقصود ہوتا تو یہ کام اس سے قبل بھی کیا جاسکتا تھاکیوں کہ غالب 1231ھ سے پہلے بارہا اس امر کا اعتراف و اعلان کرچکے تھے کہ

امامِ ظاہر و باطن، امیرِ صورت و معنی

علی، ولی، اسد اللہ، جانشینِ نبی ہے

          ان حالات میں ایک ہی سال کے اندر دو مہروں کی تیاری کی اس کے علاوہ اور کوئی معقول توجیہہ نہیں کی جاسکتی کہ مرزا صاحب نے اسی سال اپنا تخلص تبدیل کیا ہوگا اور اس تبدیلی کی علامت کے طورپر بہ صورت سجع یہ دوسری مہر کندہ کرائی ہوگی۔ لیکن مالک رام صاحب کے نزدیک یہ استدلال قابلِ قبول نہیں، چنانچہ ”گلِ رعنا“ کے مقدمے میں انہو ںنے اس مسئلے کو ایک بار پھر اٹھایا ہے۔ عرشی زادہ کا نام لیے بغیر تحریر فرماتے ہیں:

بعض لوگوں نے استدلال کیاکہ ”اسد اللہ الغالب“ مہر سے ثابت ہوتاہے کہ انہوں نے اس سال (1231 میں) غالب تخلص اختیارکیا، حال آنکہ نہ ان کا نام ”اسد اللہ“ تھا نہ تخلص ”الغالب“۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس مہر میں لفظ ”غالب“ بہ طورِ تخلص استعمال ہی نہیں ہوا بلکہ یہ مہر انہوں نے بہ طورِ سجع تیار کرائی تھی۔ دراصل ”اسداللہ الغالب“ لقب ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا۔ چوں کہ میرزا کا نام ”اسد اللہ خاں“ تھا اور وہ عقیدے کے لحاظ سے شیعی تھے، اس لیے انہوں نے یہ سجع والی مہر بنوا کر گویا حضرت علی سے اپنی عقیدت کا اعلان بھی کردیا۔ غرض اس مہر سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ 1231ھ میں انہوں نے غالب تخلص اختیار کر لیا تھا۔ البتہ یہ درست ہے کہ بعد کو انہوں نے اسد تخلص سے بیزار ہوکر نیا تخلص رکھنے کا فیصلہ کیا تو اسی سجع نے ان کی مشکل حل کردی اور انہوں نے یہ سامنے کا لفظ بہ طورِ تخلص اختیار کرلیا۔“21

          اپنی بات پر بے جا اصرار کا رویّہ بعض اوقات بدیہّیات سے بھی چشم پوشی پر مجبور کردیتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت اس بیان کی بھی ہے۔ سجع کی خوبی یہ خیال کی جاتی ہے کہ اس میں صاحب سجع کا نام بھی آجائے اور کلمہ سجع کی معنوی بھی اپنی جگہ برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ حشو و زوائد سے یکسر پاک ہو۔ غالب نے اپنے شاگرد حکیم سید احمد حسن فنا مودودی کی فرمائش پر ان کے نام کے دو سجعے کہے تھے۔ یہ سجعے بھیجتے ہوئے انہوں نے خط میں لکھاتھا:

“بہارِ گلستانِ احمد حسن، یہ سجع کیا برا ہے؟ دلِ حیدر و جانِ احمد حسن، یہ اس سے بھی بہتر ہے۔ انھی دونوں میں سے ایک سجع مہر پر کھدوا لیجیے۔“22

          ان دونوں سجعوں میں ایک لفظ بھی زائد از ضرورت نہیں۔”اسد اللہ الغالب“ کی بھی یہی کیفیت ہے۔ اگر اس وقت مرزا صاحب کا تخلص غالب نہ ہوتاتو یہ سجع کوئی معنی ہی نہ رکھتا، اور اگر اس مہر میں ”اسد اللہ“ کے ساتھ ”الغالب“ کی بجاے صرف ”غالب“ کندہ کیا گیا ہوتا تو یہ سجع نہ ہوتا، صرف نام ہوتا۔ رہ گیا یہ سوال کہ غالب کا اصل نام ”اسد اللہ“ نہیں ”اسد اللہ خاں“ تھا تو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ میر، میرزا، سید، شیخ، خاں، بیگ، مودودی اور چشتی جیسے سابقے اور لاحقے کسی نام کے اجزاے اصلی نہیں، اجزاے اضافی ہوتے ہیں، علاوہ بریں الفاظ کے اس مخصوص تانے بانے سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے جس سے سجع کی تشکیل ہوتی ہے، اس لیے سجع کہتے وقت انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ غالب نے بھی سید احمد حسن کے نام کے مذکورہ بالا دونوں سجعوں میں ”سید“ کے سابقے سے صرفِ نظر کرکے صرف ”احمد حسن“ نظم کیاہے۔ قطعِ نظر اس سے اگر مالک رام صاحب کے نزدیک غالب کا اصل نام ”اسد اللہ خاں“ اور صرف ”اسد اللہ خاں“ تھاتو چند سال کے بعد ”محمد اسد اللہ خاں“ کے نام سے ایک تازہ مہر کندہ کرانے کا کیا جواز باقی رہتاہے؟

          صحیح بات یہ ہے کہ غالب کا اصل نام صرف ”اسد اللہ“ تھا، باقی تمام سابقے اور لاحقے فروعی یا اضافی حیثیت رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے اپنی بے شمار تحریروں میں، نظم میں بھی اور نثر میں بھی، اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ لکھاہے۔ نظم کے چند نمو نے حسبِ ذیل ہیں:

حبسِ بازارِ معاصی، اسد اللہ اسد

کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں

غالب نام آورم، نام و نشانم مپرس

ہم اسد اللّٰہم و ہم اسد اللّٰہیم

منصورِ فرقہ علی اللّٰہیاں منم

آوازہ انا اسداللہ درافگنم

فیضِ دمِ انا اسد اللہ بر آورم

منصورِ لا ابالیِ بے دار و بے رسن

‘پنج آہنگ’ کے خطوط میں بھی انہوں نے متعدد جگہ اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ ہی لکھا ہے، حتّٰی کہ بعض خطوط کا آغاز ”از اسداللہ نامہ سیاہ“ یا ”نامہ نگار اسد اللہ“ سے ہوتاہے۔ میاں نوروز علی خاں کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

“اگرنامہ فریسند و بہ عنوان نویسند کہ ایں مکتوب بہ دہلی بہ اسد اللہ رسد، دشوار نیست کہ آں نامہ بدیں روسیاہ برسد۔“23

22 مارچ 1852ء کے ایک خط میں تفتہ کو ہدایت کرتے ہیں:

“خط پر حاجت مکان کے نشان کی نہیں ہے۔ ”در دہلی بہ اسد اللہ برسد“ کافی ہے”

          اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ پنشن سے متعلق عرض داشتوں اور درخواستوں کے آخر میں بھی وہ کبھی کبھی اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ ہی لکھا کرتے تھے۔ اس سلسلے کے دستاویزات میں ایسی اٹھائیس تحریریں ہماری نطر سے گزر چکی ہیں جن پر ان کے دستخط ثبت ہیں۔ ان میں سے بارہ تحریروں میں انہو ںنے اپنا نام ”اسد اللہ“ لکھاہے۔ ان میں قدیم ترین تحریر 25 نومبر 1831ء کی اور آخری تحریر 25 اکتوبر 1844ء کی ہے۔ نواب کلب علی خاں کے نام کے خطوط میں بھی جہاں انہوں نے بہ طورِ دستخط تخلص کی بجاے نام لکھا ہے، یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے کا آخری خط 16 نومبر 1898ء کا تحریر کردہ ہے۔

          اس سلسلہ گفتگو کا آخری اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ”اسد اللہ“ کی حیثیت اسمی سے متعلق مالک رام صاحب کا زیر بحث بیان خود ان کے سابقہ موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ گزشتہ سطور میں ان کا یہ قول نقل کیا جاچکاہے کہ”اس (دوسری) مہر کی بناحضرت علیؓ کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کانام اسد اللہ تھا، اس لےے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا۔“ اس طر ح ایک بار یہ کہنا کہ ”میرزا کا نام اسد اللہ تھا“ اور دوسری بار اس سے انکار کردینا ایک ایسی کیفیتِ ذہنی کی غمّازی کرتا ہے جو اعترافِ حق اور اعلانِ حق کی بجاے بہر صورت حریف کے دعووں کو باطل ٹھہرانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

          غالب نے تیسری مہر 1238ھ میں تیار کرائی تھی۔ اس پر ”محمد اسد اللہ خاں“ کندہ تھا۔ مالک رام صاحب کے مطابق یہ ”معرکہ آرا مہر ایک عظیم الشان داخلی اور ذہنی انقلاب کی آئینہ دار ہے۔“ اس انقلاب کے محرکات میں انہوں نے اس مذہبی مباحثے کا بہ طورِ خاص حوالہ دیاہے جو ان کے بقول انیسویں صدی کے ربعِ اول میں شروع ہواتھااور جس کا موضوع مسئلہ امکان و امتناعِ نظیر تھا۔ اس مباحثے کے ایک فریق مولانا فضلِ حق خیرآبادی تھے۔ ان کی تحریک پر غالب نے بھی اس بحث میں حصّہ لیا تھا اور فارسی میں ایک مثنوی کہہ کر ان کی او ران کے ہم خیال علما کی تائید کی تھی۔ مذہبی معاملات سے غالب کی اس دلچسپی کا اوّلین محرک مالک رام صاحب نے نواب الٰہی بخش خاں معروف سے ان کی عزیز داری کو ٹھہرایاہے۔ نواب صاحب خود صوفی تھے اور اس حیثیت سے متصوفین کے درمیان ”خاصے معروف بھی تھے“۔ غالب کی طبیعت کے ”لاابالیانہ پن“ پر ”علم و عمل کے اس نمونے“ کے اثرات مرتب نہ ہوں، یہ اصولِ فطرت کے خلاف تھا۔اس تمہید کے بعد مالک رام صاحب نے اس سلسلے میں اپنے مجموعی تاثرات ان الفاظ میں قلمبند فرمائے ہیں:

“میرزا کی تحریروں سے ثابت ہے کہ وہ اس سے قبل فسق و فجور اور عیش و عشرت کی دلدل میں پھنس چکے تھے، لیکن اس نئے مذہبی ماحول نے اگر ان کی کایا بالکل پلٹ نہیں دی تو کم از کم اس کی شدت میں ضرور کمی آگئی اور وہ اخلاقی قدروں کے بھی شناسا ہوگئے۔اس سے پہلے انکی مہر پر کندہ تھا: اسد اللہ خاں عرف میرزانوشہ، انہوں نے جو نئی مہر تیار کرائی، اس پر لکھا ہے: محمد اسد اللہ خاں۔ کیا ان کی قلبِ ماہیت کا اس سے زیادہ کوئی اور ثبوت درکارہے۔“ (ص84)

          مسئلہ امکان و امتناعِ نظیر پر بحث کب شروع ہوئی اور اس کا آغاز کس نے کیا، فی الوقت اس موضوع پر گفتگو کا موقع نہیں۔ قابلِ غور مسئلہ یہ ہے کہ غالب اس بحث میں کب شریک ہوئے اور ان کی وہ نظم جو اس مسئلے سے متعلق ہے، کس زمانے میں معرضِ وجود میں آئی؟ مالک رام صاحب نے اس مباحثے کو انیسویں صدی کے ربعِ اوّل کا واقعہ قرار دیاہے۔ نہیں کہا جاسکتاکہ غالب کو اس ابتدائی مرحلے میں اس مسئلے سے کوئی دلچسپی تھی یانہیں۔ شواہد سے معلوم ہوتاہے کہ 1856ءکے اواخر تک اس بحث کا سلسلہ ختم نہیں ہواتھا۔ بعض قرائن کے بموجب یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مولانا فضلِ حق نے الور سے رام پور جاتے ہوئے کچھ دنو ںکے لےے دہلی میں قیام کیا تھا اور اس دوران ان کی سرگرم شرکت کی بدولت یہ بحث ایک بار پھر تازہ ہوگئی تھی۔ چنانچہ غالب نے انھی ایام میں مولانا کی فرمائش پر وہ اشعار کہے تھے جو ان کی چھٹی فارسی مثنوی موسوم بہ ”بیانِ نموداریِ شانِ نوبت و ولایت“ میں شامل ہیں۔ سلطان العلما مولانا سید محمد مجتہد کے نام 21 جمادی الاول 1273ھ (17 جنوری 1857ع) کے خط میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“دریں ہنگام در شہر دو دانشمند باہم در آویختہ اند۔ یکے می سراید کہ آفریدگار ہمتاے حضرتِ خاتم الانبیا علیہ و آلہ السّلام می تواند آفرید۔ وایں یکے می فرماید کہ ایں ممتنعِ ذاتی و محالِ ذاتی است۔ بندہ چوں ہمیں عقیدہ دارد، نظمے در گیرندہ بدیں مدّعا سرانجام دادہ است۔ ہر آئینہ چشم دارد کہ سواد بہ نورِ نظرِ اصلاح روشن شود۔“ 24

          اس واضح بیان کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ 1273ھ 1856ء میں اس مذہبی مباحثے میں غالب کی شرکت اور اس سے پورے پینتیس (35) برس قبل 1238ھ 1823ء میں تیار شدہ ان کی زیرِ بحث مہرکے درمیان کسی ذہنی و جذباتی رشتے کی موجود گی قطعاً خارج از امکان ہے۔ یہی کیفیت تصوف کے اثرات کی بھی ہے کہ اس سے غالب کا واسطہ ”براے شعر گفتن“ سے زیادہ نہ تھا۔ علاوہ بریں مذہبی طورپر وہ شیعی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے جس میں تصوف کے لیے یوں بھی کوئی گنجائش نہیں۔ البتہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دوسری مہر کی طرح یہ تیسری مہربھی شیعت میں ان کے گہرے اعتقاد کی توثیق کرتی ہے۔ اس میں ان کے نام کے مختلف اجزا کی نشست میں جو ترتیب قائم کی گئی ہے، اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سب سے اوپر لفظ ”اللہ“ کندہ ہے، درمیان میں لفظ ”محمد“ نقش ہے اور تیسری اور آخری سطر میں لفظ ”اسد“ اور ”خان“ یعنی:

خدا کے بعد نبی اور نبی کے بعد امام

یہی ہے مذہبِ حق، والسّلام و الاکرام

          غالب کی خودنوشت تحریروں، سرکاری مراسلوں اور عرضداشتوں میںکہیں ان کا نام ”اسد اللہ خاں“، کہیں ”محمد اسد اللہ خاں“، کہیں ”محمد اسد اللہ“ اور کہیں صرف ”اسد اللہ“ لکھا ہوا ملتاہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ اس معاملے میں کسی طے شدہ ضابطے کے پابند نہیں تھے۔ دوسری اور تیسری صورتوں میں اصل نام ”اسد اللہ“ کے ساتھ لفظِ ”محمد کے اضافے کاایک سبب یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان کے رشتے کے ایک سالے یعنی امراو بیگم کے عمِ حقیقی نبی بخش خاں کے ایک بیٹے کا نام بھی ”اسد اللہ خاں“ تھااور ان کی مہر پر یہی نام کندہ تھا۔چوں کہ غالب اپنے تشخّص کی نگہداری کے معاملے میں خاصے حسّاس تھے، اس لےے عین ممکن ہے کہ انہو ںنے اپنے اور اپنے ان برادرِ نسبتی کے درمیان امتیاز کی غرض سے اپنی مہر پر ”محمد اسد اللہ خاں“ کندہ کرالیاہو۔

          جیسا کہ گزشتہ سطور میں عرض کیاگیا، غالب اپنے نام کے معاملے میں کسی طے شدہ ضابطے کے پابندنہیں تھے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا غالب رجحان ”اسد اللہ خاں“ کی طرف تھا۔ جب اس نام کو سرکاری سطح پر سندِ اعتبار حاصل ہوگئی تو انہوں نے لفظ ”محمد“ کو ترک کرکے صرف ”اسد اللہ خاں“ لکھنا شروع کردیا۔چنانچہ مرزا ہرگوپال تفتہ کو 17 ستمبر1858ء کے خط میں لکھتے ہیں:

“لفظِ مبارک میم، حا، میم، دال“، اس کے ہر حرف پر میری جاں نثا رہے مگر چو نکہ یہاں سے ولایت تک حکّام کے ہاں سے یہ لفظ یعنی ”محمد اسد اللہ خاں“ نہیں لکھا جاتا، میں نے بھی موقوف کردیاہے۔”

          حکّام کاپاسِ خاطر غالب کو کس قدر عزیز تھا، اس کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتاہے، اس لیے ان کے کسی بھی فیصلے یا طرزِ عمل کو وقت اور حالات کے تقاضوں سے بلند ترہوکر دیکھنے کی کوشش کبھی صحیح سمت میں رہنمائی نہیں کرسکتی۔اسی مصلحت کوشی اور احتیاط پسندی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنی خاندانی پنشن اور دیگر امور سے متعلق درخواستوں اور مراسلوں پر کبھی اس مہر کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں لگائی۔ چنانچہ اس سلسلے کے جو دستاویزات برصغیر اور یورپ کے مختلف محافظ خانوں میں محفوظ ہیں،ان میں سے سترہ (17) کاغذات پر دستخط کے ساتھ یہ مہر بھی ثبت ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نام کے ساتھ ”محمد“ کا سابقہ موقوف کردینے کے اعلان کے بعد بھی وہ سرکاری نوعیت کی تمام تحریروں پر یہی مہر لگاتے رہے۔ چنانچہ جن سترہ تحریروں پر اس مہر کے نشانات ہماری نظر سے گزرے ہیں، ان میں اولین تحریر 7جولائی 1830ء کی اور آخری تحریر 7 فروری 1867ء کی ہے۔ اس آخری تحریر کی روشنی میں جناب کالی داس گپتا رضا کایہ ارشاد محلِّ نظر قرار پاتا ہے کہ ”غالب کی یہ مہر تقریباً تیس سال تک استعمال میں رہی25۔“ موجودہ شواہد کی بنیاد پر اس کا کم از کم پیتالیس (45) سال تک (1138ھ 1822-23ء تا 2شوال1283 7 فروری 1867ء استعمال میں رہنا ثابت ہے۔

          ہمارے نزدیک یہ مہر نہ تو مذہبی نقطہ نظر سے کسی ”داخلی اور ذہنی انقلاب“ کی آئینہ دا رہے اور نہ اخلاقی سطح پر کسی ”قلبِ ماہیت“ کی نشان دہی کرتی ہے۔ بہ ظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ بہ طورِ خاص سرکاری کاغذات پر ثبت کرنے کے لیے تیار کرائی گئی تھی، کیوں کہ اس سے پہلے کی دونوں مہریں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ پہلی مہر کا استعمال نام کے ساتھ عرف کے شمول کی وجہ سے خلافِ احتیاط تھا جب کہ دوسری مہریں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ پہلی مہر کا استعمال نام کے ساتھ عرف کے شمول کی وجہ سے خلافِ احتیاط تھا جب کہ دوسری مہر خالص مذہبی رنگ کی نمائندگی کرتی تھی۔

          اس سلسلے کی چوتھی مہر وہ ہے جسے مالک رام صاحب نے پانچویں نمبر پر جگہ دی ہے۔ اس پر ”یا اسدَاللہ الغالب“ کندہ ہے اور مالک رام صاحب کے مشاہدے یا تحقیق کے مطابق یہ 1269ھ 1852-53ء میں تیار ہوئی تھی۔ مصیبت یا پریشانی کے وقت حضرت علیؓ کو مدد کے لیے پکارنا شیعہ حضرات کے بنیادی عقائد اور روز مرّہ کے معمولات میں شامل ہے۔ یہ مہر اسی عقیدے کے اظہار کا ایک وسیلہ ہے۔ چنانچہ مالک رام صاحب نے اسے مناسب جواز فراہم کرنے کی غرض سے پہلے تویہ وضاحت فرمائی ہے کہ غالب اس زمانے میں یعنی 1852-53ءکے آس پاس مختلف قسم کی ذہنی و مالی پریشانیوں میں مبتلا تھے، جنہوں نے انہیں ”پراگندہ روزی، پراگندہ دل“ کا مصداق بنادیاتھا۔اس کے بعد 1854ء کے چند واقعات کے حوالے سے ان کی ”خوش اعتقادی اور نیک نیتی“ کے بار آور اور اس استعانت کے مقبول و مستجاب ہونے کے کئی ثبوت پیش کیے ہیں۔ یہ شواہد حسب ذیل ہیں:

(1) ذوق کے انتقال (4 نومبر 1845ع) کے بعد استادِ شاہ کے منصب پر تقرر۔

(2) ولی عہد مرزا غلام فحرالدین رمز کا حلقہ تلامذہ میں شامل ہونا اور چار سو روپے سالانہ وظیفہ مقرر کرنا۔

(3) طفر کے سب سے چھوٹے بیٹے مرزا خضر سلطان کا شاگرد ہونا۔

(4) سلطنتِ اودھ سے رسم و راہ میں استواری اور واجد علی شاہ کی طرف سے پانچ سو روپے سالانہ بہ طورِ وظیفہ مقرر ہونا۔

          یوں تو غالب کی زندگی میں کوئی دور ایسا نہیں گزراجب کہ انہوں نے اپنی خواہشات اور توقعات کے مطابق آسودگی اور مرفّہ الحالی کی زندگی گزاری ہو تاہم 1853ء میں یا اس سے کچھ پہلے آلام و مصائب کی کوئی ایسی غیر معمولی صورتِ حال نظر نہیں آتی جس میں وہ مالک رام صاحب کے بقول ”بہ آوازِ بلند فریاد“ پر مجبور ہوں اور حضرت علیؓ کو ان کی مشکل کشائی کا واسطہ دے کر مدد کے لیے پکاریں۔ اس کے برخلاف یہ وہ زمانہ ہے جب کہ بہادرشاہ ظفر کی سرکار سے ”نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ“ کے خطابات اور پچاس روپے ماہوار کے مشاہرے کے ساتھ سلاطینِ مغلیہ کی تاریخ نویسی کے منصب پر تقررکے بعد ان کی اناکی تسکین اور اسبابِ معیشت کی بہتری کا اچھا خاصا سامان مہیا ہو گیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں مالک رام صاحب کی تمام تاویلات و توجیہات دوراز کار قیاسات پر مبنی ہیں،کیوں کہ یہ مہر 1269ھ میں نہیں، اس سے پورے بیس برس پہلے1269ھ 1833-34ء میں کندہ کرائی گئی تھی۔ اس کے دستیاب نقش میں چار کی دہائی واضح نہیں۔ مالک رام صاحب نے اسے پہلی نظر میں غلطی سے چھ پڑھ لیا، اس کے بعد دوبارہ اس پر غور کرنے اور دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، حال آنکہ یہ زیادہ مشکل کام نہ تھا۔ غالب نے اپنا دیوانِ فارسی ”مے خانہ آرزو سرانجام“ کے نام سے 1250ھ 1834-35ء میں مرتب کیا تھا۔ اس کا دیباچہ ان کے کلیاتِ فارسی کے علاوہ ”کلیاتِ نثرِ غالب“ میں بھی شامل ہے۔ اس دیباچے میں ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے

دل بہ شراکِ نعلینِ محمدی آویختن کیش و آئینِ من و طغراے والاے ”یا اسدَاللہ الغالب“ نقشِ نگینِ من۔“26

          اس سے ظاہرہے کہ یہ مہر اس دیوان کی ترتیب سے پہلے تیار ہوچکی تھی۔ 1250ھ سے پہلے اور اس کے بعد لیکن 1260ھ سے بہت پہلے کی غالب کی ایسی کئی تحریریں راقم الحروف کی نطر سے گزر چکی ہیں جن کا آغاز انہو ںنے ”یا اسداللہ الغالب“ سے کیا ہے۔ مثلاً:

(1) مکاتیبِ غالب کے اس مجموعے میں جو پہلے پروفیسر مسعود حسن رضوی کی ملکیت تھااو راب مولانا آزاد لائبریری،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ مخطوطات میں محفوظ ہے، مثنوی ”بادِ مخالف“ کے سرِ عنوان ”یا اسداللہ الغالب“ لکھا ہوا ہے۔ اس مجموعے کی تمام تحریریں غالب کے قیامِ کلکتہ کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔

(2) “مآثرِ غالب” میں شامل فارسی خطوں میں سے ایک خط کا آغاز”یا اسداللہ الغالب“ سے ہواہے۔ یہ خط خواجہ فخراللہ کے نام ہے اور 10 رمضان 1148ھ مطابق 31 جنوری 1833ء کو لکھا گیا ہے۔

(3) خدابخش لائبریری، پٹنہ میں غالب کے کلیاتِ نظم فارسی کاایک قلمی نسخہ محفوظ ہے جسے ان کے دوست راے چھج مل نے لکھ کر 11 ربیع الآخر 1254ھ 4 جولائی 1838ء کو مکمل کیاہے۔ اس کے ایک صفحے کے حاشےے پر ”نامہ منظوم بہ نامِ جوہر“ کی ابتدابھی ”یا اسداللہ الغالب“ ہی سے ہوئی ہے۔

(4) دیوان غالب کے 1257ھ 1841ء میں شائع شدہ پہلے ایڈیشن کا آغاز بھی یا اسداللہ الغالب ہی سے ہوا ہے۔

          حضرت علیؓ سے استعانت کایہ متواتر عمل غالب کی اس زمانے کی ذہنی و مالی پریشانیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

          ان ایام میں وہ جن مسائل و مصائب سے دوچار تھے، ان کا انداز مندرجہ ذیل واقعات سے کیا جا سکتا ہے:

(1) 1826ع کے آس پاس میرزایوسف مرضِ جنون میں مبتلا ہوے اور انہوں نے تقریباً تیس برس اسی حالت میں گزارے۔ چھوٹے بھائی کی یہ علالت غالب کے لیے ہمیشہ سوہانِ روح بنی رہی لیکن شروع میں کئی برس وہ اس کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی پریشان رہے۔

(2) امراو بیگم کو اپنے چچا نواب احمد بخش خاں کی سرکار سے تیس روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ اکتوبر 1827ء میں نواب صاحب کی وفات کے بعد جو حالات رونما ہوئے، ان کے زیرِ اثر ان کے جانشین نواب شمس الدین احمد خاں نے غالباً 1830ء یا 1831ء میں یہ وظیفہ منسوخ کردیا۔ بیوی کی اس مستقل آمدنی کے بند ہوجانے سے گھر کی اقتصادی حالت کا متاثر ہونا ناگزیر تھا۔

(3) معتمد براے گورنر جنرل کے خط مورخہ 27 جنوری 1831ء کے ذریعے اس فیصلے سے آگاہ ہونے کے بعد کہ حضورِ والا(گورنرجنرل)نصراللہ خاں کے متوسلین کی مالی امداد کے ضمن میں فیروزپور کے جاگیردار کے کےے ہوئے انتظام میں مداخلت پسند نہیں فرمائیں گے“غالب اپنے مقدمہ پنشن کی ناکامی پر عرصے تک بے حد افسردہ اور پریشان رہے۔ اس کے بعد اپریل 1844ء تک ان کا بیشتر وقت اس مقدمے کی اپیل کی کامیابی کے لیے تگ ودو میں صرف ہوا۔

(4) سقیم مالی حالت اور رئیسانہ طرزِ زندگی کی وجہ سے قرص کا بوجھ برابر بڑھتا جارہاتھا۔ پنشن کے مقدمے میں گورنر جنرل کے فیصلے کے بعد قرض خواہوں کے تقاضوں نے غالب کی زندگی اجیرن کررکھی تھی۔ انجامِ کار فروری 1835ء میں عدالتِ دیوانی سے ان کے خلاف پانچ ہزار کی ڈگری ہوگئی۔

          یہ تھاوہ پس منظر جس میں یہ مہر تیار ہوئی۔ یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ یہ1249ھ میں کندہ کرائی گئی تھی، یہ بات از خود طے ہوجاتی ہے کہ غالب کی اب تک دریافت شدہ مہروں میں اس کا چوتھا نمبر تھا۔

          محمد مشتاق تجاروی کابیان ہے کہ پروفیسرمختارالدین احمد کے خیال میں یہ مہر بدرالدین کے علاوہ کسی اور مہر کن کی کندہ کی ہوئی معلوم ہوتی ہے27۔ ہمیں اس خیال سے اتفاق کی بہ ظاہر کوئی معقول وجہ نظر نہیں و تی کیوں کہ اس کے حروف کی کشش اور نشست میں کوئی ایسا نقص موجود نہیں جو بدرالدین کی شانِ خط کے منافی ہو۔ البتہ اس کا جو نقش دستیاب ہواہے، وہ بہت صاف نہیں۔ یہی سبب ہے کہ مالک رام صاحب کو اس پر درج سنہ کے پڑھنے میں تسامح ہوا۔اس کیفیت کی وجہ سے بعض حروف کی ہیئتِ ظاہری بھی متاثر ہوئی ہے۔ غالباً اسی بناپر مختارالدین احمد صاحب کو یہ شبہ ہواکہ یہ بدرالدین کے علاوہ کسی اور کی بنائی ہوئی ہے۔

          پانچویں، چھٹی اور ساتویں، تینوں مہریں غالب کے شاہی خطاب ”نجم الدولہ، دبیرالملک، نظام جنگ“ سے تعلق رکھتی ہیں۔ مالک رام صاحب نے ان میں سے صرف آخری یعنی ساتویں مہرکا ذکر فرمایاہے اور اپنے حساب کے مطابق اسے چوتھے نمبر پر رکھاہے۔ چو ںکہ یہی مہر اس سلسلے کی باقی دو مہروں تک ہماری رسائی کا وسیلہ بنی ہے، اس لےے مناسب معلوم ہوتاہے کہ گفتگو کا آغاز اسی کے ذکر سے کیا جائے۔ اس ساتویں مہر پر غالب کا نام مع ان کے خطابات کے اس طرح کندہ تھا:

“نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ”

          دائیں طرف کے زیریں گوشے میں لکھے وئے سنہ کے مطابق یہ مہر 1267ھ میں تیار ہوئی تھی۔ غالب کو متذکرہ بالا خطابات بہادرشاہ ظفر نے 23 شعبان 1266ھ مطابق 4 جولائی 1850ء کو عطا کےے تھے اور ”تاریخ نویسی تاجدارانِ تیموریہ“ کی خدمت ان کے سپرد فرمائی تھی۔ مالک رام صاحب نے خود غالب کی ایک فارسی تحریر کے طویل اقتباس، ”اسعد الاخبار“ آگرہ کے 15 جولائی 1850ء کے شمارے میں شائع شدہ مفصل خبر اور مرزاہرگوپال تفتہ کے کہے ہوے قطعہ تاریخ کے حوالے سے اس سلسلے کی تمام تفصیلات اپنے مضمون میںیکجا فرمادی ہیں لیکن ایک پہلو کو بالکل نظرانداز کردیاہے کہ یہ خطابات تو 1266ھ میں ملے تھے پھر یہ مہر 1267ھ میں کیوں تیار ہوئی؟ خود اشتہاری غالب کے مزاج کاایک نمایاں عنصر تھی چنانچہ یہ بات ان کی نفسیات کے بالکل خلاف معلوم ہوتی ہے کہ وہ مہینوں نئی مہر کی تیاری کا انتظار کرتے اور اس اعزاز کے اعلان و اشتہار کے اس سہل الحصول اور موثر وسیلے سے اتنے دنوں تک محروم رہتے۔ اگر فاضل محقق کے ذہن میں یہ خلش پیداہوئی ہوتی اور انہوں نے اسے دور کرنے کے لےے غالب کی اس زمانے کی تحریروں پر بہ نظر غائر توجہ فرمائی ہوتی تو اس انکشاف میں زیادہ دیر نہ لگتی کہ وہ اس مہر سے پہلے ان خطابات پر مشتمل ایک نہیں، دو مہریں 1266ھ ہی میں تیار کراچکے تھے۔ لیکن چوں کہ یہ مہریں ان کے معیا رپر پوری نہیں اتریں اس لےے انہوں نے انہیں رد کرکے جلد ہی ایک اور مہر تیار کرالی جو عرصہ دراز تک ان کے استعمال میں رہی۔ اپنے شاگردِ عزیز منشی جواہر سنگھ جوہر کے نام 23 اکتوبر 1850ء(16 ذی قعدہ 1266ھ) کے خط میں لکھتے ہیں:

“روزے بودکہ نامہ بہ من رسیدکہ نگارش از شمابود و مہر از من۔ گفتم: سبحان اللہ شگرفیِ آثارِ یگانگی و اتحاد کہ ہم نامہ بہ نامِ من است وہم بہ مہرِ من چوں آں ورق بہ من رسید و من دراں وقت تنہا بودم، مشاہدہ نقشِ خاتمِ خویش برمکتوبِ موسومہ خویش مرابہ وجد آورد۔ بالجملہ چشم بہ راہِ نگینِ مہر داشتم، دی روز کہ سہ شنبہ و بست ودومِ اکتوبر بود، رسید۔ ہمانا مہر کن در کشمیر نہ ماند، ع مجلس چو برشکست، تماشا بہ مارسید۔ پس از پزوہش پدید آمد کہ قریبِ صد کس از ہوسناکانِ دہلی نگیں ہافرستادہ در کشمیر کند اندہ اندوہمہ شرمسار و پشیماں شدہ اند۔ حالیا آں سعادت نشاں راباید کہ دردِ سر نہ کشند و مہرِ دیگر بہ کندن نہ دہند۔ امروز دریں فن نظیر بدرالدین بہ گیتی نیست۔ چوں اوبدنوشت، پندارم کہ خوبیِ سرنوشتِ من است۔“28

          اس تحریر سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ 4 جولائی اور 22 اکتوبر 1850ء کے درمیان غالب نے دلّی کے مشہور مہر کن بدرالدین سے اس خطاب کی یادگار کے طورپر ایک تازہ مہر تیار کرائی تھی جو انہیں کسی وجہ سے پسند نہیں آئی۔ دوسری یہ کہ اس مہر کو رد کردینے کے بعد انہوں نے اپنے شاگرد منشی جواہر سنگھ جوہر سے جو اس زمانے میں پنجاب میں کسی جگہ برسرِ روزگار تھے، یہ فرمائش کی کہ وہ کشمیر کے کسی مہرساز سے ان کی مہر تیار کرادیں۔ یہ دوسرانگینہ انہیں 22 اکتوبر 1850ء کو موصول ہوا، لیکن اس کی نقاشی سے بھی وہ مطمئن نہیں ہوئے۔ غالباً اس کے بعد ہی 1267ھ میں اس سلسلے کی وہ تیسری مہر تیا رہوئی جسے مالک رام صاحب نے چوتھے اور ہم نے ساتویں نمبر پررکھا ہے۔ احوالِ ظاہری کے اعتبارسے یہ مہر بھی بدرالدین ہی کی تیارکردہ معلوم ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ انہو ںنے پچھلی مہر کے بارے میں غالب کی ناپسندیدگی کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس کی تیاری پر خصوصی توجہ صرف کی ہو۔

          پروفیسر مختارالدین احمد صاحب کابیان ہے کہ قیامِ آکسفورڈ کے دوران 1956ء میں انہوں نے ایک بار اس مہر کی زیارت کی تھی۔ تقریب یہ ہوئی کہ حیدرآباد سے ڈاکٹر نظام الدین صاحب اور آغا حیدر حسن صاحب کے داماد وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔ ایک روز جب وہ ان دونوں حضرات کو ایشمولین میوزیم کا وہ شوکیس دکھا رہے تھے جس میں مختلف قسم کی انگوٹھیاں اور مہریں رکھی ہوئی تھیں تو ڈاکٹر نظام الدین صاحب نے اپنے ہم سفر کی انگلی کی طرف اشارہ کیااو ران سے پوچھا: اس مہر کو آپ پہچانتے ہیں؟ یہ مرزا غالب کی مشہور مہر تھی۔ عقیق پر نہایت خوبصورت حروف میں ”نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ“کے الفاظ منقوش تھے۔ مختلف کاغدوں پر متعدد بار اس کے نقوش دیکھنے میں آئے تھے۔29

          مختارالدین احمد صاحب کے علاوہ ڈاکٹر ضیاءالدین احمد شکیب نے بھی اپنی کتاب ”غالب اور حیدرآباد“ میں اس مہر کا ذکر کیاہے، جس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ 1969ء تک آغا حیدرحسن کے ہاں موجود تھی۔ شکیب صاحب لکھتے ہیں:

“پروفیسرآغاحیدرحسن کے یہاں میرزا غالب کاایک چغہ اور ان کی ایک مہر ہے۔ یہ مہر جگری عقیق پر کندہ ہے۔ اس مہر کی عبارت حسبِ ذیل ہے:

“نجم الدولہ، دبیرالملک، اسد اللہ خاں غالب، نظام جنگ”

1262ھ

آغا حیدرحسن صاحب کے بیان کے مطابق غالب کی یہ مہر شاہی مہر کن بدرالدین نے تیار کی تھی۔“30

          اس مہر سے متعلق یہ دونو ںبیانات تحقیقی اعتبار سے ناقص اور وضاحت طلب ہیں۔ مختارالدین احمد صاحب کے بیان کا نقص یہ ہے کہ انہو ںنے صرف اجزاے خطابی نقل فرمائے ہیں، مہر کے باقی اندراجات کو نظر انداز کردیاہے، جب کہ شکیب صاحب کی نقل کردہ عبارت میں ”اسد اللہ خاں“ اور ”نظام جنگ“ کے درمیان ”غالب“ کا اندراج او رنیچے دیاہوا سنہ مشکوک ہے۔ سنہ کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ اس کے نقل کرنے میں سہوہواہے، خواہ اس کے ذمّہ دار خود صاحبِ کتاب ہو ںیا ان کا کاتب۔ اسے ہرحال 1266ھ یا 1267ھ ہونا چاہیے۔ اگریہ 1266ھ ہے تویہ مہر یقینا اس مہر سے مختلف ہے جسے مالک رام صاحب نے اپنے مضمون میں متعارف کرایاہے اور اگر 1267ھ ہے تو اس میں نام کے بعد لفظِ ”بہادر“ کی بجاے تخلص یعنی ”غالب“ کا اندراج خلافِ واقعہ ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ دراصل یہ وہی مہر ہے جو منشی جواہر سنگھ جوہر نے کشمیر کے کسی مہرساز سے کندہ کراکے اکتوبر 1850ء میں غالب کو بھیجی تھی۔ اس کے رد کیے جانے کی وجہ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں نام کے ساتھ ”بہادر“ کالاحقہ موجود نہیں تھا، جس کا شمول از روے قاعدہ بے حد ضروری تھا۔اس سلسلے میں منشی شیونرائن آرام کے نام ستمبر 1858ء کے ایک خط کا یہ اقتباس ملاحظہ طلب ہے:

“سنو، میری جان!نوابی کا مجھ کو خطاب ہے ”نجم الدولہ“ اور اطراف و جوانب کے امرا سب مجھ کو ”نواب“ لکھتے ہیں، بلکہ بعض انگریز بھی یاد رہے”نواب“ کے لفظ کے ساتھ ”میرزا“ یا ”میر“ نہیں لکھتے۔ یہ خلافِ دستور ہے۔ یا ”نواب اسد اللہ خاں“ لکھو یا ”میرزا اسد اللہ خاں“ اور ”بہادر“ کا لفظ تو دونوں حال میں واجب اور لازم ہے۔”

          یہ مہر چوں کہ شکیب صاحب کی نطر سے گزر چکی تھی، اس لیے نومبر 2004ء میں جب وہ لندن سے حیدرآباد تشریف لائے تو میں نے اپنے شبہات کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے رجوع کیاکہ وہ صحیح صورتِ حال سے مطلع فرمائیں۔ موصوف نے اس کے جواب میں اپنے مکتوب مورخہ 29 نومبر 2004ء میں جو وضاحت فرمائی ہے وہ حسب ذیل ہے:

غالب کی یا غالب سے منسوخ جس مہر کاذکر ”غالب اور حیدرآباد“ میں ہے،وہ اب ہماری دسترس سے باہر ہے۔ یہ مہر پروفیسر آغا حیدرحسن کی ملکیت تھی۔ انہوں نے جناب محمد اشرف صاحب کو تحفةً دے دی تھی۔ محمد اشرف صاحب وہی ہیں جنہوں نے سالار جنگ میوزیم کے مخطوطات کا کیٹلاگ کئی جلدوں میں شائع کیامیں نے غالب کی یہ مہر محمد اشرف صاحب کے یہاں دیکھی تھی۔ جہاں تک یاد ہے وہ خود اس مہر سے مطمئن نہیں تھے۔ اس کاذکر میں نے پروفیسر آغا حیدر حسن صاحب سے کیا ۔آغا صاحب نے اپنی روایات کے مطابق وثوق سے کہا کہ یہ مرزا غالب کی ہے بلکہ یہ تک وضاحت کی، یہ بدرالدین مہر کن کی کندہ کی ہوئی ہے۔ آغا صاحب قلعہ معلّٰی کی یادگار تھے۔ ان کے گھرانے اور مرزا غالب کے گھرانے کے تعلقات قدیم تھے۔ میں کیاجواب دیتا۔ لہٰذا میں نے تمام اختلافات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ”غالب اور حیدرآباد“ میں اس کا ذکر کردیا۔اب یہ آپ جیسے محققین کا کام ہے کہ اس کے بارے میں کوئی قطعی راے قائم فرمائیں۔

          جہاں تک مجھے یقین ہے”غالب اور حیدرآباد“ میں مہر کا متن جو دیاگیاہے،و ہ درست ہے۔ اس میں سہوِ کتابت کو دخل نہیں۔ ممکن ہے کہ مہر میں تاریخ غلط کندہ ہوگئی ہو، اس لےے اس کو استعمال نہ کیاگیاہو۔ پڑی رہی ہو اور خاندانی تعلقات کی وجہ سے آغا حیدرحسن صاحب تک پہنچی ہو۔

جس وسیلے سے یہ مہر ہم تک پہنچی، اس کی وجہ سے ہم اس کو ‘فیک’ تو نہیں کہ سکتے، لیکن اگر غلط کندہ ہوگئی ہو تو

Discarded

کہہ سکتے ہیں۔

شکیب صاحب کی اس تحریر سے معلوم ہوجانے کے بعد کہ آغا حیدر حسن صاحب نے یہ مہر محمد اشرف صاحب کو تحفةً عنایت فرمادی تھی، یہ مناسب معلوم ہوا کہ آغا صاب کے داماد میرمعظم حسین صاحب سے درخواست کی جائے کہ وہ اس کے بارے میں حصول معلومات میں مدد فرمائیں۔ موصوف نے میرے 4 فروری 2005ء کے خط کے جواب میں 25 فروری 2005ء کو تحریر فرمایا:

“آپ نے خط میں جس مہر کا ذکر کیا ہے،اس کا مجھے علم نہیں ہے، لیکن میری شادی کے موقعہ پر میرے خسر پروفیسر آغا حیدرحسن مرزا نے مجھے ایک انگوٹھی عنایت کی تھی جس کو میں نے پچاس سال سے زائد اپنے ہاتھ پرپہنا۔ اُس انگوٹھی پر اسداللہ خاں غالب کے خطابات کندہ تھے۔ میں اس انگوٹھی کو اب محفوظ کروادیاہوں جس کی وجہ سے اس کا عکس بھیجنے سے قاصر ہوں۔”

          اس مایوس کن جواب کے بعد بہ ظاہر اب اس مہر تک رسائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی، اس لےے باقی مہروں کی طرح اسے بھی متاعِ گم گشتہ تصور کرکے طاقِ نسیاں کے کسی گوشے میں ڈال دینا چاہےے۔ راقمِ سطور اپنے اس خیال پر بہر حال قائم ہے کہ غالب نے اسے نام کے بعد لفظِ ”بہادر“ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسترد کردیاہوگا۔شکیبصاحب کی راے کے مطابق سنہ کا غلط کندہ ہوجانا بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس کے برخلاف بے خیالی یا رواروی کے باعث اکائی کے عدد چھ (6) کا دو(2) پڑھ لیا جانا عملی تجربات کی روشنی میں زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔

          جس طرح ساتویں مہر کے متعلق غوروخوض کے نتیجے میں اس چھٹی مہر کے وجود کا علم ہوا،اسی طرح اس چھٹی مہر کے حوالے سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ انہی خطابات پر مشتمل ایک مہر اس سے قبل بھی تیار ہوچکی تھی۔ ”امروز دریں فن نظیر بدرالدین بہ گیتی نیست۔ چوں اوبدنوشت، پندارم کہ خوبیِ سرنوشتِ من است۔“ سے اشارہ ملتاہے کہ یہ مہر بدرالدین نے کندہ کی تھی لیکن غالب اس سے مطمئن نہیں تھے۔ انہو ںنے اپنی اس بے اطمینانی یا ناپسندیدگی کا سبب مہر ساز کی بدنویسی کو ٹھہرایاہے، لیکن یہ بات اس لےے قابلِ قبول نہیں معلوم ہوتی کہ ”بدرالدین“ اور ”بدنویسی“ میں بہ ظاہر لفظِ ”بد“ کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں تھی۔ غالب کی اس زمانے کی تحریریں تقریباً نایاب ہیں۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد ہمیں صرف ایک خط دستیا ب ہواہے جس پر یہ مہر ثبت تھی، لیکن یہ اصل خط نہیں، اس کی نقل ہے، اس لےے اس کی روشنی میں اس مہر کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ خط مفتی سید احمد خاں بریلوی کے نام ہے اور پنجشنبہ 3 اکتوبر 1850 کو یعنی منشی جواہر سنگھ جوہر کے بھیجے ہوئے نگینے کے دہلی پہنچنے سے صرف انیس (19) دن پہلے لکھا گیاہے۔اسے محمد ابرار علی صدیقی نے اپنی کتاب ”آئینہ دلدار“ میں جو میاں دلدار علی مذاق بدایونی کی سوانح عمری ہے، دوسرے کئی خطوط کے ساتھ نقل کیاہے۔ خط کے آخر میں مہر کی عبارت بھی بہ ظاہر اس کی ہیئتِ اصلی کے مطابق ایک مستطیل کی شکل میں نقل کردی گئی ہے31۔ پانچویں مہر کی یہ دستی نقل ساتویں مہر کے دستیاب نقوش سے صرف اس قدر مختلف ہے کہ یہ سنہ کی قید سے عاری ہے جب کہ آخرالذکر میں اس کی تیاری کا سنہ (1267ھ) بھی موجود ہے۔ لیکن یہ محض اتفاق بھی ہوسکتاہے کیوں کہ ساتویں مہر جو 1267ھ کے بعد برابر زیرِ استعمال رہی، اس کی ایسی کئی نقلیں بھی ہمارے علم میں ہیں جن میں سنہ کا اندراج نہیں۔ ان حالات میں زیرِ بحث پانچویں مہر کی کیفیتِ ظاہری کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہنا دشوار ہے۔ البتہ مفتی سیّداحمد کے نام کے خط پر اس کے نقش کی موجودگی میں اس کے وجود پر کسی شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

          غالب نے اپنی آخری مہر 1278ھ (1861-62) میں یعنی اپنی وفات سے تقریباً سات سال قبل تیار کرائی تھی۔ اس مہرکی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ان کی دوسری تمام مہروں کی بہ نسبت کافی مختصر ہے یعنی اس پر صرف ان کا تخلص (غالب) اور تیاری کا سنہ (1278ھ) کندہ ہے۔ اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مالک رام صاحب لکھتے ہیں:

“جو لوگ نفسیات سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ نفسِ انسانی میں ”انا“ کے ارتقا کا انتہائی مقام یہ ہے کہ انسان کسی غیر معمولی کامیابی کے بعد اپنے تعارف کے لیے مختصر ”علَم“ کا استعمال کرنے لگتا ہے۔“(ص88)

          غالب کی اس نفسیاتی کیفیت کو انہوں نے جن دو غیر معمولی کامیابیوں کا نتیجہ قرار دیاہے، ان میں سے پہلی ”قاطعِ برہان“ کی اشاعت ہے جو ان کے بقول ”ہندوستان کے فارسی دانوں کے خلاف ساری عمر کے جہاد“ کا ایک عملی ثبوت بھی تھی اور ”علی الاعلان عام دعوتِ مبارزت بھی“۔ یہ کتاب 20 رمضان المبارک 1278ھ مطابق 22مارچ 1862ء کو اس زمانے کے سب سے مشہور و ممتاز طباعتی ادارے مطبعِ منشی نول کشور، لکھنو میں چھپ کر شائع ہوئی تھی۔ دوسری بڑی کامیابی یہ تھی کہ اسی سال مطبعِ نول کشور میں ان کے کلیاتِ فارسی کی طباعت شروع ہوئی جو اگلے سال یعنی 1863ء میں مکمل ہوگئی۔ اس سلسلے کی تمام ضروری تفصیلات قلمبند کرنے کے بعد محترم محقق اس نتیجے پر پہنچے ہیں:

“1862ع۔ 1863ء میرزا کی زندگی میں نہایت اہم سال ہیں۔ ”قاطعِ برہان“ اگر دوسروں کی شکست کا اعلان تھاتو کلیات ان کی فتح مندی کا ثبوت۔ اسی سال ان کا اپنے نگیں پر ”غالب“ کندہ کرانا اسی حقیقت کا ایک اور پیراے میں اظہارہے۔ اب گویا انہوں نے اس دعوے پر مہر لگادی کہ فارسی علم و زبان کے لحاظ سے میں ”علیٰ کلٍّ غالب“ ہوں۔“(ص90-91)

          کسی بھی معروف طباعتی و اشاعتی ادارے سے بہ یک وقت دو کتابوں کی اشاعت کسی بھی مصنف کے لیے فخر و مباہات کا باعث ہوسکتی ہے۔ غالب کو بھی اس سے مستثنٰی نہیںکیا جاسکتا۔لیکن یہ اتنی بڑی کامیابی یقینا نہیںکہ غالب جیسا یگانہ روزگار فن کار اس کی علامت کے طورپر ایک مہر تیار کراکے اسے یادگار بنادے۔ دنیا میں ہزاروں کام ایسے ہیں جن کی انجام پذیری میں وقت کا تعین کوئی اہمیت نہیں رکھتا، مگرجب وہ انجام پاجاتے ہیں تو وقت کے ساتھ ان کے تعلق کی متعدد توجیہات و تاویلات کی جاسکتی ہیں اور حسبِ اتفاق ان میں سے کوئی توجیہہ یا تاویل واقعے کے عین مطابق بھی ہوسکتی ہے۔ اس مہر کے سلسلے میں مالک رام صاحب قبلہ کے ارشادات بھی اسی ضمن میں آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غالب کو بیس پچیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنی انفرادیت کا بہ خوبی ادراک و احساس ہوگیاتھا۔ کلکتے میں قیام کے دوران قتیل کی زبان دانی پر ان کے اعتراضات کو بجاطورپر ہندوستانی فارسی دانوں کے خلاف ان کے مبیّنہ جہاد کا نقطہ آغاز کہا جاسکتاہے۔ اس وقت اپنے بیان کردہ سالِ ولادت (1212ھ) کی رو سے وہ عمر کی بتّیسویں منزل میں اور ہماری تحقیق کے مطابق چھتیسویں سال میں تھے۔ اس کے بعد انانیت کی یہ لے متواتر تیز ہوتی رہی۔ حتّی کہ نصف صدی پوری کرتے کرتے انہیں وہ مقام حاصل ہوگیاجہاں شہرت کے پرِ پرواز لگاکر اڑنے والے کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں رہتے۔ چنانچہ 1260ھ 1844ء میں انہوں نے نواب وزیرالدولہ والیِ ٹونک کی خدمت میں جو قصیدہ مدحیہ ارسال کیاتھا، اس کے ایک شعر میں یہ واضح اعلان موجود تھا:

نامم بہ سخن غالب و رشن ترم از روز

بے ہودہ چرا جلوہ دہم اسم و علم را

          تقریباً اسی زمانے میں (پنج آہنگ کی اشاعت سے قبل) انہوں نے میاں نوروز علی خاں کو پہلی بار خط لکھاتو جواب کے لےے پتے میں صرف ”بہ دہلی بہ اسد الہ برسد“ کو کافی قرار دیا۔22 مارچ 1858ء کے خط میں مرزا تفتہ کو بھی اسی مختصر پتے پر اکتفا کی ہدایت کی گئی ہے۔ان دونوں خطوط کے اقتباسات گزشتہ صفحات میں پیش کےے جاچکے ہیں۔ ایک اور خط مرزا حاتم علی مہر کے نام ہے جو 1861ء میں لکھا گیا تھا، اس میں لکھتے ہیں:

“آپ کو معلوم رہے کہ میرے خط کے سرنامے پر محّلے کا نام لکھنا ضروری نہیں۔شہر کا نام اور میرا نام، قصہ تمام”

          اسی ہدایت کا اعادہ چار برس کے بعد مولوی عبدالرزّاق شاکر کے نام کے ایک خط میں بھی کیا گیا ہے۔ یہ خط مرزا صاحب نے ستمبر 1865ء میں رام پور کے سفر پرروانگی سے قبل تحریر فرمایاتھا۔ مکتوب الیہ موصوف کو مطلع فرماتے ہیں:

          “اب کوئی خط آپ بھیجیں تو رام پور بھیجیں۔ مکان کا پتا لکھنا ضروری نہیں۔ شہر کا نام اور میرا نام کافی ہے۔”

          پیش کردہ مثالو ںمیں سے تین مثالیں 1278ھ 1862ء سے قبل کے زمانے سے متعلق ہیں۔ چوتھی اور آخری مثال اگرچہ 1278ھ سے بعد کی ہے لیکن اس اعتبار سے بے حد اہم ہے کہ یہ برونِ دہلی یعنی رام پور کے عارضی قیام کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان سبھی مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ غالب اپنی شخصیت کی یکتائی سے بہ خوبی واقف تھے اور اپنے وقار کے تحفظ اور انا کی سربلندی کے لیے ہمہ وقت سرگرم و فکرمند رہتے تھے۔ ”ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے“ کسی شہر کی تخصیص کے بغیر ایک ایسا سوال تھاجس کا جواب ان کے تصور کے مطابق ”نہیں“ کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ ایک اتفاقی امر ہے کہ ان کی یہ آخری مہر جس پر صرف ان کا تخلص کندہ ہے، 1278ھ میں تیارہوئی، ورنہ اس سے مالک رام صاحب کے بقول جس نفسیاتی کیفیت کا اظہارہوتاہے، وہ اس سے اٹھارہ برس قبل 1260ھ میں کہے ہوے ان کے اس شعر سے بھی ظاہر ہے جس میں ”اسم و علم“ سے بے نیازی اور صرف تخلص کے حوالے سے اَبَین مِنَ الامس(روشن تراز روز) ہونے کادعویٰ کیا گیاہے۔ ہا ںیہ امر بھی قابلِ لحاظ ہے کہ انہو ںنے اپنی بعض تحریروں میں شعروادب کے تناظر میں صرف تخلص کے حوالے سے اور مراسلت و مکاتبت کی حالت میں نام کی مختصر ترین شکل ”اسد اللہ“ کے ذریعے روشناسِ خلق ہونے پر جو اصرار کیاہے،وہ کسی داخلی مغائرت یا تضادکا مظہر نہیں۔ تعارف کی یہ دونوں صورتیں ”ہرسخن وقتے و ہر نکتہ مکانے دارد“ کے بہ مصداق ایک ہی باطنی کیفیت کی نشان دہی کرتی ہیں۔

          غالب کی جن مہروں کے نقوش اہلِ علم کی دسترس میں ہیں،ان میں یہ آخری مہر وہ واحد مہر ہے جس کے خط کی ناپختگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ بدرالدین کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ غالب کے کسی دوست یا شاگرد نے یہ سوچ کرکہ شاعر کی حیثیت سے غیر معمولی شہرت و ناموری کے باوجود انہوں نے اپنے تخلص کے ساتھ کوئی مہر کندہ نہیں کرائی، یہ مہر بہ طورِ خود کسی معمولی مہر ساز سے تیار کراکے ان کی خدمت میں پیش کردی ہو اور انہوں نے اس دوست یا شاگرد کے پاسِ خاطر کی بناپر اسے رد کردینا مناسب نہ سمجھا ہو۔ اس سوال کا کہ ان کی نفاست پسندی کیوں کر اس کی متحمل ہوئی، اس کے علاوہ کوئی اور جواب سمجھ میں نہیں آتا۔

          مفصّلہ بالا تجزےے سے ظاہر ہے کہ مالک رام صاحب نے ان مہروں کی تیاری کے سلسلے میں جو تاویلات پیش فرمائیں ہیں، ان میں سے بیشتر قابلِ قبول نہیں۔ لیکن ان کے اس بنیادی موقف سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ ان میں سے ہر مہر اپنا ایک نفسیاتی، مذہبی یا تاریخی پس منطر رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے غالب کی پر پیچ شخصیت اور ذہن و مزاج کی تفہیم میں دوسرے خارجی وسائل کے ساتھ ان مہروں کا کردار بھی مناسب توجہ کا مستحق ہے۔ یہی ایک بات ان کے بارے میں تحقیق و تنقید کا جواز فراہم کرتی ہے۔

حواشی:

1۔ غالب شناس مالک رام، از ڈاکٹر گیان چند، غالب اکیڈمی،نئی دہلی، 1996، ص67

2۔ فسانہ غالب، از مالک رام، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، 1977، ص81۔ آئندہ تمام مقامات پر اقتباسات کے آخر میں قوسین کے اندر صفحات کے حوالے دے دےے گئے ہیں۔

3۔ نامہ ہاے فارسیِ غالب، مربتہ سید اکبر علی ترمذی، غالب اکیڈمی، نئی دہلی، 1969، ص117۔ غالب کی خاندانی نشن اور دیگر امور، نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹر، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، اسلام آباد، 1997، ص39

4۔ فسانہ غالب،ص115

5۔ نامہ ہاے فارسیِ غالب، ص103

6۔ غالب کی خاندانی پنشن،ص49

7۔ ایضاً،ص53

8۔ متفرقاتِ غالب، مرتبہ پروفیسر مسعود حسن رضوی، طبعِ ثانی، لکھنو1969، ص126

9۔ دیوانِ غالب، مرتبہ نظامی بدایونی، طبعِ ثانی، بدایوں، 1918، صفحہ ماقبلِ متن

10۔ احوالِ غالب، مربتہ پروفیسر مختارالدین احمد، طبعِ ثانی، دہلی، 1968،ص34

11۔ بہ حوالہ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ جنوری 1989، ص215-16

12۔ گلشنِ بے خار، از نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ، طبعِ اول، دہلی، 1837، ص185

13۔ بہ حوالہ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ مذکور الصدر، ص173

14۔ فسانہ غالب،ص49

15۔ احوالِ غالب، ص142۔143

16۔ مکاتیبِ غالب، مربتہ مولانا امتیاز علی عرشی، طبعِ دوم، رام پور، 1943، حاشیہ ص41

17۔ یادگارِ غالب(عکسی ایڈیشن)یو۔پی۔اردو اکاڈمی، لکھنو1986، ص9

18۔ نامہ ہائے فارسیِ غالب،ص103

19۔ پنج آہنگ، طبعِ ثانی، دہلی، 1853، ص334

20۔ دیوانِ غالب بہ خطِ غالب، مرتبہ اکبر علی خاں عرشی زادہ، رام پور، 1969،ص16

21۔ گلِ رعنا، مرتبہ مالک رام، دہلی، 1970، ص35

22۔ غالب کے خطوط، مرتبہ خلیق انجم، جلد سوم، دہلی،ص1029۔ 30

23۔ پنج آہنگ، ص389

24۔ تجلیات، از مرزامحمد ہادی عزیز لکھنوی، ص197-98، بہ حوالہ ماہنامہ نیادور، لکھنو شمارہ جولائی 1980، ص12

25۔ غالب درونِ خانہ، از کالی داس گپتا رضا، ساکار پبلشرز، بمبئی، 1989، ص43

26۔ پنج آہنگ، ص113

27۔ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ جنوری 1996، ص164

28۔ باغِ دو در، مرتبہ سید وزیرالحسن عابدی، لاہور، 1970، ص120

29۔ گنجینہ غالب، پبلی کیشنز ڈویژن، نئی دہلی، 1995،ص168 تا ص170

30۔ غالب اور حیدرآباد، از ڈاکٹر ضیا ءالدین شکیب، نئی دہلی، 1969، ص223

31۔ آئینہ دلدار، از ابرار علی صدیقی، کراچی، 1956، ص93

غالب کی مُہریں

حنیف نقوی

غالب کی مُہریں

          اشیا کی قدروقیمت کا تعیّن بالعموم ان کی ماہیت اور کیفیتِ ظاہری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات کوئی نسبتِ خاص کسی شے کو اس کی حیثیتِ ظاہری سے بلند تر کرکے اس مرتبہ و مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں اس کے دوسرے تمام اوصاف ہیچ و بے مقدار ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سربرآوردہ اور نامور شخصیات سے تعلق رکھنے والی بعض معمولی چیزیں بھی محض ان کی ذات سے نسبت کی بناپر غیر معمولی اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ جہاں تک اردو زبان و ادب کا تعلق ہے، غالب اس معاملے میں بھی اپنے تمام ہم مشربوں میں سابق وفائق ہیں کہ ان سے وابستہ ہر شے اس نسبتِ خاص کے انکشاف کے ساتھ از خود معتبر و محترم ہوجاتی ہے۔ ان کی مختلف مہریں جن کے نقش ان کی بے شمار تحریروں پر ثبت ہیں، اس ضمن میں بہ طورِ مثال پیش کی جاسکتی ہیں۔ مہروں کا رواج انیسویں صدی میں اور اس سے پہلے بہت عام تھا، چنانچہ یہ بات یقینی ہے کہ غالب کے بہت سے معروف و ممتاز معاصرین اور ان سے پہلے کے لاتعداد مشاہیر شعرا اور اہلِ علم نے اپنے ناموں کی مہریں تیار کرائی ہوں گی اور مرورِ ایام کے باوجود بعض کتابوں اور تحریروں پر ان کے نقوش کی موجودگی بھی خارج از امکان نہیں، تاہم ان کی تلاش و تحقیق اور ان سے متعلق گفتگو میں اہلِ علم کی دلچسپی کا ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جیسی دلچسپی کا مظاہرہ غالب کی مہروں کے سلسلے میں کیاگیاہے۔ البتہ ان کے بعض ہم نام و ہم تخلص یا صرف ہم نام حضرات کی مہریں محض اس غلط فہمی یا شبہے کی بنا پر کہ وہ غالب سے نسبت رکھتی ہیں، ضرور معرضِ بحث میں آتی رہی ہیں۔ نسبتیں کبھی کبھی کتنی اہم ہوجاتی ہیں، یہ اس کا بیّن ثبوت ہے۔

          تازہ ترین معلومات کے مطابق غالب نے اپنی زندگی کے محتلف ادوار میں کم از کم آٹھ (۸) مہریں بنوائی تھیں۔ مالک رام صاحب نے مندرجہ بالا عنوان (غالب کی مہریں) ہی کے تحت اپنے ایک مضمون میں جو ان کے مجموعہ مضامین ”فسانہ غالب“ میں شامل ہے، ان میں سے چھ (۶) مہروں کا مفصّل تعارف سپردِ قلم فرمایاہے۔ بعد کے جن مصنفین اور توقیت نگاروں نے اپنی نگارشات میں ان مہروں کا ذکر کیاہے، ان کا ماخذ یہی مضمون ہے۔ ڈاکٹر گیان چند کے نزدیک ”اس مضمون کا سب سے قابلِ قدر پہلو ان مہروں کا نفسیاتی مطالعہ ہے۱۔“ خود مالک رام صاحب کے ارشاد کے مطابق ”میرزا کی یہ مہریں ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت اور عام حالت کی مادّی ترجمان ہیں(انہوں) نے ان میں اپنی زندگی کے اہم واقعات کو بھردیا ہے۲۔“ پیشِ نظرسطور میں یہ دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ تجزیہ جو بہ ظاہر بہت محققانہ اور عالمانہ معلوم ہوتا ہے، کس حد تک مبنی بر حقیقت ہے؟

          دریافت شدہ مہروں میں سے دو قدیم ترین مہریں غالب نے 1231ھ (1815-16ع) میں کندہ کرائیں تھیں۔ ان میں سے ایک مہر پر خطِ نستعلیق میں ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ“ اور دوسری پر خطِ نسخ میں ”اسد اللہ الغالب“ نقش تھا۔ مالک رام صاحب کے مطابق پہلی مہر سے غالب کی ”اس زمانے کی سرمستی و رنگینی، رندی و ہوس پیشگی بہ درجہ اتم ظاہر ہے۔“ (ص81) جب کہ دوسری مہر”ان کے دلی خیالات و معتقدات کی مظہر ہے۔“(ص82) پہلے تاثر کی تائید میں منشی شیونرائن آرام اور مرزا حاتم علی مہر کے نام کے خطوط سے شطرنج کے کھیل سے دلچسپی، پتنگ بازی کے شوق اورایک ستم پیشہ ڈومنی کو مار رکھنے کے واقعات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

“غالب کے والد میرزاعبداللہ بیگ خاں کا عرف ”میرزا دولھا“ تھا، اسی لیے لوگ میرزا غالب کو بچپن ہی سے ”میرزانوشہ“ کہنے لگے۔ اس عرف کی پستی ظاہر ہے اور خود میرزا کو بھی بعد کو اس ”نالائق“ عرف سے نفرت ہوگئی تھی۔ مگر اس طوفانی زمانے میں بھلا ثقاہت کہاں قریب پھٹک سکتی تھی۔ یہ باتیں شعور اور تجربے سے حاصل ہوتی ہیں اور وہ ان کی عمر اور گرد و پیش کا اقتضا نہ تھا۔“ (ص81)

دوسری مہر کے سلسلے میں محترم مضمون نگا رکا ارشاد ہے:

          “اس مہرکی بناحضرتِ علی کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کا نام اسد اللہ تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا اور بعد کو ان کے دوسرے تخلص کی بنا بھی یہی ہوئی۔ چوں کہ سامنے کی چیز تھی اس لیے جب انہوں نے تخلص تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسد چھوڑ کر بلا تامّل غالب رکھ لیا“ (ص81)

          اس کے بعد حضرت علیؓ سے میرزا صاحب کی عقیدت اور ”شیعت سے شغف“ کو عبد الصمد سے زبانِ فارسی کی تحصیل اور ”ایران کے علوم و رسوم“ سے حصولِ واقفیت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے علائی کے نام 17جولائی 1862ء کے ایک خط کے حوالے سے ان کے مذہب و مسلک کی وضاحت کی ہے، جس کا لُبِّ لباب خود میرزا صاحب کے الفاظ میں حسب ذیل ہے:

“محمد علیہ السّلام پر نبوت ختم ہوئی مقطع نبوّت کا مطلع امامت اور امامت نہ اجماعی بلکہ مِن اللہ ہے، اور امام مِن اللہ علی علیہ السّلام ہیں، ثمّ حسن، ثمّ حسین تامہدی موعود علیہ السّلام “ (ص82)

          ایک ہی سال میں تیارشدہ ان دو مہروں کو دو مختلف بلکہ متضاد مزاجی کیفیات اور طبعی میلانات کی علامت قرار دے کر مالک رام صاحب نے اجتماعِ ضدّین کی جو مثال پیش فرمائی ہے، وہ عقلاً ممکن الوقوع تو ہے لیکن عملاً بعید از قیاس نظر آتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پہلی مہر میں نام کے ساتھ عرف کی موجودگی نہ تو عنفوانِ شباب کی رنگ رلیوں یا لابالی پن کی مظہر تھی اور نہ ثقاہت کے منافی۔ جیسا کہ خود مالک رام صاحب نے فرمایاہے، غالب بچپن ہی سے ”میرزانوشہ“ کے عرف سے معروف تھے، لیکن واقعہ صرف اتنا ہی نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ عرف شروع سے آخرِ عمر تک ان کے نام کا جزوِ لا ینفک بنارہا اور یہ بات ان کے لیے کسی بھی درجے میں ناگواری کا باعث نہ تھی۔ غالب کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ بنیادی نکتہ ذہن نشیں رکھنا اشد ضروری ہے کہ مصلحت اندیشی ان کے مزاج کا لابُدی خاصّہ تھی۔ اس معاملہ میں وہ اس قدر حسّاس واقع ہوئے تھے کہ ان سے عمداً کسی ایسے کام کی توقعی ہی نہیں کی جاسکتی تھی جو خلافِ مصلحت یا مقتضاے وقت کے منافی ہو۔ عرف کا معاملہ بھی اس سے مستثنٰی نہیں، چنانچہ اس کے ترک و اختیار کے سلسلے میں بھی ان کی تمام تر ترجیحات بہ ظاہر وقتی ضرورت اور حالات کے تقاضوں کا ردِّ عمل معلوم ہوتی ہیں۔ 1231ھ (1815-16ع) میں اس مہر کے کندہ کرانے کے بعد انہوں نے جہاں جہاں اس عرف کو اپنے قلم سے اپنی شناخت کا وسیلہ بنایا، ان میں سے مندرجہ ذیل تحریریں اب بھی محفوظ ہیں:

          (1) درخواست بہ نام سائمن فریزر مورخہ 28 اپریل 1828 ع ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ برادر زادہ نصر اللہ بیگ خاں جاگیردار سونک سونسا۔“3

          (2) عرضی دعویٰ پنشن مورخہ 28 اپریل 1828 ع ”میرا نام اسد اللہ خاں ہے اور عرف میرزا نوشہ“4

          (3) درخواست بہ نام ”سر حلقہ افرادِ دفتر کدہ کلکتہ“: ’اسمِ ایں فقیر اسد اللہ خان است و علَم مرزا نوشہ و تخلص غالب۔“5

          (4) عرضی بہ نام اینڈ ریواسٹرلنگ مورخہ 15 جولائی 1829 ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزانوشہ برادر زادہ کلانِ نصراللہ بیگ خاں۔“6

(5) عرضداشت مورخہ 11 اگست 1829 ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ برادر زادہ نصراللہ بیگ خاں جاگیردار سونک سونسا۔“7

(6) مکتوب بہ نام راے سدا سکھ مدیر اخبار جامِ جہاں نما مورخہ جمعہ، 25 صفر 1247ھ (5 اگست 1831ع) ”ایں ننگِ آفرینش کہ موسوم بہ اسد اللہ خاں و معروف بہ مرزا نوشہ و متخلص بہ غالب است۔“ 8

(7) دیباچہ دیوانِ اردو مرقوم بست و چہارم شہر ذی قعدہ 1248ھ (14 اپریل 1833ع) ”نگارندہ ایں نامہ بہ اسد اللہ خاں موسوم و بہ میرزا نوشہ معروف و بہ غالب متخلص است۔“9

(8) مکتوب بہ نام میر مہدی مجروح مورخہ 8 اگست1858ع ”وہ جو تم نے لکھا تھا کہ تیرا خط میرے نام کا میرے ہم نام کے ہاتھ جا پڑا، صاحب! قصور تمہارا ہے۔ کیوں ایسے شہر میں رہتے ہو جہاں دوسرا میر مہدی بھی ہو؟ مجھ کو دیکھو کہ میں کب سے دلّی میں رہتاہوں۔ نہ کوئی اپنا ہم نام ہونے دیا، نہ کوئی اپنا ہم عرف بننے دیا، نہ اپنا ہم تخلص بہم پہنچایا۔”

(9) خودنوشت براے تذکرہ شعرامرتبہ مولوی مظہر الحق مظہر: مرقومہ 1864ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ، غالب تخلص۔“10

          ان تحریروں سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ پسند و ناپسند سے قطعِ نظر غالب کو اس اعتراف و اظہار میں کوئی تامل نہ تھا کہ وہ ”مرزانوشہ“ کے عرف سے معروف ہیں۔ اگر وہ اسے اپنی شخصیت کا ایک لازمی جزونہ سمجھتے اور اس سے متنفّر یا بیزار ہوتے تو اس طرح باربار اس کا ذکر ہرگز نہ کرتے۔ ان کے اعزا، احباب اور معاصرین میں بھی ایسے متعدد حضرات شامل ہیں جنہیں اس عرف کے حوالے سے ان کا ذکر کرنے میں کوئی عذر مانع نہ تھا۔ اگراس میں ان کی ناخوشی یابے ادبی کا شائبہ ہوتا تو ان میں سے بعض لوگ یقینا اس سے احتراز برتتے۔ مثلاً:

          (1)  مولانا فضلِ حق خیرآبادی کے بڑے بھائی مولوی فضل عظیم نے 1241ھ 1826ء میں ”افسانہ بھرتپور“ کے نام سے فارسی میں ایک مثنوی لکھی تھی۔ یہ مثنوی مرزا غالب کی نظر سے گزر چکی تھی اور انہوں نے اس کی تاریحِ تصنیف بھی کہی تھی جو ان کے کلیات فارسی میں موجود ہے۔ مصنف نے اس مثنوی کے خاتمے پر یہ تاریخ نقل کرنے سے پہلے مرزا غالب کی تعریف میں بائیس شعر کہہ کر شاملِ کتاب کیے ہیں۔ ان اشعار کا عنوان انہوں نے ”در تعریف مرزا نوشہ صاحب“ قائم کیا ہے اور ایک شعر میں بھی ان کا ذکر ان کے اسی عرف کے ساتھ کیا ہے۔ شعر حسبِ ذیل ہے:

ز اوصافِ او ہر کسے آگہ است

کہ معروف با میرزا نوشہ است11

(2) نواب مصطفی خاں شیفتہ نے 1250ھ 1835ء میں تذکرہ ”گلشنِ بے خار“ تالیف کیا۔ اس میں مرزا صاحب کے ترجمہ احوال کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیاہے: ”غالب تخلص، اسمِ شریفش اسد اللہ خاں، المشتہر بہ مرزانوشہ“12

‘گلشنِ بے خار’ کا مسودہ طباعت سے پہلے مرزا صاحب کی نظر سے گزر چکا تھا۔ اگر نام کے ساتھ عرف کی شمولیت ان کے مزاج کے خلاف ہوتی تو وہ اس عبارت سے ”المشتہر بہ مرزا نوشہ“ کو بہ آسانی قلمزد کرسکتے تھے۔

          (3) سرسید کے برادرِ بزرگ سید محمد خاں بہادر نے اکتوبر 1841ء میں پہلی بار مرزا صاحب کا دیوانِ اردو اپنے لیتھوگرافک پریس سے شائع کیا تو اس کے سرورق پر ”دیوان اسداللہ خاں صاحب غالب تخلص، میرزا نوشہ صاحب مشہور کا“ لکھ کر گویا اس امر کی تصدیق کی کہ صاحبِ دیوان کا نام اسد اللہ خاں اور تخلص غالب ہے لیکن وہ عام طورپر مرزا نوشہ کے عرف سے مشہور ہیں۔

(4) دیوان کی اشاعت کے فوراً بعد سید محمد خاں بہادر کے لیتھوگرافک پریس ہی سے شائع ہونے والے ”سیدالاخبار“ کے 9 شوال 1357ھ 24 نومبر 1841ء کے شمارے میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا جس میں شائقین کو ”پنج آہنگ“ کی اشاعت کے لیے تیاری کی خوش خبری سنائی گئی تھی۔ اس کی ابتدابھی ”مرزا اسد اللہ خاں صاحب غالب تخلص، مرزا نوشہ صاحب مشہور“ سے ہوئی تھی۔

          منشی بال مکند بے صبر،غالب کے شاگرد کی حیثیت سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ انہوں نے اپنی اردو مثنوی ”لختِ جگر“ 1275ھ 1858ء میں نظر ثانی کے بعد بہ غرضِ اصلاح غالب کی خدمت میں پیش کی تھی۔ اس میں انہوں نے ”در شانِ مجمعِ کمالاتِ صوری و معنوی حضرت استادی جناب مولانا اسد اللہ خاں صاحب“ کے زیرِ عنوان جو اشعار کہے ہیں، ان میں ان کے نام، تخلص اور لقب (عرف) کا بیان اس طرح ہواہے:

نام اس کے سے کرتا ہوں میں آگاہ

اوّل ہے اسد اور آخر اللہ

مشہور تخلص اس کا غالب

مطلوبِ دلِ ہزار طالب

مرزا نوشہ لقب ہے اس کا

ثانی کوئی اور کب ہے اس کا16

(6) مکتوب بہ نام حسین مرزا مورخہ 29 اکتوبر 1859ء میں خود مرزا صاحب کا ارشاد ہے: “کاشی ناتھ بے پروا آدمی ہے۔ تم ایک خط تاکیدی اس کو بھی لکھ بھیجو۔ اکثر وہ کہا کرتا ہے کہ حسین مرزا صاحب جب لکھتے ہیں مرزا نوشہ ہی کو لکھتے ہیں۔”

          (7) مرزا یوسف کے انتقال کے پانچ برس بعد ان کی اہلیہ لاڈو بیگم نے یکم اکتوبر 1862ء کو ایک درخواست کے ذریعے ڈپٹی کمشنر سے یہ التجا کی کہ حکومت کی طرف سے ان کی مالی امداد کی جائے۔اس درخواست کے اندراجات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نے ان کے کوائف کا جو گوشوارہ مرتب کرکے کمشنر کو بھیجا تھا، اس کا ایک اندراج یہ بھی تھا کہ ”کبھی کبھی اس کے مرحوم خاوند کا بھائی مرزا نوشہ اس کی مدد کرتاہے14۔“ ظاہرہے کہ لاڈو بیگم نے اپنی درخواست میں ”مرزانوشہ“ ہی لکھا ہوگا۔

(8) 1867ء کے اواخر میں غالب نے ”قاطع القاطع“ کے مصنف مولوی امین الدین کے خلاف دہلی کی ایک عدالت میں ازالہ حیثیتِ عرفی کا مقدمہ دائر کیا۔ اس مقدمے میں ان کے وکیل مولوی عزیزالدین تھے۔ انہوں نے 15 دسمبر 1867ء کو پیش کردہ ایک درخواست کے آخر میں اپنے دستخط کے تحت خود کو ”وکیلِ مرزا اسداللہ خاں پنشن دارِ سرکاری عرف مرزا نوشہ“ اور 20 فروری 1868ء کی اسی سلسلے کی ایک اور تحریر کے خاتمے پر ”وکیلِ مرزا اسد اللہ خاں عرف مرزانوشہ“ لکھاہے۔15

(9) غالب کی وفات کے تیسرے دن ان کے فرزندِ متبنّٰی حسین علی خاں شاداں (پسرِ عارف) نے نواب کلب علی خاں کو اس حادثے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا تھا:

 ”بہ تاریخ 15 فروری سالِ حال مطابق 2 ذی قعدہ روزِ دوشنبہ وقت ظہر جناب دادا جان صاحب قبلہ نواب اسد اللہ خاں غالب عرف میرزا نوشہ صاحب نے اس جہانِ فانی سے رحلت کی۔“16

(10) مولانا حالی نے جو غالب کے عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے، ”یادگارِ غالب“ کا آغاز اس جملے سے کیا ہے:

“میرزا اسد اللہ خاں غالب المعروف بہ میرزانوشہ، المخاطب بہ نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ، المتخلص بہ غالب در فارسی واسد در ریختہ، شبِ ہشتمِ ماہِ رجب 1212 ہجری کو شہر آگرہ میں پیداہوئے۔“17

          عرف کے متواتر استعمال اور اس کے ساتھ شہرتِ عام کی ان مثالوں کے پیشِ نظر یہ باور کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ غالب واقعتا اس سے بیزار ہوں گے یا اسے بہ نظرِ حقارت دیکھتے ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ بھی واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک دوبا راپنے احباب کو اس کے استعمال سے روکابھی ہے اور اسے ”نالائق“ قرار دے کر ایک اعتبار سے اس کی مذمّت بھی کی ہے، لیکن اس کی وجہ ان کی وہی مصلحت اندیشی اور احتیاط پسندی تھی جو انہیں بہ وقتِ ضرورت خلافِ معمول فیصلے لینے پر مجبور کرتی رہتی تھی۔فروری 1828ء میں جب وہ اپنی پنشن کا مقدمہ حکومتِ عالیہ کے سامنے پیش کرنے کی غرض سے کلکتے پہنچے تو ایک ”نکوہیدہ سیرت“ ہم وطن (مرزا افضل بیگ) نے حکّام کو ان کی طرف سے بدظن کرنے کی غرض سے یہ افواہ اڑادی کہ اس تازہ وارد شخص نے اپنا نام بھی بدل لیاہے اور تخلص بھی۔ گویا یہ شخص فریبی اور جعل ساز ہے۔ اسی افواہ کے زیرِ اثر اعیانِ دفتر کو ان کا نام بہ غرضِ ملاقات اپنے افسرِ اعلیٰ تک پہنچانے میں تامّل تھا، کیوں کہ سرکاری کاغذات کے مطابق خاندانی پنشن ”مرزا نوشاہ“ کے نام جاری ہوئی تھی اور وہ ”مرزانوشہ متخلص بہ اسد“ کی منزل سے آگے بڑھ کر اب ”اسد اللہ خاں غالب“ کے طور پر روشناسِ خلق تھے۔ اس مرحلہ دشوار سے نبٹنے کے لیے مرزاصاحب نے اپنے دیوانِ اردو کے ایک قلمی نسخے کا سہارا لیا جسے مرتب ہوئے سات سال سے کچھ زیادہ مدت گزر چکی تھی او راس سفر میں اتفاقاً ان کے ساتھ تھا۔ اس دیوان میں وہ غزلیں بھی شامل تھیں جن کے مقطعوں میں پرانا تخلص (اسد) موجود تھااور وہ غزلیں بھی جن میں نیا تخلص (غالب) نظم ہواتھا۔ مزید برآں اس کے خاتمے پر 1231ھ کی وہ مہر بھی ثبت تھی جس کے نگینے پر ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ“ نقش تھا۔ غالب نے یہ دیوان ایک خط کے ساتھ ”سرحلقہ افرادِ دفتر“ (غالباً سائمن فریزر) کی خدمت میں پیش کردیا تا کہ وہ بہ طورِ خود فیصلہ کرسکیں کہ یہ افواہ کس حد تک درست ہے۔ خط میں انہوں نے لکھا تھا:

“آن مہر بہ ابطالِ دعویِ حداثتِ اسم مسکتِ مدعی است و در مسلّم نہ داشتنِ علَم برے سکوتِ ایں گمنام نیز کافی است۔ آرے اسمِ ایں فقیر اسد الہ خان است و علم مرزا نوشہ و تخلص غالب، لیکن ازیں جاکہ غالب کلمہ رباعی است و ظرفِ بعض بحور نشستِ آں رانیک برنتابد، فقیر لفظِ اسد راکہ مخففِ اسمِ عاصی است و معِ ہٰذا کلمہ ثلاثی، گاہ گاہ تخلص اختیار می کند۔“ 18

          اس تحریر سے غالب کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھاکہ اب سے بارہ سال پہلے بھی جب کہ یہ مہر تیار ہوئی تھی، وہ ”اسد اللہ خاں“ کے نام سے موسوم تھے۔ لہٰذا یہ مہر مدّعی کے اس دعوے کی تردید کے لیے کہ انہوں نے اپنا نام بدل لیا ہے، ایک مسکت دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیز یہ کہ ”مرزانوشہ“ انھی کاعرف ہے اور یہ ان کا اختیارِ تمیزی ہے کہ وہ چاہیں تو اسے استعمال کریں اور چاہیں تو ترک کردیں۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک وہ سرکاری خطوط اور عرضداشتوں میں اپنا نام ”اسد اللہ خاں عرف مرزانوشہ“ لکھتے رہے، بعد ازاں جب یہ قضیہ فیصل ہوگیاکہ ”مرزانوشہ“ بھی وہی ہیں اور ”اسد اللہ خاں“ بھی وہی تو انہوں نے اس دو عملی سے نجات پانے کے لیے آئندہ بہ نظر احتیاط صرف ”محمد اسد اللہ خاں“ یا ”اسد اللہ خاں“ لکھنے کا تہیّہ کرلیا۔ چنانچہ قیامِ کلکتہ کے اسی زمانے میں ایک بار اپنے دوست راے چھج مل کو خط لکھا تو پتے کے ذیل میں ان کے لکھے ہوئے مفصل نام کو موضوعِ گفتگو بناکر یہ سوال بھی کرڈالاکہ:

“برعنوانِ مکتوب کلمہ نواب راجزوِ اعظم (کذا=اسم) ساختن یعنی چہ و عرف پایانِ اسم رقم کردن چرا؟ سگِ دنیا را بہ اسد اللّٰہی شہرت دادن چہ کم است کہ نوابی و میرزائی برسرِ ہم باید افزود۔“19

          یہ بات بہ ظاہر انکسا رکے طورپر کہی گئی ہے لیکن اصل مقصد یہی معلوم ہوتاہے کہ نام کے ساتھ عرف نہ شامل کیا جائے تاکہ پڑھنے والے کا ذہن اس قضیہ نامرضیہ کی طرف منتقل ہی نہ ہو کہ مکتوب الیہ اب سے پہلے ”مرزانوشہ“ کے نام سے موسوم تھا اور اب اس نے اپنا نام بدل کر ”اسد اللہ خاں“ کر لیا ہے۔ اس کے بعد اگلے تیس (30) برسوں میں ان کی کوئی ایسی تحریر نہیں ملتی جس میں انہوں نے اس عرف سے بریّت کا اظہار کیا ہو یا کسی کو اس کے استعمال سے روکاہو۔ تا آن کہ یکم ستمبر 1858ء کو انہو ںنے مرزا ہرگوپال تفتہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا:

“صاحبِ مطبع (مفیدِ خلائق،آگرہ) نے خط کے لفافے پرلکھاہے:

”مرزانوشہ صاحب غالب“ للہ غور کرو، یہ کتنا بے جوڑ جملہ ہے۔ ڈرتاہوں کہ کہیں صفحہ اولِ کتاب پر بھی نہ لکھ دیں صرف اپنی نفرت عرف سے وجہ اس واویلا کی نہیں ہے بلکہ سبب یہ ہے کہ دلّی کے حکّام کو تو عرف معلوم ہے مگر کلکتے سے ولایت تک یعنی وزراکے محکمے میں اور ملکہ   عالیہ کے حضور میں کوئی اس نالائق عرف کو نہیں جانتا، پس اگر صاحبِ مطبع نے ”مرزانوشہ صاحب غالب“ لکھ دیاتو میں غارت ہوگیا، کھویاگیا، میری محنت رائگاں گئی، گویا کتاب کسی اور کی ہوگئی۔“

اس کے تیسرے دن ان سے دوبارہ یہ استدعا کی:

          منشی شیونرائن کو سمجھا دینا کہ زنہار عرف نہ لکھیں، نام اور تخلص بس، اجزاے خطابی کا لکھنا نامناسب بلکہ مضر ہے“۔

          ان بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب (دستنبو)کے سرورق پر صرف نام اور تخلص لکھنے اور عرف نہ لکھنے پر یہ اصرار فی الواقع اس مبیّنہ طورپر ”نالائق عرف“ سے نفرت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس احتیاط اور پیش بندی پر مبنی ہے کہ سرکاری کاغذات میں درج ان کے نام کے ساتھ اس عرف کی شمولیت ”وزراکے محکمے اور ملکہ عالیہ کے حضور میں“ کسی غلط فہمی کا سبب نہ بن جائے اور پھر کوئی ایسی صورتِ حال پیش نہ آجائے جیسی ایک بار کلکتے میں پیش آچکی تھی۔ غدر کے بعد کے مخصوص حالات اور انگریز حکّام کی مطلق العنانی کو مدِّ نظر رکھا جائے تو یہ اندیشہ کچھ بے جابھی نہ تھا۔ کلکتے میں انہیں ذاتی طورپر جو تجربہ ہوچکاتھا، ممکن ہے کہ اس قسم کے کچھ اور واقعات بھی ان کے علم میں ہوں۔ کم سے کم ایک واقعے کا ذکر خود ان کے ایک خط میں موجود ہے۔ یہ خط یوسف مرزا کے نام ہے اور قیاساً 1859ء کے وسط میں لکھاگیاہے۔ لکھتے ہیں:

“ایک لطیفہ پرسوں کا سنو:حافظ ممّو بے گناہ ثابت ہوچکے۔ رہائی پاچکے۔ حاکم کے سامنے حاضر ہواکرتے ہیں۔ املاک اپنی مانگتے ہیں۔ قبض و تصرف ان کا ثابت ہوچکا ہے، صرف حکم کی دیر۔ پرسوں وہ حاضر ہیں۔ مسل پیش ہوئی۔ حاکم نے پوچھا:

حافظ محمد بخش کون؟ عرض کیا میں۔ پھر پوچھا کہ حافظ ممّو کون؟ عرض کیا کہ میں۔ اصل نام میرا محمد بخش ہے، ممّوم ممّو مشہور ہوں۔ فرمایا: یہ کچھ بات نہیں، حافظ محمد بخش بھی تم، حافظ ممّو بھی تم، سارا جہان بھی تم، جو کچھ دنیا میں ہے، وہ بھی تم۔ ہم مکان کس کو دیں؟ مسل داخلِ دفتر ہوئی۔ میاں ممّو اپنے گھر چلے آئے۔

          جہاں ایک معمولی سے شبہے کی بنا پر اس طرح ایک جیتا ہوا مقدمہ ہارا جا سکتا ہے، وہاں غالب کا اپنے مفادات کے تحفظ میں ہرممکن احتیاط برتنا مقتضاے حال کے عین مطابق تھا۔ وہ یہ خطرہ مول لینے کے لیے کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہوسکتے تھے کہ نام اور عرف کے چکر میں حافظ محمد بخش عرف حافظ ممّو کی طرح ان کی مسل بھی داخلِ دفتر کردی جائے۔ تفتہ کے نام پنے محولّہ بالا دونوں خطوں میں سے پہلے خط میں انہوں نے جس تشویش کا اظہار کیا ہے اور دوسرے خط میں تاکید کی جو صورت اپنائی ہے، وہ بدیہی طورپر اسی قسم کے اندیشہ ہاے دور دراز کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر وہ واقعی اس ”نالائق عرف“ سے متنفّر ہوتے تو عام حالات میں بھی اپنے نام کے ساتھ اس کے الحاق کے خلاف کبھی نہ کبھی ضرور احتجاج کرتے، لیکن اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حد یہ ہے کہ 1865ء میں جب اسی کتاب (دستنبو) کا دوسرا ایڈیشن ”نسخہ صحیحہ مرسلہ مصنف“ کی بنیاد پر مطبع لٹریری سوسائٹی روہیل کھنڈ، بریلی سے شائع ہواتو اس کے سرورق پر ان کا پورا نام ”نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ، المتخلص بہ غالب عرف مرزانوشہ“ لکھا ہواتھا۔ نام کے ساتھ ”اجزاے خطابی“ اور ”عرف“ کے اس اندراج کو انہوں نے بعد کی کسی تحریر میں نہ تو ”نامناسب بلکہ مضر“ قرار دیا اورنہ اس پر کسی قسم کی ناگواری ظاہر کی۔

          دوسری مہر کے سلسلے میں مالک رام صاحب کا ارشاد ہے کہ ”اس کی بنا حضرت علی کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کا نام اسد اللہ تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا۔“ بعد میں جب انہوں نے تخلص تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسی لقب کی رعایت سے اسد کو چھوڑ کر غالب اختیار کرلیا (ص81) غالب نے ایک منقبتی قصیدے میں خود بھی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ تخلص کے اس انتخاب میں حضرت علی کے ”اسم و رسم“ کے اثرات شامل تھے۔ فرماتے ہیں:

اے کز نوازشِ اثرِ اسم و رسمِ تو

نامم زمانہ غالب معجز بیاں نہاد

          اس کے باوجود مالک رام صاحب کا یہ دعویٰ محتاجِ دلیل ہے کہ مرزا صاحب نے پہلے حضرت علی سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہا رکے طورپر یہ مہر کھدوائی،اس کے بعد اپنا تخلص اسد سے بدل کر غالب کیا۔اس کے برخلاف مرحوم اکبر علی خاں عرشی زادہ کا یہ استدلال زیادہ قرینِ صحت معلوم ہوتاہے کہ رجب 1231ھ (جون 1861ع) میں دیوان کے اولین دستیاب نسخے کی ترتیب کے وقت تک مرزا صاحب اسد تخلص کرتے تھے۔ بعد میں اسی سال کی کسی تاریخ کو انہوں نے غالب تخلص اختیار کیاتو یہ نئی باتخلص مہر کندہ کرائی۔ 20

          اگر اس مہر کی وساطت سے صرف ”دلی خیالات و معتقدات“ کا اظہار مقصود ہوتا تو یہ کام اس سے قبل بھی کیا جاسکتا تھاکیوں کہ غالب 1231ھ سے پہلے بارہا اس امر کا اعتراف و اعلان کرچکے تھے کہ

امامِ ظاہر و باطن، امیرِ صورت و معنی

علی، ولی، اسد اللہ، جانشینِ نبی ہے

          ان حالات میں ایک ہی سال کے اندر دو مہروں کی تیاری کی اس کے علاوہ اور کوئی معقول توجیہہ نہیں کی جاسکتی کہ مرزا صاحب نے اسی سال اپنا تخلص تبدیل کیا ہوگا اور اس تبدیلی کی علامت کے طورپر بہ صورت سجع یہ دوسری مہر کندہ کرائی ہوگی۔ لیکن مالک رام صاحب کے نزدیک یہ استدلال قابلِ قبول نہیں، چنانچہ ”گلِ رعنا“ کے مقدمے میں انہو ںنے اس مسئلے کو ایک بار پھر اٹھایا ہے۔ عرشی زادہ کا نام لیے بغیر تحریر فرماتے ہیں:

بعض لوگوں نے استدلال کیاکہ ”اسد اللہ الغالب“ مہر سے ثابت ہوتاہے کہ انہوں نے اس سال (1231 میں) غالب تخلص اختیارکیا، حال آنکہ نہ ان کا نام ”اسد اللہ“ تھا نہ تخلص ”الغالب“۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس مہر میں لفظ ”غالب“ بہ طورِ تخلص استعمال ہی نہیں ہوا بلکہ یہ مہر انہوں نے بہ طورِ سجع تیار کرائی تھی۔ دراصل ”اسداللہ الغالب“ لقب ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا۔ چوں کہ میرزا کا نام ”اسد اللہ خاں“ تھا اور وہ عقیدے کے لحاظ سے شیعی تھے، اس لیے انہوں نے یہ سجع والی مہر بنوا کر گویا حضرت علی سے اپنی عقیدت کا اعلان بھی کردیا۔ غرض اس مہر سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ 1231ھ میں انہوں نے غالب تخلص اختیار کر لیا تھا۔ البتہ یہ درست ہے کہ بعد کو انہوں نے اسد تخلص سے بیزار ہوکر نیا تخلص رکھنے کا فیصلہ کیا تو اسی سجع نے ان کی مشکل حل کردی اور انہوں نے یہ سامنے کا لفظ بہ طورِ تخلص اختیار کرلیا۔“21

          اپنی بات پر بے جا اصرار کا رویّہ بعض اوقات بدیہّیات سے بھی چشم پوشی پر مجبور کردیتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت اس بیان کی بھی ہے۔ سجع کی خوبی یہ خیال کی جاتی ہے کہ اس میں صاحب سجع کا نام بھی آجائے اور کلمہ سجع کی معنوی بھی اپنی جگہ برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ حشو و زوائد سے یکسر پاک ہو۔ غالب نے اپنے شاگرد حکیم سید احمد حسن فنا مودودی کی فرمائش پر ان کے نام کے دو سجعے کہے تھے۔ یہ سجعے بھیجتے ہوئے انہوں نے خط میں لکھاتھا:

“بہارِ گلستانِ احمد حسن، یہ سجع کیا برا ہے؟ دلِ حیدر و جانِ احمد حسن، یہ اس سے بھی بہتر ہے۔ انھی دونوں میں سے ایک سجع مہر پر کھدوا لیجیے۔“22

          ان دونوں سجعوں میں ایک لفظ بھی زائد از ضرورت نہیں۔”اسد اللہ الغالب“ کی بھی یہی کیفیت ہے۔ اگر اس وقت مرزا صاحب کا تخلص غالب نہ ہوتاتو یہ سجع کوئی معنی ہی نہ رکھتا، اور اگر اس مہر میں ”اسد اللہ“ کے ساتھ ”الغالب“ کی بجاے صرف ”غالب“ کندہ کیا گیا ہوتا تو یہ سجع نہ ہوتا، صرف نام ہوتا۔ رہ گیا یہ سوال کہ غالب کا اصل نام ”اسد اللہ“ نہیں ”اسد اللہ خاں“ تھا تو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ میر، میرزا، سید، شیخ، خاں، بیگ، مودودی اور چشتی جیسے سابقے اور لاحقے کسی نام کے اجزاے اصلی نہیں، اجزاے اضافی ہوتے ہیں، علاوہ بریں الفاظ کے اس مخصوص تانے بانے سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے جس سے سجع کی تشکیل ہوتی ہے، اس لیے سجع کہتے وقت انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ غالب نے بھی سید احمد حسن کے نام کے مذکورہ بالا دونوں سجعوں میں ”سید“ کے سابقے سے صرفِ نظر کرکے صرف ”احمد حسن“ نظم کیاہے۔ قطعِ نظر اس سے اگر مالک رام صاحب کے نزدیک غالب کا اصل نام ”اسد اللہ خاں“ اور صرف ”اسد اللہ خاں“ تھاتو چند سال کے بعد ”محمد اسد اللہ خاں“ کے نام سے ایک تازہ مہر کندہ کرانے کا کیا جواز باقی رہتاہے؟

          صحیح بات یہ ہے کہ غالب کا اصل نام صرف ”اسد اللہ“ تھا، باقی تمام سابقے اور لاحقے فروعی یا اضافی حیثیت رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے اپنی بے شمار تحریروں میں، نظم میں بھی اور نثر میں بھی، اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ لکھاہے۔ نظم کے چند نمو نے حسبِ ذیل ہیں:

حبسِ بازارِ معاصی، اسد اللہ اسد

کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں

غالب نام آورم، نام و نشانم مپرس

ہم اسد اللّٰہم و ہم اسد اللّٰہیم

منصورِ فرقہ علی اللّٰہیاں منم

آوازہ انا اسداللہ درافگنم

فیضِ دمِ انا اسد اللہ بر آورم

منصورِ لا ابالیِ بے دار و بے رسن

‘پنج آہنگ’ کے خطوط میں بھی انہوں نے متعدد جگہ اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ ہی لکھا ہے، حتّٰی کہ بعض خطوط کا آغاز ”از اسداللہ نامہ سیاہ“ یا ”نامہ نگار اسد اللہ“ سے ہوتاہے۔ میاں نوروز علی خاں کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

“اگرنامہ فریسند و بہ عنوان نویسند کہ ایں مکتوب بہ دہلی بہ اسد اللہ رسد، دشوار نیست کہ آں نامہ بدیں روسیاہ برسد۔“23

22 مارچ 1852ء کے ایک خط میں تفتہ کو ہدایت کرتے ہیں:

“خط پر حاجت مکان کے نشان کی نہیں ہے۔ ”در دہلی بہ اسد اللہ برسد“ کافی ہے”

          اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ پنشن سے متعلق عرض داشتوں اور درخواستوں کے آخر میں بھی وہ کبھی کبھی اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ ہی لکھا کرتے تھے۔ اس سلسلے کے دستاویزات میں ایسی اٹھائیس تحریریں ہماری نطر سے گزر چکی ہیں جن پر ان کے دستخط ثبت ہیں۔ ان میں سے بارہ تحریروں میں انہو ںنے اپنا نام ”اسد اللہ“ لکھاہے۔ ان میں قدیم ترین تحریر 25 نومبر 1831ء کی اور آخری تحریر 25 اکتوبر 1844ء کی ہے۔ نواب کلب علی خاں کے نام کے خطوط میں بھی جہاں انہوں نے بہ طورِ دستخط تخلص کی بجاے نام لکھا ہے، یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے کا آخری خط 16 نومبر 1898ء کا تحریر کردہ ہے۔

          اس سلسلہ گفتگو کا آخری اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ”اسد اللہ“ کی حیثیت اسمی سے متعلق مالک رام صاحب کا زیر بحث بیان خود ان کے سابقہ موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ گزشتہ سطور میں ان کا یہ قول نقل کیا جاچکاہے کہ”اس (دوسری) مہر کی بناحضرت علیؓ کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کانام اسد اللہ تھا، اس لےے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا۔“ اس طر ح ایک بار یہ کہنا کہ ”میرزا کا نام اسد اللہ تھا“ اور دوسری بار اس سے انکار کردینا ایک ایسی کیفیتِ ذہنی کی غمّازی کرتا ہے جو اعترافِ حق اور اعلانِ حق کی بجاے بہر صورت حریف کے دعووں کو باطل ٹھہرانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

          غالب نے تیسری مہر 1238ھ میں تیار کرائی تھی۔ اس پر ”محمد اسد اللہ خاں“ کندہ تھا۔ مالک رام صاحب کے مطابق یہ ”معرکہ آرا مہر ایک عظیم الشان داخلی اور ذہنی انقلاب کی آئینہ دار ہے۔“ اس انقلاب کے محرکات میں انہوں نے اس مذہبی مباحثے کا بہ طورِ خاص حوالہ دیاہے جو ان کے بقول انیسویں صدی کے ربعِ اول میں شروع ہواتھااور جس کا موضوع مسئلہ امکان و امتناعِ نظیر تھا۔ اس مباحثے کے ایک فریق مولانا فضلِ حق خیرآبادی تھے۔ ان کی تحریک پر غالب نے بھی اس بحث میں حصّہ لیا تھا اور فارسی میں ایک مثنوی کہہ کر ان کی او ران کے ہم خیال علما کی تائید کی تھی۔ مذہبی معاملات سے غالب کی اس دلچسپی کا اوّلین محرک مالک رام صاحب نے نواب الٰہی بخش خاں معروف سے ان کی عزیز داری کو ٹھہرایاہے۔ نواب صاحب خود صوفی تھے اور اس حیثیت سے متصوفین کے درمیان ”خاصے معروف بھی تھے“۔ غالب کی طبیعت کے ”لاابالیانہ پن“ پر ”علم و عمل کے اس نمونے“ کے اثرات مرتب نہ ہوں، یہ اصولِ فطرت کے خلاف تھا۔اس تمہید کے بعد مالک رام صاحب نے اس سلسلے میں اپنے مجموعی تاثرات ان الفاظ میں قلمبند فرمائے ہیں:

“میرزا کی تحریروں سے ثابت ہے کہ وہ اس سے قبل فسق و فجور اور عیش و عشرت کی دلدل میں پھنس چکے تھے، لیکن اس نئے مذہبی ماحول نے اگر ان کی کایا بالکل پلٹ نہیں دی تو کم از کم اس کی شدت میں ضرور کمی آگئی اور وہ اخلاقی قدروں کے بھی شناسا ہوگئے۔اس سے پہلے انکی مہر پر کندہ تھا: اسد اللہ خاں عرف میرزانوشہ، انہوں نے جو نئی مہر تیار کرائی، اس پر لکھا ہے: محمد اسد اللہ خاں۔ کیا ان کی قلبِ ماہیت کا اس سے زیادہ کوئی اور ثبوت درکارہے۔“ (ص84)

          مسئلہ امکان و امتناعِ نظیر پر بحث کب شروع ہوئی اور اس کا آغاز کس نے کیا، فی الوقت اس موضوع پر گفتگو کا موقع نہیں۔ قابلِ غور مسئلہ یہ ہے کہ غالب اس بحث میں کب شریک ہوئے اور ان کی وہ نظم جو اس مسئلے سے متعلق ہے، کس زمانے میں معرضِ وجود میں آئی؟ مالک رام صاحب نے اس مباحثے کو انیسویں صدی کے ربعِ اوّل کا واقعہ قرار دیاہے۔ نہیں کہا جاسکتاکہ غالب کو اس ابتدائی مرحلے میں اس مسئلے سے کوئی دلچسپی تھی یانہیں۔ شواہد سے معلوم ہوتاہے کہ 1856ءکے اواخر تک اس بحث کا سلسلہ ختم نہیں ہواتھا۔ بعض قرائن کے بموجب یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مولانا فضلِ حق نے الور سے رام پور جاتے ہوئے کچھ دنو ںکے لےے دہلی میں قیام کیا تھا اور اس دوران ان کی سرگرم شرکت کی بدولت یہ بحث ایک بار پھر تازہ ہوگئی تھی۔ چنانچہ غالب نے انھی ایام میں مولانا کی فرمائش پر وہ اشعار کہے تھے جو ان کی چھٹی فارسی مثنوی موسوم بہ ”بیانِ نموداریِ شانِ نوبت و ولایت“ میں شامل ہیں۔ سلطان العلما مولانا سید محمد مجتہد کے نام 21 جمادی الاول 1273ھ (17 جنوری 1857ع) کے خط میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“دریں ہنگام در شہر دو دانشمند باہم در آویختہ اند۔ یکے می سراید کہ آفریدگار ہمتاے حضرتِ خاتم الانبیا علیہ و آلہ السّلام می تواند آفرید۔ وایں یکے می فرماید کہ ایں ممتنعِ ذاتی و محالِ ذاتی است۔ بندہ چوں ہمیں عقیدہ دارد، نظمے در گیرندہ بدیں مدّعا سرانجام دادہ است۔ ہر آئینہ چشم دارد کہ سواد بہ نورِ نظرِ اصلاح روشن شود۔“ 24

          اس واضح بیان کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ 1273ھ 1856ء میں اس مذہبی مباحثے میں غالب کی شرکت اور اس سے پورے پینتیس (35) برس قبل 1238ھ 1823ء میں تیار شدہ ان کی زیرِ بحث مہرکے درمیان کسی ذہنی و جذباتی رشتے کی موجود گی قطعاً خارج از امکان ہے۔ یہی کیفیت تصوف کے اثرات کی بھی ہے کہ اس سے غالب کا واسطہ ”براے شعر گفتن“ سے زیادہ نہ تھا۔ علاوہ بریں مذہبی طورپر وہ شیعی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے جس میں تصوف کے لیے یوں بھی کوئی گنجائش نہیں۔ البتہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دوسری مہر کی طرح یہ تیسری مہربھی شیعت میں ان کے گہرے اعتقاد کی توثیق کرتی ہے۔ اس میں ان کے نام کے مختلف اجزا کی نشست میں جو ترتیب قائم کی گئی ہے، اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سب سے اوپر لفظ ”اللہ“ کندہ ہے، درمیان میں لفظ ”محمد“ نقش ہے اور تیسری اور آخری سطر میں لفظ ”اسد“ اور ”خان“ یعنی:

خدا کے بعد نبی اور نبی کے بعد امام

یہی ہے مذہبِ حق، والسّلام و الاکرام

          غالب کی خودنوشت تحریروں، سرکاری مراسلوں اور عرضداشتوں میںکہیں ان کا نام ”اسد اللہ خاں“، کہیں ”محمد اسد اللہ خاں“، کہیں ”محمد اسد اللہ“ اور کہیں صرف ”اسد اللہ“ لکھا ہوا ملتاہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ اس معاملے میں کسی طے شدہ ضابطے کے پابند نہیں تھے۔ دوسری اور تیسری صورتوں میں اصل نام ”اسد اللہ“ کے ساتھ لفظِ ”محمد کے اضافے کاایک سبب یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان کے رشتے کے ایک سالے یعنی امراو بیگم کے عمِ حقیقی نبی بخش خاں کے ایک بیٹے کا نام بھی ”اسد اللہ خاں“ تھااور ان کی مہر پر یہی نام کندہ تھا۔چوں کہ غالب اپنے تشخّص کی نگہداری کے معاملے میں خاصے حسّاس تھے، اس لےے عین ممکن ہے کہ انہو ںنے اپنے اور اپنے ان برادرِ نسبتی کے درمیان امتیاز کی غرض سے اپنی مہر پر ”محمد اسد اللہ خاں“ کندہ کرالیاہو۔

          جیسا کہ گزشتہ سطور میں عرض کیاگیا، غالب اپنے نام کے معاملے میں کسی طے شدہ ضابطے کے پابندنہیں تھے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا غالب رجحان ”اسد اللہ خاں“ کی طرف تھا۔ جب اس نام کو سرکاری سطح پر سندِ اعتبار حاصل ہوگئی تو انہوں نے لفظ ”محمد“ کو ترک کرکے صرف ”اسد اللہ خاں“ لکھنا شروع کردیا۔چنانچہ مرزا ہرگوپال تفتہ کو 17 ستمبر1858ء کے خط میں لکھتے ہیں:

“لفظِ مبارک میم، حا، میم، دال“، اس کے ہر حرف پر میری جاں نثا رہے مگر چو نکہ یہاں سے ولایت تک حکّام کے ہاں سے یہ لفظ یعنی ”محمد اسد اللہ خاں“ نہیں لکھا جاتا، میں نے بھی موقوف کردیاہے۔”

          حکّام کاپاسِ خاطر غالب کو کس قدر عزیز تھا، اس کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتاہے، اس لیے ان کے کسی بھی فیصلے یا طرزِ عمل کو وقت اور حالات کے تقاضوں سے بلند ترہوکر دیکھنے کی کوشش کبھی صحیح سمت میں رہنمائی نہیں کرسکتی۔اسی مصلحت کوشی اور احتیاط پسندی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنی خاندانی پنشن اور دیگر امور سے متعلق درخواستوں اور مراسلوں پر کبھی اس مہر کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں لگائی۔ چنانچہ اس سلسلے کے جو دستاویزات برصغیر اور یورپ کے مختلف محافظ خانوں میں محفوظ ہیں،ان میں سے سترہ (17) کاغذات پر دستخط کے ساتھ یہ مہر بھی ثبت ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نام کے ساتھ ”محمد“ کا سابقہ موقوف کردینے کے اعلان کے بعد بھی وہ سرکاری نوعیت کی تمام تحریروں پر یہی مہر لگاتے رہے۔ چنانچہ جن سترہ تحریروں پر اس مہر کے نشانات ہماری نظر سے گزرے ہیں، ان میں اولین تحریر 7جولائی 1830ء کی اور آخری تحریر 7 فروری 1867ء کی ہے۔ اس آخری تحریر کی روشنی میں جناب کالی داس گپتا رضا کایہ ارشاد محلِّ نظر قرار پاتا ہے کہ ”غالب کی یہ مہر تقریباً تیس سال تک استعمال میں رہی25۔“ موجودہ شواہد کی بنیاد پر اس کا کم از کم پیتالیس (45) سال تک (1138ھ 1822-23ء تا 2شوال1283 7 فروری 1867ء استعمال میں رہنا ثابت ہے۔

          ہمارے نزدیک یہ مہر نہ تو مذہبی نقطہ نظر سے کسی ”داخلی اور ذہنی انقلاب“ کی آئینہ دا رہے اور نہ اخلاقی سطح پر کسی ”قلبِ ماہیت“ کی نشان دہی کرتی ہے۔ بہ ظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ بہ طورِ خاص سرکاری کاغذات پر ثبت کرنے کے لیے تیار کرائی گئی تھی، کیوں کہ اس سے پہلے کی دونوں مہریں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ پہلی مہر کا استعمال نام کے ساتھ عرف کے شمول کی وجہ سے خلافِ احتیاط تھا جب کہ دوسری مہریں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ پہلی مہر کا استعمال نام کے ساتھ عرف کے شمول کی وجہ سے خلافِ احتیاط تھا جب کہ دوسری مہر خالص مذہبی رنگ کی نمائندگی کرتی تھی۔

          اس سلسلے کی چوتھی مہر وہ ہے جسے مالک رام صاحب نے پانچویں نمبر پر جگہ دی ہے۔ اس پر ”یا اسدَاللہ الغالب“ کندہ ہے اور مالک رام صاحب کے مشاہدے یا تحقیق کے مطابق یہ 1269ھ 1852-53ء میں تیار ہوئی تھی۔ مصیبت یا پریشانی کے وقت حضرت علیؓ کو مدد کے لیے پکارنا شیعہ حضرات کے بنیادی عقائد اور روز مرّہ کے معمولات میں شامل ہے۔ یہ مہر اسی عقیدے کے اظہار کا ایک وسیلہ ہے۔ چنانچہ مالک رام صاحب نے اسے مناسب جواز فراہم کرنے کی غرض سے پہلے تویہ وضاحت فرمائی ہے کہ غالب اس زمانے میں یعنی 1852-53ءکے آس پاس مختلف قسم کی ذہنی و مالی پریشانیوں میں مبتلا تھے، جنہوں نے انہیں ”پراگندہ روزی، پراگندہ دل“ کا مصداق بنادیاتھا۔اس کے بعد 1854ء کے چند واقعات کے حوالے سے ان کی ”خوش اعتقادی اور نیک نیتی“ کے بار آور اور اس استعانت کے مقبول و مستجاب ہونے کے کئی ثبوت پیش کیے ہیں۔ یہ شواہد حسب ذیل ہیں:

(1) ذوق کے انتقال (4 نومبر 1845ع) کے بعد استادِ شاہ کے منصب پر تقرر۔

(2) ولی عہد مرزا غلام فحرالدین رمز کا حلقہ تلامذہ میں شامل ہونا اور چار سو روپے سالانہ وظیفہ مقرر کرنا۔

(3) طفر کے سب سے چھوٹے بیٹے مرزا خضر سلطان کا شاگرد ہونا۔

(4) سلطنتِ اودھ سے رسم و راہ میں استواری اور واجد علی شاہ کی طرف سے پانچ سو روپے سالانہ بہ طورِ وظیفہ مقرر ہونا۔

          یوں تو غالب کی زندگی میں کوئی دور ایسا نہیں گزراجب کہ انہوں نے اپنی خواہشات اور توقعات کے مطابق آسودگی اور مرفّہ الحالی کی زندگی گزاری ہو تاہم 1853ء میں یا اس سے کچھ پہلے آلام و مصائب کی کوئی ایسی غیر معمولی صورتِ حال نظر نہیں آتی جس میں وہ مالک رام صاحب کے بقول ”بہ آوازِ بلند فریاد“ پر مجبور ہوں اور حضرت علیؓ کو ان کی مشکل کشائی کا واسطہ دے کر مدد کے لیے پکاریں۔ اس کے برخلاف یہ وہ زمانہ ہے جب کہ بہادرشاہ ظفر کی سرکار سے ”نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ“ کے خطابات اور پچاس روپے ماہوار کے مشاہرے کے ساتھ سلاطینِ مغلیہ کی تاریخ نویسی کے منصب پر تقررکے بعد ان کی اناکی تسکین اور اسبابِ معیشت کی بہتری کا اچھا خاصا سامان مہیا ہو گیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں مالک رام صاحب کی تمام تاویلات و توجیہات دوراز کار قیاسات پر مبنی ہیں،کیوں کہ یہ مہر 1269ھ میں نہیں، اس سے پورے بیس برس پہلے1269ھ 1833-34ء میں کندہ کرائی گئی تھی۔ اس کے دستیاب نقش میں چار کی دہائی واضح نہیں۔ مالک رام صاحب نے اسے پہلی نظر میں غلطی سے چھ پڑھ لیا، اس کے بعد دوبارہ اس پر غور کرنے اور دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، حال آنکہ یہ زیادہ مشکل کام نہ تھا۔ غالب نے اپنا دیوانِ فارسی ”مے خانہ آرزو سرانجام“ کے نام سے 1250ھ 1834-35ء میں مرتب کیا تھا۔ اس کا دیباچہ ان کے کلیاتِ فارسی کے علاوہ ”کلیاتِ نثرِ غالب“ میں بھی شامل ہے۔ اس دیباچے میں ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے

دل بہ شراکِ نعلینِ محمدی آویختن کیش و آئینِ من و طغراے والاے ”یا اسدَاللہ الغالب“ نقشِ نگینِ من۔“26

          اس سے ظاہرہے کہ یہ مہر اس دیوان کی ترتیب سے پہلے تیار ہوچکی تھی۔ 1250ھ سے پہلے اور اس کے بعد لیکن 1260ھ سے بہت پہلے کی غالب کی ایسی کئی تحریریں راقم الحروف کی نطر سے گزر چکی ہیں جن کا آغاز انہو ںنے ”یا اسداللہ الغالب“ سے کیا ہے۔ مثلاً:

(1) مکاتیبِ غالب کے اس مجموعے میں جو پہلے پروفیسر مسعود حسن رضوی کی ملکیت تھااو راب مولانا آزاد لائبریری،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ مخطوطات میں محفوظ ہے، مثنوی ”بادِ مخالف“ کے سرِ عنوان ”یا اسداللہ الغالب“ لکھا ہوا ہے۔ اس مجموعے کی تمام تحریریں غالب کے قیامِ کلکتہ کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔

(2) “مآثرِ غالب” میں شامل فارسی خطوں میں سے ایک خط کا آغاز”یا اسداللہ الغالب“ سے ہواہے۔ یہ خط خواجہ فخراللہ کے نام ہے اور 10 رمضان 1148ھ مطابق 31 جنوری 1833ء کو لکھا گیا ہے۔

(3) خدابخش لائبریری، پٹنہ میں غالب کے کلیاتِ نظم فارسی کاایک قلمی نسخہ محفوظ ہے جسے ان کے دوست راے چھج مل نے لکھ کر 11 ربیع الآخر 1254ھ 4 جولائی 1838ء کو مکمل کیاہے۔ اس کے ایک صفحے کے حاشےے پر ”نامہ منظوم بہ نامِ جوہر“ کی ابتدابھی ”یا اسداللہ الغالب“ ہی سے ہوئی ہے۔

(4) دیوان غالب کے 1257ھ 1841ء میں شائع شدہ پہلے ایڈیشن کا آغاز بھی یا اسداللہ الغالب ہی سے ہوا ہے۔

          حضرت علیؓ سے استعانت کایہ متواتر عمل غالب کی اس زمانے کی ذہنی و مالی پریشانیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

          ان ایام میں وہ جن مسائل و مصائب سے دوچار تھے، ان کا انداز مندرجہ ذیل واقعات سے کیا جا سکتا ہے:

(1) 1826ع کے آس پاس میرزایوسف مرضِ جنون میں مبتلا ہوے اور انہوں نے تقریباً تیس برس اسی حالت میں گزارے۔ چھوٹے بھائی کی یہ علالت غالب کے لیے ہمیشہ سوہانِ روح بنی رہی لیکن شروع میں کئی برس وہ اس کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی پریشان رہے۔

(2) امراو بیگم کو اپنے چچا نواب احمد بخش خاں کی سرکار سے تیس روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ اکتوبر 1827ء میں نواب صاحب کی وفات کے بعد جو حالات رونما ہوئے، ان کے زیرِ اثر ان کے جانشین نواب شمس الدین احمد خاں نے غالباً 1830ء یا 1831ء میں یہ وظیفہ منسوخ کردیا۔ بیوی کی اس مستقل آمدنی کے بند ہوجانے سے گھر کی اقتصادی حالت کا متاثر ہونا ناگزیر تھا۔

(3) معتمد براے گورنر جنرل کے خط مورخہ 27 جنوری 1831ء کے ذریعے اس فیصلے سے آگاہ ہونے کے بعد کہ حضورِ والا(گورنرجنرل)نصراللہ خاں کے متوسلین کی مالی امداد کے ضمن میں فیروزپور کے جاگیردار کے کےے ہوئے انتظام میں مداخلت پسند نہیں فرمائیں گے“غالب اپنے مقدمہ پنشن کی ناکامی پر عرصے تک بے حد افسردہ اور پریشان رہے۔ اس کے بعد اپریل 1844ء تک ان کا بیشتر وقت اس مقدمے کی اپیل کی کامیابی کے لیے تگ ودو میں صرف ہوا۔

(4) سقیم مالی حالت اور رئیسانہ طرزِ زندگی کی وجہ سے قرص کا بوجھ برابر بڑھتا جارہاتھا۔ پنشن کے مقدمے میں گورنر جنرل کے فیصلے کے بعد قرض خواہوں کے تقاضوں نے غالب کی زندگی اجیرن کررکھی تھی۔ انجامِ کار فروری 1835ء میں عدالتِ دیوانی سے ان کے خلاف پانچ ہزار کی ڈگری ہوگئی۔

          یہ تھاوہ پس منظر جس میں یہ مہر تیار ہوئی۔ یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ یہ1249ھ میں کندہ کرائی گئی تھی، یہ بات از خود طے ہوجاتی ہے کہ غالب کی اب تک دریافت شدہ مہروں میں اس کا چوتھا نمبر تھا۔

          محمد مشتاق تجاروی کابیان ہے کہ پروفیسرمختارالدین احمد کے خیال میں یہ مہر بدرالدین کے علاوہ کسی اور مہر کن کی کندہ کی ہوئی معلوم ہوتی ہے27۔ ہمیں اس خیال سے اتفاق کی بہ ظاہر کوئی معقول وجہ نظر نہیں و تی کیوں کہ اس کے حروف کی کشش اور نشست میں کوئی ایسا نقص موجود نہیں جو بدرالدین کی شانِ خط کے منافی ہو۔ البتہ اس کا جو نقش دستیاب ہواہے، وہ بہت صاف نہیں۔ یہی سبب ہے کہ مالک رام صاحب کو اس پر درج سنہ کے پڑھنے میں تسامح ہوا۔اس کیفیت کی وجہ سے بعض حروف کی ہیئتِ ظاہری بھی متاثر ہوئی ہے۔ غالباً اسی بناپر مختارالدین احمد صاحب کو یہ شبہ ہواکہ یہ بدرالدین کے علاوہ کسی اور کی بنائی ہوئی ہے۔

          پانچویں، چھٹی اور ساتویں، تینوں مہریں غالب کے شاہی خطاب ”نجم الدولہ، دبیرالملک، نظام جنگ“ سے تعلق رکھتی ہیں۔ مالک رام صاحب نے ان میں سے صرف آخری یعنی ساتویں مہرکا ذکر فرمایاہے اور اپنے حساب کے مطابق اسے چوتھے نمبر پر رکھاہے۔ چو ںکہ یہی مہر اس سلسلے کی باقی دو مہروں تک ہماری رسائی کا وسیلہ بنی ہے، اس لےے مناسب معلوم ہوتاہے کہ گفتگو کا آغاز اسی کے ذکر سے کیا جائے۔ اس ساتویں مہر پر غالب کا نام مع ان کے خطابات کے اس طرح کندہ تھا:

“نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ”

          دائیں طرف کے زیریں گوشے میں لکھے وئے سنہ کے مطابق یہ مہر 1267ھ میں تیار ہوئی تھی۔ غالب کو متذکرہ بالا خطابات بہادرشاہ ظفر نے 23 شعبان 1266ھ مطابق 4 جولائی 1850ء کو عطا کےے تھے اور ”تاریخ نویسی تاجدارانِ تیموریہ“ کی خدمت ان کے سپرد فرمائی تھی۔ مالک رام صاحب نے خود غالب کی ایک فارسی تحریر کے طویل اقتباس، ”اسعد الاخبار“ آگرہ کے 15 جولائی 1850ء کے شمارے میں شائع شدہ مفصل خبر اور مرزاہرگوپال تفتہ کے کہے ہوے قطعہ تاریخ کے حوالے سے اس سلسلے کی تمام تفصیلات اپنے مضمون میںیکجا فرمادی ہیں لیکن ایک پہلو کو بالکل نظرانداز کردیاہے کہ یہ خطابات تو 1266ھ میں ملے تھے پھر یہ مہر 1267ھ میں کیوں تیار ہوئی؟ خود اشتہاری غالب کے مزاج کاایک نمایاں عنصر تھی چنانچہ یہ بات ان کی نفسیات کے بالکل خلاف معلوم ہوتی ہے کہ وہ مہینوں نئی مہر کی تیاری کا انتظار کرتے اور اس اعزاز کے اعلان و اشتہار کے اس سہل الحصول اور موثر وسیلے سے اتنے دنوں تک محروم رہتے۔ اگر فاضل محقق کے ذہن میں یہ خلش پیداہوئی ہوتی اور انہوں نے اسے دور کرنے کے لےے غالب کی اس زمانے کی تحریروں پر بہ نظر غائر توجہ فرمائی ہوتی تو اس انکشاف میں زیادہ دیر نہ لگتی کہ وہ اس مہر سے پہلے ان خطابات پر مشتمل ایک نہیں، دو مہریں 1266ھ ہی میں تیار کراچکے تھے۔ لیکن چوں کہ یہ مہریں ان کے معیا رپر پوری نہیں اتریں اس لےے انہوں نے انہیں رد کرکے جلد ہی ایک اور مہر تیار کرالی جو عرصہ دراز تک ان کے استعمال میں رہی۔ اپنے شاگردِ عزیز منشی جواہر سنگھ جوہر کے نام 23 اکتوبر 1850ء(16 ذی قعدہ 1266ھ) کے خط میں لکھتے ہیں:

“روزے بودکہ نامہ بہ من رسیدکہ نگارش از شمابود و مہر از من۔ گفتم: سبحان اللہ شگرفیِ آثارِ یگانگی و اتحاد کہ ہم نامہ بہ نامِ من است وہم بہ مہرِ من چوں آں ورق بہ من رسید و من دراں وقت تنہا بودم، مشاہدہ نقشِ خاتمِ خویش برمکتوبِ موسومہ خویش مرابہ وجد آورد۔ بالجملہ چشم بہ راہِ نگینِ مہر داشتم، دی روز کہ سہ شنبہ و بست ودومِ اکتوبر بود، رسید۔ ہمانا مہر کن در کشمیر نہ ماند، ع مجلس چو برشکست، تماشا بہ مارسید۔ پس از پزوہش پدید آمد کہ قریبِ صد کس از ہوسناکانِ دہلی نگیں ہافرستادہ در کشمیر کند اندہ اندوہمہ شرمسار و پشیماں شدہ اند۔ حالیا آں سعادت نشاں راباید کہ دردِ سر نہ کشند و مہرِ دیگر بہ کندن نہ دہند۔ امروز دریں فن نظیر بدرالدین بہ گیتی نیست۔ چوں اوبدنوشت، پندارم کہ خوبیِ سرنوشتِ من است۔“28

          اس تحریر سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ 4 جولائی اور 22 اکتوبر 1850ء کے درمیان غالب نے دلّی کے مشہور مہر کن بدرالدین سے اس خطاب کی یادگار کے طورپر ایک تازہ مہر تیار کرائی تھی جو انہیں کسی وجہ سے پسند نہیں آئی۔ دوسری یہ کہ اس مہر کو رد کردینے کے بعد انہوں نے اپنے شاگرد منشی جواہر سنگھ جوہر سے جو اس زمانے میں پنجاب میں کسی جگہ برسرِ روزگار تھے، یہ فرمائش کی کہ وہ کشمیر کے کسی مہرساز سے ان کی مہر تیار کرادیں۔ یہ دوسرانگینہ انہیں 22 اکتوبر 1850ء کو موصول ہوا، لیکن اس کی نقاشی سے بھی وہ مطمئن نہیں ہوئے۔ غالباً اس کے بعد ہی 1267ھ میں اس سلسلے کی وہ تیسری مہر تیا رہوئی جسے مالک رام صاحب نے چوتھے اور ہم نے ساتویں نمبر پررکھا ہے۔ احوالِ ظاہری کے اعتبارسے یہ مہر بھی بدرالدین ہی کی تیارکردہ معلوم ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ انہو ںنے پچھلی مہر کے بارے میں غالب کی ناپسندیدگی کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس کی تیاری پر خصوصی توجہ صرف کی ہو۔

          پروفیسر مختارالدین احمد صاحب کابیان ہے کہ قیامِ آکسفورڈ کے دوران 1956ء میں انہوں نے ایک بار اس مہر کی زیارت کی تھی۔ تقریب یہ ہوئی کہ حیدرآباد سے ڈاکٹر نظام الدین صاحب اور آغا حیدر حسن صاحب کے داماد وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔ ایک روز جب وہ ان دونوں حضرات کو ایشمولین میوزیم کا وہ شوکیس دکھا رہے تھے جس میں مختلف قسم کی انگوٹھیاں اور مہریں رکھی ہوئی تھیں تو ڈاکٹر نظام الدین صاحب نے اپنے ہم سفر کی انگلی کی طرف اشارہ کیااو ران سے پوچھا: اس مہر کو آپ پہچانتے ہیں؟ یہ مرزا غالب کی مشہور مہر تھی۔ عقیق پر نہایت خوبصورت حروف میں ”نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ“کے الفاظ منقوش تھے۔ مختلف کاغدوں پر متعدد بار اس کے نقوش دیکھنے میں آئے تھے۔29

          مختارالدین احمد صاحب کے علاوہ ڈاکٹر ضیاءالدین احمد شکیب نے بھی اپنی کتاب ”غالب اور حیدرآباد“ میں اس مہر کا ذکر کیاہے، جس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ 1969ء تک آغا حیدرحسن کے ہاں موجود تھی۔ شکیب صاحب لکھتے ہیں:

“پروفیسرآغاحیدرحسن کے یہاں میرزا غالب کاایک چغہ اور ان کی ایک مہر ہے۔ یہ مہر جگری عقیق پر کندہ ہے۔ اس مہر کی عبارت حسبِ ذیل ہے:

“نجم الدولہ، دبیرالملک، اسد اللہ خاں غالب، نظام جنگ”

1262ھ

آغا حیدرحسن صاحب کے بیان کے مطابق غالب کی یہ مہر شاہی مہر کن بدرالدین نے تیار کی تھی۔“30

          اس مہر سے متعلق یہ دونو ںبیانات تحقیقی اعتبار سے ناقص اور وضاحت طلب ہیں۔ مختارالدین احمد صاحب کے بیان کا نقص یہ ہے کہ انہو ںنے صرف اجزاے خطابی نقل فرمائے ہیں، مہر کے باقی اندراجات کو نظر انداز کردیاہے، جب کہ شکیب صاحب کی نقل کردہ عبارت میں ”اسد اللہ خاں“ اور ”نظام جنگ“ کے درمیان ”غالب“ کا اندراج او رنیچے دیاہوا سنہ مشکوک ہے۔ سنہ کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ اس کے نقل کرنے میں سہوہواہے، خواہ اس کے ذمّہ دار خود صاحبِ کتاب ہو ںیا ان کا کاتب۔ اسے ہرحال 1266ھ یا 1267ھ ہونا چاہیے۔ اگریہ 1266ھ ہے تویہ مہر یقینا اس مہر سے مختلف ہے جسے مالک رام صاحب نے اپنے مضمون میں متعارف کرایاہے اور اگر 1267ھ ہے تو اس میں نام کے بعد لفظِ ”بہادر“ کی بجاے تخلص یعنی ”غالب“ کا اندراج خلافِ واقعہ ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ دراصل یہ وہی مہر ہے جو منشی جواہر سنگھ جوہر نے کشمیر کے کسی مہرساز سے کندہ کراکے اکتوبر 1850ء میں غالب کو بھیجی تھی۔ اس کے رد کیے جانے کی وجہ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں نام کے ساتھ ”بہادر“ کالاحقہ موجود نہیں تھا، جس کا شمول از روے قاعدہ بے حد ضروری تھا۔اس سلسلے میں منشی شیونرائن آرام کے نام ستمبر 1858ء کے ایک خط کا یہ اقتباس ملاحظہ طلب ہے:

“سنو، میری جان!نوابی کا مجھ کو خطاب ہے ”نجم الدولہ“ اور اطراف و جوانب کے امرا سب مجھ کو ”نواب“ لکھتے ہیں، بلکہ بعض انگریز بھی یاد رہے”نواب“ کے لفظ کے ساتھ ”میرزا“ یا ”میر“ نہیں لکھتے۔ یہ خلافِ دستور ہے۔ یا ”نواب اسد اللہ خاں“ لکھو یا ”میرزا اسد اللہ خاں“ اور ”بہادر“ کا لفظ تو دونوں حال میں واجب اور لازم ہے۔”

          یہ مہر چوں کہ شکیب صاحب کی نطر سے گزر چکی تھی، اس لیے نومبر 2004ء میں جب وہ لندن سے حیدرآباد تشریف لائے تو میں نے اپنے شبہات کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے رجوع کیاکہ وہ صحیح صورتِ حال سے مطلع فرمائیں۔ موصوف نے اس کے جواب میں اپنے مکتوب مورخہ 29 نومبر 2004ء میں جو وضاحت فرمائی ہے وہ حسب ذیل ہے:

غالب کی یا غالب سے منسوخ جس مہر کاذکر ”غالب اور حیدرآباد“ میں ہے،وہ اب ہماری دسترس سے باہر ہے۔ یہ مہر پروفیسر آغا حیدرحسن کی ملکیت تھی۔ انہوں نے جناب محمد اشرف صاحب کو تحفةً دے دی تھی۔ محمد اشرف صاحب وہی ہیں جنہوں نے سالار جنگ میوزیم کے مخطوطات کا کیٹلاگ کئی جلدوں میں شائع کیامیں نے غالب کی یہ مہر محمد اشرف صاحب کے یہاں دیکھی تھی۔ جہاں تک یاد ہے وہ خود اس مہر سے مطمئن نہیں تھے۔ اس کاذکر میں نے پروفیسر آغا حیدر حسن صاحب سے کیا ۔آغا صاحب نے اپنی روایات کے مطابق وثوق سے کہا کہ یہ مرزا غالب کی ہے بلکہ یہ تک وضاحت کی، یہ بدرالدین مہر کن کی کندہ کی ہوئی ہے۔ آغا صاحب قلعہ معلّٰی کی یادگار تھے۔ ان کے گھرانے اور مرزا غالب کے گھرانے کے تعلقات قدیم تھے۔ میں کیاجواب دیتا۔ لہٰذا میں نے تمام اختلافات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ”غالب اور حیدرآباد“ میں اس کا ذکر کردیا۔اب یہ آپ جیسے محققین کا کام ہے کہ اس کے بارے میں کوئی قطعی راے قائم فرمائیں۔

          جہاں تک مجھے یقین ہے”غالب اور حیدرآباد“ میں مہر کا متن جو دیاگیاہے،و ہ درست ہے۔ اس میں سہوِ کتابت کو دخل نہیں۔ ممکن ہے کہ مہر میں تاریخ غلط کندہ ہوگئی ہو، اس لےے اس کو استعمال نہ کیاگیاہو۔ پڑی رہی ہو اور خاندانی تعلقات کی وجہ سے آغا حیدرحسن صاحب تک پہنچی ہو۔

جس وسیلے سے یہ مہر ہم تک پہنچی، اس کی وجہ سے ہم اس کو ‘فیک’ تو نہیں کہ سکتے، لیکن اگر غلط کندہ ہوگئی ہو تو

Discarded

کہہ سکتے ہیں۔

شکیب صاحب کی اس تحریر سے معلوم ہوجانے کے بعد کہ آغا حیدر حسن صاحب نے یہ مہر محمد اشرف صاحب کو تحفةً عنایت فرمادی تھی، یہ مناسب معلوم ہوا کہ آغا صاب کے داماد میرمعظم حسین صاحب سے درخواست کی جائے کہ وہ اس کے بارے میں حصول معلومات میں مدد فرمائیں۔ موصوف نے میرے 4 فروری 2005ء کے خط کے جواب میں 25 فروری 2005ء کو تحریر فرمایا:

“آپ نے خط میں جس مہر کا ذکر کیا ہے،اس کا مجھے علم نہیں ہے، لیکن میری شادی کے موقعہ پر میرے خسر پروفیسر آغا حیدرحسن مرزا نے مجھے ایک انگوٹھی عنایت کی تھی جس کو میں نے پچاس سال سے زائد اپنے ہاتھ پرپہنا۔ اُس انگوٹھی پر اسداللہ خاں غالب کے خطابات کندہ تھے۔ میں اس انگوٹھی کو اب محفوظ کروادیاہوں جس کی وجہ سے اس کا عکس بھیجنے سے قاصر ہوں۔”

          اس مایوس کن جواب کے بعد بہ ظاہر اب اس مہر تک رسائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی، اس لےے باقی مہروں کی طرح اسے بھی متاعِ گم گشتہ تصور کرکے طاقِ نسیاں کے کسی گوشے میں ڈال دینا چاہےے۔ راقمِ سطور اپنے اس خیال پر بہر حال قائم ہے کہ غالب نے اسے نام کے بعد لفظِ ”بہادر“ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسترد کردیاہوگا۔شکیبصاحب کی راے کے مطابق سنہ کا غلط کندہ ہوجانا بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس کے برخلاف بے خیالی یا رواروی کے باعث اکائی کے عدد چھ (6) کا دو(2) پڑھ لیا جانا عملی تجربات کی روشنی میں زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔

          جس طرح ساتویں مہر کے متعلق غوروخوض کے نتیجے میں اس چھٹی مہر کے وجود کا علم ہوا،اسی طرح اس چھٹی مہر کے حوالے سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ انہی خطابات پر مشتمل ایک مہر اس سے قبل بھی تیار ہوچکی تھی۔ ”امروز دریں فن نظیر بدرالدین بہ گیتی نیست۔ چوں اوبدنوشت، پندارم کہ خوبیِ سرنوشتِ من است۔“ سے اشارہ ملتاہے کہ یہ مہر بدرالدین نے کندہ کی تھی لیکن غالب اس سے مطمئن نہیں تھے۔ انہو ںنے اپنی اس بے اطمینانی یا ناپسندیدگی کا سبب مہر ساز کی بدنویسی کو ٹھہرایاہے، لیکن یہ بات اس لےے قابلِ قبول نہیں معلوم ہوتی کہ ”بدرالدین“ اور ”بدنویسی“ میں بہ ظاہر لفظِ ”بد“ کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں تھی۔ غالب کی اس زمانے کی تحریریں تقریباً نایاب ہیں۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد ہمیں صرف ایک خط دستیا ب ہواہے جس پر یہ مہر ثبت تھی، لیکن یہ اصل خط نہیں، اس کی نقل ہے، اس لےے اس کی روشنی میں اس مہر کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ خط مفتی سید احمد خاں بریلوی کے نام ہے اور پنجشنبہ 3 اکتوبر 1850 کو یعنی منشی جواہر سنگھ جوہر کے بھیجے ہوئے نگینے کے دہلی پہنچنے سے صرف انیس (19) دن پہلے لکھا گیاہے۔اسے محمد ابرار علی صدیقی نے اپنی کتاب ”آئینہ دلدار“ میں جو میاں دلدار علی مذاق بدایونی کی سوانح عمری ہے، دوسرے کئی خطوط کے ساتھ نقل کیاہے۔ خط کے آخر میں مہر کی عبارت بھی بہ ظاہر اس کی ہیئتِ اصلی کے مطابق ایک مستطیل کی شکل میں نقل کردی گئی ہے31۔ پانچویں مہر کی یہ دستی نقل ساتویں مہر کے دستیاب نقوش سے صرف اس قدر مختلف ہے کہ یہ سنہ کی قید سے عاری ہے جب کہ آخرالذکر میں اس کی تیاری کا سنہ (1267ھ) بھی موجود ہے۔ لیکن یہ محض اتفاق بھی ہوسکتاہے کیوں کہ ساتویں مہر جو 1267ھ کے بعد برابر زیرِ استعمال رہی، اس کی ایسی کئی نقلیں بھی ہمارے علم میں ہیں جن میں سنہ کا اندراج نہیں۔ ان حالات میں زیرِ بحث پانچویں مہر کی کیفیتِ ظاہری کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہنا دشوار ہے۔ البتہ مفتی سیّداحمد کے نام کے خط پر اس کے نقش کی موجودگی میں اس کے وجود پر کسی شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

          غالب نے اپنی آخری مہر 1278ھ (1861-62) میں یعنی اپنی وفات سے تقریباً سات سال قبل تیار کرائی تھی۔ اس مہرکی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ان کی دوسری تمام مہروں کی بہ نسبت کافی مختصر ہے یعنی اس پر صرف ان کا تخلص (غالب) اور تیاری کا سنہ (1278ھ) کندہ ہے۔ اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مالک رام صاحب لکھتے ہیں:

“جو لوگ نفسیات سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ نفسِ انسانی میں ”انا“ کے ارتقا کا انتہائی مقام یہ ہے کہ انسان کسی غیر معمولی کامیابی کے بعد اپنے تعارف کے لیے مختصر ”علَم“ کا استعمال کرنے لگتا ہے۔“(ص88)

          غالب کی اس نفسیاتی کیفیت کو انہوں نے جن دو غیر معمولی کامیابیوں کا نتیجہ قرار دیاہے، ان میں سے پہلی ”قاطعِ برہان“ کی اشاعت ہے جو ان کے بقول ”ہندوستان کے فارسی دانوں کے خلاف ساری عمر کے جہاد“ کا ایک عملی ثبوت بھی تھی اور ”علی الاعلان عام دعوتِ مبارزت بھی“۔ یہ کتاب 20 رمضان المبارک 1278ھ مطابق 22مارچ 1862ء کو اس زمانے کے سب سے مشہور و ممتاز طباعتی ادارے مطبعِ منشی نول کشور، لکھنو میں چھپ کر شائع ہوئی تھی۔ دوسری بڑی کامیابی یہ تھی کہ اسی سال مطبعِ نول کشور میں ان کے کلیاتِ فارسی کی طباعت شروع ہوئی جو اگلے سال یعنی 1863ء میں مکمل ہوگئی۔ اس سلسلے کی تمام ضروری تفصیلات قلمبند کرنے کے بعد محترم محقق اس نتیجے پر پہنچے ہیں:

“1862ع۔ 1863ء میرزا کی زندگی میں نہایت اہم سال ہیں۔ ”قاطعِ برہان“ اگر دوسروں کی شکست کا اعلان تھاتو کلیات ان کی فتح مندی کا ثبوت۔ اسی سال ان کا اپنے نگیں پر ”غالب“ کندہ کرانا اسی حقیقت کا ایک اور پیراے میں اظہارہے۔ اب گویا انہوں نے اس دعوے پر مہر لگادی کہ فارسی علم و زبان کے لحاظ سے میں ”علیٰ کلٍّ غالب“ ہوں۔“(ص90-91)

          کسی بھی معروف طباعتی و اشاعتی ادارے سے بہ یک وقت دو کتابوں کی اشاعت کسی بھی مصنف کے لیے فخر و مباہات کا باعث ہوسکتی ہے۔ غالب کو بھی اس سے مستثنٰی نہیںکیا جاسکتا۔لیکن یہ اتنی بڑی کامیابی یقینا نہیںکہ غالب جیسا یگانہ روزگار فن کار اس کی علامت کے طورپر ایک مہر تیار کراکے اسے یادگار بنادے۔ دنیا میں ہزاروں کام ایسے ہیں جن کی انجام پذیری میں وقت کا تعین کوئی اہمیت نہیں رکھتا، مگرجب وہ انجام پاجاتے ہیں تو وقت کے ساتھ ان کے تعلق کی متعدد توجیہات و تاویلات کی جاسکتی ہیں اور حسبِ اتفاق ان میں سے کوئی توجیہہ یا تاویل واقعے کے عین مطابق بھی ہوسکتی ہے۔ اس مہر کے سلسلے میں مالک رام صاحب قبلہ کے ارشادات بھی اسی ضمن میں آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غالب کو بیس پچیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنی انفرادیت کا بہ خوبی ادراک و احساس ہوگیاتھا۔ کلکتے میں قیام کے دوران قتیل کی زبان دانی پر ان کے اعتراضات کو بجاطورپر ہندوستانی فارسی دانوں کے خلاف ان کے مبیّنہ جہاد کا نقطہ آغاز کہا جاسکتاہے۔ اس وقت اپنے بیان کردہ سالِ ولادت (1212ھ) کی رو سے وہ عمر کی بتّیسویں منزل میں اور ہماری تحقیق کے مطابق چھتیسویں سال میں تھے۔ اس کے بعد انانیت کی یہ لے متواتر تیز ہوتی رہی۔ حتّی کہ نصف صدی پوری کرتے کرتے انہیں وہ مقام حاصل ہوگیاجہاں شہرت کے پرِ پرواز لگاکر اڑنے والے کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں رہتے۔ چنانچہ 1260ھ 1844ء میں انہوں نے نواب وزیرالدولہ والیِ ٹونک کی خدمت میں جو قصیدہ مدحیہ ارسال کیاتھا، اس کے ایک شعر میں یہ واضح اعلان موجود تھا:

نامم بہ سخن غالب و رشن ترم از روز

بے ہودہ چرا جلوہ دہم اسم و علم را

          تقریباً اسی زمانے میں (پنج آہنگ کی اشاعت سے قبل) انہوں نے میاں نوروز علی خاں کو پہلی بار خط لکھاتو جواب کے لےے پتے میں صرف ”بہ دہلی بہ اسد الہ برسد“ کو کافی قرار دیا۔22 مارچ 1858ء کے خط میں مرزا تفتہ کو بھی اسی مختصر پتے پر اکتفا کی ہدایت کی گئی ہے۔ان دونوں خطوط کے اقتباسات گزشتہ صفحات میں پیش کےے جاچکے ہیں۔ ایک اور خط مرزا حاتم علی مہر کے نام ہے جو 1861ء میں لکھا گیا تھا، اس میں لکھتے ہیں:

“آپ کو معلوم رہے کہ میرے خط کے سرنامے پر محّلے کا نام لکھنا ضروری نہیں۔شہر کا نام اور میرا نام، قصہ تمام”

          اسی ہدایت کا اعادہ چار برس کے بعد مولوی عبدالرزّاق شاکر کے نام کے ایک خط میں بھی کیا گیا ہے۔ یہ خط مرزا صاحب نے ستمبر 1865ء میں رام پور کے سفر پرروانگی سے قبل تحریر فرمایاتھا۔ مکتوب الیہ موصوف کو مطلع فرماتے ہیں:

          “اب کوئی خط آپ بھیجیں تو رام پور بھیجیں۔ مکان کا پتا لکھنا ضروری نہیں۔ شہر کا نام اور میرا نام کافی ہے۔”

          پیش کردہ مثالو ںمیں سے تین مثالیں 1278ھ 1862ء سے قبل کے زمانے سے متعلق ہیں۔ چوتھی اور آخری مثال اگرچہ 1278ھ سے بعد کی ہے لیکن اس اعتبار سے بے حد اہم ہے کہ یہ برونِ دہلی یعنی رام پور کے عارضی قیام کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان سبھی مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ غالب اپنی شخصیت کی یکتائی سے بہ خوبی واقف تھے اور اپنے وقار کے تحفظ اور انا کی سربلندی کے لیے ہمہ وقت سرگرم و فکرمند رہتے تھے۔ ”ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے“ کسی شہر کی تخصیص کے بغیر ایک ایسا سوال تھاجس کا جواب ان کے تصور کے مطابق ”نہیں“ کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ ایک اتفاقی امر ہے کہ ان کی یہ آخری مہر جس پر صرف ان کا تخلص کندہ ہے، 1278ھ میں تیارہوئی، ورنہ اس سے مالک رام صاحب کے بقول جس نفسیاتی کیفیت کا اظہارہوتاہے، وہ اس سے اٹھارہ برس قبل 1260ھ میں کہے ہوے ان کے اس شعر سے بھی ظاہر ہے جس میں ”اسم و علم“ سے بے نیازی اور صرف تخلص کے حوالے سے اَبَین مِنَ الامس(روشن تراز روز) ہونے کادعویٰ کیا گیاہے۔ ہا ںیہ امر بھی قابلِ لحاظ ہے کہ انہو ںنے اپنی بعض تحریروں میں شعروادب کے تناظر میں صرف تخلص کے حوالے سے اور مراسلت و مکاتبت کی حالت میں نام کی مختصر ترین شکل ”اسد اللہ“ کے ذریعے روشناسِ خلق ہونے پر جو اصرار کیاہے،وہ کسی داخلی مغائرت یا تضادکا مظہر نہیں۔ تعارف کی یہ دونوں صورتیں ”ہرسخن وقتے و ہر نکتہ مکانے دارد“ کے بہ مصداق ایک ہی باطنی کیفیت کی نشان دہی کرتی ہیں۔

          غالب کی جن مہروں کے نقوش اہلِ علم کی دسترس میں ہیں،ان میں یہ آخری مہر وہ واحد مہر ہے جس کے خط کی ناپختگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ بدرالدین کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ غالب کے کسی دوست یا شاگرد نے یہ سوچ کرکہ شاعر کی حیثیت سے غیر معمولی شہرت و ناموری کے باوجود انہوں نے اپنے تخلص کے ساتھ کوئی مہر کندہ نہیں کرائی، یہ مہر بہ طورِ خود کسی معمولی مہر ساز سے تیار کراکے ان کی خدمت میں پیش کردی ہو اور انہوں نے اس دوست یا شاگرد کے پاسِ خاطر کی بناپر اسے رد کردینا مناسب نہ سمجھا ہو۔ اس سوال کا کہ ان کی نفاست پسندی کیوں کر اس کی متحمل ہوئی، اس کے علاوہ کوئی اور جواب سمجھ میں نہیں آتا۔

          مفصّلہ بالا تجزےے سے ظاہر ہے کہ مالک رام صاحب نے ان مہروں کی تیاری کے سلسلے میں جو تاویلات پیش فرمائیں ہیں، ان میں سے بیشتر قابلِ قبول نہیں۔ لیکن ان کے اس بنیادی موقف سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ ان میں سے ہر مہر اپنا ایک نفسیاتی، مذہبی یا تاریخی پس منطر رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے غالب کی پر پیچ شخصیت اور ذہن و مزاج کی تفہیم میں دوسرے خارجی وسائل کے ساتھ ان مہروں کا کردار بھی مناسب توجہ کا مستحق ہے۔ یہی ایک بات ان کے بارے میں تحقیق و تنقید کا جواز فراہم کرتی ہے۔

حواشی:

1۔ غالب شناس مالک رام، از ڈاکٹر گیان چند، غالب اکیڈمی،نئی دہلی، 1996، ص67

2۔ فسانہ غالب، از مالک رام، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، 1977، ص81۔ آئندہ تمام مقامات پر اقتباسات کے آخر میں قوسین کے اندر صفحات کے حوالے دے دےے گئے ہیں۔

3۔ نامہ ہاے فارسیِ غالب، مربتہ سید اکبر علی ترمذی، غالب اکیڈمی، نئی دہلی، 1969، ص117۔ غالب کی خاندانی نشن اور دیگر امور، نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹر، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، اسلام آباد، 1997، ص39

4۔ فسانہ غالب،ص115

5۔ نامہ ہاے فارسیِ غالب، ص103

6۔ غالب کی خاندانی پنشن،ص49

7۔ ایضاً،ص53

8۔ متفرقاتِ غالب، مرتبہ پروفیسر مسعود حسن رضوی، طبعِ ثانی، لکھنو1969، ص126

9۔ دیوانِ غالب، مرتبہ نظامی بدایونی، طبعِ ثانی، بدایوں، 1918، صفحہ ماقبلِ متن

10۔ احوالِ غالب، مربتہ پروفیسر مختارالدین احمد، طبعِ ثانی، دہلی، 1968،ص34

11۔ بہ حوالہ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ جنوری 1989، ص215-16

12۔ گلشنِ بے خار، از نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ، طبعِ اول، دہلی، 1837، ص185

13۔ بہ حوالہ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ مذکور الصدر، ص173

14۔ فسانہ غالب،ص49

15۔ احوالِ غالب، ص142۔143

16۔ مکاتیبِ غالب، مربتہ مولانا امتیاز علی عرشی، طبعِ دوم، رام پور، 1943، حاشیہ ص41

17۔ یادگارِ غالب(عکسی ایڈیشن)یو۔پی۔اردو اکاڈمی، لکھنو1986، ص9

18۔ نامہ ہائے فارسیِ غالب،ص103

19۔ پنج آہنگ، طبعِ ثانی، دہلی، 1853، ص334

20۔ دیوانِ غالب بہ خطِ غالب، مرتبہ اکبر علی خاں عرشی زادہ، رام پور، 1969،ص16

21۔ گلِ رعنا، مرتبہ مالک رام، دہلی، 1970، ص35

22۔ غالب کے خطوط، مرتبہ خلیق انجم، جلد سوم، دہلی،ص1029۔ 30

23۔ پنج آہنگ، ص389

24۔ تجلیات، از مرزامحمد ہادی عزیز لکھنوی، ص197-98، بہ حوالہ ماہنامہ نیادور، لکھنو شمارہ جولائی 1980، ص12

25۔ غالب درونِ خانہ، از کالی داس گپتا رضا، ساکار پبلشرز، بمبئی، 1989، ص43

26۔ پنج آہنگ، ص113

27۔ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ جنوری 1996، ص164

28۔ باغِ دو در، مرتبہ سید وزیرالحسن عابدی، لاہور، 1970، ص120

29۔ گنجینہ غالب، پبلی کیشنز ڈویژن، نئی دہلی، 1995،ص168 تا ص170

30۔ غالب اور حیدرآباد، از ڈاکٹر ضیا ءالدین شکیب، نئی دہلی، 1969، ص223

31۔ آئینہ دلدار، از ابرار علی صدیقی، کراچی، 1956، ص93

غالب کی مُہریں

حنیف نقوی

غالب کی مُہریں

          اشیا کی قدروقیمت کا تعیّن بالعموم ان کی ماہیت اور کیفیتِ ظاہری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات کوئی نسبتِ خاص کسی شے کو اس کی حیثیتِ ظاہری سے بلند تر کرکے اس مرتبہ و مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں اس کے دوسرے تمام اوصاف ہیچ و بے مقدار ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سربرآوردہ اور نامور شخصیات سے تعلق رکھنے والی بعض معمولی چیزیں بھی محض ان کی ذات سے نسبت کی بناپر غیر معمولی اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ جہاں تک اردو زبان و ادب کا تعلق ہے، غالب اس معاملے میں بھی اپنے تمام ہم مشربوں میں سابق وفائق ہیں کہ ان سے وابستہ ہر شے اس نسبتِ خاص کے انکشاف کے ساتھ از خود معتبر و محترم ہوجاتی ہے۔ ان کی مختلف مہریں جن کے نقش ان کی بے شمار تحریروں پر ثبت ہیں، اس ضمن میں بہ طورِ مثال پیش کی جاسکتی ہیں۔ مہروں کا رواج انیسویں صدی میں اور اس سے پہلے بہت عام تھا، چنانچہ یہ بات یقینی ہے کہ غالب کے بہت سے معروف و ممتاز معاصرین اور ان سے پہلے کے لاتعداد مشاہیر شعرا اور اہلِ علم نے اپنے ناموں کی مہریں تیار کرائی ہوں گی اور مرورِ ایام کے باوجود بعض کتابوں اور تحریروں پر ان کے نقوش کی موجودگی بھی خارج از امکان نہیں، تاہم ان کی تلاش و تحقیق اور ان سے متعلق گفتگو میں اہلِ علم کی دلچسپی کا ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جیسی دلچسپی کا مظاہرہ غالب کی مہروں کے سلسلے میں کیاگیاہے۔ البتہ ان کے بعض ہم نام و ہم تخلص یا صرف ہم نام حضرات کی مہریں محض اس غلط فہمی یا شبہے کی بنا پر کہ وہ غالب سے نسبت رکھتی ہیں، ضرور معرضِ بحث میں آتی رہی ہیں۔ نسبتیں کبھی کبھی کتنی اہم ہوجاتی ہیں، یہ اس کا بیّن ثبوت ہے۔

          تازہ ترین معلومات کے مطابق غالب نے اپنی زندگی کے محتلف ادوار میں کم از کم آٹھ (۸) مہریں بنوائی تھیں۔ مالک رام صاحب نے مندرجہ بالا عنوان (غالب کی مہریں) ہی کے تحت اپنے ایک مضمون میں جو ان کے مجموعہ مضامین ”فسانہ غالب“ میں شامل ہے، ان میں سے چھ (۶) مہروں کا مفصّل تعارف سپردِ قلم فرمایاہے۔ بعد کے جن مصنفین اور توقیت نگاروں نے اپنی نگارشات میں ان مہروں کا ذکر کیاہے، ان کا ماخذ یہی مضمون ہے۔ ڈاکٹر گیان چند کے نزدیک ”اس مضمون کا سب سے قابلِ قدر پہلو ان مہروں کا نفسیاتی مطالعہ ہے۱۔“ خود مالک رام صاحب کے ارشاد کے مطابق ”میرزا کی یہ مہریں ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت اور عام حالت کی مادّی ترجمان ہیں(انہوں) نے ان میں اپنی زندگی کے اہم واقعات کو بھردیا ہے۲۔“ پیشِ نظرسطور میں یہ دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ تجزیہ جو بہ ظاہر بہت محققانہ اور عالمانہ معلوم ہوتا ہے، کس حد تک مبنی بر حقیقت ہے؟

          دریافت شدہ مہروں میں سے دو قدیم ترین مہریں غالب نے 1231ھ (1815-16ع) میں کندہ کرائیں تھیں۔ ان میں سے ایک مہر پر خطِ نستعلیق میں ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ“ اور دوسری پر خطِ نسخ میں ”اسد اللہ الغالب“ نقش تھا۔ مالک رام صاحب کے مطابق پہلی مہر سے غالب کی ”اس زمانے کی سرمستی و رنگینی، رندی و ہوس پیشگی بہ درجہ اتم ظاہر ہے۔“ (ص81) جب کہ دوسری مہر”ان کے دلی خیالات و معتقدات کی مظہر ہے۔“(ص82) پہلے تاثر کی تائید میں منشی شیونرائن آرام اور مرزا حاتم علی مہر کے نام کے خطوط سے شطرنج کے کھیل سے دلچسپی، پتنگ بازی کے شوق اورایک ستم پیشہ ڈومنی کو مار رکھنے کے واقعات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

“غالب کے والد میرزاعبداللہ بیگ خاں کا عرف ”میرزا دولھا“ تھا، اسی لیے لوگ میرزا غالب کو بچپن ہی سے ”میرزانوشہ“ کہنے لگے۔ اس عرف کی پستی ظاہر ہے اور خود میرزا کو بھی بعد کو اس ”نالائق“ عرف سے نفرت ہوگئی تھی۔ مگر اس طوفانی زمانے میں بھلا ثقاہت کہاں قریب پھٹک سکتی تھی۔ یہ باتیں شعور اور تجربے سے حاصل ہوتی ہیں اور وہ ان کی عمر اور گرد و پیش کا اقتضا نہ تھا۔“ (ص81)

دوسری مہر کے سلسلے میں محترم مضمون نگا رکا ارشاد ہے:

          “اس مہرکی بناحضرتِ علی کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کا نام اسد اللہ تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا اور بعد کو ان کے دوسرے تخلص کی بنا بھی یہی ہوئی۔ چوں کہ سامنے کی چیز تھی اس لیے جب انہوں نے تخلص تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسد چھوڑ کر بلا تامّل غالب رکھ لیا“ (ص81)

          اس کے بعد حضرت علیؓ سے میرزا صاحب کی عقیدت اور ”شیعت سے شغف“ کو عبد الصمد سے زبانِ فارسی کی تحصیل اور ”ایران کے علوم و رسوم“ سے حصولِ واقفیت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے علائی کے نام 17جولائی 1862ء کے ایک خط کے حوالے سے ان کے مذہب و مسلک کی وضاحت کی ہے، جس کا لُبِّ لباب خود میرزا صاحب کے الفاظ میں حسب ذیل ہے:

“محمد علیہ السّلام پر نبوت ختم ہوئی مقطع نبوّت کا مطلع امامت اور امامت نہ اجماعی بلکہ مِن اللہ ہے، اور امام مِن اللہ علی علیہ السّلام ہیں، ثمّ حسن، ثمّ حسین تامہدی موعود علیہ السّلام “ (ص82)

          ایک ہی سال میں تیارشدہ ان دو مہروں کو دو مختلف بلکہ متضاد مزاجی کیفیات اور طبعی میلانات کی علامت قرار دے کر مالک رام صاحب نے اجتماعِ ضدّین کی جو مثال پیش فرمائی ہے، وہ عقلاً ممکن الوقوع تو ہے لیکن عملاً بعید از قیاس نظر آتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پہلی مہر میں نام کے ساتھ عرف کی موجودگی نہ تو عنفوانِ شباب کی رنگ رلیوں یا لابالی پن کی مظہر تھی اور نہ ثقاہت کے منافی۔ جیسا کہ خود مالک رام صاحب نے فرمایاہے، غالب بچپن ہی سے ”میرزانوشہ“ کے عرف سے معروف تھے، لیکن واقعہ صرف اتنا ہی نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ عرف شروع سے آخرِ عمر تک ان کے نام کا جزوِ لا ینفک بنارہا اور یہ بات ان کے لیے کسی بھی درجے میں ناگواری کا باعث نہ تھی۔ غالب کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ بنیادی نکتہ ذہن نشیں رکھنا اشد ضروری ہے کہ مصلحت اندیشی ان کے مزاج کا لابُدی خاصّہ تھی۔ اس معاملہ میں وہ اس قدر حسّاس واقع ہوئے تھے کہ ان سے عمداً کسی ایسے کام کی توقعی ہی نہیں کی جاسکتی تھی جو خلافِ مصلحت یا مقتضاے وقت کے منافی ہو۔ عرف کا معاملہ بھی اس سے مستثنٰی نہیں، چنانچہ اس کے ترک و اختیار کے سلسلے میں بھی ان کی تمام تر ترجیحات بہ ظاہر وقتی ضرورت اور حالات کے تقاضوں کا ردِّ عمل معلوم ہوتی ہیں۔ 1231ھ (1815-16ع) میں اس مہر کے کندہ کرانے کے بعد انہوں نے جہاں جہاں اس عرف کو اپنے قلم سے اپنی شناخت کا وسیلہ بنایا، ان میں سے مندرجہ ذیل تحریریں اب بھی محفوظ ہیں:

          (1) درخواست بہ نام سائمن فریزر مورخہ 28 اپریل 1828 ع ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ برادر زادہ نصر اللہ بیگ خاں جاگیردار سونک سونسا۔“3

          (2) عرضی دعویٰ پنشن مورخہ 28 اپریل 1828 ع ”میرا نام اسد اللہ خاں ہے اور عرف میرزا نوشہ“4

          (3) درخواست بہ نام ”سر حلقہ افرادِ دفتر کدہ کلکتہ“: ’اسمِ ایں فقیر اسد اللہ خان است و علَم مرزا نوشہ و تخلص غالب۔“5

          (4) عرضی بہ نام اینڈ ریواسٹرلنگ مورخہ 15 جولائی 1829 ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزانوشہ برادر زادہ کلانِ نصراللہ بیگ خاں۔“6

(5) عرضداشت مورخہ 11 اگست 1829 ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ برادر زادہ نصراللہ بیگ خاں جاگیردار سونک سونسا۔“7

(6) مکتوب بہ نام راے سدا سکھ مدیر اخبار جامِ جہاں نما مورخہ جمعہ، 25 صفر 1247ھ (5 اگست 1831ع) ”ایں ننگِ آفرینش کہ موسوم بہ اسد اللہ خاں و معروف بہ مرزا نوشہ و متخلص بہ غالب است۔“ 8

(7) دیباچہ دیوانِ اردو مرقوم بست و چہارم شہر ذی قعدہ 1248ھ (14 اپریل 1833ع) ”نگارندہ ایں نامہ بہ اسد اللہ خاں موسوم و بہ میرزا نوشہ معروف و بہ غالب متخلص است۔“9

(8) مکتوب بہ نام میر مہدی مجروح مورخہ 8 اگست1858ع ”وہ جو تم نے لکھا تھا کہ تیرا خط میرے نام کا میرے ہم نام کے ہاتھ جا پڑا، صاحب! قصور تمہارا ہے۔ کیوں ایسے شہر میں رہتے ہو جہاں دوسرا میر مہدی بھی ہو؟ مجھ کو دیکھو کہ میں کب سے دلّی میں رہتاہوں۔ نہ کوئی اپنا ہم نام ہونے دیا، نہ کوئی اپنا ہم عرف بننے دیا، نہ اپنا ہم تخلص بہم پہنچایا۔”

(9) خودنوشت براے تذکرہ شعرامرتبہ مولوی مظہر الحق مظہر: مرقومہ 1864ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ، غالب تخلص۔“10

          ان تحریروں سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ پسند و ناپسند سے قطعِ نظر غالب کو اس اعتراف و اظہار میں کوئی تامل نہ تھا کہ وہ ”مرزانوشہ“ کے عرف سے معروف ہیں۔ اگر وہ اسے اپنی شخصیت کا ایک لازمی جزونہ سمجھتے اور اس سے متنفّر یا بیزار ہوتے تو اس طرح باربار اس کا ذکر ہرگز نہ کرتے۔ ان کے اعزا، احباب اور معاصرین میں بھی ایسے متعدد حضرات شامل ہیں جنہیں اس عرف کے حوالے سے ان کا ذکر کرنے میں کوئی عذر مانع نہ تھا۔ اگراس میں ان کی ناخوشی یابے ادبی کا شائبہ ہوتا تو ان میں سے بعض لوگ یقینا اس سے احتراز برتتے۔ مثلاً:

          (1)  مولانا فضلِ حق خیرآبادی کے بڑے بھائی مولوی فضل عظیم نے 1241ھ 1826ء میں ”افسانہ بھرتپور“ کے نام سے فارسی میں ایک مثنوی لکھی تھی۔ یہ مثنوی مرزا غالب کی نظر سے گزر چکی تھی اور انہوں نے اس کی تاریحِ تصنیف بھی کہی تھی جو ان کے کلیات فارسی میں موجود ہے۔ مصنف نے اس مثنوی کے خاتمے پر یہ تاریخ نقل کرنے سے پہلے مرزا غالب کی تعریف میں بائیس شعر کہہ کر شاملِ کتاب کیے ہیں۔ ان اشعار کا عنوان انہوں نے ”در تعریف مرزا نوشہ صاحب“ قائم کیا ہے اور ایک شعر میں بھی ان کا ذکر ان کے اسی عرف کے ساتھ کیا ہے۔ شعر حسبِ ذیل ہے:

ز اوصافِ او ہر کسے آگہ است

کہ معروف با میرزا نوشہ است11

(2) نواب مصطفی خاں شیفتہ نے 1250ھ 1835ء میں تذکرہ ”گلشنِ بے خار“ تالیف کیا۔ اس میں مرزا صاحب کے ترجمہ احوال کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیاہے: ”غالب تخلص، اسمِ شریفش اسد اللہ خاں، المشتہر بہ مرزانوشہ“12

‘گلشنِ بے خار’ کا مسودہ طباعت سے پہلے مرزا صاحب کی نظر سے گزر چکا تھا۔ اگر نام کے ساتھ عرف کی شمولیت ان کے مزاج کے خلاف ہوتی تو وہ اس عبارت سے ”المشتہر بہ مرزا نوشہ“ کو بہ آسانی قلمزد کرسکتے تھے۔

          (3) سرسید کے برادرِ بزرگ سید محمد خاں بہادر نے اکتوبر 1841ء میں پہلی بار مرزا صاحب کا دیوانِ اردو اپنے لیتھوگرافک پریس سے شائع کیا تو اس کے سرورق پر ”دیوان اسداللہ خاں صاحب غالب تخلص، میرزا نوشہ صاحب مشہور کا“ لکھ کر گویا اس امر کی تصدیق کی کہ صاحبِ دیوان کا نام اسد اللہ خاں اور تخلص غالب ہے لیکن وہ عام طورپر مرزا نوشہ کے عرف سے مشہور ہیں۔

(4) دیوان کی اشاعت کے فوراً بعد سید محمد خاں بہادر کے لیتھوگرافک پریس ہی سے شائع ہونے والے ”سیدالاخبار“ کے 9 شوال 1357ھ 24 نومبر 1841ء کے شمارے میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا جس میں شائقین کو ”پنج آہنگ“ کی اشاعت کے لیے تیاری کی خوش خبری سنائی گئی تھی۔ اس کی ابتدابھی ”مرزا اسد اللہ خاں صاحب غالب تخلص، مرزا نوشہ صاحب مشہور“ سے ہوئی تھی۔

          منشی بال مکند بے صبر،غالب کے شاگرد کی حیثیت سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ انہوں نے اپنی اردو مثنوی ”لختِ جگر“ 1275ھ 1858ء میں نظر ثانی کے بعد بہ غرضِ اصلاح غالب کی خدمت میں پیش کی تھی۔ اس میں انہوں نے ”در شانِ مجمعِ کمالاتِ صوری و معنوی حضرت استادی جناب مولانا اسد اللہ خاں صاحب“ کے زیرِ عنوان جو اشعار کہے ہیں، ان میں ان کے نام، تخلص اور لقب (عرف) کا بیان اس طرح ہواہے:

نام اس کے سے کرتا ہوں میں آگاہ

اوّل ہے اسد اور آخر اللہ

مشہور تخلص اس کا غالب

مطلوبِ دلِ ہزار طالب

مرزا نوشہ لقب ہے اس کا

ثانی کوئی اور کب ہے اس کا16

(6) مکتوب بہ نام حسین مرزا مورخہ 29 اکتوبر 1859ء میں خود مرزا صاحب کا ارشاد ہے: “کاشی ناتھ بے پروا آدمی ہے۔ تم ایک خط تاکیدی اس کو بھی لکھ بھیجو۔ اکثر وہ کہا کرتا ہے کہ حسین مرزا صاحب جب لکھتے ہیں مرزا نوشہ ہی کو لکھتے ہیں۔”

          (7) مرزا یوسف کے انتقال کے پانچ برس بعد ان کی اہلیہ لاڈو بیگم نے یکم اکتوبر 1862ء کو ایک درخواست کے ذریعے ڈپٹی کمشنر سے یہ التجا کی کہ حکومت کی طرف سے ان کی مالی امداد کی جائے۔اس درخواست کے اندراجات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نے ان کے کوائف کا جو گوشوارہ مرتب کرکے کمشنر کو بھیجا تھا، اس کا ایک اندراج یہ بھی تھا کہ ”کبھی کبھی اس کے مرحوم خاوند کا بھائی مرزا نوشہ اس کی مدد کرتاہے14۔“ ظاہرہے کہ لاڈو بیگم نے اپنی درخواست میں ”مرزانوشہ“ ہی لکھا ہوگا۔

(8) 1867ء کے اواخر میں غالب نے ”قاطع القاطع“ کے مصنف مولوی امین الدین کے خلاف دہلی کی ایک عدالت میں ازالہ حیثیتِ عرفی کا مقدمہ دائر کیا۔ اس مقدمے میں ان کے وکیل مولوی عزیزالدین تھے۔ انہوں نے 15 دسمبر 1867ء کو پیش کردہ ایک درخواست کے آخر میں اپنے دستخط کے تحت خود کو ”وکیلِ مرزا اسداللہ خاں پنشن دارِ سرکاری عرف مرزا نوشہ“ اور 20 فروری 1868ء کی اسی سلسلے کی ایک اور تحریر کے خاتمے پر ”وکیلِ مرزا اسد اللہ خاں عرف مرزانوشہ“ لکھاہے۔15

(9) غالب کی وفات کے تیسرے دن ان کے فرزندِ متبنّٰی حسین علی خاں شاداں (پسرِ عارف) نے نواب کلب علی خاں کو اس حادثے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا تھا:

 ”بہ تاریخ 15 فروری سالِ حال مطابق 2 ذی قعدہ روزِ دوشنبہ وقت ظہر جناب دادا جان صاحب قبلہ نواب اسد اللہ خاں غالب عرف میرزا نوشہ صاحب نے اس جہانِ فانی سے رحلت کی۔“16

(10) مولانا حالی نے جو غالب کے عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے، ”یادگارِ غالب“ کا آغاز اس جملے سے کیا ہے:

“میرزا اسد اللہ خاں غالب المعروف بہ میرزانوشہ، المخاطب بہ نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ، المتخلص بہ غالب در فارسی واسد در ریختہ، شبِ ہشتمِ ماہِ رجب 1212 ہجری کو شہر آگرہ میں پیداہوئے۔“17

          عرف کے متواتر استعمال اور اس کے ساتھ شہرتِ عام کی ان مثالوں کے پیشِ نظر یہ باور کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ غالب واقعتا اس سے بیزار ہوں گے یا اسے بہ نظرِ حقارت دیکھتے ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ بھی واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک دوبا راپنے احباب کو اس کے استعمال سے روکابھی ہے اور اسے ”نالائق“ قرار دے کر ایک اعتبار سے اس کی مذمّت بھی کی ہے، لیکن اس کی وجہ ان کی وہی مصلحت اندیشی اور احتیاط پسندی تھی جو انہیں بہ وقتِ ضرورت خلافِ معمول فیصلے لینے پر مجبور کرتی رہتی تھی۔فروری 1828ء میں جب وہ اپنی پنشن کا مقدمہ حکومتِ عالیہ کے سامنے پیش کرنے کی غرض سے کلکتے پہنچے تو ایک ”نکوہیدہ سیرت“ ہم وطن (مرزا افضل بیگ) نے حکّام کو ان کی طرف سے بدظن کرنے کی غرض سے یہ افواہ اڑادی کہ اس تازہ وارد شخص نے اپنا نام بھی بدل لیاہے اور تخلص بھی۔ گویا یہ شخص فریبی اور جعل ساز ہے۔ اسی افواہ کے زیرِ اثر اعیانِ دفتر کو ان کا نام بہ غرضِ ملاقات اپنے افسرِ اعلیٰ تک پہنچانے میں تامّل تھا، کیوں کہ سرکاری کاغذات کے مطابق خاندانی پنشن ”مرزا نوشاہ“ کے نام جاری ہوئی تھی اور وہ ”مرزانوشہ متخلص بہ اسد“ کی منزل سے آگے بڑھ کر اب ”اسد اللہ خاں غالب“ کے طور پر روشناسِ خلق تھے۔ اس مرحلہ دشوار سے نبٹنے کے لیے مرزاصاحب نے اپنے دیوانِ اردو کے ایک قلمی نسخے کا سہارا لیا جسے مرتب ہوئے سات سال سے کچھ زیادہ مدت گزر چکی تھی او راس سفر میں اتفاقاً ان کے ساتھ تھا۔ اس دیوان میں وہ غزلیں بھی شامل تھیں جن کے مقطعوں میں پرانا تخلص (اسد) موجود تھااور وہ غزلیں بھی جن میں نیا تخلص (غالب) نظم ہواتھا۔ مزید برآں اس کے خاتمے پر 1231ھ کی وہ مہر بھی ثبت تھی جس کے نگینے پر ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ“ نقش تھا۔ غالب نے یہ دیوان ایک خط کے ساتھ ”سرحلقہ افرادِ دفتر“ (غالباً سائمن فریزر) کی خدمت میں پیش کردیا تا کہ وہ بہ طورِ خود فیصلہ کرسکیں کہ یہ افواہ کس حد تک درست ہے۔ خط میں انہوں نے لکھا تھا:

“آن مہر بہ ابطالِ دعویِ حداثتِ اسم مسکتِ مدعی است و در مسلّم نہ داشتنِ علَم برے سکوتِ ایں گمنام نیز کافی است۔ آرے اسمِ ایں فقیر اسد الہ خان است و علم مرزا نوشہ و تخلص غالب، لیکن ازیں جاکہ غالب کلمہ رباعی است و ظرفِ بعض بحور نشستِ آں رانیک برنتابد، فقیر لفظِ اسد راکہ مخففِ اسمِ عاصی است و معِ ہٰذا کلمہ ثلاثی، گاہ گاہ تخلص اختیار می کند۔“ 18

          اس تحریر سے غالب کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھاکہ اب سے بارہ سال پہلے بھی جب کہ یہ مہر تیار ہوئی تھی، وہ ”اسد اللہ خاں“ کے نام سے موسوم تھے۔ لہٰذا یہ مہر مدّعی کے اس دعوے کی تردید کے لیے کہ انہوں نے اپنا نام بدل لیا ہے، ایک مسکت دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیز یہ کہ ”مرزانوشہ“ انھی کاعرف ہے اور یہ ان کا اختیارِ تمیزی ہے کہ وہ چاہیں تو اسے استعمال کریں اور چاہیں تو ترک کردیں۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک وہ سرکاری خطوط اور عرضداشتوں میں اپنا نام ”اسد اللہ خاں عرف مرزانوشہ“ لکھتے رہے، بعد ازاں جب یہ قضیہ فیصل ہوگیاکہ ”مرزانوشہ“ بھی وہی ہیں اور ”اسد اللہ خاں“ بھی وہی تو انہوں نے اس دو عملی سے نجات پانے کے لیے آئندہ بہ نظر احتیاط صرف ”محمد اسد اللہ خاں“ یا ”اسد اللہ خاں“ لکھنے کا تہیّہ کرلیا۔ چنانچہ قیامِ کلکتہ کے اسی زمانے میں ایک بار اپنے دوست راے چھج مل کو خط لکھا تو پتے کے ذیل میں ان کے لکھے ہوئے مفصل نام کو موضوعِ گفتگو بناکر یہ سوال بھی کرڈالاکہ:

“برعنوانِ مکتوب کلمہ نواب راجزوِ اعظم (کذا=اسم) ساختن یعنی چہ و عرف پایانِ اسم رقم کردن چرا؟ سگِ دنیا را بہ اسد اللّٰہی شہرت دادن چہ کم است کہ نوابی و میرزائی برسرِ ہم باید افزود۔“19

          یہ بات بہ ظاہر انکسا رکے طورپر کہی گئی ہے لیکن اصل مقصد یہی معلوم ہوتاہے کہ نام کے ساتھ عرف نہ شامل کیا جائے تاکہ پڑھنے والے کا ذہن اس قضیہ نامرضیہ کی طرف منتقل ہی نہ ہو کہ مکتوب الیہ اب سے پہلے ”مرزانوشہ“ کے نام سے موسوم تھا اور اب اس نے اپنا نام بدل کر ”اسد اللہ خاں“ کر لیا ہے۔ اس کے بعد اگلے تیس (30) برسوں میں ان کی کوئی ایسی تحریر نہیں ملتی جس میں انہوں نے اس عرف سے بریّت کا اظہار کیا ہو یا کسی کو اس کے استعمال سے روکاہو۔ تا آن کہ یکم ستمبر 1858ء کو انہو ںنے مرزا ہرگوپال تفتہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا:

“صاحبِ مطبع (مفیدِ خلائق،آگرہ) نے خط کے لفافے پرلکھاہے:

”مرزانوشہ صاحب غالب“ للہ غور کرو، یہ کتنا بے جوڑ جملہ ہے۔ ڈرتاہوں کہ کہیں صفحہ اولِ کتاب پر بھی نہ لکھ دیں صرف اپنی نفرت عرف سے وجہ اس واویلا کی نہیں ہے بلکہ سبب یہ ہے کہ دلّی کے حکّام کو تو عرف معلوم ہے مگر کلکتے سے ولایت تک یعنی وزراکے محکمے میں اور ملکہ   عالیہ کے حضور میں کوئی اس نالائق عرف کو نہیں جانتا، پس اگر صاحبِ مطبع نے ”مرزانوشہ صاحب غالب“ لکھ دیاتو میں غارت ہوگیا، کھویاگیا، میری محنت رائگاں گئی، گویا کتاب کسی اور کی ہوگئی۔“

اس کے تیسرے دن ان سے دوبارہ یہ استدعا کی:

          منشی شیونرائن کو سمجھا دینا کہ زنہار عرف نہ لکھیں، نام اور تخلص بس، اجزاے خطابی کا لکھنا نامناسب بلکہ مضر ہے“۔

          ان بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب (دستنبو)کے سرورق پر صرف نام اور تخلص لکھنے اور عرف نہ لکھنے پر یہ اصرار فی الواقع اس مبیّنہ طورپر ”نالائق عرف“ سے نفرت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس احتیاط اور پیش بندی پر مبنی ہے کہ سرکاری کاغذات میں درج ان کے نام کے ساتھ اس عرف کی شمولیت ”وزراکے محکمے اور ملکہ عالیہ کے حضور میں“ کسی غلط فہمی کا سبب نہ بن جائے اور پھر کوئی ایسی صورتِ حال پیش نہ آجائے جیسی ایک بار کلکتے میں پیش آچکی تھی۔ غدر کے بعد کے مخصوص حالات اور انگریز حکّام کی مطلق العنانی کو مدِّ نظر رکھا جائے تو یہ اندیشہ کچھ بے جابھی نہ تھا۔ کلکتے میں انہیں ذاتی طورپر جو تجربہ ہوچکاتھا، ممکن ہے کہ اس قسم کے کچھ اور واقعات بھی ان کے علم میں ہوں۔ کم سے کم ایک واقعے کا ذکر خود ان کے ایک خط میں موجود ہے۔ یہ خط یوسف مرزا کے نام ہے اور قیاساً 1859ء کے وسط میں لکھاگیاہے۔ لکھتے ہیں:

“ایک لطیفہ پرسوں کا سنو:حافظ ممّو بے گناہ ثابت ہوچکے۔ رہائی پاچکے۔ حاکم کے سامنے حاضر ہواکرتے ہیں۔ املاک اپنی مانگتے ہیں۔ قبض و تصرف ان کا ثابت ہوچکا ہے، صرف حکم کی دیر۔ پرسوں وہ حاضر ہیں۔ مسل پیش ہوئی۔ حاکم نے پوچھا:

حافظ محمد بخش کون؟ عرض کیا میں۔ پھر پوچھا کہ حافظ ممّو کون؟ عرض کیا کہ میں۔ اصل نام میرا محمد بخش ہے، ممّوم ممّو مشہور ہوں۔ فرمایا: یہ کچھ بات نہیں، حافظ محمد بخش بھی تم، حافظ ممّو بھی تم، سارا جہان بھی تم، جو کچھ دنیا میں ہے، وہ بھی تم۔ ہم مکان کس کو دیں؟ مسل داخلِ دفتر ہوئی۔ میاں ممّو اپنے گھر چلے آئے۔

          جہاں ایک معمولی سے شبہے کی بنا پر اس طرح ایک جیتا ہوا مقدمہ ہارا جا سکتا ہے، وہاں غالب کا اپنے مفادات کے تحفظ میں ہرممکن احتیاط برتنا مقتضاے حال کے عین مطابق تھا۔ وہ یہ خطرہ مول لینے کے لیے کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہوسکتے تھے کہ نام اور عرف کے چکر میں حافظ محمد بخش عرف حافظ ممّو کی طرح ان کی مسل بھی داخلِ دفتر کردی جائے۔ تفتہ کے نام پنے محولّہ بالا دونوں خطوں میں سے پہلے خط میں انہوں نے جس تشویش کا اظہار کیا ہے اور دوسرے خط میں تاکید کی جو صورت اپنائی ہے، وہ بدیہی طورپر اسی قسم کے اندیشہ ہاے دور دراز کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر وہ واقعی اس ”نالائق عرف“ سے متنفّر ہوتے تو عام حالات میں بھی اپنے نام کے ساتھ اس کے الحاق کے خلاف کبھی نہ کبھی ضرور احتجاج کرتے، لیکن اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حد یہ ہے کہ 1865ء میں جب اسی کتاب (دستنبو) کا دوسرا ایڈیشن ”نسخہ صحیحہ مرسلہ مصنف“ کی بنیاد پر مطبع لٹریری سوسائٹی روہیل کھنڈ، بریلی سے شائع ہواتو اس کے سرورق پر ان کا پورا نام ”نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ، المتخلص بہ غالب عرف مرزانوشہ“ لکھا ہواتھا۔ نام کے ساتھ ”اجزاے خطابی“ اور ”عرف“ کے اس اندراج کو انہوں نے بعد کی کسی تحریر میں نہ تو ”نامناسب بلکہ مضر“ قرار دیا اورنہ اس پر کسی قسم کی ناگواری ظاہر کی۔

          دوسری مہر کے سلسلے میں مالک رام صاحب کا ارشاد ہے کہ ”اس کی بنا حضرت علی کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کا نام اسد اللہ تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا۔“ بعد میں جب انہوں نے تخلص تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسی لقب کی رعایت سے اسد کو چھوڑ کر غالب اختیار کرلیا (ص81) غالب نے ایک منقبتی قصیدے میں خود بھی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ تخلص کے اس انتخاب میں حضرت علی کے ”اسم و رسم“ کے اثرات شامل تھے۔ فرماتے ہیں:

اے کز نوازشِ اثرِ اسم و رسمِ تو

نامم زمانہ غالب معجز بیاں نہاد

          اس کے باوجود مالک رام صاحب کا یہ دعویٰ محتاجِ دلیل ہے کہ مرزا صاحب نے پہلے حضرت علی سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہا رکے طورپر یہ مہر کھدوائی،اس کے بعد اپنا تخلص اسد سے بدل کر غالب کیا۔اس کے برخلاف مرحوم اکبر علی خاں عرشی زادہ کا یہ استدلال زیادہ قرینِ صحت معلوم ہوتاہے کہ رجب 1231ھ (جون 1861ع) میں دیوان کے اولین دستیاب نسخے کی ترتیب کے وقت تک مرزا صاحب اسد تخلص کرتے تھے۔ بعد میں اسی سال کی کسی تاریخ کو انہوں نے غالب تخلص اختیار کیاتو یہ نئی باتخلص مہر کندہ کرائی۔ 20

          اگر اس مہر کی وساطت سے صرف ”دلی خیالات و معتقدات“ کا اظہار مقصود ہوتا تو یہ کام اس سے قبل بھی کیا جاسکتا تھاکیوں کہ غالب 1231ھ سے پہلے بارہا اس امر کا اعتراف و اعلان کرچکے تھے کہ

امامِ ظاہر و باطن، امیرِ صورت و معنی

علی، ولی، اسد اللہ، جانشینِ نبی ہے

          ان حالات میں ایک ہی سال کے اندر دو مہروں کی تیاری کی اس کے علاوہ اور کوئی معقول توجیہہ نہیں کی جاسکتی کہ مرزا صاحب نے اسی سال اپنا تخلص تبدیل کیا ہوگا اور اس تبدیلی کی علامت کے طورپر بہ صورت سجع یہ دوسری مہر کندہ کرائی ہوگی۔ لیکن مالک رام صاحب کے نزدیک یہ استدلال قابلِ قبول نہیں، چنانچہ ”گلِ رعنا“ کے مقدمے میں انہو ںنے اس مسئلے کو ایک بار پھر اٹھایا ہے۔ عرشی زادہ کا نام لیے بغیر تحریر فرماتے ہیں:

بعض لوگوں نے استدلال کیاکہ ”اسد اللہ الغالب“ مہر سے ثابت ہوتاہے کہ انہوں نے اس سال (1231 میں) غالب تخلص اختیارکیا، حال آنکہ نہ ان کا نام ”اسد اللہ“ تھا نہ تخلص ”الغالب“۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس مہر میں لفظ ”غالب“ بہ طورِ تخلص استعمال ہی نہیں ہوا بلکہ یہ مہر انہوں نے بہ طورِ سجع تیار کرائی تھی۔ دراصل ”اسداللہ الغالب“ لقب ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا۔ چوں کہ میرزا کا نام ”اسد اللہ خاں“ تھا اور وہ عقیدے کے لحاظ سے شیعی تھے، اس لیے انہوں نے یہ سجع والی مہر بنوا کر گویا حضرت علی سے اپنی عقیدت کا اعلان بھی کردیا۔ غرض اس مہر سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ 1231ھ میں انہوں نے غالب تخلص اختیار کر لیا تھا۔ البتہ یہ درست ہے کہ بعد کو انہوں نے اسد تخلص سے بیزار ہوکر نیا تخلص رکھنے کا فیصلہ کیا تو اسی سجع نے ان کی مشکل حل کردی اور انہوں نے یہ سامنے کا لفظ بہ طورِ تخلص اختیار کرلیا۔“21

          اپنی بات پر بے جا اصرار کا رویّہ بعض اوقات بدیہّیات سے بھی چشم پوشی پر مجبور کردیتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت اس بیان کی بھی ہے۔ سجع کی خوبی یہ خیال کی جاتی ہے کہ اس میں صاحب سجع کا نام بھی آجائے اور کلمہ سجع کی معنوی بھی اپنی جگہ برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ حشو و زوائد سے یکسر پاک ہو۔ غالب نے اپنے شاگرد حکیم سید احمد حسن فنا مودودی کی فرمائش پر ان کے نام کے دو سجعے کہے تھے۔ یہ سجعے بھیجتے ہوئے انہوں نے خط میں لکھاتھا:

“بہارِ گلستانِ احمد حسن، یہ سجع کیا برا ہے؟ دلِ حیدر و جانِ احمد حسن، یہ اس سے بھی بہتر ہے۔ انھی دونوں میں سے ایک سجع مہر پر کھدوا لیجیے۔“22

          ان دونوں سجعوں میں ایک لفظ بھی زائد از ضرورت نہیں۔”اسد اللہ الغالب“ کی بھی یہی کیفیت ہے۔ اگر اس وقت مرزا صاحب کا تخلص غالب نہ ہوتاتو یہ سجع کوئی معنی ہی نہ رکھتا، اور اگر اس مہر میں ”اسد اللہ“ کے ساتھ ”الغالب“ کی بجاے صرف ”غالب“ کندہ کیا گیا ہوتا تو یہ سجع نہ ہوتا، صرف نام ہوتا۔ رہ گیا یہ سوال کہ غالب کا اصل نام ”اسد اللہ“ نہیں ”اسد اللہ خاں“ تھا تو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ میر، میرزا، سید، شیخ، خاں، بیگ، مودودی اور چشتی جیسے سابقے اور لاحقے کسی نام کے اجزاے اصلی نہیں، اجزاے اضافی ہوتے ہیں، علاوہ بریں الفاظ کے اس مخصوص تانے بانے سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے جس سے سجع کی تشکیل ہوتی ہے، اس لیے سجع کہتے وقت انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ غالب نے بھی سید احمد حسن کے نام کے مذکورہ بالا دونوں سجعوں میں ”سید“ کے سابقے سے صرفِ نظر کرکے صرف ”احمد حسن“ نظم کیاہے۔ قطعِ نظر اس سے اگر مالک رام صاحب کے نزدیک غالب کا اصل نام ”اسد اللہ خاں“ اور صرف ”اسد اللہ خاں“ تھاتو چند سال کے بعد ”محمد اسد اللہ خاں“ کے نام سے ایک تازہ مہر کندہ کرانے کا کیا جواز باقی رہتاہے؟

          صحیح بات یہ ہے کہ غالب کا اصل نام صرف ”اسد اللہ“ تھا، باقی تمام سابقے اور لاحقے فروعی یا اضافی حیثیت رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے اپنی بے شمار تحریروں میں، نظم میں بھی اور نثر میں بھی، اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ لکھاہے۔ نظم کے چند نمو نے حسبِ ذیل ہیں:

حبسِ بازارِ معاصی، اسد اللہ اسد

کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں

غالب نام آورم، نام و نشانم مپرس

ہم اسد اللّٰہم و ہم اسد اللّٰہیم

منصورِ فرقہ علی اللّٰہیاں منم

آوازہ انا اسداللہ درافگنم

فیضِ دمِ انا اسد اللہ بر آورم

منصورِ لا ابالیِ بے دار و بے رسن

‘پنج آہنگ’ کے خطوط میں بھی انہوں نے متعدد جگہ اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ ہی لکھا ہے، حتّٰی کہ بعض خطوط کا آغاز ”از اسداللہ نامہ سیاہ“ یا ”نامہ نگار اسد اللہ“ سے ہوتاہے۔ میاں نوروز علی خاں کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

“اگرنامہ فریسند و بہ عنوان نویسند کہ ایں مکتوب بہ دہلی بہ اسد اللہ رسد، دشوار نیست کہ آں نامہ بدیں روسیاہ برسد۔“23

22 مارچ 1852ء کے ایک خط میں تفتہ کو ہدایت کرتے ہیں:

“خط پر حاجت مکان کے نشان کی نہیں ہے۔ ”در دہلی بہ اسد اللہ برسد“ کافی ہے”

          اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ پنشن سے متعلق عرض داشتوں اور درخواستوں کے آخر میں بھی وہ کبھی کبھی اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ ہی لکھا کرتے تھے۔ اس سلسلے کے دستاویزات میں ایسی اٹھائیس تحریریں ہماری نطر سے گزر چکی ہیں جن پر ان کے دستخط ثبت ہیں۔ ان میں سے بارہ تحریروں میں انہو ںنے اپنا نام ”اسد اللہ“ لکھاہے۔ ان میں قدیم ترین تحریر 25 نومبر 1831ء کی اور آخری تحریر 25 اکتوبر 1844ء کی ہے۔ نواب کلب علی خاں کے نام کے خطوط میں بھی جہاں انہوں نے بہ طورِ دستخط تخلص کی بجاے نام لکھا ہے، یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے کا آخری خط 16 نومبر 1898ء کا تحریر کردہ ہے۔

          اس سلسلہ گفتگو کا آخری اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ”اسد اللہ“ کی حیثیت اسمی سے متعلق مالک رام صاحب کا زیر بحث بیان خود ان کے سابقہ موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ گزشتہ سطور میں ان کا یہ قول نقل کیا جاچکاہے کہ”اس (دوسری) مہر کی بناحضرت علیؓ کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کانام اسد اللہ تھا، اس لےے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا۔“ اس طر ح ایک بار یہ کہنا کہ ”میرزا کا نام اسد اللہ تھا“ اور دوسری بار اس سے انکار کردینا ایک ایسی کیفیتِ ذہنی کی غمّازی کرتا ہے جو اعترافِ حق اور اعلانِ حق کی بجاے بہر صورت حریف کے دعووں کو باطل ٹھہرانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

          غالب نے تیسری مہر 1238ھ میں تیار کرائی تھی۔ اس پر ”محمد اسد اللہ خاں“ کندہ تھا۔ مالک رام صاحب کے مطابق یہ ”معرکہ آرا مہر ایک عظیم الشان داخلی اور ذہنی انقلاب کی آئینہ دار ہے۔“ اس انقلاب کے محرکات میں انہوں نے اس مذہبی مباحثے کا بہ طورِ خاص حوالہ دیاہے جو ان کے بقول انیسویں صدی کے ربعِ اول میں شروع ہواتھااور جس کا موضوع مسئلہ امکان و امتناعِ نظیر تھا۔ اس مباحثے کے ایک فریق مولانا فضلِ حق خیرآبادی تھے۔ ان کی تحریک پر غالب نے بھی اس بحث میں حصّہ لیا تھا اور فارسی میں ایک مثنوی کہہ کر ان کی او ران کے ہم خیال علما کی تائید کی تھی۔ مذہبی معاملات سے غالب کی اس دلچسپی کا اوّلین محرک مالک رام صاحب نے نواب الٰہی بخش خاں معروف سے ان کی عزیز داری کو ٹھہرایاہے۔ نواب صاحب خود صوفی تھے اور اس حیثیت سے متصوفین کے درمیان ”خاصے معروف بھی تھے“۔ غالب کی طبیعت کے ”لاابالیانہ پن“ پر ”علم و عمل کے اس نمونے“ کے اثرات مرتب نہ ہوں، یہ اصولِ فطرت کے خلاف تھا۔اس تمہید کے بعد مالک رام صاحب نے اس سلسلے میں اپنے مجموعی تاثرات ان الفاظ میں قلمبند فرمائے ہیں:

“میرزا کی تحریروں سے ثابت ہے کہ وہ اس سے قبل فسق و فجور اور عیش و عشرت کی دلدل میں پھنس چکے تھے، لیکن اس نئے مذہبی ماحول نے اگر ان کی کایا بالکل پلٹ نہیں دی تو کم از کم اس کی شدت میں ضرور کمی آگئی اور وہ اخلاقی قدروں کے بھی شناسا ہوگئے۔اس سے پہلے انکی مہر پر کندہ تھا: اسد اللہ خاں عرف میرزانوشہ، انہوں نے جو نئی مہر تیار کرائی، اس پر لکھا ہے: محمد اسد اللہ خاں۔ کیا ان کی قلبِ ماہیت کا اس سے زیادہ کوئی اور ثبوت درکارہے۔“ (ص84)

          مسئلہ امکان و امتناعِ نظیر پر بحث کب شروع ہوئی اور اس کا آغاز کس نے کیا، فی الوقت اس موضوع پر گفتگو کا موقع نہیں۔ قابلِ غور مسئلہ یہ ہے کہ غالب اس بحث میں کب شریک ہوئے اور ان کی وہ نظم جو اس مسئلے سے متعلق ہے، کس زمانے میں معرضِ وجود میں آئی؟ مالک رام صاحب نے اس مباحثے کو انیسویں صدی کے ربعِ اوّل کا واقعہ قرار دیاہے۔ نہیں کہا جاسکتاکہ غالب کو اس ابتدائی مرحلے میں اس مسئلے سے کوئی دلچسپی تھی یانہیں۔ شواہد سے معلوم ہوتاہے کہ 1856ءکے اواخر تک اس بحث کا سلسلہ ختم نہیں ہواتھا۔ بعض قرائن کے بموجب یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مولانا فضلِ حق نے الور سے رام پور جاتے ہوئے کچھ دنو ںکے لےے دہلی میں قیام کیا تھا اور اس دوران ان کی سرگرم شرکت کی بدولت یہ بحث ایک بار پھر تازہ ہوگئی تھی۔ چنانچہ غالب نے انھی ایام میں مولانا کی فرمائش پر وہ اشعار کہے تھے جو ان کی چھٹی فارسی مثنوی موسوم بہ ”بیانِ نموداریِ شانِ نوبت و ولایت“ میں شامل ہیں۔ سلطان العلما مولانا سید محمد مجتہد کے نام 21 جمادی الاول 1273ھ (17 جنوری 1857ع) کے خط میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“دریں ہنگام در شہر دو دانشمند باہم در آویختہ اند۔ یکے می سراید کہ آفریدگار ہمتاے حضرتِ خاتم الانبیا علیہ و آلہ السّلام می تواند آفرید۔ وایں یکے می فرماید کہ ایں ممتنعِ ذاتی و محالِ ذاتی است۔ بندہ چوں ہمیں عقیدہ دارد، نظمے در گیرندہ بدیں مدّعا سرانجام دادہ است۔ ہر آئینہ چشم دارد کہ سواد بہ نورِ نظرِ اصلاح روشن شود۔“ 24

          اس واضح بیان کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ 1273ھ 1856ء میں اس مذہبی مباحثے میں غالب کی شرکت اور اس سے پورے پینتیس (35) برس قبل 1238ھ 1823ء میں تیار شدہ ان کی زیرِ بحث مہرکے درمیان کسی ذہنی و جذباتی رشتے کی موجود گی قطعاً خارج از امکان ہے۔ یہی کیفیت تصوف کے اثرات کی بھی ہے کہ اس سے غالب کا واسطہ ”براے شعر گفتن“ سے زیادہ نہ تھا۔ علاوہ بریں مذہبی طورپر وہ شیعی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے جس میں تصوف کے لیے یوں بھی کوئی گنجائش نہیں۔ البتہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دوسری مہر کی طرح یہ تیسری مہربھی شیعت میں ان کے گہرے اعتقاد کی توثیق کرتی ہے۔ اس میں ان کے نام کے مختلف اجزا کی نشست میں جو ترتیب قائم کی گئی ہے، اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سب سے اوپر لفظ ”اللہ“ کندہ ہے، درمیان میں لفظ ”محمد“ نقش ہے اور تیسری اور آخری سطر میں لفظ ”اسد“ اور ”خان“ یعنی:

خدا کے بعد نبی اور نبی کے بعد امام

یہی ہے مذہبِ حق، والسّلام و الاکرام

          غالب کی خودنوشت تحریروں، سرکاری مراسلوں اور عرضداشتوں میںکہیں ان کا نام ”اسد اللہ خاں“، کہیں ”محمد اسد اللہ خاں“، کہیں ”محمد اسد اللہ“ اور کہیں صرف ”اسد اللہ“ لکھا ہوا ملتاہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ اس معاملے میں کسی طے شدہ ضابطے کے پابند نہیں تھے۔ دوسری اور تیسری صورتوں میں اصل نام ”اسد اللہ“ کے ساتھ لفظِ ”محمد کے اضافے کاایک سبب یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان کے رشتے کے ایک سالے یعنی امراو بیگم کے عمِ حقیقی نبی بخش خاں کے ایک بیٹے کا نام بھی ”اسد اللہ خاں“ تھااور ان کی مہر پر یہی نام کندہ تھا۔چوں کہ غالب اپنے تشخّص کی نگہداری کے معاملے میں خاصے حسّاس تھے، اس لےے عین ممکن ہے کہ انہو ںنے اپنے اور اپنے ان برادرِ نسبتی کے درمیان امتیاز کی غرض سے اپنی مہر پر ”محمد اسد اللہ خاں“ کندہ کرالیاہو۔

          جیسا کہ گزشتہ سطور میں عرض کیاگیا، غالب اپنے نام کے معاملے میں کسی طے شدہ ضابطے کے پابندنہیں تھے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا غالب رجحان ”اسد اللہ خاں“ کی طرف تھا۔ جب اس نام کو سرکاری سطح پر سندِ اعتبار حاصل ہوگئی تو انہوں نے لفظ ”محمد“ کو ترک کرکے صرف ”اسد اللہ خاں“ لکھنا شروع کردیا۔چنانچہ مرزا ہرگوپال تفتہ کو 17 ستمبر1858ء کے خط میں لکھتے ہیں:

“لفظِ مبارک میم، حا، میم، دال“، اس کے ہر حرف پر میری جاں نثا رہے مگر چو نکہ یہاں سے ولایت تک حکّام کے ہاں سے یہ لفظ یعنی ”محمد اسد اللہ خاں“ نہیں لکھا جاتا، میں نے بھی موقوف کردیاہے۔”

          حکّام کاپاسِ خاطر غالب کو کس قدر عزیز تھا، اس کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتاہے، اس لیے ان کے کسی بھی فیصلے یا طرزِ عمل کو وقت اور حالات کے تقاضوں سے بلند ترہوکر دیکھنے کی کوشش کبھی صحیح سمت میں رہنمائی نہیں کرسکتی۔اسی مصلحت کوشی اور احتیاط پسندی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنی خاندانی پنشن اور دیگر امور سے متعلق درخواستوں اور مراسلوں پر کبھی اس مہر کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں لگائی۔ چنانچہ اس سلسلے کے جو دستاویزات برصغیر اور یورپ کے مختلف محافظ خانوں میں محفوظ ہیں،ان میں سے سترہ (17) کاغذات پر دستخط کے ساتھ یہ مہر بھی ثبت ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نام کے ساتھ ”محمد“ کا سابقہ موقوف کردینے کے اعلان کے بعد بھی وہ سرکاری نوعیت کی تمام تحریروں پر یہی مہر لگاتے رہے۔ چنانچہ جن سترہ تحریروں پر اس مہر کے نشانات ہماری نظر سے گزرے ہیں، ان میں اولین تحریر 7جولائی 1830ء کی اور آخری تحریر 7 فروری 1867ء کی ہے۔ اس آخری تحریر کی روشنی میں جناب کالی داس گپتا رضا کایہ ارشاد محلِّ نظر قرار پاتا ہے کہ ”غالب کی یہ مہر تقریباً تیس سال تک استعمال میں رہی25۔“ موجودہ شواہد کی بنیاد پر اس کا کم از کم پیتالیس (45) سال تک (1138ھ 1822-23ء تا 2شوال1283 7 فروری 1867ء استعمال میں رہنا ثابت ہے۔

          ہمارے نزدیک یہ مہر نہ تو مذہبی نقطہ نظر سے کسی ”داخلی اور ذہنی انقلاب“ کی آئینہ دا رہے اور نہ اخلاقی سطح پر کسی ”قلبِ ماہیت“ کی نشان دہی کرتی ہے۔ بہ ظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ بہ طورِ خاص سرکاری کاغذات پر ثبت کرنے کے لیے تیار کرائی گئی تھی، کیوں کہ اس سے پہلے کی دونوں مہریں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ پہلی مہر کا استعمال نام کے ساتھ عرف کے شمول کی وجہ سے خلافِ احتیاط تھا جب کہ دوسری مہریں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ پہلی مہر کا استعمال نام کے ساتھ عرف کے شمول کی وجہ سے خلافِ احتیاط تھا جب کہ دوسری مہر خالص مذہبی رنگ کی نمائندگی کرتی تھی۔

          اس سلسلے کی چوتھی مہر وہ ہے جسے مالک رام صاحب نے پانچویں نمبر پر جگہ دی ہے۔ اس پر ”یا اسدَاللہ الغالب“ کندہ ہے اور مالک رام صاحب کے مشاہدے یا تحقیق کے مطابق یہ 1269ھ 1852-53ء میں تیار ہوئی تھی۔ مصیبت یا پریشانی کے وقت حضرت علیؓ کو مدد کے لیے پکارنا شیعہ حضرات کے بنیادی عقائد اور روز مرّہ کے معمولات میں شامل ہے۔ یہ مہر اسی عقیدے کے اظہار کا ایک وسیلہ ہے۔ چنانچہ مالک رام صاحب نے اسے مناسب جواز فراہم کرنے کی غرض سے پہلے تویہ وضاحت فرمائی ہے کہ غالب اس زمانے میں یعنی 1852-53ءکے آس پاس مختلف قسم کی ذہنی و مالی پریشانیوں میں مبتلا تھے، جنہوں نے انہیں ”پراگندہ روزی، پراگندہ دل“ کا مصداق بنادیاتھا۔اس کے بعد 1854ء کے چند واقعات کے حوالے سے ان کی ”خوش اعتقادی اور نیک نیتی“ کے بار آور اور اس استعانت کے مقبول و مستجاب ہونے کے کئی ثبوت پیش کیے ہیں۔ یہ شواہد حسب ذیل ہیں:

(1) ذوق کے انتقال (4 نومبر 1845ع) کے بعد استادِ شاہ کے منصب پر تقرر۔

(2) ولی عہد مرزا غلام فحرالدین رمز کا حلقہ تلامذہ میں شامل ہونا اور چار سو روپے سالانہ وظیفہ مقرر کرنا۔

(3) طفر کے سب سے چھوٹے بیٹے مرزا خضر سلطان کا شاگرد ہونا۔

(4) سلطنتِ اودھ سے رسم و راہ میں استواری اور واجد علی شاہ کی طرف سے پانچ سو روپے سالانہ بہ طورِ وظیفہ مقرر ہونا۔

          یوں تو غالب کی زندگی میں کوئی دور ایسا نہیں گزراجب کہ انہوں نے اپنی خواہشات اور توقعات کے مطابق آسودگی اور مرفّہ الحالی کی زندگی گزاری ہو تاہم 1853ء میں یا اس سے کچھ پہلے آلام و مصائب کی کوئی ایسی غیر معمولی صورتِ حال نظر نہیں آتی جس میں وہ مالک رام صاحب کے بقول ”بہ آوازِ بلند فریاد“ پر مجبور ہوں اور حضرت علیؓ کو ان کی مشکل کشائی کا واسطہ دے کر مدد کے لیے پکاریں۔ اس کے برخلاف یہ وہ زمانہ ہے جب کہ بہادرشاہ ظفر کی سرکار سے ”نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ“ کے خطابات اور پچاس روپے ماہوار کے مشاہرے کے ساتھ سلاطینِ مغلیہ کی تاریخ نویسی کے منصب پر تقررکے بعد ان کی اناکی تسکین اور اسبابِ معیشت کی بہتری کا اچھا خاصا سامان مہیا ہو گیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں مالک رام صاحب کی تمام تاویلات و توجیہات دوراز کار قیاسات پر مبنی ہیں،کیوں کہ یہ مہر 1269ھ میں نہیں، اس سے پورے بیس برس پہلے1269ھ 1833-34ء میں کندہ کرائی گئی تھی۔ اس کے دستیاب نقش میں چار کی دہائی واضح نہیں۔ مالک رام صاحب نے اسے پہلی نظر میں غلطی سے چھ پڑھ لیا، اس کے بعد دوبارہ اس پر غور کرنے اور دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، حال آنکہ یہ زیادہ مشکل کام نہ تھا۔ غالب نے اپنا دیوانِ فارسی ”مے خانہ آرزو سرانجام“ کے نام سے 1250ھ 1834-35ء میں مرتب کیا تھا۔ اس کا دیباچہ ان کے کلیاتِ فارسی کے علاوہ ”کلیاتِ نثرِ غالب“ میں بھی شامل ہے۔ اس دیباچے میں ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے

دل بہ شراکِ نعلینِ محمدی آویختن کیش و آئینِ من و طغراے والاے ”یا اسدَاللہ الغالب“ نقشِ نگینِ من۔“26

          اس سے ظاہرہے کہ یہ مہر اس دیوان کی ترتیب سے پہلے تیار ہوچکی تھی۔ 1250ھ سے پہلے اور اس کے بعد لیکن 1260ھ سے بہت پہلے کی غالب کی ایسی کئی تحریریں راقم الحروف کی نطر سے گزر چکی ہیں جن کا آغاز انہو ںنے ”یا اسداللہ الغالب“ سے کیا ہے۔ مثلاً:

(1) مکاتیبِ غالب کے اس مجموعے میں جو پہلے پروفیسر مسعود حسن رضوی کی ملکیت تھااو راب مولانا آزاد لائبریری،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ مخطوطات میں محفوظ ہے، مثنوی ”بادِ مخالف“ کے سرِ عنوان ”یا اسداللہ الغالب“ لکھا ہوا ہے۔ اس مجموعے کی تمام تحریریں غالب کے قیامِ کلکتہ کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔

(2) “مآثرِ غالب” میں شامل فارسی خطوں میں سے ایک خط کا آغاز”یا اسداللہ الغالب“ سے ہواہے۔ یہ خط خواجہ فخراللہ کے نام ہے اور 10 رمضان 1148ھ مطابق 31 جنوری 1833ء کو لکھا گیا ہے۔

(3) خدابخش لائبریری، پٹنہ میں غالب کے کلیاتِ نظم فارسی کاایک قلمی نسخہ محفوظ ہے جسے ان کے دوست راے چھج مل نے لکھ کر 11 ربیع الآخر 1254ھ 4 جولائی 1838ء کو مکمل کیاہے۔ اس کے ایک صفحے کے حاشےے پر ”نامہ منظوم بہ نامِ جوہر“ کی ابتدابھی ”یا اسداللہ الغالب“ ہی سے ہوئی ہے۔

(4) دیوان غالب کے 1257ھ 1841ء میں شائع شدہ پہلے ایڈیشن کا آغاز بھی یا اسداللہ الغالب ہی سے ہوا ہے۔

          حضرت علیؓ سے استعانت کایہ متواتر عمل غالب کی اس زمانے کی ذہنی و مالی پریشانیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

          ان ایام میں وہ جن مسائل و مصائب سے دوچار تھے، ان کا انداز مندرجہ ذیل واقعات سے کیا جا سکتا ہے:

(1) 1826ع کے آس پاس میرزایوسف مرضِ جنون میں مبتلا ہوے اور انہوں نے تقریباً تیس برس اسی حالت میں گزارے۔ چھوٹے بھائی کی یہ علالت غالب کے لیے ہمیشہ سوہانِ روح بنی رہی لیکن شروع میں کئی برس وہ اس کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی پریشان رہے۔

(2) امراو بیگم کو اپنے چچا نواب احمد بخش خاں کی سرکار سے تیس روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ اکتوبر 1827ء میں نواب صاحب کی وفات کے بعد جو حالات رونما ہوئے، ان کے زیرِ اثر ان کے جانشین نواب شمس الدین احمد خاں نے غالباً 1830ء یا 1831ء میں یہ وظیفہ منسوخ کردیا۔ بیوی کی اس مستقل آمدنی کے بند ہوجانے سے گھر کی اقتصادی حالت کا متاثر ہونا ناگزیر تھا۔

(3) معتمد براے گورنر جنرل کے خط مورخہ 27 جنوری 1831ء کے ذریعے اس فیصلے سے آگاہ ہونے کے بعد کہ حضورِ والا(گورنرجنرل)نصراللہ خاں کے متوسلین کی مالی امداد کے ضمن میں فیروزپور کے جاگیردار کے کےے ہوئے انتظام میں مداخلت پسند نہیں فرمائیں گے“غالب اپنے مقدمہ پنشن کی ناکامی پر عرصے تک بے حد افسردہ اور پریشان رہے۔ اس کے بعد اپریل 1844ء تک ان کا بیشتر وقت اس مقدمے کی اپیل کی کامیابی کے لیے تگ ودو میں صرف ہوا۔

(4) سقیم مالی حالت اور رئیسانہ طرزِ زندگی کی وجہ سے قرص کا بوجھ برابر بڑھتا جارہاتھا۔ پنشن کے مقدمے میں گورنر جنرل کے فیصلے کے بعد قرض خواہوں کے تقاضوں نے غالب کی زندگی اجیرن کررکھی تھی۔ انجامِ کار فروری 1835ء میں عدالتِ دیوانی سے ان کے خلاف پانچ ہزار کی ڈگری ہوگئی۔

          یہ تھاوہ پس منظر جس میں یہ مہر تیار ہوئی۔ یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ یہ1249ھ میں کندہ کرائی گئی تھی، یہ بات از خود طے ہوجاتی ہے کہ غالب کی اب تک دریافت شدہ مہروں میں اس کا چوتھا نمبر تھا۔

          محمد مشتاق تجاروی کابیان ہے کہ پروفیسرمختارالدین احمد کے خیال میں یہ مہر بدرالدین کے علاوہ کسی اور مہر کن کی کندہ کی ہوئی معلوم ہوتی ہے27۔ ہمیں اس خیال سے اتفاق کی بہ ظاہر کوئی معقول وجہ نظر نہیں و تی کیوں کہ اس کے حروف کی کشش اور نشست میں کوئی ایسا نقص موجود نہیں جو بدرالدین کی شانِ خط کے منافی ہو۔ البتہ اس کا جو نقش دستیاب ہواہے، وہ بہت صاف نہیں۔ یہی سبب ہے کہ مالک رام صاحب کو اس پر درج سنہ کے پڑھنے میں تسامح ہوا۔اس کیفیت کی وجہ سے بعض حروف کی ہیئتِ ظاہری بھی متاثر ہوئی ہے۔ غالباً اسی بناپر مختارالدین احمد صاحب کو یہ شبہ ہواکہ یہ بدرالدین کے علاوہ کسی اور کی بنائی ہوئی ہے۔

          پانچویں، چھٹی اور ساتویں، تینوں مہریں غالب کے شاہی خطاب ”نجم الدولہ، دبیرالملک، نظام جنگ“ سے تعلق رکھتی ہیں۔ مالک رام صاحب نے ان میں سے صرف آخری یعنی ساتویں مہرکا ذکر فرمایاہے اور اپنے حساب کے مطابق اسے چوتھے نمبر پر رکھاہے۔ چو ںکہ یہی مہر اس سلسلے کی باقی دو مہروں تک ہماری رسائی کا وسیلہ بنی ہے، اس لےے مناسب معلوم ہوتاہے کہ گفتگو کا آغاز اسی کے ذکر سے کیا جائے۔ اس ساتویں مہر پر غالب کا نام مع ان کے خطابات کے اس طرح کندہ تھا:

“نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ”

          دائیں طرف کے زیریں گوشے میں لکھے وئے سنہ کے مطابق یہ مہر 1267ھ میں تیار ہوئی تھی۔ غالب کو متذکرہ بالا خطابات بہادرشاہ ظفر نے 23 شعبان 1266ھ مطابق 4 جولائی 1850ء کو عطا کےے تھے اور ”تاریخ نویسی تاجدارانِ تیموریہ“ کی خدمت ان کے سپرد فرمائی تھی۔ مالک رام صاحب نے خود غالب کی ایک فارسی تحریر کے طویل اقتباس، ”اسعد الاخبار“ آگرہ کے 15 جولائی 1850ء کے شمارے میں شائع شدہ مفصل خبر اور مرزاہرگوپال تفتہ کے کہے ہوے قطعہ تاریخ کے حوالے سے اس سلسلے کی تمام تفصیلات اپنے مضمون میںیکجا فرمادی ہیں لیکن ایک پہلو کو بالکل نظرانداز کردیاہے کہ یہ خطابات تو 1266ھ میں ملے تھے پھر یہ مہر 1267ھ میں کیوں تیار ہوئی؟ خود اشتہاری غالب کے مزاج کاایک نمایاں عنصر تھی چنانچہ یہ بات ان کی نفسیات کے بالکل خلاف معلوم ہوتی ہے کہ وہ مہینوں نئی مہر کی تیاری کا انتظار کرتے اور اس اعزاز کے اعلان و اشتہار کے اس سہل الحصول اور موثر وسیلے سے اتنے دنوں تک محروم رہتے۔ اگر فاضل محقق کے ذہن میں یہ خلش پیداہوئی ہوتی اور انہوں نے اسے دور کرنے کے لےے غالب کی اس زمانے کی تحریروں پر بہ نظر غائر توجہ فرمائی ہوتی تو اس انکشاف میں زیادہ دیر نہ لگتی کہ وہ اس مہر سے پہلے ان خطابات پر مشتمل ایک نہیں، دو مہریں 1266ھ ہی میں تیار کراچکے تھے۔ لیکن چوں کہ یہ مہریں ان کے معیا رپر پوری نہیں اتریں اس لےے انہوں نے انہیں رد کرکے جلد ہی ایک اور مہر تیار کرالی جو عرصہ دراز تک ان کے استعمال میں رہی۔ اپنے شاگردِ عزیز منشی جواہر سنگھ جوہر کے نام 23 اکتوبر 1850ء(16 ذی قعدہ 1266ھ) کے خط میں لکھتے ہیں:

“روزے بودکہ نامہ بہ من رسیدکہ نگارش از شمابود و مہر از من۔ گفتم: سبحان اللہ شگرفیِ آثارِ یگانگی و اتحاد کہ ہم نامہ بہ نامِ من است وہم بہ مہرِ من چوں آں ورق بہ من رسید و من دراں وقت تنہا بودم، مشاہدہ نقشِ خاتمِ خویش برمکتوبِ موسومہ خویش مرابہ وجد آورد۔ بالجملہ چشم بہ راہِ نگینِ مہر داشتم، دی روز کہ سہ شنبہ و بست ودومِ اکتوبر بود، رسید۔ ہمانا مہر کن در کشمیر نہ ماند، ع مجلس چو برشکست، تماشا بہ مارسید۔ پس از پزوہش پدید آمد کہ قریبِ صد کس از ہوسناکانِ دہلی نگیں ہافرستادہ در کشمیر کند اندہ اندوہمہ شرمسار و پشیماں شدہ اند۔ حالیا آں سعادت نشاں راباید کہ دردِ سر نہ کشند و مہرِ دیگر بہ کندن نہ دہند۔ امروز دریں فن نظیر بدرالدین بہ گیتی نیست۔ چوں اوبدنوشت، پندارم کہ خوبیِ سرنوشتِ من است۔“28

          اس تحریر سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ 4 جولائی اور 22 اکتوبر 1850ء کے درمیان غالب نے دلّی کے مشہور مہر کن بدرالدین سے اس خطاب کی یادگار کے طورپر ایک تازہ مہر تیار کرائی تھی جو انہیں کسی وجہ سے پسند نہیں آئی۔ دوسری یہ کہ اس مہر کو رد کردینے کے بعد انہوں نے اپنے شاگرد منشی جواہر سنگھ جوہر سے جو اس زمانے میں پنجاب میں کسی جگہ برسرِ روزگار تھے، یہ فرمائش کی کہ وہ کشمیر کے کسی مہرساز سے ان کی مہر تیار کرادیں۔ یہ دوسرانگینہ انہیں 22 اکتوبر 1850ء کو موصول ہوا، لیکن اس کی نقاشی سے بھی وہ مطمئن نہیں ہوئے۔ غالباً اس کے بعد ہی 1267ھ میں اس سلسلے کی وہ تیسری مہر تیا رہوئی جسے مالک رام صاحب نے چوتھے اور ہم نے ساتویں نمبر پررکھا ہے۔ احوالِ ظاہری کے اعتبارسے یہ مہر بھی بدرالدین ہی کی تیارکردہ معلوم ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ انہو ںنے پچھلی مہر کے بارے میں غالب کی ناپسندیدگی کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس کی تیاری پر خصوصی توجہ صرف کی ہو۔

          پروفیسر مختارالدین احمد صاحب کابیان ہے کہ قیامِ آکسفورڈ کے دوران 1956ء میں انہوں نے ایک بار اس مہر کی زیارت کی تھی۔ تقریب یہ ہوئی کہ حیدرآباد سے ڈاکٹر نظام الدین صاحب اور آغا حیدر حسن صاحب کے داماد وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔ ایک روز جب وہ ان دونوں حضرات کو ایشمولین میوزیم کا وہ شوکیس دکھا رہے تھے جس میں مختلف قسم کی انگوٹھیاں اور مہریں رکھی ہوئی تھیں تو ڈاکٹر نظام الدین صاحب نے اپنے ہم سفر کی انگلی کی طرف اشارہ کیااو ران سے پوچھا: اس مہر کو آپ پہچانتے ہیں؟ یہ مرزا غالب کی مشہور مہر تھی۔ عقیق پر نہایت خوبصورت حروف میں ”نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ“کے الفاظ منقوش تھے۔ مختلف کاغدوں پر متعدد بار اس کے نقوش دیکھنے میں آئے تھے۔29

          مختارالدین احمد صاحب کے علاوہ ڈاکٹر ضیاءالدین احمد شکیب نے بھی اپنی کتاب ”غالب اور حیدرآباد“ میں اس مہر کا ذکر کیاہے، جس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ 1969ء تک آغا حیدرحسن کے ہاں موجود تھی۔ شکیب صاحب لکھتے ہیں:

“پروفیسرآغاحیدرحسن کے یہاں میرزا غالب کاایک چغہ اور ان کی ایک مہر ہے۔ یہ مہر جگری عقیق پر کندہ ہے۔ اس مہر کی عبارت حسبِ ذیل ہے:

“نجم الدولہ، دبیرالملک، اسد اللہ خاں غالب، نظام جنگ”

1262ھ

آغا حیدرحسن صاحب کے بیان کے مطابق غالب کی یہ مہر شاہی مہر کن بدرالدین نے تیار کی تھی۔“30

          اس مہر سے متعلق یہ دونو ںبیانات تحقیقی اعتبار سے ناقص اور وضاحت طلب ہیں۔ مختارالدین احمد صاحب کے بیان کا نقص یہ ہے کہ انہو ںنے صرف اجزاے خطابی نقل فرمائے ہیں، مہر کے باقی اندراجات کو نظر انداز کردیاہے، جب کہ شکیب صاحب کی نقل کردہ عبارت میں ”اسد اللہ خاں“ اور ”نظام جنگ“ کے درمیان ”غالب“ کا اندراج او رنیچے دیاہوا سنہ مشکوک ہے۔ سنہ کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ اس کے نقل کرنے میں سہوہواہے، خواہ اس کے ذمّہ دار خود صاحبِ کتاب ہو ںیا ان کا کاتب۔ اسے ہرحال 1266ھ یا 1267ھ ہونا چاہیے۔ اگریہ 1266ھ ہے تویہ مہر یقینا اس مہر سے مختلف ہے جسے مالک رام صاحب نے اپنے مضمون میں متعارف کرایاہے اور اگر 1267ھ ہے تو اس میں نام کے بعد لفظِ ”بہادر“ کی بجاے تخلص یعنی ”غالب“ کا اندراج خلافِ واقعہ ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ دراصل یہ وہی مہر ہے جو منشی جواہر سنگھ جوہر نے کشمیر کے کسی مہرساز سے کندہ کراکے اکتوبر 1850ء میں غالب کو بھیجی تھی۔ اس کے رد کیے جانے کی وجہ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں نام کے ساتھ ”بہادر“ کالاحقہ موجود نہیں تھا، جس کا شمول از روے قاعدہ بے حد ضروری تھا۔اس سلسلے میں منشی شیونرائن آرام کے نام ستمبر 1858ء کے ایک خط کا یہ اقتباس ملاحظہ طلب ہے:

“سنو، میری جان!نوابی کا مجھ کو خطاب ہے ”نجم الدولہ“ اور اطراف و جوانب کے امرا سب مجھ کو ”نواب“ لکھتے ہیں، بلکہ بعض انگریز بھی یاد رہے”نواب“ کے لفظ کے ساتھ ”میرزا“ یا ”میر“ نہیں لکھتے۔ یہ خلافِ دستور ہے۔ یا ”نواب اسد اللہ خاں“ لکھو یا ”میرزا اسد اللہ خاں“ اور ”بہادر“ کا لفظ تو دونوں حال میں واجب اور لازم ہے۔”

          یہ مہر چوں کہ شکیب صاحب کی نطر سے گزر چکی تھی، اس لیے نومبر 2004ء میں جب وہ لندن سے حیدرآباد تشریف لائے تو میں نے اپنے شبہات کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے رجوع کیاکہ وہ صحیح صورتِ حال سے مطلع فرمائیں۔ موصوف نے اس کے جواب میں اپنے مکتوب مورخہ 29 نومبر 2004ء میں جو وضاحت فرمائی ہے وہ حسب ذیل ہے:

غالب کی یا غالب سے منسوخ جس مہر کاذکر ”غالب اور حیدرآباد“ میں ہے،وہ اب ہماری دسترس سے باہر ہے۔ یہ مہر پروفیسر آغا حیدرحسن کی ملکیت تھی۔ انہوں نے جناب محمد اشرف صاحب کو تحفةً دے دی تھی۔ محمد اشرف صاحب وہی ہیں جنہوں نے سالار جنگ میوزیم کے مخطوطات کا کیٹلاگ کئی جلدوں میں شائع کیامیں نے غالب کی یہ مہر محمد اشرف صاحب کے یہاں دیکھی تھی۔ جہاں تک یاد ہے وہ خود اس مہر سے مطمئن نہیں تھے۔ اس کاذکر میں نے پروفیسر آغا حیدر حسن صاحب سے کیا ۔آغا صاحب نے اپنی روایات کے مطابق وثوق سے کہا کہ یہ مرزا غالب کی ہے بلکہ یہ تک وضاحت کی، یہ بدرالدین مہر کن کی کندہ کی ہوئی ہے۔ آغا صاحب قلعہ معلّٰی کی یادگار تھے۔ ان کے گھرانے اور مرزا غالب کے گھرانے کے تعلقات قدیم تھے۔ میں کیاجواب دیتا۔ لہٰذا میں نے تمام اختلافات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ”غالب اور حیدرآباد“ میں اس کا ذکر کردیا۔اب یہ آپ جیسے محققین کا کام ہے کہ اس کے بارے میں کوئی قطعی راے قائم فرمائیں۔

          جہاں تک مجھے یقین ہے”غالب اور حیدرآباد“ میں مہر کا متن جو دیاگیاہے،و ہ درست ہے۔ اس میں سہوِ کتابت کو دخل نہیں۔ ممکن ہے کہ مہر میں تاریخ غلط کندہ ہوگئی ہو، اس لےے اس کو استعمال نہ کیاگیاہو۔ پڑی رہی ہو اور خاندانی تعلقات کی وجہ سے آغا حیدرحسن صاحب تک پہنچی ہو۔

جس وسیلے سے یہ مہر ہم تک پہنچی، اس کی وجہ سے ہم اس کو ‘فیک’ تو نہیں کہ سکتے، لیکن اگر غلط کندہ ہوگئی ہو تو

Discarded

کہہ سکتے ہیں۔

شکیب صاحب کی اس تحریر سے معلوم ہوجانے کے بعد کہ آغا حیدر حسن صاحب نے یہ مہر محمد اشرف صاحب کو تحفةً عنایت فرمادی تھی، یہ مناسب معلوم ہوا کہ آغا صاب کے داماد میرمعظم حسین صاحب سے درخواست کی جائے کہ وہ اس کے بارے میں حصول معلومات میں مدد فرمائیں۔ موصوف نے میرے 4 فروری 2005ء کے خط کے جواب میں 25 فروری 2005ء کو تحریر فرمایا:

“آپ نے خط میں جس مہر کا ذکر کیا ہے،اس کا مجھے علم نہیں ہے، لیکن میری شادی کے موقعہ پر میرے خسر پروفیسر آغا حیدرحسن مرزا نے مجھے ایک انگوٹھی عنایت کی تھی جس کو میں نے پچاس سال سے زائد اپنے ہاتھ پرپہنا۔ اُس انگوٹھی پر اسداللہ خاں غالب کے خطابات کندہ تھے۔ میں اس انگوٹھی کو اب محفوظ کروادیاہوں جس کی وجہ سے اس کا عکس بھیجنے سے قاصر ہوں۔”

          اس مایوس کن جواب کے بعد بہ ظاہر اب اس مہر تک رسائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی، اس لےے باقی مہروں کی طرح اسے بھی متاعِ گم گشتہ تصور کرکے طاقِ نسیاں کے کسی گوشے میں ڈال دینا چاہےے۔ راقمِ سطور اپنے اس خیال پر بہر حال قائم ہے کہ غالب نے اسے نام کے بعد لفظِ ”بہادر“ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسترد کردیاہوگا۔شکیبصاحب کی راے کے مطابق سنہ کا غلط کندہ ہوجانا بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس کے برخلاف بے خیالی یا رواروی کے باعث اکائی کے عدد چھ (6) کا دو(2) پڑھ لیا جانا عملی تجربات کی روشنی میں زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔

          جس طرح ساتویں مہر کے متعلق غوروخوض کے نتیجے میں اس چھٹی مہر کے وجود کا علم ہوا،اسی طرح اس چھٹی مہر کے حوالے سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ انہی خطابات پر مشتمل ایک مہر اس سے قبل بھی تیار ہوچکی تھی۔ ”امروز دریں فن نظیر بدرالدین بہ گیتی نیست۔ چوں اوبدنوشت، پندارم کہ خوبیِ سرنوشتِ من است۔“ سے اشارہ ملتاہے کہ یہ مہر بدرالدین نے کندہ کی تھی لیکن غالب اس سے مطمئن نہیں تھے۔ انہو ںنے اپنی اس بے اطمینانی یا ناپسندیدگی کا سبب مہر ساز کی بدنویسی کو ٹھہرایاہے، لیکن یہ بات اس لےے قابلِ قبول نہیں معلوم ہوتی کہ ”بدرالدین“ اور ”بدنویسی“ میں بہ ظاہر لفظِ ”بد“ کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں تھی۔ غالب کی اس زمانے کی تحریریں تقریباً نایاب ہیں۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد ہمیں صرف ایک خط دستیا ب ہواہے جس پر یہ مہر ثبت تھی، لیکن یہ اصل خط نہیں، اس کی نقل ہے، اس لےے اس کی روشنی میں اس مہر کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ خط مفتی سید احمد خاں بریلوی کے نام ہے اور پنجشنبہ 3 اکتوبر 1850 کو یعنی منشی جواہر سنگھ جوہر کے بھیجے ہوئے نگینے کے دہلی پہنچنے سے صرف انیس (19) دن پہلے لکھا گیاہے۔اسے محمد ابرار علی صدیقی نے اپنی کتاب ”آئینہ دلدار“ میں جو میاں دلدار علی مذاق بدایونی کی سوانح عمری ہے، دوسرے کئی خطوط کے ساتھ نقل کیاہے۔ خط کے آخر میں مہر کی عبارت بھی بہ ظاہر اس کی ہیئتِ اصلی کے مطابق ایک مستطیل کی شکل میں نقل کردی گئی ہے31۔ پانچویں مہر کی یہ دستی نقل ساتویں مہر کے دستیاب نقوش سے صرف اس قدر مختلف ہے کہ یہ سنہ کی قید سے عاری ہے جب کہ آخرالذکر میں اس کی تیاری کا سنہ (1267ھ) بھی موجود ہے۔ لیکن یہ محض اتفاق بھی ہوسکتاہے کیوں کہ ساتویں مہر جو 1267ھ کے بعد برابر زیرِ استعمال رہی، اس کی ایسی کئی نقلیں بھی ہمارے علم میں ہیں جن میں سنہ کا اندراج نہیں۔ ان حالات میں زیرِ بحث پانچویں مہر کی کیفیتِ ظاہری کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہنا دشوار ہے۔ البتہ مفتی سیّداحمد کے نام کے خط پر اس کے نقش کی موجودگی میں اس کے وجود پر کسی شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

          غالب نے اپنی آخری مہر 1278ھ (1861-62) میں یعنی اپنی وفات سے تقریباً سات سال قبل تیار کرائی تھی۔ اس مہرکی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ان کی دوسری تمام مہروں کی بہ نسبت کافی مختصر ہے یعنی اس پر صرف ان کا تخلص (غالب) اور تیاری کا سنہ (1278ھ) کندہ ہے۔ اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مالک رام صاحب لکھتے ہیں:

“جو لوگ نفسیات سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ نفسِ انسانی میں ”انا“ کے ارتقا کا انتہائی مقام یہ ہے کہ انسان کسی غیر معمولی کامیابی کے بعد اپنے تعارف کے لیے مختصر ”علَم“ کا استعمال کرنے لگتا ہے۔“(ص88)

          غالب کی اس نفسیاتی کیفیت کو انہوں نے جن دو غیر معمولی کامیابیوں کا نتیجہ قرار دیاہے، ان میں سے پہلی ”قاطعِ برہان“ کی اشاعت ہے جو ان کے بقول ”ہندوستان کے فارسی دانوں کے خلاف ساری عمر کے جہاد“ کا ایک عملی ثبوت بھی تھی اور ”علی الاعلان عام دعوتِ مبارزت بھی“۔ یہ کتاب 20 رمضان المبارک 1278ھ مطابق 22مارچ 1862ء کو اس زمانے کے سب سے مشہور و ممتاز طباعتی ادارے مطبعِ منشی نول کشور، لکھنو میں چھپ کر شائع ہوئی تھی۔ دوسری بڑی کامیابی یہ تھی کہ اسی سال مطبعِ نول کشور میں ان کے کلیاتِ فارسی کی طباعت شروع ہوئی جو اگلے سال یعنی 1863ء میں مکمل ہوگئی۔ اس سلسلے کی تمام ضروری تفصیلات قلمبند کرنے کے بعد محترم محقق اس نتیجے پر پہنچے ہیں:

“1862ع۔ 1863ء میرزا کی زندگی میں نہایت اہم سال ہیں۔ ”قاطعِ برہان“ اگر دوسروں کی شکست کا اعلان تھاتو کلیات ان کی فتح مندی کا ثبوت۔ اسی سال ان کا اپنے نگیں پر ”غالب“ کندہ کرانا اسی حقیقت کا ایک اور پیراے میں اظہارہے۔ اب گویا انہوں نے اس دعوے پر مہر لگادی کہ فارسی علم و زبان کے لحاظ سے میں ”علیٰ کلٍّ غالب“ ہوں۔“(ص90-91)

          کسی بھی معروف طباعتی و اشاعتی ادارے سے بہ یک وقت دو کتابوں کی اشاعت کسی بھی مصنف کے لیے فخر و مباہات کا باعث ہوسکتی ہے۔ غالب کو بھی اس سے مستثنٰی نہیںکیا جاسکتا۔لیکن یہ اتنی بڑی کامیابی یقینا نہیںکہ غالب جیسا یگانہ روزگار فن کار اس کی علامت کے طورپر ایک مہر تیار کراکے اسے یادگار بنادے۔ دنیا میں ہزاروں کام ایسے ہیں جن کی انجام پذیری میں وقت کا تعین کوئی اہمیت نہیں رکھتا، مگرجب وہ انجام پاجاتے ہیں تو وقت کے ساتھ ان کے تعلق کی متعدد توجیہات و تاویلات کی جاسکتی ہیں اور حسبِ اتفاق ان میں سے کوئی توجیہہ یا تاویل واقعے کے عین مطابق بھی ہوسکتی ہے۔ اس مہر کے سلسلے میں مالک رام صاحب قبلہ کے ارشادات بھی اسی ضمن میں آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غالب کو بیس پچیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنی انفرادیت کا بہ خوبی ادراک و احساس ہوگیاتھا۔ کلکتے میں قیام کے دوران قتیل کی زبان دانی پر ان کے اعتراضات کو بجاطورپر ہندوستانی فارسی دانوں کے خلاف ان کے مبیّنہ جہاد کا نقطہ آغاز کہا جاسکتاہے۔ اس وقت اپنے بیان کردہ سالِ ولادت (1212ھ) کی رو سے وہ عمر کی بتّیسویں منزل میں اور ہماری تحقیق کے مطابق چھتیسویں سال میں تھے۔ اس کے بعد انانیت کی یہ لے متواتر تیز ہوتی رہی۔ حتّی کہ نصف صدی پوری کرتے کرتے انہیں وہ مقام حاصل ہوگیاجہاں شہرت کے پرِ پرواز لگاکر اڑنے والے کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں رہتے۔ چنانچہ 1260ھ 1844ء میں انہوں نے نواب وزیرالدولہ والیِ ٹونک کی خدمت میں جو قصیدہ مدحیہ ارسال کیاتھا، اس کے ایک شعر میں یہ واضح اعلان موجود تھا:

نامم بہ سخن غالب و رشن ترم از روز

بے ہودہ چرا جلوہ دہم اسم و علم را

          تقریباً اسی زمانے میں (پنج آہنگ کی اشاعت سے قبل) انہوں نے میاں نوروز علی خاں کو پہلی بار خط لکھاتو جواب کے لےے پتے میں صرف ”بہ دہلی بہ اسد الہ برسد“ کو کافی قرار دیا۔22 مارچ 1858ء کے خط میں مرزا تفتہ کو بھی اسی مختصر پتے پر اکتفا کی ہدایت کی گئی ہے۔ان دونوں خطوط کے اقتباسات گزشتہ صفحات میں پیش کےے جاچکے ہیں۔ ایک اور خط مرزا حاتم علی مہر کے نام ہے جو 1861ء میں لکھا گیا تھا، اس میں لکھتے ہیں:

“آپ کو معلوم رہے کہ میرے خط کے سرنامے پر محّلے کا نام لکھنا ضروری نہیں۔شہر کا نام اور میرا نام، قصہ تمام”

          اسی ہدایت کا اعادہ چار برس کے بعد مولوی عبدالرزّاق شاکر کے نام کے ایک خط میں بھی کیا گیا ہے۔ یہ خط مرزا صاحب نے ستمبر 1865ء میں رام پور کے سفر پرروانگی سے قبل تحریر فرمایاتھا۔ مکتوب الیہ موصوف کو مطلع فرماتے ہیں:

          “اب کوئی خط آپ بھیجیں تو رام پور بھیجیں۔ مکان کا پتا لکھنا ضروری نہیں۔ شہر کا نام اور میرا نام کافی ہے۔”

          پیش کردہ مثالو ںمیں سے تین مثالیں 1278ھ 1862ء سے قبل کے زمانے سے متعلق ہیں۔ چوتھی اور آخری مثال اگرچہ 1278ھ سے بعد کی ہے لیکن اس اعتبار سے بے حد اہم ہے کہ یہ برونِ دہلی یعنی رام پور کے عارضی قیام کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان سبھی مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ غالب اپنی شخصیت کی یکتائی سے بہ خوبی واقف تھے اور اپنے وقار کے تحفظ اور انا کی سربلندی کے لیے ہمہ وقت سرگرم و فکرمند رہتے تھے۔ ”ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے“ کسی شہر کی تخصیص کے بغیر ایک ایسا سوال تھاجس کا جواب ان کے تصور کے مطابق ”نہیں“ کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ ایک اتفاقی امر ہے کہ ان کی یہ آخری مہر جس پر صرف ان کا تخلص کندہ ہے، 1278ھ میں تیارہوئی، ورنہ اس سے مالک رام صاحب کے بقول جس نفسیاتی کیفیت کا اظہارہوتاہے، وہ اس سے اٹھارہ برس قبل 1260ھ میں کہے ہوے ان کے اس شعر سے بھی ظاہر ہے جس میں ”اسم و علم“ سے بے نیازی اور صرف تخلص کے حوالے سے اَبَین مِنَ الامس(روشن تراز روز) ہونے کادعویٰ کیا گیاہے۔ ہا ںیہ امر بھی قابلِ لحاظ ہے کہ انہو ںنے اپنی بعض تحریروں میں شعروادب کے تناظر میں صرف تخلص کے حوالے سے اور مراسلت و مکاتبت کی حالت میں نام کی مختصر ترین شکل ”اسد اللہ“ کے ذریعے روشناسِ خلق ہونے پر جو اصرار کیاہے،وہ کسی داخلی مغائرت یا تضادکا مظہر نہیں۔ تعارف کی یہ دونوں صورتیں ”ہرسخن وقتے و ہر نکتہ مکانے دارد“ کے بہ مصداق ایک ہی باطنی کیفیت کی نشان دہی کرتی ہیں۔

          غالب کی جن مہروں کے نقوش اہلِ علم کی دسترس میں ہیں،ان میں یہ آخری مہر وہ واحد مہر ہے جس کے خط کی ناپختگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ بدرالدین کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ غالب کے کسی دوست یا شاگرد نے یہ سوچ کرکہ شاعر کی حیثیت سے غیر معمولی شہرت و ناموری کے باوجود انہوں نے اپنے تخلص کے ساتھ کوئی مہر کندہ نہیں کرائی، یہ مہر بہ طورِ خود کسی معمولی مہر ساز سے تیار کراکے ان کی خدمت میں پیش کردی ہو اور انہوں نے اس دوست یا شاگرد کے پاسِ خاطر کی بناپر اسے رد کردینا مناسب نہ سمجھا ہو۔ اس سوال کا کہ ان کی نفاست پسندی کیوں کر اس کی متحمل ہوئی، اس کے علاوہ کوئی اور جواب سمجھ میں نہیں آتا۔

          مفصّلہ بالا تجزےے سے ظاہر ہے کہ مالک رام صاحب نے ان مہروں کی تیاری کے سلسلے میں جو تاویلات پیش فرمائیں ہیں، ان میں سے بیشتر قابلِ قبول نہیں۔ لیکن ان کے اس بنیادی موقف سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ ان میں سے ہر مہر اپنا ایک نفسیاتی، مذہبی یا تاریخی پس منطر رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے غالب کی پر پیچ شخصیت اور ذہن و مزاج کی تفہیم میں دوسرے خارجی وسائل کے ساتھ ان مہروں کا کردار بھی مناسب توجہ کا مستحق ہے۔ یہی ایک بات ان کے بارے میں تحقیق و تنقید کا جواز فراہم کرتی ہے۔

حواشی:

1۔ غالب شناس مالک رام، از ڈاکٹر گیان چند، غالب اکیڈمی،نئی دہلی، 1996، ص67

2۔ فسانہ غالب، از مالک رام، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، 1977، ص81۔ آئندہ تمام مقامات پر اقتباسات کے آخر میں قوسین کے اندر صفحات کے حوالے دے دےے گئے ہیں۔

3۔ نامہ ہاے فارسیِ غالب، مربتہ سید اکبر علی ترمذی، غالب اکیڈمی، نئی دہلی، 1969، ص117۔ غالب کی خاندانی نشن اور دیگر امور، نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹر، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، اسلام آباد، 1997، ص39

4۔ فسانہ غالب،ص115

5۔ نامہ ہاے فارسیِ غالب، ص103

6۔ غالب کی خاندانی پنشن،ص49

7۔ ایضاً،ص53

8۔ متفرقاتِ غالب، مرتبہ پروفیسر مسعود حسن رضوی، طبعِ ثانی، لکھنو1969، ص126

9۔ دیوانِ غالب، مرتبہ نظامی بدایونی، طبعِ ثانی، بدایوں، 1918، صفحہ ماقبلِ متن

10۔ احوالِ غالب، مربتہ پروفیسر مختارالدین احمد، طبعِ ثانی، دہلی، 1968،ص34

11۔ بہ حوالہ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ جنوری 1989، ص215-16

12۔ گلشنِ بے خار، از نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ، طبعِ اول، دہلی، 1837، ص185

13۔ بہ حوالہ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ مذکور الصدر، ص173

14۔ فسانہ غالب،ص49

15۔ احوالِ غالب، ص142۔143

16۔ مکاتیبِ غالب، مربتہ مولانا امتیاز علی عرشی، طبعِ دوم، رام پور، 1943، حاشیہ ص41

17۔ یادگارِ غالب(عکسی ایڈیشن)یو۔پی۔اردو اکاڈمی، لکھنو1986، ص9

18۔ نامہ ہائے فارسیِ غالب،ص103

19۔ پنج آہنگ، طبعِ ثانی، دہلی، 1853، ص334

20۔ دیوانِ غالب بہ خطِ غالب، مرتبہ اکبر علی خاں عرشی زادہ، رام پور، 1969،ص16

21۔ گلِ رعنا، مرتبہ مالک رام، دہلی، 1970، ص35

22۔ غالب کے خطوط، مرتبہ خلیق انجم، جلد سوم، دہلی،ص1029۔ 30

23۔ پنج آہنگ، ص389

24۔ تجلیات، از مرزامحمد ہادی عزیز لکھنوی، ص197-98، بہ حوالہ ماہنامہ نیادور، لکھنو شمارہ جولائی 1980، ص12

25۔ غالب درونِ خانہ، از کالی داس گپتا رضا، ساکار پبلشرز، بمبئی، 1989، ص43

26۔ پنج آہنگ، ص113

27۔ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ جنوری 1996، ص164

28۔ باغِ دو در، مرتبہ سید وزیرالحسن عابدی، لاہور، 1970، ص120

29۔ گنجینہ غالب، پبلی کیشنز ڈویژن، نئی دہلی، 1995،ص168 تا ص170

30۔ غالب اور حیدرآباد، از ڈاکٹر ضیا ءالدین شکیب، نئی دہلی، 1969، ص223

31۔ آئینہ دلدار، از ابرار علی صدیقی، کراچی، 1956، ص93

میرزا غالب کا سفرِ کلکتہ اور بیدل

عبدالغنی

میرزا غالب کا سفرِ کلکتہ اور بیدل

          میرزاغالب اپریل 1827 میں دہلی سے کلکتے کی طرف روانہ ہوئے۔ انہیں دہلی میں رہتے ہوئے کم و بیش بارہ سال گزر چکے تھے اور یہ قیام ان کے لیے سخت پریشان کن ثابت ہوا تھا۔ دہلی میں ان کی دقت پسندی اور مشکل گوئی پر اعتراضات ہوئے تھے اور پھر انھی سالوں میں ان کی پنشن کا جھگڑا بھی شروع ہوا جس کے ساتھ معیشت کے علاوہ عزت و آبرو کا سوال بھی وابستہ تھا، اس لیے جب وہ قضیہ پنشن کے تصفیے کے لیے رہگرائے کلکتہ ہوئے ہیں تو سخت آزردہ خاطر تھے۔ آغاز شباب میں ان کے دل میں اس بات کا کبھی تصور تک نہیں آیا تھا کہ زندگی ان کے لیے اس قدر زہرہ گداز ثابت ہوگی۔ آگرہ رہتے ہوئے انہیں خیال تھا کہ زندگی ہر طرح عیش و طرب کے مترادف ہے لیکن دہلی پہنچنے پر یہ خیال باطل نکلا۔ اور حزن و یاس کے عالم میں انہوں نے وطن اور ابنائے وطن کے متعلق کہا:

کس از اہلِ وطن غم خوار من نیست

مرا در دہر پنداری وطن نیست

          مرزا غالب کے دل و دماغ کی اِس کیفیت کے ساتھ لکھنو کان پور، باندہ، موڈا، چلہ تارا اور الٰہ آباد ہوتے ہوئے بنارس پہنچے۔ رنج و غم، صعوبتِ راہ، اور اِن پر مستزاد کچھ جسمانی عوارضات۔ بنارس سے ایک خط میں لکھتے ہیں

مغلوبِ سطوتِ غم دلِ غالبِ حزیں

کاندر تنش ز ضعف تواں گفت جاں نبود

گویند زندہ تا بہ بنارس رسیدہ است

“مارا ازیں گیاہِ ضعیف ایں گماں نبود”

          لیکن یہ ’گیاہِ ضعیف“ بالکل پژمردہ اور مضمحل جب بنارس پہنچا تھا وہاں کی حسن پرور فضا نے اُسے تروتازہ کردیا۔ طبیعت شگفتہ ہوگئی، عروقِ مردہ میں خونِ زندگی دوڑنے لگا، تخلیقی قوتیں عروج پر پہنچ گئیں، وجودِ معنوی سرور انگیز لَے کے ساتھ مترنم ہوا۔ ناموافقتِ حالات نے جس شدت کے ساتھ ان پر دباو ڈالا ہوا تھا، حسینانِ بنارس کو دیکھ کر اُن کا تخیل اُتنی جولانی کے ساتھ تخلیقِ شعرکی طرف راغب ہوا اور اس طرح انہوں نے حسنِ خیال اور حُسنِ بیان کا وہ شاہکار پیش کیا جو مثنوی چراغِ دیر کے نام سے موسوم ہے۔

          تحقیق سے متعلق مقالات میں رنگینی بیان کا بہت کم دخل ہوتاہے، لیکن یہاں یہ انداز بالارادہ اختیار کیا گیا ہے تاکہ آئندہ سطورمیں مثنوی چراعِ دیر کی جمال پروری کے متعلق ہم جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، اس کے لیے ذہن تیار ہوجائے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دہلی والوں نے اُردو شاعری کے مرغوب اور مطبوع رجحانات کی بنا پر میرزاغالب کو جس شد و مد کے ساتھ مطعون کیا تھا کہ تقلیدِ بیدل نے ان کے کلام کوایک معمہ بنا ڈالا ہے، اُسی قدر اصرار کے ساتھ اِس سفرمیں میرزا غالب نے اپنی تخلیقات کے ذریعے بیدل کے ساتھ اپنے فکری اور قلبی اتحاد کا اعلان کیا۔ زیادہ پرلطف بات یہ ہے کہ دہلی والوں کے اعتراضات نے جو گونج پیدا کی تھی، اُس میں ڈوب کر تمام کے تمام اہلِ تحقیق نے غالب کے اس اعلان کی طرف توجہ مبذول نہیں کی۔اور اب جبکہ غالب کے سفر کلکتہ کے بعد پوری ڈیڑھ صدی ہونے میں صرف دس سال باقی ہیں، اس کی ضرور تلافی ہونی چاہیے۔ اس بے توجہی کی وجہ صرف یہ رہی ہے کہ اگرچہ میرزاغالب نے کہا تھا:

فارسی بیں تابہ بینی نقش ہاے رنگ رنگ

بگزر از مجموعہ اردو کہ بے رنگِ من است

سلطنتِ مغلیہ کی بساط کے اُلٹنے، انگریزوں کے تسلط، فارسی زبان کی علمی اور ادبی حیثیت کے خاتمے، اردوکی رواج پذیری اور پھر قیامِ پاکستان کے بعد بھی فارسی ادب کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ہم نے غالب کے دیوانِ فارسی کو درخورِ اعتنانہ سمجھا۔ اس لیے ہم اُن مثبت اور وقیع اثرات کاجائزہ نہیں لے سکے جو بیدل کے مطالعے نے غالب کی تخلیقی قوتوں کے ارتقا پرڈالے۔ اِس مقالے میں صرف اُن اثرات کو زیرِ بحث لایا جائے گا جنہیں میرزاکے سفرِ کلکتہ نے بے نقاب کیا۔ یہ سفر غالب کوایک نئی دنیا سے متعارف کرانے کا موجب ثابت ہوا تھا۔ کلکتے میں جدید حیرت انگیز ایجادات کو دیکھ کر وہ اس عہد کے نقیب بنے۔ جس میں سے ہم گزر رہے ہیں۔ اسی لیے سرسید احمد خاں کے کہنے پر جب انہوں نے آئینِ اکبری پر تقریظ لکھی توکہا:

مردہ پروردن مبارک کار نیست

علم اور تجربے میں اضافے کے علاوہ یہ سفر اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے دوران میں انہوں نے جو مثنویاں۱ تصنیف کیں، ان میں واضح طورپر بیدل کا تتبع کیا اور وہ بھی نہایت ہی خوش آیند اور دل پذیر طور پر۔

          قشقہ جبین پریزادگانِ بنارس کو دیکھ کر جو سرور انگیز کیفیت میرزا غالب کے دل پر طاری ہوئی اس نے ان کی زبان پر بے اختیار بیدل کی مثنوی ”طور معرفت“ کے اشعار وارد کردیے۔ بیدل نے یہ مثنوی وسط ہند میں لکھی تھی اور اُس میں کوہِ بیراٹ (بندھیاچل کی شاخ) کے حسن پرور مناظر بیان کیے تھے جو انہوں نے وہاں ساون کی موسلادھار بارشوں میں دیکھے۔ جس پُرشور تجربہ تخلیقی سے بنارس میں میرزا غالب دوچار ہوئے تھے، کوہِ بیراٹ میں میرزابیدل کو بھی اُسی سے گزرنا پڑاتھا۔ میرزابیدل نے جامی کی مثنوی یوسف زلیخا اور نظامی کی شیریں خسرو والی بحر ہزج مسدس محذوف اختیار کی تھی۔ لغت میں ہزج کامعنی باترنم خوش آیند آواز ہے۔ چوں کہ کیف و سرور کے لہجے کو ادا کرنے کے لیے یہ بحر فطرتاً نہایت ہی مناسب آہنگ رکھتی ہے، اہل عرب سرود و نغمہ کے وقت بیشتر اسی کواختیار کیا کرتے تھے۔ جامی اور نظامی نے بھی اپنی رومان پرور مثنویوں کے لیے اِسے اسی لیے منتخب کیا تھا۔ اِس بحر کو گویا رومان آفرینی اور تخیل پروری کے ساتھ فطری مناسبت اور موافقت حاصل ہے۔ اس بحر کے انھی ممکنات کے زیرِ نظر میرزا بیدل ایسے بالغ نظر شاعرنے بھی اسے پسند کیا۔ یہ بحر حسن پرور تخیل اور رومان سے متعلق جذبات کا قدرتی ذریعہ اظہار ہے۔ بیدل کی مثنوی گیارہ سو اشعار پر مشتمل ہے جو انہوں نے صرف دو روز میں لکھی تھی۔ وفورِ جذبات، حسنِ تصورات، لطافتِ بیان اور معانیِ نغز کے اعتبار سے یہ مثنوی فارسی ادب کا بے نظیر شاہکارہے۔ مناظر قدرت کو لے کر اتنی رومان پروری کے ساتھ دنیابھر کے شایدہی کسی شاعر نے ایسا عظیم شاہکار پیش کیا ہوگا۔

          بیدل کی یہ مثنوی ایک محبوب سرمایے کی حیثیت سے غالب کے قبضے میں رہی تھی۔ اور پنجاب یونیورسٹی لائبریری کو یہ فخر حاصل ہے کہ اِس مثنوی کا جو۲ مخطوطہ غالب کے قبضے میں رہاتھا، وہ اس کی الماریوں میں محفوظ ہے۔ اِس مخطوطے پر غالب نے 1231ھ (مطابق1815)

 کی مہر ثبت کی ہے اور اپنے قلم سے شکستہ خوبصورت نستعلیق میں مثنوی کے متعلق یہ شعر۳ لکھا ہے:

ازیں صحیفہ بنوعی ظہورِ معرفت است

کہ ذرّہ ذرّہ چراغانِ نورِ معرفت است

          1815ءیا 1817ء میں میرزا غالب مستقل طور پر آگرے سے شاہجہان آباد آگئے تھے۔  معلوم نہیں انہوں نے یہ مخطوطہ آگرے ہی سے حاصل کیا تھا یا شاہجہان آباد پہنچ کر کہیں سے لیا تھا۔ انہوں نے دس گیارہ سال کی عمرمیں شعرکہنا شروع کر دیا تھا۔ گلاب خانہ آگرہ کا ماحول بھی علمی تھا اور جیسا کہ نسخہ حمیدیہ سے ظاہرہوتا ہے، انہوں نے شاعری کا آغازہی اتباع۴ بیدل سے کیا تھا۔ ظاہر ہے غالب آگرہ ہی میں بیدل سے متعارف ہوچکے تھے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ نفسیاتی اور معنوی اعتبار سے بیدل کے ساتھ عقیدت کے کیا اسباب تھے۔ یہاں صرف یہی کہہ دینا کافی ہے کہ غالب آگرے سے بیدل کے ساتھ لگاو لے کر آئے تھے۔

          اور اگرانہیں آگرے میں رہتے ہوئے مثنوی”طورِ معرفت“ کا مخطوطہ نہیں ملاتھاتو ’مہرکی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ شاہجہان آباد پہنچتے ہی مل گیا ہوگا۔ یہ امر بعید از قیاس نہیں۔ میرزا بیدل شاہجہان آباد میں اپنی زندگی کے آخری پینتیس سال بڑے احترام کے ساتھ گزار کر دسمبر 1720ء میں فوت ہوئے تھے۔ اور پھر ان کی وفات کے بعد کم و بیش اکیاون باون سال تک مزارِ بیدل پرہر سال بڑے اہتمام سے عرس منایا جاتا تھا۔ شاہجہان آبادکی یہ ایک خاص سالانہ تقریب ہوا کرتی تھی۔ جس میں تقریباً تمام فارسی اور اردو گو شعرا شامل ہوا کرتے تھے۔ مرزا محمد رفیع سودا (وفات:1781 ئ) اور مولانا ندرت کشمیری کی چپقلش نے عرسِ بیدل کا تذکرہ اردو ادب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب میرزا غالب شاہجہان آباد جاکر سکونت پذیر ہوئے ہیں تو میرزا بیدل کی تقریباتِ عرس کی بات صرف بیالیس چوالیس سال اُدھر کی تھی۔ اور پھر میرزا غالب کے زمانے میں بھی جہان آباد(شاہجہان آباد) میں علمی اور ادبی چرچے باقاعدہ موجود تھے۔ ممکن ہے زندہ۵ بزرگوں میں سے کوئی عرسِ بیدل میں شامل بھی ہوا ہو۔ ویسے بھی روایات جاری رہتی ہیں۔ بیدل بھی مغلوں کی عظمت کا ایک مظہرِ جلیل تھے۔ جہاں آباد والے انہیں کب بھلا سکتے تھے۔ اور معلوم ہوتا ہے میرزا غالب جب وہاں گئے ہیں تو ان کے دل میں مزارِ بیدل دیکھنے کی شدید آرزو تھی۔ کہتے ہیں:

گر ملے حضرتِ بیدل کا خطِ لوحِ مزار

اسد آئینہ پروازِ معانی مانگے

          دستبردِ زمانہ سے مزارِ بیدل ناپید ہوچکا تھا اور ان کا موجودہ مزار خواجہ حسن نظامی مرحوم نے 1914ء میں تعمیرکرایا تھا۔ بنابریں جہاں بیدل کی شہرت کایہ غلغلہ تھا اور ان سے میرزاغالب کو اس قدر عقیدت تھی،1815ء میں اگر انہیں آگرہ پہنچتے ہی مثنوی طورِ معرفت کا نسخہ مل گیا اور انہوں نے اسے حرزِ جاں بنا لیاتو قطعاً تعجب کا مقام نہیں۔ ہمیں اس بات کابھی قطعی طورپر علم نہیں کہ مثنوی طورِ معرفت کا نسخہ کب تک میرزا غالب کے زیرِ مطالعہ رہا۔مگر ان کی مثنوی چراغ دیرکے سال تصنیف (1827) اور اس مثنوی پر طورِ معرفت کے واضح اثرات کے زیر نظر کہا جا سکتا ہے کہ یہ مثنوی کافی دیر تک میرزا غالب کے پاس رہی ہوگی اور یہ بھی عین ممکن ہے زندگی بھر رہی ہو۔ اسی لیے آثارِ غالب۶ کے طور پر ضائع ہونے سے بچ گئی اور کسی نہ کسی طرح پنجاب یونی ورسٹی لائبریری میں پہنچ گئی۔

          اب ذراغور فرمائیے؛ اٹھارہ سال کا نوخیز شاعر، جس کی امنگوں اور آرزووں کی کوئی انتہا نہیں، ایک رومان پرور مثنوی حاصل کرتاہے جس میں دیگر مطالب و معانی اور جذبات انگیز اقوال کے علاوہ کہا گیا ہے:

بہارِ زندگی مفت است دریاب

          جو بات اس نوخیز شاعر کی فطرت سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ وہ تو زندگی کے رس کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر پی جانا چاہتا ہے۔ زندگی میں جو حسن اور دل کشی ہے، زندگی جن جن اسرار و رموز سے لب ریز ہے، تخیل اور جذبہ زندگی میں جس طرح رنگینی پیدا کرسکتے ہیں، یہ سب کچھ اس مثنوی میں بافراط موجود تھا۔ اب آپ ہی اندازہ لگائیے ’برآرزو غالب نے اس مثنوی کا مطالعہ کس ذوق و شوق کے ساتھ کیا ہوگا اور کس طرح اس کے اشعار، اس کی ترکیبات، اس کے تصورات اور اس کے معانی غالب کے شعور کا مستقل جزو بن گئے ہوں گے۔ مبدہ فیاض نے شاعرانہ عظمت کے عناصر شعورِ غالب میں بدرجہ اتم موجود کردیے تھے۔ ان عناصر کی نشو و نما میں طورِ معرفت کے اثرات نے کیا حصہ لیا ہوگا؟ اس کا کچھ اندازہ تو غالب کے محولہ بالا شعرسے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کھلے دل سے تسلیم کیا ہے کہ اس صحیفے کی برکت سے ذرہ ذرہ چراغانِ طورِ معرفت بن چکا ہے۔ سطورِ آیندہ کے مطالعے سے آپ بھی اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ طورِ معرفت کے اشعار نے غالب کے شعورِ تخلیقی میں ایک مستقل گونج پیدا کردی تھی۔ انہوں نے بنارس کا بہشتِ خرم اور فردوس معمور دیکھا تو سرور و کیف کے پرشور جذبات کے ساتھ طورِ معرفت کی بحر اور اس کے اشعار ان کے شعور میںبڑی شدت کے ساتھ گونجنے لگ گئے اور جب اُن پر جذبہ تخلیقی طاری ہواتو وہ بھول گئے کہ وہ خود کچھ کہہ رہے ہیں یا بیدل گویا ہیں۔ معنوی اتحاد کا یہ عالم تھا۔

          میرزا غالب ایک نابغہ تھے۔ اُن کی شاعرانہ عظمت کے ہم روز بروز زیادہ قائل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ ہماری ثقافت کا مایہ ناز مظہر ہیں۔ ان کی اپنی انفرادیت بڑی عظیم اور رنگین ہے۔ وہ بیدل سے استفادے اور استفاضے کے باوجود غالب رہتے ہیں، اس لیے مثنوی چراغ دیر میں سے پہلے ہم اُن چیزوں کو پیش کریں گے جو خالصةً غالب اور بنارس سے تعلق رکھتی ہیں تاکہ کوئی اس گمانِ باطل میں مبتلانہ ہوجائے کہ چراغ دیر تو طورِ معرفت کی محض صداے بازگشت ہے۔ غالب جیسے یگانہ روزگار نبوغِ ذاتی رکھنے والے شاعرسے یہ توقع کبھی نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنی تخلیقات میں اپنی انفرادیت کو چھوڑ کرمحض نقالی اپنا شعار بنالے۔ یہ تو ان کی فطرت کے بالکل خلاف تھا۔ خود کہتے ہیں:

بامن میاویز اے پدر فرزندِ آذر را نگر

ہرکس کہ شد صاحب نظر دینِ بزرگاں خوش نکرد

          پہلے ہم غالب کی انفرادیت کا ذکر کرتے ہیں:

          مناظر فطرت کی رنگینیاں اور رعنائیاں بیان کرتے ہوئے بھی میرزا بیدل کی مثنوی کا مرکزی خیال یہ ہے:

معمّائی معمّائی معمّا

اگر خواہی کشودن چشم بکشا

          وہ انسان کو مصدرِ اسرار قرار دے کر تمام کائنات کو بھی ایک معمّا کہتے ہیں۔ اس لیے کوہستان بیراٹ انہیں نارستانِ اسرار نظر آتا ہے اور اس کے ایک ایک سنگریزے میں انہیں پری زادِ حسن محوِ خواب دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی جولانیِ تخیل میں بھی بنیادی طورپر فکر پرستی ہے، بصیرت افروزی ہے، عرفان پروری ہے۔ لیکن میرزا غالب اتنے نیرنگیِ قدرت سے متاثر نہیں جتنے صنفِ لطیف کی گل اندامی سے مسحور ہو جاتے ہیں۔ بلکہ وہ تو لالہ و گل کو بھی دیکھتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کسی کے لب و رخسار کی رنگینی ہے جو اس صورت میں نمایاں ہوگئی ہے۔ اُن کی ساری شاعری میں ارضی قسم کی لذت پروری ہے۔ وہ حکیمِ فرزانہ ہوتے ہوئے بھی اپنے اس بنیادی جذبے سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ مثنوی چراغ دیر میں بھی یہی جذبہ کارفرماہے۔ کاشی (بنارس کا دوسرانام ہے) کے بتانِ بت پرست اور برہمن سوز کی تبسم ریزی اور مشک بیزی کا ذکر کرتے ہوئے فکرِ غالب اپنے معراج پر اُس وقت پہنچتا ہے جب وہ ان کے متعلق کہتے ہیں:

بہارِ بستر و نوروز آغوش

          میرزا بیدل اور میرزا غالب کی طبائع میں یہی بنیادی اختلاف ہے اور مجموعی حیثیت سے ان دونوں مثنویوں میں بھی بنیادی طورپر یہی فرق ہے۔ طورِ معرفت کے گیارہ سو اشعار عرفان نوازی کے اردگرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ چراغ دیر کے یک صد و ہشت (108) اشعار کا محور صنفِ لطیف ہے۔ اس میں اگر غمِ دوراں یا معرفت کوشی کاذکر موجود ہے تو اس کی حیثیت محض ضمنی ہے۔

          یہ تو اس امر کا ذکر تھا کہ چراغِ دیر فطرتِ غالب کی آئینہ داری کرتی ہے۔ اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس مثنوی میں خصوصیت کے ساتھ صرف اُن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کاشی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور جن کے مطالعے سے صرف کاشی کا نقشہ نگاہوں کے سامنے ابھرتا ہے۔ صرف دو ایک باتوں پر اکتفا کیا جائے گا۔ حسینانِ کاشی چونکہ بت پرست ہیں، اپنی رسم مذہبی کے مطابق صندل کا قشقہ اُن کی جبینوں پر ہے۔ چونکہ ہر طرف قشقہ جبیں حسین نظر آتے ہیں، غالب کے تخیل نے انہیں بتایا کہ ان کو دیکھ کر فلک نے بھی اپنی جبین کو شفق کے ذریعے اسی طرح رنگین بنا لیا ہے:

فلک را قشقہ اش گر بر جبین نیست

پس ایں رنگینی موج شفق چیست

          پھر اپنے شعارِ مذہبی کی بنا پر تمام حسینوں نے اپنے رنگین و رعنا بدن کے اردگرد زنار باندھ رکھا ہے۔ غالب کہتے ہیں اس چمن زار میں بہار آتی ہے تو اسی لیے موجِ گل سے زنار بدوش ہوتی ہے:

بہ تسلیم ہواے آن چمن زار

زِ موجِ گل بہاراں بستہ زنار

          ان مہوشوں کے دمکتے ہوئے چہرے شام کے وقت گنگا کے کنارے نظر آتے ہیں تو چراغاں ہوجاتی ہے:

بہ سامانِ دو عالم گلستاں رنگ

ز تابِ رخ چراغانِ لبِ گنگ

          گنگا انہیں دیکھتی ہے تو بہ صد شوق ان کے لیے اپنی آغوش واکر دیتی ہے۔ یہ گل رخسار اپنے وجود رنگین کے ساتھ بہ غرضِ شست و شوپانی میں داخل ہوتے ہیں تو گنگا کی امواج کھلی باہوں سے استقبال اور معانقہ کرتی ہیں:

ز بس عرضِ تمنّا می کند گنگ

ز موج آغوشہا وا می کند گنگ

          الغرض پڑھنے والے پر تمام اشعار کا مجموعی تاثریہ ہوتاہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے کاشی کے مناظر دیکھ درہاہے۔

          ان دوپاروں کا مقصد صرف یہ تھا کہ پتا چل جائے، مثنوی چراعِ دیر میں میرزا غالب کی انفرادیت بدرجہ اتم موجود ہے، اوراس کو پڑھتے ہوئے ہم”طورِ معرفت“ کے کوہ بیراٹ کی سیر نہیں کرتے بلکہ کاشی میں گلگشت کر رہے ہوتے ہیں۔ ”چراغِ دیر“ اپنے اندر تازگی اور جدت رکھتی ہے،طورِ معرفت کی نقالی نہیں۔ یہ سب کچھ برسبیل احتیاط تھا۔ ہمارا اصل مقصد یہ تھا کہ اس حقیقت کا علم ہوجائے کہ مثنوی چراغ دیر لکھتے وقت غالب کے شعورِ تخلیقی میں میرزابیدل کی مثنوی طورِ معرفت کے اثرات اس طرح رچے ہوئے تھے کہ اپنا انفرادی رنگ قائم رکھتے ہوئے بھی وہ اس کے تصورات اور اس کے اسلوبِ نگارش سے باہر نہ جاسکے۔ بنابریں یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ سفرِ کلکتہ میں معنوی طورپر بیدل، غالب کے ساتھ رہے۔

          بحرتوظاہر ہے وہی”طورِ معرفت“ والی ہے۔ نظامی، جامی اور ان کے بعد ناصر علی سرہندی نے بھی اپنی مثنویوں میں تواجد و سرور کے اظہار کے لیے یہی بحر اختیار کی تھی۔ جذبات میں ایک تلاطم بپاہوا تھا۔ دیکھیے غالب اور بیدل اس کا اظہار اپنی اپنی مثنویوں کے آغازمیں بالکل یکساں انداز میں کرتے ہیں:

غالب

بیدل

نفس با صور دمساز است امروز

طپش فرسود شوقِ نالہ تمثال

خموشی محشرِ راز است امروز

زِ تحریکِ نفس وا می کند بال

رگِ سنگم شراری می نویسم

کہ خاموشی نوا ساز است امروز

کفِ خاکم غباری می نویسم

غبارِ سرمہ آواز است امروز

          یہ دونوں شاعروں کے پہلے دو دو شعر ہیں۔ الفاظ، قافیہ، ردیف اور تصورِ طپش کی یکسانیت دیکھیے۔ دونوں کے ہاں لفظِ ”امروز“ کی نشست جذبہ تخلیقی کی اُس کد و کاوش کی طرف اشارہ کر رہی ہے جوایک خاص ”آن“ کو مسخر کرکے اسے ابدیت کا معنی خیز جز و بنا دینا چاہتی ہے۔

          میرزاغالب کے دوسرے شعرمیں”شرار نوشتن“ کا محاورہ بالکل اندازِ بیدل سے مطابقت رکھتاہے۔اسی طورِ معرفت کاایک شعر ہے:

بہر عضوم تبِ سودا شرر کاشت

ز ہر مویم دلِ فریاد برداشت

          میرزابیدل نے شرر کاشتن محاورہ استعمال کیا ہے۔ اب نوشتن اور کاشتن میں وہی فرق ہے جو منشی اور مجاہدمیں ہوتاہے۔ایک جگہ انفعالیت ہے، دوسری جگہ فعالیت، علامہ اقبال مرحوم کی مجلس میں ایک باربیدل کے محاورہ ”خرام کاشتن“ کاذکر چھڑ گیا۔انہوں نے فرمایاکہ ا س سے ظاہر ہوتاہے کہ بیدل کا فلسفہ حیات حرکی (Dynamic)ہے اور ان کے مقابلے میں میرزا غالب کامائل بہ سکون۔ بہرحال ترکیب کی مطابقت ظاہر ہے۔ میرزا غالب نے اپنے اس شعرمیں سوزاور طیش کے لیے شرار کے استعارے سے کام لیاہے۔ ان کے اُردوکلام میں بھی اس غرض کے لیے شرار کئی بار استعمال ہواہے۔ مثلاً:

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا

جسے غم سمجھ رہے ہو وہ اگر شرار ہوتا

          لیکن ان کے فارسی کلام میں یہ لفظ ایک انوکھے معنی کو بیان کرنے کے لیے بھی استعمال ہواہے۔ مندرجہ ذیل شعر پر غور کیجیے جو دیدہ وروں کی تعریف میں کہا گیا ہے:

زخمہ کردار بتارِ رگِ خارا بینند

          اس شعرمیں بتایا گیا ہے کہ اہل بصیرت کی حقیقت بیں نگاہیں زمان و مکان کے پوشیدہ امکانات سے پوری طرح باخبرہوتی ہیں۔ اس شعرکے مطالعے کے بعد مثنوی طور معرفت سے صنعتِ سنگ کے متعلق مندرجہ ذیل اشعار پڑھیے:

بود ہر جزوش از جوش شرر ہا

نگہ پروردہ چشمِ تماشا

چو اہل شرم ازو نتواں نمودن

بچندیں چشم یک مژگاں کشودن

دریں خلوت چو شاہد آرمیداست

کہ دیوار و درش آئینہ چیداست

۔۔

شرارش گر کند چشم تو روشن

سراپایش چو غربال است روشن

ولی کس را بریں روزن نظر نیست

نگاہ سنگ بین بابِ شرر نیست

شفقہائے کزیں کوہ آشکار است

ہماں عکسِ چراغانِ شرار است

          ان اشعار میں شراراور دیدہ وری کا تعلق موجود ہے، بلکہ بیدل توکہتے ہیں کہ یہ جوش شرر بچندیں چشم کسی کے حسن کا تماشا کررہاہے۔ علاوہ بریں تخیلِ بیدل نے تصور شرار میں وہ اشتعال پیدا کردیاہے کہ یہ کہنا بے جانہ ہوگاغالب کا شرار کے ساتھ مستقل والہانہ تعلق بڑی حد تک مثنوی ”طور معرفت“ کا مرہون منت ہے۔ شرار کا تصور ان کے ذہن میں اس طرح جاگزیں ہوچکاتھاکہ اپنی اس مختصر مثنوی میں بھی انہوں نے اس لفظ کو دوبار استعال کیاہے۔ دوسرا شعر اختتام پر ہے:

شرار آسا فنا آمادہ برخیز

بیفشاں دامن و آزادہ برخیز

          اور فنا پذیری میرزا غالب کے ہاں تصورِ شرار کاتیسرا پہلو ہے۔

          شرار کے متعلق ان تمام امور کو ذہن میں رکھ کر ”طورمعرفت“ سے یہ قطعہ ”درصفت شرار“ پڑھا جائے:

بیا تا وحشتی درپیش گیریم

مبادا چوں شرر در سنگ میریم

دو روزی تیشہ فرہاد باشیم

ازیں کہسار معنی ہا تراشیم

براہ انتظار ماست دلتنگ

پریزاد شرر در شیشہ سنگ

شویم آتش زنِ شوق شرارش

بر آریم از طلسمِ انتظارش

ہماں برتی کہ از جوشِ لطافت

بہ گل رنگ است و در آئینہ حیرت

برنگِ قطرہ از ابر آشکار است

بطبع سنگ نامِ او شرار است

ز افسون لطافت کردہ منزل

بہر سنگی چو راز عشق در دل

بہ آہنگِ پر افشانی مہیسّا

درونِ بیضہ طاوسانِ رعنا

          عالمی ادب پر نگاہ رکھنے والے اپنے دوستوں سے کہوں گا کہ دنیا بھر کے کسی شاعر کے کلام سے اس قطعے کاجواب تلاش کریں۔

          شرار کے سلسلے میں بیدل اور غالب کے تقابلی جائزے سے اس امر کا احساس دل میں پیدا ہوتا ہے کہ مثنوی طور معرفت نے میرزا غالب کو جس تصور سے بخوبی متعارف کرایا تھا، اس کااظہار انہوں نے نہ صرف مثنوی ”چراغ دیر“ میں کیا بلکہ ان کے تمام کلام میں ہم اس تصور سے دوچار ہوتے ہیں۔ اپنے اس دعوے کی تائید میں ہم ان کی ایک مشہور فارسی غزل کایہ مطلع درج کرتے ہیں:

دیدہ ور آں کہ تانہد دل بہ شمارِ دلبری

در دلِ سنگ بنگرد رقصِ بتانِ آذری

کس قدر بولتا ہوا مطلع ہے، تصور کس قدر واضح ہے۔ کائنات کے بے ترتیب اور بے رنگ عناصرمیں نگہِ بصیرت کا حسن کی جلوہ گری دیکھنا کیسا دلاویز خیال ہے۔ اسی خیال کی صحیح قدر وقیمت سے صرف ایک اعلیٰ درجے کا ذہین و فطین اور بالغ نظر سنگ تراش ہی آشنا ہو سکتا ہے جس کا تیشہ جمال افروزی کی اداوں کو بخوبی جانتا ہے۔ اس توضیح کے بعد مثنوی طورِ معرفت کے مندرجہ ذیل اشعار پڑھے جائیں جو لاریب بیدل کا شاہکار ہیں:

شبی بر تیغِ کوہی بود جایم

ز بیتابی بہ سنگی خورد پایم

ندا آمد کہ ای محروم اسرار

خراباتِ نزاکتہاست کہسار

مباد ایں جا زنی برسنگ دستی

کہ مینا در بغل خفتست مستی

          بداعتِ تخیل، طراوتِ احساس اور حسنِ بیان کا یہاں اتحاد ملاحظہ کرنے کے بعد آپ ایک بار پھر میرزا غالب کا مندرجہ بالا مطلع پڑھیں اور موازنہ کریں۔ لیکن بیدل یہ شعر کہنے کے بعد آگے جاکرنزہتِ فکری کاایک اور عالم دکھاتے ہیں:

سبک تر راں دریں کہسار محمل

مبادا شیشہ را بشکنی دل

نزاکت بسکہ این جا ریشہ دارد

صداے پا شکستِ شیشہ دارد

تو جسم اندیش وایں جا غیر جاں نیست

ہمہ میناست، سنگی درمیاں نیست

تیسرے شعرکاپہلامصرع گنگاتے ہوئے اب مثنوی چراغِ دیر سے میرزا غالب کے ان اشعار کا مطالعہ کیا جائے:

شگفتی نیست از آب و ہوایش

کہ تنہا جاں شود اندر فضایش

ہمہ جانہای بی تن کن تماشا

ندارد آب و خاک ایں جلوہ حاشا

نہادِ شاں چوبوی گل گراں نیست

ہمہ جانند جسمی درمیاں نیست

          میرزاغالب بے شک لطافتِ فکرواحساس کا پیکر ہیں لیکن خود فیصلہ فرمائیے اس خیال کاماخذ کہاہے؟

          سنگ و شرار کا تذکرہ ختم کرتے ہوئے یہاں ہم مثنوی طورِ معرفت میں سے بیدل کا ایک شعر درج کرتے ہیں جس میں ”رگِ سنگ“ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے، اور وہ اس غرض کے لیے کہ پتاچل جائے یہ تین الفاظ۔ رگ، سنگ، شرار۔اگر غالب یک جا، دو دو کرکے یا تنہا استعمال کرتے ہیںتو یہ فیضِ۷ بیدل ہے:

رگِ سنگی بہ نیش نالہ خوں ریخت

خروشی سر بر آورد و جنوں ریخت

          بیدل کی طورِ معرفت اور غالب کی چراغِ دیر کاباہمی تعلق اب اچھی طرح واضح ہوچکاہے۔ تاہم مماثلت اور مطابقت کے بعض مزید عناصر موجود ہیں۔ ان کاذکربھی ضروری ہے تاکہ بحث سیر حاصل ہوجائے۔ اس ضمن میں پہلے دونوں شعرا کے ترکیبات، تصورات یا معانی کے لحاظ سے مزید ایک جیسے اشعار پیش کیے جاتے ہیں:

غالب

بیدل

بہ لطف از موجِ گوہر نرم رو تر

ہمہ از موجِ گلشن خوش عناں تر

بناز از خونِ عاشق گرم دو تر

زِ آبِ زندگانی ہم رواں تر

۔۔

تعالی اللہ بنارس چشم بد دور

بہشتِ اتفاقِ آرزوہا

بہشتِ خرم و فردوسِ معمور

فرنگستانِ حسنِ رنگ و بو ہا

۔۔

بہارستانِ حسنِ لا اُبالیست

رگِ ابرِ بہارستانِ نیرنگ

بہ کشورہا سمر در بی مثالیست

طلسمِ ریشہ فردوس در چنگ

۔۔

کفِ بر خاکش از مستی کنشتی

بنِ ہر خار صد گلشن در آغوش

سرِ ہر خارش از سبزی بہشتی

کفِ ہر خاک صد آئینہ بر دوش

۔۔

بسامانِ دو عالم گلستاں رنگ

دو عالم رنگ و بوی خفتہ یک بار

زِ تابِ رخ چراغانِ لبِ گنگ

زِ شورِ خندہ گل گشت بیدار

۔۔

شکایت گونہ دارم ز احباب

تماشائی جمالِ شستہ آب

کتانِ خویش می شویم بہ مہتاب

کتانم می زند بر روئی مہتاب

۔۔

بود در عرضِ بال افشانی ناز

نگہ تا باغبارش آشنا بود

خزانش صندل پیشانی ناز

مژہ عرضِ دکان توتیا بود

          چراغِ دیرکا وحدت پرور حسین تاروپود تیار کرنے کے لیے میرزا غالب نے متعدد رنگ استعمال کیے ہیں۔ پہلا رنگ ان کے دردوغم سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا اظہار بالکل قدرتی طورپر ہوا۔ احباب کی بے مہری کا ذکر کرتے ہیں تو مولٰنا فضل حق خیرآبادی، حسا م الدین حیدرخاں اور امین احمد خاں کی وفا شعاری اور ساتھ ہی فراموش کاری کی طرف اشارہ کرکے غم کے تاریک سایے میں روشنی کی خوشگوار کرنیں داخل کرتے ہیں۔ یہاں سے رنگ و نور کی نظرپرور سرزمین یعنی کاشی کی رعنائیوں کاذکر چھڑ جاتاہے۔ غم سے مسرت کی طرف گریز تضاد کے عنصر کی وجہ سے بڑا موثر ثابت ہوتا ہے اور پھر وہ اس حسن خیز خطے کاذکر کرکے گویا دادِ عیش دیتے ہیں۔ جب جذبہ مسرت اپنے عروج پر ہوتاہے تو خیال آتاہے کجا یہ عیش کوشی اور کجا میری فرزانگی:

چہ جوئی جلوہ زیں رنگیں چمنہا

بہشتِ خویش شو از خوں شدنہا

یہاں سے پھر گریز کرتے ہیں اور سوچتے ہیں (دراصل پچھلی عیش کوشی کا تاثر ابھی موجود ہے) ”میں نے تو اپنے روح و رواں کو آسودگی سے لبریز کیا لیکن حِس اور ذہن کی لذت کوشی میں اہلِ خانہ کو بالکل فراموش کردیاہے جو سچی بات ہے:

بہ شہر از بیکسی صحرا نشیناں

بروی آتشِ دل جاگزیناں

اُن سے تغافل روانہیں۔“ مختلف قسم کے احساسات کا اسی طرح تانا بانا تیار کرتے ہوئے میرزا غالب عرفانِ نفس سے عرفان الٰہی کی طرف رجوع کرتے ہیں جو میرزا بیدل کے طریقِ کارسے نہ صرف فکری لحاظ سے مشابہ ہے بلکہ معلوم ہوتاہے اسلوبِ بیان بھی مثنوی طور معرفت سے مستعار لیا گیا ہے:

غالب

ترا اے بی خبر کاریست در پیش

بیدل

چہ صحرا و چہ دریا و چہ کہسار

بیابانی و کہساریست در پیش

ہمہ مشتاقِ تست ای غافل از کار

چو سیلابت شتاباں میتواں رفت

اگر صحراست در راہست خرابست

بیاباں در بیاباں میتواں رفت

وگر دریاست از شوق تو آبست

ترا زاندوہ مجنوں بود باید

نہ کوہت سنگِ رہ، نے در، نہ دیوار

خرابِ کوہ و ہاموں بود باید

دو عالم بر صدا راہست ہموار

          ان اشعار میں بنیادی فکر کے ساتھ ساتھ تصورات کی مماثلت اور مشابہت دیکھیں۔ ہاں ساری کائنات حقیقی انسان کے ظہور کا جس بیتابی سے انتظار کرتی ہوئی طور معرفت کے ان اشعار میں نظر آتی ہے، وہ بیدل کی اپنی چیز ہے۔

          ان دونوں مثنویوں میں احساس جمال کی نزہت میں لطافت عجیب لذت پرور طریقے سے موجود ہے۔ میرزا غالب کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ وہ حسّی لذتوں کے بڑے دل دادہ تھے۔ لاسہ، باصرہ، سامعہ خاص طورپر ان تین حسّوں کی لذت آفرینی سے وہ خوب لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ اُن کی بہت سی حسین تراکیب اسی لطف اندوزی کی مرہونِ منت ہیں۔ اس مثنوی میں زیادہ تر اول الذکر دو حسّوں کی ساحرانہ کیف پروری پائی جاتی ہے۔یہ شعر ملاحظہ فرمائیے:

زہے آسودگی بخش روانہا

کہ داغِ جسم می شوید زِ جانہا

۔۔

ادائی یک گلستاں جلوہ سرشار

خرامی ’صد قیامت فتنہ دربار

بہ لطف از موجِ گوہر نرم رو تر

بناز از خونِ عاشق گرم دو تر

۔۔

بہ تن سرمایہ افزائشِ دل

سراپا مژدہ آسائشِ دل

          میرزابیدل کے ہاں باصرہ سے لذت آفرینی زیادہ ہے۔ لیکن چوں کہ اُن کے حسّی مشاہدے کی اساس عام طورپر تعقّل پر ہوتی ہے ،اُن کے تصورات میں نزہت زیادہ ہے۔ مثلاً قوسِ قزح کے متعلق اُن کایہ شعر پڑھا جائے:

پرِ طاوس صرفِ رشتہ دام

خیالِ لعلِ نو خط بر لبِ جام

اسی طرح ان کے مندرجہ ذیل تین شعروں پر نگاہ ڈالی جائے:

زِ طوفانِ بہارِ انبساطش

زمیں تا آسمان موجِ نشاطش

۔۔

شگفتن بسکہ لبریز است اینجا

زمیں تا چرخ گل خیز است اینجا

۔۔

تصور بر طرف می بندد احرام

ہماں بر خندہ گل می زند گام

          میرزاغالب کے سامنے طورِ معرف کی یہی جمال پروری تھی جب انہوں نے کاشی کے متعلق یہ شعر کہا:

فلک را قشقہ اش گر برجبیں نیست

پس ایں رنگینی موجِ شفق چیست

          صرف مندرجہ بالا قسم کے اشعار ہی نہیں بلکہ ”طورِ معرفت“ میں شفق کا دیاہوا یہ نقشہ بھی میرزا غالب کے تصورمیں موجود تھا۔میرزابیدل کہتے ہیں:

چہ گویم زیں شفقہای جہان تاب

کہ آتش ہم نمی باشد بایں آب

کدامیں نالہ بر اوجِ فلک تاخت

کہ ایں آتش بجانِ عالم انداخت

بیاں در وصفِ او ناقص کمنداست

عبث دامن مزن آتش بلند است

کدا میں بسمل ایں جا پرفشاں شد

کہ خونش رفتہ رفتہ آسماں شد

نمی دانم بایں شوخی کہ زد چنگ

کہ شد بی پردہ حسنِ عالمِ رنگ

کہ وا کردست بر آئینہ آغوش

کہ عکسش کرد عالم را چمن پوش

تصورہا بیادش جنت احرام

خیال از رنگ تصویرش گل اندام

نشستہ عالمی زیں موج نیرنگ

چو برگِ گل بزیرِ خیمہ رنگ

ہمیں جوشِ بہار انبساط است

ہمیں گلگونہ حسنِ نشاط است

لطافتِ احساس اور رعنائیِ خیال دیکھیں۔ تخیل کے زور سے رومان پروری کا عالم ملاحظہ کریں۔ کون سا شعر ہے جو رنگینیوں کے ایک نئے بہشت میں نہیں پہنچا دیتا۔ یہی چیزیں میرزا غالب کو پسند تھیں۔ اُن کی شیفتگیِ بیدل کا راز انھی چیزوں میں پنہاں ہے۔ ہم احساسِ حسن کی اسی لطافت میں میرزاغالب اور میرزابیدل کی مماثلت دیکھتے ہیں۔ یہی مماثلت تھی جو بتانِ کاشی کو دیکھ کر بے ساختہ گویا ہوگئی اوراپنے خدوخال ہمیشہ کے لیے اہل عالم کے سامنے واضح کرگئی۔

          میرزاغالب کاشی سے گھوڑے پر عازم کلکتہ ہوئے۔ دریاکے راستے جانے کا ارادہ تھا مگر کشتی کے اخراجات برداشت نہ کرسکے۔ عظیم آبادپٹنہ اور مرشدآباد ہوتے ہوئے 20 فروری 1828ء کو بروز منگلوار کلکتہ وارد ہوئے۔اور شملہ بازار میں مرزا علی سوادگرکی حویلی میں ایک کھلا مکان دس روپے ماہوار کرائے پر لیا۔ اُن کا اصل مقصد پنشن کے حصول کے لیے جد وجہد کرنا تھا۔ مگر وہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مدرسے میں ہرانگریزی مہینے کے پہلے اتوار کو مشاعرہ ہوتا تھا۔ میرزا غالب نے اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔میرزا نے ایک غزل پڑھی جس کے اس شعر پر اعتراض ہوا:

جزوی از عالمم و از ہمہ عالم بیشم

ہمچو موی کہ بتاں را ز میاں برخیزد

          اعتراض یہ تھاکہ ’عالم‘مفرد ہے اور قتیل کے قول کے مطابق اس سے پہلے ’ہمہ‘ نہیں آسکتا۔ مشاعرے میں کفایت خاں ایرانی سفیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے سعدی اور حافظ کے کلام سے سند پیش کردی مگر معترضین مطمئن نہ ہوئے۔ مرزا غالب کے مندرجہ ذیل شعر پر بھی اعتراض کیا گیا:

شورِ اشکی بہ فشارِ بنِ مژگاں دارم

طعنہ بر بی سروسامانیِ طوفاں زدہ

          معترضین کہتے تھے کہ اس میں ’زدہ کا استعمال غلط ہے۔

          میرزا غالب کو اپنی فارسی دانی پرنازتھا، اس لیے انہوں نے وہاں (کلکتے میں) اہل ایران سے روابط بڑھائے جو اہل زباں ہونے کی بنا پر زیادہ قابل اعتماد تھے۔ انہوں نے میرزا کی کھلے دل سے تعریف کی۔ محمدعلی حزیں کوبھی اہل زبان ہونے کی وجہ سے میرزا غالب قابل اعتماد سمجھتے تھے۔ حزیں نے برصغیر میںآکریہاں کے فارسی گوشعرا کو ”پوچ گو“ کہا تھااور سراج الدین علی خاں آرزو سے نزاع شروع کی تھی جو استعمال بند کے حامی تھے۔ اب غالب کے کلکتہ پہنچنے پر پرانی ایرانی ہندی نزاع کا ازسرنوآغازہوگیا۔ اب آرزوکی بجائے قتیل اور واقف اہل ہند کے نمائندے تھے اور کلکتہ میں ان کے طرف دار مولوی نعمت علی عظیم آبادی، مولوی کرم حسین بلگرامی اور مولوی عبد القادر وغیرہ تھے جو فارسی کے مستند اُستاد شمار ہوتے تھے۔ مرزا غالب کی حمایت ایرانی سفیر کے علاوہ نواب اکبرعلی متولی امام باڑہ اور مولوی محمد حسن کر رہے تھے۔

          میرزا غالب عجیب مخمصے میں گرفتار ہوگئے۔ اُن کے لیے پنشن کا جھگڑا دردِ جگر کاموجب بناہواتھا۔وہ کوئی اور درد سر مول نہیں لینا چاہتے تھے۔ دہلی میں محاورہ بندی، روزمرہ نگاری اور قافیہ پیمائی کے دلدادہ ادب دوستوں نے ان کے جدید اسلوب نگارش اور پیچیدہ افکارپر اعتراض کیا تھا۔ یہاں ایرانی ہندی جھگڑا اُن کے سرپر مسلط کردیاگیا، اور لطف کی بات یہ ہے کہ دہلی میں بھی بیدل کے اتباع پر اعتراض تھا اور یہاں بھی لفظ ’زدہ‘ کے جس استعمال کو محل نظر قرار دیا گیا تھاوہ بھی میرزا غالب کے ذہن میں بیدل کی وجہ سے جاگزیں ہواتھا۔ میرزاغالب، میرزا بیدل کی فارسی دانی کے قائل تھے اور کہتے تھے اس برصغیر سے تعلق کے باوجود میرزا بیدل قتیل کی طرح نادان نہیں۔وہ انہیں ایک عظیم سرچشمہ فیض خیال کرتے تھے۔اس لےے جب انہو ںنے احباب کے کہنے پربطریقِ معذرت مثنوی باد مخالف لکھی توجہاں میرزابیدل کی اس حیثیت کا اعلان کیا،وہاں ’زدہ‘ کے متعلق سندبھی انہیں کے شعرکی پیش کی:

می زدہ، غم زدہ کہ ترکیب است

بقیاس فقیر تقلیب است

ہمچناں آں محیطِ بی ساحل

قلزمِ فیض میرزا بیدل

از محبت حکایتی دارد

کہ بدینساں بدایتی دارد

”عاشقی بیدلی جنوں زدہ

قدحِ آرزو بخوں زدہ

واوین والاشعر میرزا بیدل کاہے اور ان کی مثنوی ”عرفان“ میں موجود ہے۸۔ معلوم ہوتا ہے جوں جوں اعتراضات کا واویلا بلند ہوتاتھا،غالب کے شعور میں میزا بیدل کا یہ شعر پے درپے گونج پیدا کرتاتھا۔ اس لےے کون کہہ سکتا ہے کہ میرزا غالب نے مثنوی باد مخالف کی بحر (فاعلاتن مفاعلن فعلان)اس شعر کا حوالہ دینے کی خاطر اختیار نہیں کی تھی، یایہ کہ ’زدہ  کے جس استعمال پر لوگوں نے اعتراض کیا تھا،وہ انہوں نے میرزا بیدل سے اخذ نہیں کیا تھا؟

          اور یہ بھی دیکھیے، دہلی اور کلکتہ والوں کے اعتراضات کے علی الرغم (قربِ زمانی اور جذباتی فضاخاص طورپر معنی خیز ہے) نہ صرف یہ کہ بنارس میں بیدل کے اتباع میں مثنوی لکھ کر میرزا غالب نے واضح کردیاکہ بیدل کا تخیل ان کے مزاجِ شعری کا جزولاینفک بن چکاہے بلکہ کلکتہ میں علی الاعلان بیدل کو محیطِ بے ساحل اور قلزم فیض کہا۔ گویا اُن سے فیض حاصل کرنے کے بزبان حال و قال معترف ہونے کے علاوہ میرزا غالب یہ بھی کہتے تھے کہ اُن کا فیض کبھی ختم ہونے ولانہیں۔ ”محیط بے ساحل“ محض مبالغہ آرائی نہیں اور نہ ضرورتِ شعری کی بناپریہ ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہ ایک شاگرد کی انتہاے عقیدت ہے۔ اسی لےے اُستاد کے اشعار کو اپنی ذاتی جائداد سمجھ کر حسب ضرورت یہ ادنیٰ تصرف اپنے کلام میں لے آئے ہیں۔ مثنوی باد مخالفت کے ایک شعر کا موازنہ آپ خوداس نقطہ نگاہ سے عرفانِ بیدل کے ایک شعر سے کریں:

غالب

بیدل

من کف خاک و اَو سپہرِ بلند

خاک را کی رسد بچرخ کمند

من کفِ خاک و اُو سپہر بلند

نبرد خاک بر سپہر کمند

          یہ شعر اسی حکایت کاہے جس کا حوالہ مندرجہ بالا اشعار میں میرزا غالب نے خود دیاہے۔

          اب مذکورہ بالا تمام مطالب کو زیرنظر رکھ کر آپ غور فرمائیں۔ سفرِ کلکتہ میں میرزا غالب نے دو مثنویاں چراغ دیر اور باد مخالف تصنیف کریں۔ دونوں بیدل کی دو مثنویوں طور معرفت اور عرفان کی بحروں میں ہیں اور دونوں میں بیدل سے غالب کا استفادہ اور استفاضہ ظاہر ہے۔ مثنوی باد مخالف کاسال تصنیف ۸۲۸۱ءہے جب میرزا غالب کی عمر شمسی تقویم کے حساب سے پورے اکتیس سال تھی۔ اس لےے یہ کہنا کہ میرزا غالب نے بیدل کا تتبع عمر کے پچیس سال تک کیا، غلط ہے۔ ہم نے جو داخلی ثبوت پیش کیاہے، اس سے الم نشرح ہوجاتاہے کہ جب میرزا غالب نے دس گیارہ سال کی عمر سے بیدل کے رنگ میں شعر کہناشروع کردیاتھا، باد مخالف کے سال تصنیف تک انہوں نے بلاشبہ بیس سال کے طویل عرصے تک بیدل سے اکتساب فیض کیا۔ اور سطوربالانے پوری طرح واضح کردیاہے کہ ایک نابغہ کاایک عظیم شاعرسے اتنے طویل عرصہ تک اکتساب فیض کس قدر مثبت اثرات پر منتج ہوا۔اس طرح نظر آتاہے کہ غالب کے مرکزی نظامِ عصبی پر بیدل کے لطیف اور منزہ احساسِ حسن اور تخیل افروز اسلوب کا ایسا اثرتھاکہ اس کے خیال سے وہ مدہوش سے ہوجاتے تھے اور پھر عجیب لطف وسرور کے ساتھ تخلیق شعر کیاکرتے تھے۔ میرزا غالب کے مزاجِ شعری کا جوں جوں تجزیہ کیا جائے گا، واضح ہوتاجائے گاکہ اگر اس میں سے بیدل کے اثرات کو ختم کردیاجائے تو بہت سے ایسے عناصر باقی نہیںرہیں گے جن کی بناپر وہ (یعنی میرزا غالب) ہمیں اس قدر پسند ہیں۔

۔۔۔

حواشی:

۱۔کلکتے میں میرزاغالب نے اُردو زبان میں چکنی ڈلی کے متعلق ایک قطعہ بھی لکھا۔ ان کے دوست مولوی کریم حسین نے ایک مجلس میں بہت پاکیزہ چکنی ڈلی اپنے کفِ دست پر رکھ کر انہیں اس کے متعلق نظم لکھنے کوکہاتو انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے نودس اشعار پر مشتمل ایک قطعہ کہا۔ جس میں تشبیہات کاحسن دید کے قابل ہے۔ اس قطعے سے ظاہر ہوتاہے کہ اُن ایام میں میرزاغالب کی طبیعت کا رجحان تخلیق حسن کی طرف بہت زیادہ تھا۔علاوہ بریں اگرچہ اس قطعے میں ان کی ابتدائی اُردو شاعری کی طرح اغلاق نہیں لیکن فارسی ترکیبات کی وہ بہتات ہے کہ اکثر اشعار کے افعال اگر فارسی میں تبدیل ہوجائیں تواشعار یکسر فارسی کے بن جاتے ہیں۔ یہ اس امرکاثبوت ہے کہ وہ میرزاکی فارسی گوئی کادور تھا۔

۲۔اِس مخطوطے کا نمبر 1526 ہے۔ اس میں بیدل کی ایک اور مثنوی محیطِ اعظم بھی شامل ہے۔ لیکن سفرِ کلکتہ سے اس دوسری مثنوی کے اثرات کاکوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ البتہ باقی کلامِ غالب میں اِس کے اثرات موجود ہیں۔

۳۔ہم نے اِس مہراور شعر کا عکس اپنی تصنیف سیرتِ بیدل (انگریزی) میں دے دیا ہے۔ اسی طرح بیدل کی دوسری مثنوی ”محیطِ اعظم“ سے متعلق شعر اور مہرکاعکس بھی دے دیا گیاہے۔ ”محیطِ اعظم“ کی تعریف میں میرزاغالب نے یہ شعر لکھاہے:

ہر حبابی را کہ موجش گل کند جامِ جم است

آبِ حیوان آب جوئے از محیطِ اعظم است

          (دیکھےے Life and Works of Bedilمطبوعہ پبلشرز یونائٹڈ لاہور، 1961صفحہ ۳۲۱)

۴۔ بیدل کے متعلق مرزا غالب کے ان ایام میں کہے ہوئے مندرجہ ذیل اردو کے اشعار کا مطالعہ بھی کیجےے۔ عقیدت اور استفادے کا جذبہ عمیق و پُرشور قابلِ دید ہے:

اسد ہر جا سخن نے طرحِ باغ تازہ ڈالی ہے

مجھے رنگِ بہار ایجادیِ بیدل پسند آیا۔

۔۔

مطربِ دل نے مرے تارِ نفس سے غالب

ساز پر رشتہ پَے نغمہ بیدل باندھا

۔۔

مجھے راہِ سخن میں خوفِ گمراہی نہیں غالب

عصاے خضر صحراے سخن ہے خامہ بیدل کا

۔۔

اسد قربانِ لطفِ جورِ بیدل

خبر لیتے ہیں لیکن بے دلی سے

۔۔

گر ملے حضرتِ بیدل کا خطِ لوحِ مزار

اسد آئینہ پروازِ معانی مانگے

۔۔

طرزِ بیدل میں ریختہ لکھنا

اسداللہ خاں قیامت ہے

۔۔

۵۔ میرزا غالب کا معاصرِ بزرگ غلام ہمدانی مصحفی (متوفی:۴۲۸۱ئ) ایک واسطے سے ان بزرگوں میں شامل ہوجاتاہے۔ سنہ ۱۷۷۱ءکے لگ بھگ مصحفی نے میرزا رفیع سوداسے لکھنو  (فیض آباد؟) میں ملاقات کی، اور میرزا سودا جب شاہجہان آباد میں رہتے تھے تو عرسِ بیدل منایا جاتاتھا۔ مصحفی ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے بیدل کے اتباع کو آخری دم تک مستحسن سمجھا۔ مصحفی نے 1199ھ (85- 1886 ئ) میں تذکرہ ”عقدِ ثریا“ تصنیف کیا تو لکھا کہ اب بیدل کی ”قبرخانہ ویران“ میں واقع ہے۔ دیکھیے عقدِ ثریا، مطبوعہ دہلی، 1934ئ، صفحہ 160۔

۶۔اہل نظر کے نزدیک کلام بیدل اس قدر وقیع ہے کہ علامہ اقبال مرحوم نے اپنی وصیّت میں ایک قلمی دیوانِ بیدل کااپنی جائداد کے سلسلے میں ذکرکیاتھا۔ بحوالہ روزگار فقیر، جلد۲، صفحہ ۸۵۔ اور طورِ معرفت کے اس نسحے کو تو میرزا غالب کے خصوصی تعلق نے بھی گراں مایہ بنا دیا تھا۔

۷۔یہ ترکیب اُس بات کا پیش خیمہ ہے جو ہم میرزا غالب کے قیامِ کلکتہ کے سلسلے میں کہیں گے۔

۸۔دیکھیے کلیات بیدل، جلد سوم، مطبع دپو ہنی کابل۔ مثنوی عرفان صفحہ ۱۸۱

غالب کی مُہریں

حنیف نقوی

غالب کی مُہریں

          اشیا کی قدروقیمت کا تعیّن بالعموم ان کی ماہیت اور کیفیتِ ظاہری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات کوئی نسبتِ خاص کسی شے کو اس کی حیثیتِ ظاہری سے بلند تر کرکے اس مرتبہ و مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں اس کے دوسرے تمام اوصاف ہیچ و بے مقدار ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سربرآوردہ اور نامور شخصیات سے تعلق رکھنے والی بعض معمولی چیزیں بھی محض ان کی ذات سے نسبت کی بناپر غیر معمولی اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ جہاں تک اردو زبان و ادب کا تعلق ہے، غالب اس معاملے میں بھی اپنے تمام ہم مشربوں میں سابق وفائق ہیں کہ ان سے وابستہ ہر شے اس نسبتِ خاص کے انکشاف کے ساتھ از خود معتبر و محترم ہوجاتی ہے۔ ان کی مختلف مہریں جن کے نقش ان کی بے شمار تحریروں پر ثبت ہیں، اس ضمن میں بہ طورِ مثال پیش کی جاسکتی ہیں۔ مہروں کا رواج انیسویں صدی میں اور اس سے پہلے بہت عام تھا، چنانچہ یہ بات یقینی ہے کہ غالب کے بہت سے معروف و ممتاز معاصرین اور ان سے پہلے کے لاتعداد مشاہیر شعرا اور اہلِ علم نے اپنے ناموں کی مہریں تیار کرائی ہوں گی اور مرورِ ایام کے باوجود بعض کتابوں اور تحریروں پر ان کے نقوش کی موجودگی بھی خارج از امکان نہیں، تاہم ان کی تلاش و تحقیق اور ان سے متعلق گفتگو میں اہلِ علم کی دلچسپی کا ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جیسی دلچسپی کا مظاہرہ غالب کی مہروں کے سلسلے میں کیاگیاہے۔ البتہ ان کے بعض ہم نام و ہم تخلص یا صرف ہم نام حضرات کی مہریں محض اس غلط فہمی یا شبہے کی بنا پر کہ وہ غالب سے نسبت رکھتی ہیں، ضرور معرضِ بحث میں آتی رہی ہیں۔ نسبتیں کبھی کبھی کتنی اہم ہوجاتی ہیں، یہ اس کا بیّن ثبوت ہے۔

          تازہ ترین معلومات کے مطابق غالب نے اپنی زندگی کے محتلف ادوار میں کم از کم آٹھ (۸) مہریں بنوائی تھیں۔ مالک رام صاحب نے مندرجہ بالا عنوان (غالب کی مہریں) ہی کے تحت اپنے ایک مضمون میں جو ان کے مجموعہ مضامین ”فسانہ غالب“ میں شامل ہے، ان میں سے چھ (۶) مہروں کا مفصّل تعارف سپردِ قلم فرمایاہے۔ بعد کے جن مصنفین اور توقیت نگاروں نے اپنی نگارشات میں ان مہروں کا ذکر کیاہے، ان کا ماخذ یہی مضمون ہے۔ ڈاکٹر گیان چند کے نزدیک ”اس مضمون کا سب سے قابلِ قدر پہلو ان مہروں کا نفسیاتی مطالعہ ہے۱۔“ خود مالک رام صاحب کے ارشاد کے مطابق ”میرزا کی یہ مہریں ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت اور عام حالت کی مادّی ترجمان ہیں(انہوں) نے ان میں اپنی زندگی کے اہم واقعات کو بھردیا ہے۲۔“ پیشِ نظرسطور میں یہ دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ تجزیہ جو بہ ظاہر بہت محققانہ اور عالمانہ معلوم ہوتا ہے، کس حد تک مبنی بر حقیقت ہے؟

          دریافت شدہ مہروں میں سے دو قدیم ترین مہریں غالب نے 1231ھ (1815-16ع) میں کندہ کرائیں تھیں۔ ان میں سے ایک مہر پر خطِ نستعلیق میں ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ“ اور دوسری پر خطِ نسخ میں ”اسد اللہ الغالب“ نقش تھا۔ مالک رام صاحب کے مطابق پہلی مہر سے غالب کی ”اس زمانے کی سرمستی و رنگینی، رندی و ہوس پیشگی بہ درجہ اتم ظاہر ہے۔“ (ص81) جب کہ دوسری مہر”ان کے دلی خیالات و معتقدات کی مظہر ہے۔“(ص82) پہلے تاثر کی تائید میں منشی شیونرائن آرام اور مرزا حاتم علی مہر کے نام کے خطوط سے شطرنج کے کھیل سے دلچسپی، پتنگ بازی کے شوق اورایک ستم پیشہ ڈومنی کو مار رکھنے کے واقعات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

“غالب کے والد میرزاعبداللہ بیگ خاں کا عرف ”میرزا دولھا“ تھا، اسی لیے لوگ میرزا غالب کو بچپن ہی سے ”میرزانوشہ“ کہنے لگے۔ اس عرف کی پستی ظاہر ہے اور خود میرزا کو بھی بعد کو اس ”نالائق“ عرف سے نفرت ہوگئی تھی۔ مگر اس طوفانی زمانے میں بھلا ثقاہت کہاں قریب پھٹک سکتی تھی۔ یہ باتیں شعور اور تجربے سے حاصل ہوتی ہیں اور وہ ان کی عمر اور گرد و پیش کا اقتضا نہ تھا۔“ (ص81)

دوسری مہر کے سلسلے میں محترم مضمون نگا رکا ارشاد ہے:

          “اس مہرکی بناحضرتِ علی کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کا نام اسد اللہ تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا اور بعد کو ان کے دوسرے تخلص کی بنا بھی یہی ہوئی۔ چوں کہ سامنے کی چیز تھی اس لیے جب انہوں نے تخلص تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسد چھوڑ کر بلا تامّل غالب رکھ لیا“ (ص81)

          اس کے بعد حضرت علیؓ سے میرزا صاحب کی عقیدت اور ”شیعت سے شغف“ کو عبد الصمد سے زبانِ فارسی کی تحصیل اور ”ایران کے علوم و رسوم“ سے حصولِ واقفیت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے علائی کے نام 17جولائی 1862ء کے ایک خط کے حوالے سے ان کے مذہب و مسلک کی وضاحت کی ہے، جس کا لُبِّ لباب خود میرزا صاحب کے الفاظ میں حسب ذیل ہے:

“محمد علیہ السّلام پر نبوت ختم ہوئی مقطع نبوّت کا مطلع امامت اور امامت نہ اجماعی بلکہ مِن اللہ ہے، اور امام مِن اللہ علی علیہ السّلام ہیں، ثمّ حسن، ثمّ حسین تامہدی موعود علیہ السّلام “ (ص82)

          ایک ہی سال میں تیارشدہ ان دو مہروں کو دو مختلف بلکہ متضاد مزاجی کیفیات اور طبعی میلانات کی علامت قرار دے کر مالک رام صاحب نے اجتماعِ ضدّین کی جو مثال پیش فرمائی ہے، وہ عقلاً ممکن الوقوع تو ہے لیکن عملاً بعید از قیاس نظر آتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پہلی مہر میں نام کے ساتھ عرف کی موجودگی نہ تو عنفوانِ شباب کی رنگ رلیوں یا لابالی پن کی مظہر تھی اور نہ ثقاہت کے منافی۔ جیسا کہ خود مالک رام صاحب نے فرمایاہے، غالب بچپن ہی سے ”میرزانوشہ“ کے عرف سے معروف تھے، لیکن واقعہ صرف اتنا ہی نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ عرف شروع سے آخرِ عمر تک ان کے نام کا جزوِ لا ینفک بنارہا اور یہ بات ان کے لیے کسی بھی درجے میں ناگواری کا باعث نہ تھی۔ غالب کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ بنیادی نکتہ ذہن نشیں رکھنا اشد ضروری ہے کہ مصلحت اندیشی ان کے مزاج کا لابُدی خاصّہ تھی۔ اس معاملہ میں وہ اس قدر حسّاس واقع ہوئے تھے کہ ان سے عمداً کسی ایسے کام کی توقعی ہی نہیں کی جاسکتی تھی جو خلافِ مصلحت یا مقتضاے وقت کے منافی ہو۔ عرف کا معاملہ بھی اس سے مستثنٰی نہیں، چنانچہ اس کے ترک و اختیار کے سلسلے میں بھی ان کی تمام تر ترجیحات بہ ظاہر وقتی ضرورت اور حالات کے تقاضوں کا ردِّ عمل معلوم ہوتی ہیں۔ 1231ھ (1815-16ع) میں اس مہر کے کندہ کرانے کے بعد انہوں نے جہاں جہاں اس عرف کو اپنے قلم سے اپنی شناخت کا وسیلہ بنایا، ان میں سے مندرجہ ذیل تحریریں اب بھی محفوظ ہیں:

          (1) درخواست بہ نام سائمن فریزر مورخہ 28 اپریل 1828 ع ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ برادر زادہ نصر اللہ بیگ خاں جاگیردار سونک سونسا۔“3

          (2) عرضی دعویٰ پنشن مورخہ 28 اپریل 1828 ع ”میرا نام اسد اللہ خاں ہے اور عرف میرزا نوشہ“4

          (3) درخواست بہ نام ”سر حلقہ افرادِ دفتر کدہ کلکتہ“: ’اسمِ ایں فقیر اسد اللہ خان است و علَم مرزا نوشہ و تخلص غالب۔“5

          (4) عرضی بہ نام اینڈ ریواسٹرلنگ مورخہ 15 جولائی 1829 ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزانوشہ برادر زادہ کلانِ نصراللہ بیگ خاں۔“6

(5) عرضداشت مورخہ 11 اگست 1829 ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ برادر زادہ نصراللہ بیگ خاں جاگیردار سونک سونسا۔“7

(6) مکتوب بہ نام راے سدا سکھ مدیر اخبار جامِ جہاں نما مورخہ جمعہ، 25 صفر 1247ھ (5 اگست 1831ع) ”ایں ننگِ آفرینش کہ موسوم بہ اسد اللہ خاں و معروف بہ مرزا نوشہ و متخلص بہ غالب است۔“ 8

(7) دیباچہ دیوانِ اردو مرقوم بست و چہارم شہر ذی قعدہ 1248ھ (14 اپریل 1833ع) ”نگارندہ ایں نامہ بہ اسد اللہ خاں موسوم و بہ میرزا نوشہ معروف و بہ غالب متخلص است۔“9

(8) مکتوب بہ نام میر مہدی مجروح مورخہ 8 اگست1858ع ”وہ جو تم نے لکھا تھا کہ تیرا خط میرے نام کا میرے ہم نام کے ہاتھ جا پڑا، صاحب! قصور تمہارا ہے۔ کیوں ایسے شہر میں رہتے ہو جہاں دوسرا میر مہدی بھی ہو؟ مجھ کو دیکھو کہ میں کب سے دلّی میں رہتاہوں۔ نہ کوئی اپنا ہم نام ہونے دیا، نہ کوئی اپنا ہم عرف بننے دیا، نہ اپنا ہم تخلص بہم پہنچایا۔”

(9) خودنوشت براے تذکرہ شعرامرتبہ مولوی مظہر الحق مظہر: مرقومہ 1864ع ”اسد اللہ خاں عرف میرزا نوشہ، غالب تخلص۔“10

          ان تحریروں سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ پسند و ناپسند سے قطعِ نظر غالب کو اس اعتراف و اظہار میں کوئی تامل نہ تھا کہ وہ ”مرزانوشہ“ کے عرف سے معروف ہیں۔ اگر وہ اسے اپنی شخصیت کا ایک لازمی جزونہ سمجھتے اور اس سے متنفّر یا بیزار ہوتے تو اس طرح باربار اس کا ذکر ہرگز نہ کرتے۔ ان کے اعزا، احباب اور معاصرین میں بھی ایسے متعدد حضرات شامل ہیں جنہیں اس عرف کے حوالے سے ان کا ذکر کرنے میں کوئی عذر مانع نہ تھا۔ اگراس میں ان کی ناخوشی یابے ادبی کا شائبہ ہوتا تو ان میں سے بعض لوگ یقینا اس سے احتراز برتتے۔ مثلاً:

          (1)  مولانا فضلِ حق خیرآبادی کے بڑے بھائی مولوی فضل عظیم نے 1241ھ 1826ء میں ”افسانہ بھرتپور“ کے نام سے فارسی میں ایک مثنوی لکھی تھی۔ یہ مثنوی مرزا غالب کی نظر سے گزر چکی تھی اور انہوں نے اس کی تاریحِ تصنیف بھی کہی تھی جو ان کے کلیات فارسی میں موجود ہے۔ مصنف نے اس مثنوی کے خاتمے پر یہ تاریخ نقل کرنے سے پہلے مرزا غالب کی تعریف میں بائیس شعر کہہ کر شاملِ کتاب کیے ہیں۔ ان اشعار کا عنوان انہوں نے ”در تعریف مرزا نوشہ صاحب“ قائم کیا ہے اور ایک شعر میں بھی ان کا ذکر ان کے اسی عرف کے ساتھ کیا ہے۔ شعر حسبِ ذیل ہے:

ز اوصافِ او ہر کسے آگہ است

کہ معروف با میرزا نوشہ است11

(2) نواب مصطفی خاں شیفتہ نے 1250ھ 1835ء میں تذکرہ ”گلشنِ بے خار“ تالیف کیا۔ اس میں مرزا صاحب کے ترجمہ احوال کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیاہے: ”غالب تخلص، اسمِ شریفش اسد اللہ خاں، المشتہر بہ مرزانوشہ“12

‘گلشنِ بے خار’ کا مسودہ طباعت سے پہلے مرزا صاحب کی نظر سے گزر چکا تھا۔ اگر نام کے ساتھ عرف کی شمولیت ان کے مزاج کے خلاف ہوتی تو وہ اس عبارت سے ”المشتہر بہ مرزا نوشہ“ کو بہ آسانی قلمزد کرسکتے تھے۔

          (3) سرسید کے برادرِ بزرگ سید محمد خاں بہادر نے اکتوبر 1841ء میں پہلی بار مرزا صاحب کا دیوانِ اردو اپنے لیتھوگرافک پریس سے شائع کیا تو اس کے سرورق پر ”دیوان اسداللہ خاں صاحب غالب تخلص، میرزا نوشہ صاحب مشہور کا“ لکھ کر گویا اس امر کی تصدیق کی کہ صاحبِ دیوان کا نام اسد اللہ خاں اور تخلص غالب ہے لیکن وہ عام طورپر مرزا نوشہ کے عرف سے مشہور ہیں۔

(4) دیوان کی اشاعت کے فوراً بعد سید محمد خاں بہادر کے لیتھوگرافک پریس ہی سے شائع ہونے والے ”سیدالاخبار“ کے 9 شوال 1357ھ 24 نومبر 1841ء کے شمارے میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا جس میں شائقین کو ”پنج آہنگ“ کی اشاعت کے لیے تیاری کی خوش خبری سنائی گئی تھی۔ اس کی ابتدابھی ”مرزا اسد اللہ خاں صاحب غالب تخلص، مرزا نوشہ صاحب مشہور“ سے ہوئی تھی۔

          منشی بال مکند بے صبر،غالب کے شاگرد کی حیثیت سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ انہوں نے اپنی اردو مثنوی ”لختِ جگر“ 1275ھ 1858ء میں نظر ثانی کے بعد بہ غرضِ اصلاح غالب کی خدمت میں پیش کی تھی۔ اس میں انہوں نے ”در شانِ مجمعِ کمالاتِ صوری و معنوی حضرت استادی جناب مولانا اسد اللہ خاں صاحب“ کے زیرِ عنوان جو اشعار کہے ہیں، ان میں ان کے نام، تخلص اور لقب (عرف) کا بیان اس طرح ہواہے:

نام اس کے سے کرتا ہوں میں آگاہ

اوّل ہے اسد اور آخر اللہ

مشہور تخلص اس کا غالب

مطلوبِ دلِ ہزار طالب

مرزا نوشہ لقب ہے اس کا

ثانی کوئی اور کب ہے اس کا16

(6) مکتوب بہ نام حسین مرزا مورخہ 29 اکتوبر 1859ء میں خود مرزا صاحب کا ارشاد ہے: “کاشی ناتھ بے پروا آدمی ہے۔ تم ایک خط تاکیدی اس کو بھی لکھ بھیجو۔ اکثر وہ کہا کرتا ہے کہ حسین مرزا صاحب جب لکھتے ہیں مرزا نوشہ ہی کو لکھتے ہیں۔”

          (7) مرزا یوسف کے انتقال کے پانچ برس بعد ان کی اہلیہ لاڈو بیگم نے یکم اکتوبر 1862ء کو ایک درخواست کے ذریعے ڈپٹی کمشنر سے یہ التجا کی کہ حکومت کی طرف سے ان کی مالی امداد کی جائے۔اس درخواست کے اندراجات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نے ان کے کوائف کا جو گوشوارہ مرتب کرکے کمشنر کو بھیجا تھا، اس کا ایک اندراج یہ بھی تھا کہ ”کبھی کبھی اس کے مرحوم خاوند کا بھائی مرزا نوشہ اس کی مدد کرتاہے14۔“ ظاہرہے کہ لاڈو بیگم نے اپنی درخواست میں ”مرزانوشہ“ ہی لکھا ہوگا۔

(8) 1867ء کے اواخر میں غالب نے ”قاطع القاطع“ کے مصنف مولوی امین الدین کے خلاف دہلی کی ایک عدالت میں ازالہ حیثیتِ عرفی کا مقدمہ دائر کیا۔ اس مقدمے میں ان کے وکیل مولوی عزیزالدین تھے۔ انہوں نے 15 دسمبر 1867ء کو پیش کردہ ایک درخواست کے آخر میں اپنے دستخط کے تحت خود کو ”وکیلِ مرزا اسداللہ خاں پنشن دارِ سرکاری عرف مرزا نوشہ“ اور 20 فروری 1868ء کی اسی سلسلے کی ایک اور تحریر کے خاتمے پر ”وکیلِ مرزا اسد اللہ خاں عرف مرزانوشہ“ لکھاہے۔15

(9) غالب کی وفات کے تیسرے دن ان کے فرزندِ متبنّٰی حسین علی خاں شاداں (پسرِ عارف) نے نواب کلب علی خاں کو اس حادثے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا تھا:

 ”بہ تاریخ 15 فروری سالِ حال مطابق 2 ذی قعدہ روزِ دوشنبہ وقت ظہر جناب دادا جان صاحب قبلہ نواب اسد اللہ خاں غالب عرف میرزا نوشہ صاحب نے اس جہانِ فانی سے رحلت کی۔“16

(10) مولانا حالی نے جو غالب کے عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے، ”یادگارِ غالب“ کا آغاز اس جملے سے کیا ہے:

“میرزا اسد اللہ خاں غالب المعروف بہ میرزانوشہ، المخاطب بہ نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ، المتخلص بہ غالب در فارسی واسد در ریختہ، شبِ ہشتمِ ماہِ رجب 1212 ہجری کو شہر آگرہ میں پیداہوئے۔“17

          عرف کے متواتر استعمال اور اس کے ساتھ شہرتِ عام کی ان مثالوں کے پیشِ نظر یہ باور کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ غالب واقعتا اس سے بیزار ہوں گے یا اسے بہ نظرِ حقارت دیکھتے ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ بھی واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک دوبا راپنے احباب کو اس کے استعمال سے روکابھی ہے اور اسے ”نالائق“ قرار دے کر ایک اعتبار سے اس کی مذمّت بھی کی ہے، لیکن اس کی وجہ ان کی وہی مصلحت اندیشی اور احتیاط پسندی تھی جو انہیں بہ وقتِ ضرورت خلافِ معمول فیصلے لینے پر مجبور کرتی رہتی تھی۔فروری 1828ء میں جب وہ اپنی پنشن کا مقدمہ حکومتِ عالیہ کے سامنے پیش کرنے کی غرض سے کلکتے پہنچے تو ایک ”نکوہیدہ سیرت“ ہم وطن (مرزا افضل بیگ) نے حکّام کو ان کی طرف سے بدظن کرنے کی غرض سے یہ افواہ اڑادی کہ اس تازہ وارد شخص نے اپنا نام بھی بدل لیاہے اور تخلص بھی۔ گویا یہ شخص فریبی اور جعل ساز ہے۔ اسی افواہ کے زیرِ اثر اعیانِ دفتر کو ان کا نام بہ غرضِ ملاقات اپنے افسرِ اعلیٰ تک پہنچانے میں تامّل تھا، کیوں کہ سرکاری کاغذات کے مطابق خاندانی پنشن ”مرزا نوشاہ“ کے نام جاری ہوئی تھی اور وہ ”مرزانوشہ متخلص بہ اسد“ کی منزل سے آگے بڑھ کر اب ”اسد اللہ خاں غالب“ کے طور پر روشناسِ خلق تھے۔ اس مرحلہ دشوار سے نبٹنے کے لیے مرزاصاحب نے اپنے دیوانِ اردو کے ایک قلمی نسخے کا سہارا لیا جسے مرتب ہوئے سات سال سے کچھ زیادہ مدت گزر چکی تھی او راس سفر میں اتفاقاً ان کے ساتھ تھا۔ اس دیوان میں وہ غزلیں بھی شامل تھیں جن کے مقطعوں میں پرانا تخلص (اسد) موجود تھااور وہ غزلیں بھی جن میں نیا تخلص (غالب) نظم ہواتھا۔ مزید برآں اس کے خاتمے پر 1231ھ کی وہ مہر بھی ثبت تھی جس کے نگینے پر ”اسد اللہ خاں عرف مرزا نوشہ“ نقش تھا۔ غالب نے یہ دیوان ایک خط کے ساتھ ”سرحلقہ افرادِ دفتر“ (غالباً سائمن فریزر) کی خدمت میں پیش کردیا تا کہ وہ بہ طورِ خود فیصلہ کرسکیں کہ یہ افواہ کس حد تک درست ہے۔ خط میں انہوں نے لکھا تھا:

“آن مہر بہ ابطالِ دعویِ حداثتِ اسم مسکتِ مدعی است و در مسلّم نہ داشتنِ علَم برے سکوتِ ایں گمنام نیز کافی است۔ آرے اسمِ ایں فقیر اسد الہ خان است و علم مرزا نوشہ و تخلص غالب، لیکن ازیں جاکہ غالب کلمہ رباعی است و ظرفِ بعض بحور نشستِ آں رانیک برنتابد، فقیر لفظِ اسد راکہ مخففِ اسمِ عاصی است و معِ ہٰذا کلمہ ثلاثی، گاہ گاہ تخلص اختیار می کند۔“ 18

          اس تحریر سے غالب کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھاکہ اب سے بارہ سال پہلے بھی جب کہ یہ مہر تیار ہوئی تھی، وہ ”اسد اللہ خاں“ کے نام سے موسوم تھے۔ لہٰذا یہ مہر مدّعی کے اس دعوے کی تردید کے لیے کہ انہوں نے اپنا نام بدل لیا ہے، ایک مسکت دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیز یہ کہ ”مرزانوشہ“ انھی کاعرف ہے اور یہ ان کا اختیارِ تمیزی ہے کہ وہ چاہیں تو اسے استعمال کریں اور چاہیں تو ترک کردیں۔ اس کے بعد کچھ دنوں تک وہ سرکاری خطوط اور عرضداشتوں میں اپنا نام ”اسد اللہ خاں عرف مرزانوشہ“ لکھتے رہے، بعد ازاں جب یہ قضیہ فیصل ہوگیاکہ ”مرزانوشہ“ بھی وہی ہیں اور ”اسد اللہ خاں“ بھی وہی تو انہوں نے اس دو عملی سے نجات پانے کے لیے آئندہ بہ نظر احتیاط صرف ”محمد اسد اللہ خاں“ یا ”اسد اللہ خاں“ لکھنے کا تہیّہ کرلیا۔ چنانچہ قیامِ کلکتہ کے اسی زمانے میں ایک بار اپنے دوست راے چھج مل کو خط لکھا تو پتے کے ذیل میں ان کے لکھے ہوئے مفصل نام کو موضوعِ گفتگو بناکر یہ سوال بھی کرڈالاکہ:

“برعنوانِ مکتوب کلمہ نواب راجزوِ اعظم (کذا=اسم) ساختن یعنی چہ و عرف پایانِ اسم رقم کردن چرا؟ سگِ دنیا را بہ اسد اللّٰہی شہرت دادن چہ کم است کہ نوابی و میرزائی برسرِ ہم باید افزود۔“19

          یہ بات بہ ظاہر انکسا رکے طورپر کہی گئی ہے لیکن اصل مقصد یہی معلوم ہوتاہے کہ نام کے ساتھ عرف نہ شامل کیا جائے تاکہ پڑھنے والے کا ذہن اس قضیہ نامرضیہ کی طرف منتقل ہی نہ ہو کہ مکتوب الیہ اب سے پہلے ”مرزانوشہ“ کے نام سے موسوم تھا اور اب اس نے اپنا نام بدل کر ”اسد اللہ خاں“ کر لیا ہے۔ اس کے بعد اگلے تیس (30) برسوں میں ان کی کوئی ایسی تحریر نہیں ملتی جس میں انہوں نے اس عرف سے بریّت کا اظہار کیا ہو یا کسی کو اس کے استعمال سے روکاہو۔ تا آن کہ یکم ستمبر 1858ء کو انہو ںنے مرزا ہرگوپال تفتہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا:

“صاحبِ مطبع (مفیدِ خلائق،آگرہ) نے خط کے لفافے پرلکھاہے:

”مرزانوشہ صاحب غالب“ للہ غور کرو، یہ کتنا بے جوڑ جملہ ہے۔ ڈرتاہوں کہ کہیں صفحہ اولِ کتاب پر بھی نہ لکھ دیں صرف اپنی نفرت عرف سے وجہ اس واویلا کی نہیں ہے بلکہ سبب یہ ہے کہ دلّی کے حکّام کو تو عرف معلوم ہے مگر کلکتے سے ولایت تک یعنی وزراکے محکمے میں اور ملکہ   عالیہ کے حضور میں کوئی اس نالائق عرف کو نہیں جانتا، پس اگر صاحبِ مطبع نے ”مرزانوشہ صاحب غالب“ لکھ دیاتو میں غارت ہوگیا، کھویاگیا، میری محنت رائگاں گئی، گویا کتاب کسی اور کی ہوگئی۔“

اس کے تیسرے دن ان سے دوبارہ یہ استدعا کی:

          منشی شیونرائن کو سمجھا دینا کہ زنہار عرف نہ لکھیں، نام اور تخلص بس، اجزاے خطابی کا لکھنا نامناسب بلکہ مضر ہے“۔

          ان بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب (دستنبو)کے سرورق پر صرف نام اور تخلص لکھنے اور عرف نہ لکھنے پر یہ اصرار فی الواقع اس مبیّنہ طورپر ”نالائق عرف“ سے نفرت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس احتیاط اور پیش بندی پر مبنی ہے کہ سرکاری کاغذات میں درج ان کے نام کے ساتھ اس عرف کی شمولیت ”وزراکے محکمے اور ملکہ عالیہ کے حضور میں“ کسی غلط فہمی کا سبب نہ بن جائے اور پھر کوئی ایسی صورتِ حال پیش نہ آجائے جیسی ایک بار کلکتے میں پیش آچکی تھی۔ غدر کے بعد کے مخصوص حالات اور انگریز حکّام کی مطلق العنانی کو مدِّ نظر رکھا جائے تو یہ اندیشہ کچھ بے جابھی نہ تھا۔ کلکتے میں انہیں ذاتی طورپر جو تجربہ ہوچکاتھا، ممکن ہے کہ اس قسم کے کچھ اور واقعات بھی ان کے علم میں ہوں۔ کم سے کم ایک واقعے کا ذکر خود ان کے ایک خط میں موجود ہے۔ یہ خط یوسف مرزا کے نام ہے اور قیاساً 1859ء کے وسط میں لکھاگیاہے۔ لکھتے ہیں:

“ایک لطیفہ پرسوں کا سنو:حافظ ممّو بے گناہ ثابت ہوچکے۔ رہائی پاچکے۔ حاکم کے سامنے حاضر ہواکرتے ہیں۔ املاک اپنی مانگتے ہیں۔ قبض و تصرف ان کا ثابت ہوچکا ہے، صرف حکم کی دیر۔ پرسوں وہ حاضر ہیں۔ مسل پیش ہوئی۔ حاکم نے پوچھا:

حافظ محمد بخش کون؟ عرض کیا میں۔ پھر پوچھا کہ حافظ ممّو کون؟ عرض کیا کہ میں۔ اصل نام میرا محمد بخش ہے، ممّوم ممّو مشہور ہوں۔ فرمایا: یہ کچھ بات نہیں، حافظ محمد بخش بھی تم، حافظ ممّو بھی تم، سارا جہان بھی تم، جو کچھ دنیا میں ہے، وہ بھی تم۔ ہم مکان کس کو دیں؟ مسل داخلِ دفتر ہوئی۔ میاں ممّو اپنے گھر چلے آئے۔

          جہاں ایک معمولی سے شبہے کی بنا پر اس طرح ایک جیتا ہوا مقدمہ ہارا جا سکتا ہے، وہاں غالب کا اپنے مفادات کے تحفظ میں ہرممکن احتیاط برتنا مقتضاے حال کے عین مطابق تھا۔ وہ یہ خطرہ مول لینے کے لیے کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہوسکتے تھے کہ نام اور عرف کے چکر میں حافظ محمد بخش عرف حافظ ممّو کی طرح ان کی مسل بھی داخلِ دفتر کردی جائے۔ تفتہ کے نام پنے محولّہ بالا دونوں خطوں میں سے پہلے خط میں انہوں نے جس تشویش کا اظہار کیا ہے اور دوسرے خط میں تاکید کی جو صورت اپنائی ہے، وہ بدیہی طورپر اسی قسم کے اندیشہ ہاے دور دراز کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر وہ واقعی اس ”نالائق عرف“ سے متنفّر ہوتے تو عام حالات میں بھی اپنے نام کے ساتھ اس کے الحاق کے خلاف کبھی نہ کبھی ضرور احتجاج کرتے، لیکن اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حد یہ ہے کہ 1865ء میں جب اسی کتاب (دستنبو) کا دوسرا ایڈیشن ”نسخہ صحیحہ مرسلہ مصنف“ کی بنیاد پر مطبع لٹریری سوسائٹی روہیل کھنڈ، بریلی سے شائع ہواتو اس کے سرورق پر ان کا پورا نام ”نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ، المتخلص بہ غالب عرف مرزانوشہ“ لکھا ہواتھا۔ نام کے ساتھ ”اجزاے خطابی“ اور ”عرف“ کے اس اندراج کو انہوں نے بعد کی کسی تحریر میں نہ تو ”نامناسب بلکہ مضر“ قرار دیا اورنہ اس پر کسی قسم کی ناگواری ظاہر کی۔

          دوسری مہر کے سلسلے میں مالک رام صاحب کا ارشاد ہے کہ ”اس کی بنا حضرت علی کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کا نام اسد اللہ تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا۔“ بعد میں جب انہوں نے تخلص تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسی لقب کی رعایت سے اسد کو چھوڑ کر غالب اختیار کرلیا (ص81) غالب نے ایک منقبتی قصیدے میں خود بھی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ تخلص کے اس انتخاب میں حضرت علی کے ”اسم و رسم“ کے اثرات شامل تھے۔ فرماتے ہیں:

اے کز نوازشِ اثرِ اسم و رسمِ تو

نامم زمانہ غالب معجز بیاں نہاد

          اس کے باوجود مالک رام صاحب کا یہ دعویٰ محتاجِ دلیل ہے کہ مرزا صاحب نے پہلے حضرت علی سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہا رکے طورپر یہ مہر کھدوائی،اس کے بعد اپنا تخلص اسد سے بدل کر غالب کیا۔اس کے برخلاف مرحوم اکبر علی خاں عرشی زادہ کا یہ استدلال زیادہ قرینِ صحت معلوم ہوتاہے کہ رجب 1231ھ (جون 1861ع) میں دیوان کے اولین دستیاب نسخے کی ترتیب کے وقت تک مرزا صاحب اسد تخلص کرتے تھے۔ بعد میں اسی سال کی کسی تاریخ کو انہوں نے غالب تخلص اختیار کیاتو یہ نئی باتخلص مہر کندہ کرائی۔ 20

          اگر اس مہر کی وساطت سے صرف ”دلی خیالات و معتقدات“ کا اظہار مقصود ہوتا تو یہ کام اس سے قبل بھی کیا جاسکتا تھاکیوں کہ غالب 1231ھ سے پہلے بارہا اس امر کا اعتراف و اعلان کرچکے تھے کہ

امامِ ظاہر و باطن، امیرِ صورت و معنی

علی، ولی، اسد اللہ، جانشینِ نبی ہے

          ان حالات میں ایک ہی سال کے اندر دو مہروں کی تیاری کی اس کے علاوہ اور کوئی معقول توجیہہ نہیں کی جاسکتی کہ مرزا صاحب نے اسی سال اپنا تخلص تبدیل کیا ہوگا اور اس تبدیلی کی علامت کے طورپر بہ صورت سجع یہ دوسری مہر کندہ کرائی ہوگی۔ لیکن مالک رام صاحب کے نزدیک یہ استدلال قابلِ قبول نہیں، چنانچہ ”گلِ رعنا“ کے مقدمے میں انہو ںنے اس مسئلے کو ایک بار پھر اٹھایا ہے۔ عرشی زادہ کا نام لیے بغیر تحریر فرماتے ہیں:

بعض لوگوں نے استدلال کیاکہ ”اسد اللہ الغالب“ مہر سے ثابت ہوتاہے کہ انہوں نے اس سال (1231 میں) غالب تخلص اختیارکیا، حال آنکہ نہ ان کا نام ”اسد اللہ“ تھا نہ تخلص ”الغالب“۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس مہر میں لفظ ”غالب“ بہ طورِ تخلص استعمال ہی نہیں ہوا بلکہ یہ مہر انہوں نے بہ طورِ سجع تیار کرائی تھی۔ دراصل ”اسداللہ الغالب“ لقب ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا۔ چوں کہ میرزا کا نام ”اسد اللہ خاں“ تھا اور وہ عقیدے کے لحاظ سے شیعی تھے، اس لیے انہوں نے یہ سجع والی مہر بنوا کر گویا حضرت علی سے اپنی عقیدت کا اعلان بھی کردیا۔ غرض اس مہر سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ 1231ھ میں انہوں نے غالب تخلص اختیار کر لیا تھا۔ البتہ یہ درست ہے کہ بعد کو انہوں نے اسد تخلص سے بیزار ہوکر نیا تخلص رکھنے کا فیصلہ کیا تو اسی سجع نے ان کی مشکل حل کردی اور انہوں نے یہ سامنے کا لفظ بہ طورِ تخلص اختیار کرلیا۔“21

          اپنی بات پر بے جا اصرار کا رویّہ بعض اوقات بدیہّیات سے بھی چشم پوشی پر مجبور کردیتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت اس بیان کی بھی ہے۔ سجع کی خوبی یہ خیال کی جاتی ہے کہ اس میں صاحب سجع کا نام بھی آجائے اور کلمہ سجع کی معنوی بھی اپنی جگہ برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ حشو و زوائد سے یکسر پاک ہو۔ غالب نے اپنے شاگرد حکیم سید احمد حسن فنا مودودی کی فرمائش پر ان کے نام کے دو سجعے کہے تھے۔ یہ سجعے بھیجتے ہوئے انہوں نے خط میں لکھاتھا:

“بہارِ گلستانِ احمد حسن، یہ سجع کیا برا ہے؟ دلِ حیدر و جانِ احمد حسن، یہ اس سے بھی بہتر ہے۔ انھی دونوں میں سے ایک سجع مہر پر کھدوا لیجیے۔“22

          ان دونوں سجعوں میں ایک لفظ بھی زائد از ضرورت نہیں۔”اسد اللہ الغالب“ کی بھی یہی کیفیت ہے۔ اگر اس وقت مرزا صاحب کا تخلص غالب نہ ہوتاتو یہ سجع کوئی معنی ہی نہ رکھتا، اور اگر اس مہر میں ”اسد اللہ“ کے ساتھ ”الغالب“ کی بجاے صرف ”غالب“ کندہ کیا گیا ہوتا تو یہ سجع نہ ہوتا، صرف نام ہوتا۔ رہ گیا یہ سوال کہ غالب کا اصل نام ”اسد اللہ“ نہیں ”اسد اللہ خاں“ تھا تو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ میر، میرزا، سید، شیخ، خاں، بیگ، مودودی اور چشتی جیسے سابقے اور لاحقے کسی نام کے اجزاے اصلی نہیں، اجزاے اضافی ہوتے ہیں، علاوہ بریں الفاظ کے اس مخصوص تانے بانے سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتے جس سے سجع کی تشکیل ہوتی ہے، اس لیے سجع کہتے وقت انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ غالب نے بھی سید احمد حسن کے نام کے مذکورہ بالا دونوں سجعوں میں ”سید“ کے سابقے سے صرفِ نظر کرکے صرف ”احمد حسن“ نظم کیاہے۔ قطعِ نظر اس سے اگر مالک رام صاحب کے نزدیک غالب کا اصل نام ”اسد اللہ خاں“ اور صرف ”اسد اللہ خاں“ تھاتو چند سال کے بعد ”محمد اسد اللہ خاں“ کے نام سے ایک تازہ مہر کندہ کرانے کا کیا جواز باقی رہتاہے؟

          صحیح بات یہ ہے کہ غالب کا اصل نام صرف ”اسد اللہ“ تھا، باقی تمام سابقے اور لاحقے فروعی یا اضافی حیثیت رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے اپنی بے شمار تحریروں میں، نظم میں بھی اور نثر میں بھی، اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ لکھاہے۔ نظم کے چند نمو نے حسبِ ذیل ہیں:

حبسِ بازارِ معاصی، اسد اللہ اسد

کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں

غالب نام آورم، نام و نشانم مپرس

ہم اسد اللّٰہم و ہم اسد اللّٰہیم

منصورِ فرقہ علی اللّٰہیاں منم

آوازہ انا اسداللہ درافگنم

فیضِ دمِ انا اسد اللہ بر آورم

منصورِ لا ابالیِ بے دار و بے رسن

‘پنج آہنگ’ کے خطوط میں بھی انہوں نے متعدد جگہ اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ ہی لکھا ہے، حتّٰی کہ بعض خطوط کا آغاز ”از اسداللہ نامہ سیاہ“ یا ”نامہ نگار اسد اللہ“ سے ہوتاہے۔ میاں نوروز علی خاں کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

“اگرنامہ فریسند و بہ عنوان نویسند کہ ایں مکتوب بہ دہلی بہ اسد اللہ رسد، دشوار نیست کہ آں نامہ بدیں روسیاہ برسد۔“23

22 مارچ 1852ء کے ایک خط میں تفتہ کو ہدایت کرتے ہیں:

“خط پر حاجت مکان کے نشان کی نہیں ہے۔ ”در دہلی بہ اسد اللہ برسد“ کافی ہے”

          اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ پنشن سے متعلق عرض داشتوں اور درخواستوں کے آخر میں بھی وہ کبھی کبھی اپنا نام صرف ”اسد اللہ“ ہی لکھا کرتے تھے۔ اس سلسلے کے دستاویزات میں ایسی اٹھائیس تحریریں ہماری نطر سے گزر چکی ہیں جن پر ان کے دستخط ثبت ہیں۔ ان میں سے بارہ تحریروں میں انہو ںنے اپنا نام ”اسد اللہ“ لکھاہے۔ ان میں قدیم ترین تحریر 25 نومبر 1831ء کی اور آخری تحریر 25 اکتوبر 1844ء کی ہے۔ نواب کلب علی خاں کے نام کے خطوط میں بھی جہاں انہوں نے بہ طورِ دستخط تخلص کی بجاے نام لکھا ہے، یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے کا آخری خط 16 نومبر 1898ء کا تحریر کردہ ہے۔

          اس سلسلہ گفتگو کا آخری اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ”اسد اللہ“ کی حیثیت اسمی سے متعلق مالک رام صاحب کا زیر بحث بیان خود ان کے سابقہ موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ گزشتہ سطور میں ان کا یہ قول نقل کیا جاچکاہے کہ”اس (دوسری) مہر کی بناحضرت علیؓ کا لقب ہے۔ چوں کہ میرزا کانام اسد اللہ تھا، اس لےے انہوں نے اس رعایت سے بہ طورِ سجع یہ نام کھدوا لیا۔“ اس طر ح ایک بار یہ کہنا کہ ”میرزا کا نام اسد اللہ تھا“ اور دوسری بار اس سے انکار کردینا ایک ایسی کیفیتِ ذہنی کی غمّازی کرتا ہے جو اعترافِ حق اور اعلانِ حق کی بجاے بہر صورت حریف کے دعووں کو باطل ٹھہرانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

          غالب نے تیسری مہر 1238ھ میں تیار کرائی تھی۔ اس پر ”محمد اسد اللہ خاں“ کندہ تھا۔ مالک رام صاحب کے مطابق یہ ”معرکہ آرا مہر ایک عظیم الشان داخلی اور ذہنی انقلاب کی آئینہ دار ہے۔“ اس انقلاب کے محرکات میں انہوں نے اس مذہبی مباحثے کا بہ طورِ خاص حوالہ دیاہے جو ان کے بقول انیسویں صدی کے ربعِ اول میں شروع ہواتھااور جس کا موضوع مسئلہ امکان و امتناعِ نظیر تھا۔ اس مباحثے کے ایک فریق مولانا فضلِ حق خیرآبادی تھے۔ ان کی تحریک پر غالب نے بھی اس بحث میں حصّہ لیا تھا اور فارسی میں ایک مثنوی کہہ کر ان کی او ران کے ہم خیال علما کی تائید کی تھی۔ مذہبی معاملات سے غالب کی اس دلچسپی کا اوّلین محرک مالک رام صاحب نے نواب الٰہی بخش خاں معروف سے ان کی عزیز داری کو ٹھہرایاہے۔ نواب صاحب خود صوفی تھے اور اس حیثیت سے متصوفین کے درمیان ”خاصے معروف بھی تھے“۔ غالب کی طبیعت کے ”لاابالیانہ پن“ پر ”علم و عمل کے اس نمونے“ کے اثرات مرتب نہ ہوں، یہ اصولِ فطرت کے خلاف تھا۔اس تمہید کے بعد مالک رام صاحب نے اس سلسلے میں اپنے مجموعی تاثرات ان الفاظ میں قلمبند فرمائے ہیں:

“میرزا کی تحریروں سے ثابت ہے کہ وہ اس سے قبل فسق و فجور اور عیش و عشرت کی دلدل میں پھنس چکے تھے، لیکن اس نئے مذہبی ماحول نے اگر ان کی کایا بالکل پلٹ نہیں دی تو کم از کم اس کی شدت میں ضرور کمی آگئی اور وہ اخلاقی قدروں کے بھی شناسا ہوگئے۔اس سے پہلے انکی مہر پر کندہ تھا: اسد اللہ خاں عرف میرزانوشہ، انہوں نے جو نئی مہر تیار کرائی، اس پر لکھا ہے: محمد اسد اللہ خاں۔ کیا ان کی قلبِ ماہیت کا اس سے زیادہ کوئی اور ثبوت درکارہے۔“ (ص84)

          مسئلہ امکان و امتناعِ نظیر پر بحث کب شروع ہوئی اور اس کا آغاز کس نے کیا، فی الوقت اس موضوع پر گفتگو کا موقع نہیں۔ قابلِ غور مسئلہ یہ ہے کہ غالب اس بحث میں کب شریک ہوئے اور ان کی وہ نظم جو اس مسئلے سے متعلق ہے، کس زمانے میں معرضِ وجود میں آئی؟ مالک رام صاحب نے اس مباحثے کو انیسویں صدی کے ربعِ اوّل کا واقعہ قرار دیاہے۔ نہیں کہا جاسکتاکہ غالب کو اس ابتدائی مرحلے میں اس مسئلے سے کوئی دلچسپی تھی یانہیں۔ شواہد سے معلوم ہوتاہے کہ 1856ءکے اواخر تک اس بحث کا سلسلہ ختم نہیں ہواتھا۔ بعض قرائن کے بموجب یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مولانا فضلِ حق نے الور سے رام پور جاتے ہوئے کچھ دنو ںکے لےے دہلی میں قیام کیا تھا اور اس دوران ان کی سرگرم شرکت کی بدولت یہ بحث ایک بار پھر تازہ ہوگئی تھی۔ چنانچہ غالب نے انھی ایام میں مولانا کی فرمائش پر وہ اشعار کہے تھے جو ان کی چھٹی فارسی مثنوی موسوم بہ ”بیانِ نموداریِ شانِ نوبت و ولایت“ میں شامل ہیں۔ سلطان العلما مولانا سید محمد مجتہد کے نام 21 جمادی الاول 1273ھ (17 جنوری 1857ع) کے خط میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“دریں ہنگام در شہر دو دانشمند باہم در آویختہ اند۔ یکے می سراید کہ آفریدگار ہمتاے حضرتِ خاتم الانبیا علیہ و آلہ السّلام می تواند آفرید۔ وایں یکے می فرماید کہ ایں ممتنعِ ذاتی و محالِ ذاتی است۔ بندہ چوں ہمیں عقیدہ دارد، نظمے در گیرندہ بدیں مدّعا سرانجام دادہ است۔ ہر آئینہ چشم دارد کہ سواد بہ نورِ نظرِ اصلاح روشن شود۔“ 24

          اس واضح بیان کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ 1273ھ 1856ء میں اس مذہبی مباحثے میں غالب کی شرکت اور اس سے پورے پینتیس (35) برس قبل 1238ھ 1823ء میں تیار شدہ ان کی زیرِ بحث مہرکے درمیان کسی ذہنی و جذباتی رشتے کی موجود گی قطعاً خارج از امکان ہے۔ یہی کیفیت تصوف کے اثرات کی بھی ہے کہ اس سے غالب کا واسطہ ”براے شعر گفتن“ سے زیادہ نہ تھا۔ علاوہ بریں مذہبی طورپر وہ شیعی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے جس میں تصوف کے لیے یوں بھی کوئی گنجائش نہیں۔ البتہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دوسری مہر کی طرح یہ تیسری مہربھی شیعت میں ان کے گہرے اعتقاد کی توثیق کرتی ہے۔ اس میں ان کے نام کے مختلف اجزا کی نشست میں جو ترتیب قائم کی گئی ہے، اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سب سے اوپر لفظ ”اللہ“ کندہ ہے، درمیان میں لفظ ”محمد“ نقش ہے اور تیسری اور آخری سطر میں لفظ ”اسد“ اور ”خان“ یعنی:

خدا کے بعد نبی اور نبی کے بعد امام

یہی ہے مذہبِ حق، والسّلام و الاکرام

          غالب کی خودنوشت تحریروں، سرکاری مراسلوں اور عرضداشتوں میںکہیں ان کا نام ”اسد اللہ خاں“، کہیں ”محمد اسد اللہ خاں“، کہیں ”محمد اسد اللہ“ اور کہیں صرف ”اسد اللہ“ لکھا ہوا ملتاہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ اس معاملے میں کسی طے شدہ ضابطے کے پابند نہیں تھے۔ دوسری اور تیسری صورتوں میں اصل نام ”اسد اللہ“ کے ساتھ لفظِ ”محمد کے اضافے کاایک سبب یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان کے رشتے کے ایک سالے یعنی امراو بیگم کے عمِ حقیقی نبی بخش خاں کے ایک بیٹے کا نام بھی ”اسد اللہ خاں“ تھااور ان کی مہر پر یہی نام کندہ تھا۔چوں کہ غالب اپنے تشخّص کی نگہداری کے معاملے میں خاصے حسّاس تھے، اس لےے عین ممکن ہے کہ انہو ںنے اپنے اور اپنے ان برادرِ نسبتی کے درمیان امتیاز کی غرض سے اپنی مہر پر ”محمد اسد اللہ خاں“ کندہ کرالیاہو۔

          جیسا کہ گزشتہ سطور میں عرض کیاگیا، غالب اپنے نام کے معاملے میں کسی طے شدہ ضابطے کے پابندنہیں تھے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا غالب رجحان ”اسد اللہ خاں“ کی طرف تھا۔ جب اس نام کو سرکاری سطح پر سندِ اعتبار حاصل ہوگئی تو انہوں نے لفظ ”محمد“ کو ترک کرکے صرف ”اسد اللہ خاں“ لکھنا شروع کردیا۔چنانچہ مرزا ہرگوپال تفتہ کو 17 ستمبر1858ء کے خط میں لکھتے ہیں:

“لفظِ مبارک میم، حا، میم، دال“، اس کے ہر حرف پر میری جاں نثا رہے مگر چو نکہ یہاں سے ولایت تک حکّام کے ہاں سے یہ لفظ یعنی ”محمد اسد اللہ خاں“ نہیں لکھا جاتا، میں نے بھی موقوف کردیاہے۔”

          حکّام کاپاسِ خاطر غالب کو کس قدر عزیز تھا، اس کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتاہے، اس لیے ان کے کسی بھی فیصلے یا طرزِ عمل کو وقت اور حالات کے تقاضوں سے بلند ترہوکر دیکھنے کی کوشش کبھی صحیح سمت میں رہنمائی نہیں کرسکتی۔اسی مصلحت کوشی اور احتیاط پسندی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنی خاندانی پنشن اور دیگر امور سے متعلق درخواستوں اور مراسلوں پر کبھی اس مہر کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں لگائی۔ چنانچہ اس سلسلے کے جو دستاویزات برصغیر اور یورپ کے مختلف محافظ خانوں میں محفوظ ہیں،ان میں سے سترہ (17) کاغذات پر دستخط کے ساتھ یہ مہر بھی ثبت ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نام کے ساتھ ”محمد“ کا سابقہ موقوف کردینے کے اعلان کے بعد بھی وہ سرکاری نوعیت کی تمام تحریروں پر یہی مہر لگاتے رہے۔ چنانچہ جن سترہ تحریروں پر اس مہر کے نشانات ہماری نظر سے گزرے ہیں، ان میں اولین تحریر 7جولائی 1830ء کی اور آخری تحریر 7 فروری 1867ء کی ہے۔ اس آخری تحریر کی روشنی میں جناب کالی داس گپتا رضا کایہ ارشاد محلِّ نظر قرار پاتا ہے کہ ”غالب کی یہ مہر تقریباً تیس سال تک استعمال میں رہی25۔“ موجودہ شواہد کی بنیاد پر اس کا کم از کم پیتالیس (45) سال تک (1138ھ 1822-23ء تا 2شوال1283 7 فروری 1867ء استعمال میں رہنا ثابت ہے۔

          ہمارے نزدیک یہ مہر نہ تو مذہبی نقطہ نظر سے کسی ”داخلی اور ذہنی انقلاب“ کی آئینہ دا رہے اور نہ اخلاقی سطح پر کسی ”قلبِ ماہیت“ کی نشان دہی کرتی ہے۔ بہ ظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ بہ طورِ خاص سرکاری کاغذات پر ثبت کرنے کے لیے تیار کرائی گئی تھی، کیوں کہ اس سے پہلے کی دونوں مہریں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ پہلی مہر کا استعمال نام کے ساتھ عرف کے شمول کی وجہ سے خلافِ احتیاط تھا جب کہ دوسری مہریں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھیں۔ پہلی مہر کا استعمال نام کے ساتھ عرف کے شمول کی وجہ سے خلافِ احتیاط تھا جب کہ دوسری مہر خالص مذہبی رنگ کی نمائندگی کرتی تھی۔

          اس سلسلے کی چوتھی مہر وہ ہے جسے مالک رام صاحب نے پانچویں نمبر پر جگہ دی ہے۔ اس پر ”یا اسدَاللہ الغالب“ کندہ ہے اور مالک رام صاحب کے مشاہدے یا تحقیق کے مطابق یہ 1269ھ 1852-53ء میں تیار ہوئی تھی۔ مصیبت یا پریشانی کے وقت حضرت علیؓ کو مدد کے لیے پکارنا شیعہ حضرات کے بنیادی عقائد اور روز مرّہ کے معمولات میں شامل ہے۔ یہ مہر اسی عقیدے کے اظہار کا ایک وسیلہ ہے۔ چنانچہ مالک رام صاحب نے اسے مناسب جواز فراہم کرنے کی غرض سے پہلے تویہ وضاحت فرمائی ہے کہ غالب اس زمانے میں یعنی 1852-53ءکے آس پاس مختلف قسم کی ذہنی و مالی پریشانیوں میں مبتلا تھے، جنہوں نے انہیں ”پراگندہ روزی، پراگندہ دل“ کا مصداق بنادیاتھا۔اس کے بعد 1854ء کے چند واقعات کے حوالے سے ان کی ”خوش اعتقادی اور نیک نیتی“ کے بار آور اور اس استعانت کے مقبول و مستجاب ہونے کے کئی ثبوت پیش کیے ہیں۔ یہ شواہد حسب ذیل ہیں:

(1) ذوق کے انتقال (4 نومبر 1845ع) کے بعد استادِ شاہ کے منصب پر تقرر۔

(2) ولی عہد مرزا غلام فحرالدین رمز کا حلقہ تلامذہ میں شامل ہونا اور چار سو روپے سالانہ وظیفہ مقرر کرنا۔

(3) طفر کے سب سے چھوٹے بیٹے مرزا خضر سلطان کا شاگرد ہونا۔

(4) سلطنتِ اودھ سے رسم و راہ میں استواری اور واجد علی شاہ کی طرف سے پانچ سو روپے سالانہ بہ طورِ وظیفہ مقرر ہونا۔

          یوں تو غالب کی زندگی میں کوئی دور ایسا نہیں گزراجب کہ انہوں نے اپنی خواہشات اور توقعات کے مطابق آسودگی اور مرفّہ الحالی کی زندگی گزاری ہو تاہم 1853ء میں یا اس سے کچھ پہلے آلام و مصائب کی کوئی ایسی غیر معمولی صورتِ حال نظر نہیں آتی جس میں وہ مالک رام صاحب کے بقول ”بہ آوازِ بلند فریاد“ پر مجبور ہوں اور حضرت علیؓ کو ان کی مشکل کشائی کا واسطہ دے کر مدد کے لیے پکاریں۔ اس کے برخلاف یہ وہ زمانہ ہے جب کہ بہادرشاہ ظفر کی سرکار سے ”نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ“ کے خطابات اور پچاس روپے ماہوار کے مشاہرے کے ساتھ سلاطینِ مغلیہ کی تاریخ نویسی کے منصب پر تقررکے بعد ان کی اناکی تسکین اور اسبابِ معیشت کی بہتری کا اچھا خاصا سامان مہیا ہو گیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں مالک رام صاحب کی تمام تاویلات و توجیہات دوراز کار قیاسات پر مبنی ہیں،کیوں کہ یہ مہر 1269ھ میں نہیں، اس سے پورے بیس برس پہلے1269ھ 1833-34ء میں کندہ کرائی گئی تھی۔ اس کے دستیاب نقش میں چار کی دہائی واضح نہیں۔ مالک رام صاحب نے اسے پہلی نظر میں غلطی سے چھ پڑھ لیا، اس کے بعد دوبارہ اس پر غور کرنے اور دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، حال آنکہ یہ زیادہ مشکل کام نہ تھا۔ غالب نے اپنا دیوانِ فارسی ”مے خانہ آرزو سرانجام“ کے نام سے 1250ھ 1834-35ء میں مرتب کیا تھا۔ اس کا دیباچہ ان کے کلیاتِ فارسی کے علاوہ ”کلیاتِ نثرِ غالب“ میں بھی شامل ہے۔ اس دیباچے میں ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے

دل بہ شراکِ نعلینِ محمدی آویختن کیش و آئینِ من و طغراے والاے ”یا اسدَاللہ الغالب“ نقشِ نگینِ من۔“26

          اس سے ظاہرہے کہ یہ مہر اس دیوان کی ترتیب سے پہلے تیار ہوچکی تھی۔ 1250ھ سے پہلے اور اس کے بعد لیکن 1260ھ سے بہت پہلے کی غالب کی ایسی کئی تحریریں راقم الحروف کی نطر سے گزر چکی ہیں جن کا آغاز انہو ںنے ”یا اسداللہ الغالب“ سے کیا ہے۔ مثلاً:

(1) مکاتیبِ غالب کے اس مجموعے میں جو پہلے پروفیسر مسعود حسن رضوی کی ملکیت تھااو راب مولانا آزاد لائبریری،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ مخطوطات میں محفوظ ہے، مثنوی ”بادِ مخالف“ کے سرِ عنوان ”یا اسداللہ الغالب“ لکھا ہوا ہے۔ اس مجموعے کی تمام تحریریں غالب کے قیامِ کلکتہ کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔

(2) “مآثرِ غالب” میں شامل فارسی خطوں میں سے ایک خط کا آغاز”یا اسداللہ الغالب“ سے ہواہے۔ یہ خط خواجہ فخراللہ کے نام ہے اور 10 رمضان 1148ھ مطابق 31 جنوری 1833ء کو لکھا گیا ہے۔

(3) خدابخش لائبریری، پٹنہ میں غالب کے کلیاتِ نظم فارسی کاایک قلمی نسخہ محفوظ ہے جسے ان کے دوست راے چھج مل نے لکھ کر 11 ربیع الآخر 1254ھ 4 جولائی 1838ء کو مکمل کیاہے۔ اس کے ایک صفحے کے حاشےے پر ”نامہ منظوم بہ نامِ جوہر“ کی ابتدابھی ”یا اسداللہ الغالب“ ہی سے ہوئی ہے۔

(4) دیوان غالب کے 1257ھ 1841ء میں شائع شدہ پہلے ایڈیشن کا آغاز بھی یا اسداللہ الغالب ہی سے ہوا ہے۔

          حضرت علیؓ سے استعانت کایہ متواتر عمل غالب کی اس زمانے کی ذہنی و مالی پریشانیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

          ان ایام میں وہ جن مسائل و مصائب سے دوچار تھے، ان کا انداز مندرجہ ذیل واقعات سے کیا جا سکتا ہے:

(1) 1826ع کے آس پاس میرزایوسف مرضِ جنون میں مبتلا ہوے اور انہوں نے تقریباً تیس برس اسی حالت میں گزارے۔ چھوٹے بھائی کی یہ علالت غالب کے لیے ہمیشہ سوہانِ روح بنی رہی لیکن شروع میں کئی برس وہ اس کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی پریشان رہے۔

(2) امراو بیگم کو اپنے چچا نواب احمد بخش خاں کی سرکار سے تیس روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ اکتوبر 1827ء میں نواب صاحب کی وفات کے بعد جو حالات رونما ہوئے، ان کے زیرِ اثر ان کے جانشین نواب شمس الدین احمد خاں نے غالباً 1830ء یا 1831ء میں یہ وظیفہ منسوخ کردیا۔ بیوی کی اس مستقل آمدنی کے بند ہوجانے سے گھر کی اقتصادی حالت کا متاثر ہونا ناگزیر تھا۔

(3) معتمد براے گورنر جنرل کے خط مورخہ 27 جنوری 1831ء کے ذریعے اس فیصلے سے آگاہ ہونے کے بعد کہ حضورِ والا(گورنرجنرل)نصراللہ خاں کے متوسلین کی مالی امداد کے ضمن میں فیروزپور کے جاگیردار کے کےے ہوئے انتظام میں مداخلت پسند نہیں فرمائیں گے“غالب اپنے مقدمہ پنشن کی ناکامی پر عرصے تک بے حد افسردہ اور پریشان رہے۔ اس کے بعد اپریل 1844ء تک ان کا بیشتر وقت اس مقدمے کی اپیل کی کامیابی کے لیے تگ ودو میں صرف ہوا۔

(4) سقیم مالی حالت اور رئیسانہ طرزِ زندگی کی وجہ سے قرص کا بوجھ برابر بڑھتا جارہاتھا۔ پنشن کے مقدمے میں گورنر جنرل کے فیصلے کے بعد قرض خواہوں کے تقاضوں نے غالب کی زندگی اجیرن کررکھی تھی۔ انجامِ کار فروری 1835ء میں عدالتِ دیوانی سے ان کے خلاف پانچ ہزار کی ڈگری ہوگئی۔

          یہ تھاوہ پس منظر جس میں یہ مہر تیار ہوئی۔ یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ یہ1249ھ میں کندہ کرائی گئی تھی، یہ بات از خود طے ہوجاتی ہے کہ غالب کی اب تک دریافت شدہ مہروں میں اس کا چوتھا نمبر تھا۔

          محمد مشتاق تجاروی کابیان ہے کہ پروفیسرمختارالدین احمد کے خیال میں یہ مہر بدرالدین کے علاوہ کسی اور مہر کن کی کندہ کی ہوئی معلوم ہوتی ہے27۔ ہمیں اس خیال سے اتفاق کی بہ ظاہر کوئی معقول وجہ نظر نہیں و تی کیوں کہ اس کے حروف کی کشش اور نشست میں کوئی ایسا نقص موجود نہیں جو بدرالدین کی شانِ خط کے منافی ہو۔ البتہ اس کا جو نقش دستیاب ہواہے، وہ بہت صاف نہیں۔ یہی سبب ہے کہ مالک رام صاحب کو اس پر درج سنہ کے پڑھنے میں تسامح ہوا۔اس کیفیت کی وجہ سے بعض حروف کی ہیئتِ ظاہری بھی متاثر ہوئی ہے۔ غالباً اسی بناپر مختارالدین احمد صاحب کو یہ شبہ ہواکہ یہ بدرالدین کے علاوہ کسی اور کی بنائی ہوئی ہے۔

          پانچویں، چھٹی اور ساتویں، تینوں مہریں غالب کے شاہی خطاب ”نجم الدولہ، دبیرالملک، نظام جنگ“ سے تعلق رکھتی ہیں۔ مالک رام صاحب نے ان میں سے صرف آخری یعنی ساتویں مہرکا ذکر فرمایاہے اور اپنے حساب کے مطابق اسے چوتھے نمبر پر رکھاہے۔ چو ںکہ یہی مہر اس سلسلے کی باقی دو مہروں تک ہماری رسائی کا وسیلہ بنی ہے، اس لےے مناسب معلوم ہوتاہے کہ گفتگو کا آغاز اسی کے ذکر سے کیا جائے۔ اس ساتویں مہر پر غالب کا نام مع ان کے خطابات کے اس طرح کندہ تھا:

“نجم الدولہ، دبیر الملک، اسد اللہ خاں بہادر، نظام جنگ”

          دائیں طرف کے زیریں گوشے میں لکھے وئے سنہ کے مطابق یہ مہر 1267ھ میں تیار ہوئی تھی۔ غالب کو متذکرہ بالا خطابات بہادرشاہ ظفر نے 23 شعبان 1266ھ مطابق 4 جولائی 1850ء کو عطا کےے تھے اور ”تاریخ نویسی تاجدارانِ تیموریہ“ کی خدمت ان کے سپرد فرمائی تھی۔ مالک رام صاحب نے خود غالب کی ایک فارسی تحریر کے طویل اقتباس، ”اسعد الاخبار“ آگرہ کے 15 جولائی 1850ء کے شمارے میں شائع شدہ مفصل خبر اور مرزاہرگوپال تفتہ کے کہے ہوے قطعہ تاریخ کے حوالے سے اس سلسلے کی تمام تفصیلات اپنے مضمون میںیکجا فرمادی ہیں لیکن ایک پہلو کو بالکل نظرانداز کردیاہے کہ یہ خطابات تو 1266ھ میں ملے تھے پھر یہ مہر 1267ھ میں کیوں تیار ہوئی؟ خود اشتہاری غالب کے مزاج کاایک نمایاں عنصر تھی چنانچہ یہ بات ان کی نفسیات کے بالکل خلاف معلوم ہوتی ہے کہ وہ مہینوں نئی مہر کی تیاری کا انتظار کرتے اور اس اعزاز کے اعلان و اشتہار کے اس سہل الحصول اور موثر وسیلے سے اتنے دنوں تک محروم رہتے۔ اگر فاضل محقق کے ذہن میں یہ خلش پیداہوئی ہوتی اور انہوں نے اسے دور کرنے کے لےے غالب کی اس زمانے کی تحریروں پر بہ نظر غائر توجہ فرمائی ہوتی تو اس انکشاف میں زیادہ دیر نہ لگتی کہ وہ اس مہر سے پہلے ان خطابات پر مشتمل ایک نہیں، دو مہریں 1266ھ ہی میں تیار کراچکے تھے۔ لیکن چوں کہ یہ مہریں ان کے معیا رپر پوری نہیں اتریں اس لےے انہوں نے انہیں رد کرکے جلد ہی ایک اور مہر تیار کرالی جو عرصہ دراز تک ان کے استعمال میں رہی۔ اپنے شاگردِ عزیز منشی جواہر سنگھ جوہر کے نام 23 اکتوبر 1850ء(16 ذی قعدہ 1266ھ) کے خط میں لکھتے ہیں:

“روزے بودکہ نامہ بہ من رسیدکہ نگارش از شمابود و مہر از من۔ گفتم: سبحان اللہ شگرفیِ آثارِ یگانگی و اتحاد کہ ہم نامہ بہ نامِ من است وہم بہ مہرِ من چوں آں ورق بہ من رسید و من دراں وقت تنہا بودم، مشاہدہ نقشِ خاتمِ خویش برمکتوبِ موسومہ خویش مرابہ وجد آورد۔ بالجملہ چشم بہ راہِ نگینِ مہر داشتم، دی روز کہ سہ شنبہ و بست ودومِ اکتوبر بود، رسید۔ ہمانا مہر کن در کشمیر نہ ماند، ع مجلس چو برشکست، تماشا بہ مارسید۔ پس از پزوہش پدید آمد کہ قریبِ صد کس از ہوسناکانِ دہلی نگیں ہافرستادہ در کشمیر کند اندہ اندوہمہ شرمسار و پشیماں شدہ اند۔ حالیا آں سعادت نشاں راباید کہ دردِ سر نہ کشند و مہرِ دیگر بہ کندن نہ دہند۔ امروز دریں فن نظیر بدرالدین بہ گیتی نیست۔ چوں اوبدنوشت، پندارم کہ خوبیِ سرنوشتِ من است۔“28

          اس تحریر سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ 4 جولائی اور 22 اکتوبر 1850ء کے درمیان غالب نے دلّی کے مشہور مہر کن بدرالدین سے اس خطاب کی یادگار کے طورپر ایک تازہ مہر تیار کرائی تھی جو انہیں کسی وجہ سے پسند نہیں آئی۔ دوسری یہ کہ اس مہر کو رد کردینے کے بعد انہوں نے اپنے شاگرد منشی جواہر سنگھ جوہر سے جو اس زمانے میں پنجاب میں کسی جگہ برسرِ روزگار تھے، یہ فرمائش کی کہ وہ کشمیر کے کسی مہرساز سے ان کی مہر تیار کرادیں۔ یہ دوسرانگینہ انہیں 22 اکتوبر 1850ء کو موصول ہوا، لیکن اس کی نقاشی سے بھی وہ مطمئن نہیں ہوئے۔ غالباً اس کے بعد ہی 1267ھ میں اس سلسلے کی وہ تیسری مہر تیا رہوئی جسے مالک رام صاحب نے چوتھے اور ہم نے ساتویں نمبر پررکھا ہے۔ احوالِ ظاہری کے اعتبارسے یہ مہر بھی بدرالدین ہی کی تیارکردہ معلوم ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ انہو ںنے پچھلی مہر کے بارے میں غالب کی ناپسندیدگی کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس کی تیاری پر خصوصی توجہ صرف کی ہو۔

          پروفیسر مختارالدین احمد صاحب کابیان ہے کہ قیامِ آکسفورڈ کے دوران 1956ء میں انہوں نے ایک بار اس مہر کی زیارت کی تھی۔ تقریب یہ ہوئی کہ حیدرآباد سے ڈاکٹر نظام الدین صاحب اور آغا حیدر حسن صاحب کے داماد وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔ ایک روز جب وہ ان دونوں حضرات کو ایشمولین میوزیم کا وہ شوکیس دکھا رہے تھے جس میں مختلف قسم کی انگوٹھیاں اور مہریں رکھی ہوئی تھیں تو ڈاکٹر نظام الدین صاحب نے اپنے ہم سفر کی انگلی کی طرف اشارہ کیااو ران سے پوچھا: اس مہر کو آپ پہچانتے ہیں؟ یہ مرزا غالب کی مشہور مہر تھی۔ عقیق پر نہایت خوبصورت حروف میں ”نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ“کے الفاظ منقوش تھے۔ مختلف کاغدوں پر متعدد بار اس کے نقوش دیکھنے میں آئے تھے۔29

          مختارالدین احمد صاحب کے علاوہ ڈاکٹر ضیاءالدین احمد شکیب نے بھی اپنی کتاب ”غالب اور حیدرآباد“ میں اس مہر کا ذکر کیاہے، جس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ 1969ء تک آغا حیدرحسن کے ہاں موجود تھی۔ شکیب صاحب لکھتے ہیں:

“پروفیسرآغاحیدرحسن کے یہاں میرزا غالب کاایک چغہ اور ان کی ایک مہر ہے۔ یہ مہر جگری عقیق پر کندہ ہے۔ اس مہر کی عبارت حسبِ ذیل ہے:

“نجم الدولہ، دبیرالملک، اسد اللہ خاں غالب، نظام جنگ”

1262ھ

آغا حیدرحسن صاحب کے بیان کے مطابق غالب کی یہ مہر شاہی مہر کن بدرالدین نے تیار کی تھی۔“30

          اس مہر سے متعلق یہ دونو ںبیانات تحقیقی اعتبار سے ناقص اور وضاحت طلب ہیں۔ مختارالدین احمد صاحب کے بیان کا نقص یہ ہے کہ انہو ںنے صرف اجزاے خطابی نقل فرمائے ہیں، مہر کے باقی اندراجات کو نظر انداز کردیاہے، جب کہ شکیب صاحب کی نقل کردہ عبارت میں ”اسد اللہ خاں“ اور ”نظام جنگ“ کے درمیان ”غالب“ کا اندراج او رنیچے دیاہوا سنہ مشکوک ہے۔ سنہ کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ اس کے نقل کرنے میں سہوہواہے، خواہ اس کے ذمّہ دار خود صاحبِ کتاب ہو ںیا ان کا کاتب۔ اسے ہرحال 1266ھ یا 1267ھ ہونا چاہیے۔ اگریہ 1266ھ ہے تویہ مہر یقینا اس مہر سے مختلف ہے جسے مالک رام صاحب نے اپنے مضمون میں متعارف کرایاہے اور اگر 1267ھ ہے تو اس میں نام کے بعد لفظِ ”بہادر“ کی بجاے تخلص یعنی ”غالب“ کا اندراج خلافِ واقعہ ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ دراصل یہ وہی مہر ہے جو منشی جواہر سنگھ جوہر نے کشمیر کے کسی مہرساز سے کندہ کراکے اکتوبر 1850ء میں غالب کو بھیجی تھی۔ اس کے رد کیے جانے کی وجہ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں نام کے ساتھ ”بہادر“ کالاحقہ موجود نہیں تھا، جس کا شمول از روے قاعدہ بے حد ضروری تھا۔اس سلسلے میں منشی شیونرائن آرام کے نام ستمبر 1858ء کے ایک خط کا یہ اقتباس ملاحظہ طلب ہے:

“سنو، میری جان!نوابی کا مجھ کو خطاب ہے ”نجم الدولہ“ اور اطراف و جوانب کے امرا سب مجھ کو ”نواب“ لکھتے ہیں، بلکہ بعض انگریز بھی یاد رہے”نواب“ کے لفظ کے ساتھ ”میرزا“ یا ”میر“ نہیں لکھتے۔ یہ خلافِ دستور ہے۔ یا ”نواب اسد اللہ خاں“ لکھو یا ”میرزا اسد اللہ خاں“ اور ”بہادر“ کا لفظ تو دونوں حال میں واجب اور لازم ہے۔”

          یہ مہر چوں کہ شکیب صاحب کی نطر سے گزر چکی تھی، اس لیے نومبر 2004ء میں جب وہ لندن سے حیدرآباد تشریف لائے تو میں نے اپنے شبہات کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے رجوع کیاکہ وہ صحیح صورتِ حال سے مطلع فرمائیں۔ موصوف نے اس کے جواب میں اپنے مکتوب مورخہ 29 نومبر 2004ء میں جو وضاحت فرمائی ہے وہ حسب ذیل ہے:

غالب کی یا غالب سے منسوخ جس مہر کاذکر ”غالب اور حیدرآباد“ میں ہے،وہ اب ہماری دسترس سے باہر ہے۔ یہ مہر پروفیسر آغا حیدرحسن کی ملکیت تھی۔ انہوں نے جناب محمد اشرف صاحب کو تحفةً دے دی تھی۔ محمد اشرف صاحب وہی ہیں جنہوں نے سالار جنگ میوزیم کے مخطوطات کا کیٹلاگ کئی جلدوں میں شائع کیامیں نے غالب کی یہ مہر محمد اشرف صاحب کے یہاں دیکھی تھی۔ جہاں تک یاد ہے وہ خود اس مہر سے مطمئن نہیں تھے۔ اس کاذکر میں نے پروفیسر آغا حیدر حسن صاحب سے کیا ۔آغا صاحب نے اپنی روایات کے مطابق وثوق سے کہا کہ یہ مرزا غالب کی ہے بلکہ یہ تک وضاحت کی، یہ بدرالدین مہر کن کی کندہ کی ہوئی ہے۔ آغا صاحب قلعہ معلّٰی کی یادگار تھے۔ ان کے گھرانے اور مرزا غالب کے گھرانے کے تعلقات قدیم تھے۔ میں کیاجواب دیتا۔ لہٰذا میں نے تمام اختلافات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ”غالب اور حیدرآباد“ میں اس کا ذکر کردیا۔اب یہ آپ جیسے محققین کا کام ہے کہ اس کے بارے میں کوئی قطعی راے قائم فرمائیں۔

          جہاں تک مجھے یقین ہے”غالب اور حیدرآباد“ میں مہر کا متن جو دیاگیاہے،و ہ درست ہے۔ اس میں سہوِ کتابت کو دخل نہیں۔ ممکن ہے کہ مہر میں تاریخ غلط کندہ ہوگئی ہو، اس لےے اس کو استعمال نہ کیاگیاہو۔ پڑی رہی ہو اور خاندانی تعلقات کی وجہ سے آغا حیدرحسن صاحب تک پہنچی ہو۔

جس وسیلے سے یہ مہر ہم تک پہنچی، اس کی وجہ سے ہم اس کو ‘فیک’ تو نہیں کہ سکتے، لیکن اگر غلط کندہ ہوگئی ہو تو

Discarded

کہہ سکتے ہیں۔

شکیب صاحب کی اس تحریر سے معلوم ہوجانے کے بعد کہ آغا حیدر حسن صاحب نے یہ مہر محمد اشرف صاحب کو تحفةً عنایت فرمادی تھی، یہ مناسب معلوم ہوا کہ آغا صاب کے داماد میرمعظم حسین صاحب سے درخواست کی جائے کہ وہ اس کے بارے میں حصول معلومات میں مدد فرمائیں۔ موصوف نے میرے 4 فروری 2005ء کے خط کے جواب میں 25 فروری 2005ء کو تحریر فرمایا:

“آپ نے خط میں جس مہر کا ذکر کیا ہے،اس کا مجھے علم نہیں ہے، لیکن میری شادی کے موقعہ پر میرے خسر پروفیسر آغا حیدرحسن مرزا نے مجھے ایک انگوٹھی عنایت کی تھی جس کو میں نے پچاس سال سے زائد اپنے ہاتھ پرپہنا۔ اُس انگوٹھی پر اسداللہ خاں غالب کے خطابات کندہ تھے۔ میں اس انگوٹھی کو اب محفوظ کروادیاہوں جس کی وجہ سے اس کا عکس بھیجنے سے قاصر ہوں۔”

          اس مایوس کن جواب کے بعد بہ ظاہر اب اس مہر تک رسائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی، اس لےے باقی مہروں کی طرح اسے بھی متاعِ گم گشتہ تصور کرکے طاقِ نسیاں کے کسی گوشے میں ڈال دینا چاہےے۔ راقمِ سطور اپنے اس خیال پر بہر حال قائم ہے کہ غالب نے اسے نام کے بعد لفظِ ”بہادر“ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسترد کردیاہوگا۔شکیبصاحب کی راے کے مطابق سنہ کا غلط کندہ ہوجانا بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس کے برخلاف بے خیالی یا رواروی کے باعث اکائی کے عدد چھ (6) کا دو(2) پڑھ لیا جانا عملی تجربات کی روشنی میں زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔

          جس طرح ساتویں مہر کے متعلق غوروخوض کے نتیجے میں اس چھٹی مہر کے وجود کا علم ہوا،اسی طرح اس چھٹی مہر کے حوالے سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ انہی خطابات پر مشتمل ایک مہر اس سے قبل بھی تیار ہوچکی تھی۔ ”امروز دریں فن نظیر بدرالدین بہ گیتی نیست۔ چوں اوبدنوشت، پندارم کہ خوبیِ سرنوشتِ من است۔“ سے اشارہ ملتاہے کہ یہ مہر بدرالدین نے کندہ کی تھی لیکن غالب اس سے مطمئن نہیں تھے۔ انہو ںنے اپنی اس بے اطمینانی یا ناپسندیدگی کا سبب مہر ساز کی بدنویسی کو ٹھہرایاہے، لیکن یہ بات اس لےے قابلِ قبول نہیں معلوم ہوتی کہ ”بدرالدین“ اور ”بدنویسی“ میں بہ ظاہر لفظِ ”بد“ کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں تھی۔ غالب کی اس زمانے کی تحریریں تقریباً نایاب ہیں۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد ہمیں صرف ایک خط دستیا ب ہواہے جس پر یہ مہر ثبت تھی، لیکن یہ اصل خط نہیں، اس کی نقل ہے، اس لےے اس کی روشنی میں اس مہر کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ خط مفتی سید احمد خاں بریلوی کے نام ہے اور پنجشنبہ 3 اکتوبر 1850 کو یعنی منشی جواہر سنگھ جوہر کے بھیجے ہوئے نگینے کے دہلی پہنچنے سے صرف انیس (19) دن پہلے لکھا گیاہے۔اسے محمد ابرار علی صدیقی نے اپنی کتاب ”آئینہ دلدار“ میں جو میاں دلدار علی مذاق بدایونی کی سوانح عمری ہے، دوسرے کئی خطوط کے ساتھ نقل کیاہے۔ خط کے آخر میں مہر کی عبارت بھی بہ ظاہر اس کی ہیئتِ اصلی کے مطابق ایک مستطیل کی شکل میں نقل کردی گئی ہے31۔ پانچویں مہر کی یہ دستی نقل ساتویں مہر کے دستیاب نقوش سے صرف اس قدر مختلف ہے کہ یہ سنہ کی قید سے عاری ہے جب کہ آخرالذکر میں اس کی تیاری کا سنہ (1267ھ) بھی موجود ہے۔ لیکن یہ محض اتفاق بھی ہوسکتاہے کیوں کہ ساتویں مہر جو 1267ھ کے بعد برابر زیرِ استعمال رہی، اس کی ایسی کئی نقلیں بھی ہمارے علم میں ہیں جن میں سنہ کا اندراج نہیں۔ ان حالات میں زیرِ بحث پانچویں مہر کی کیفیتِ ظاہری کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہنا دشوار ہے۔ البتہ مفتی سیّداحمد کے نام کے خط پر اس کے نقش کی موجودگی میں اس کے وجود پر کسی شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

          غالب نے اپنی آخری مہر 1278ھ (1861-62) میں یعنی اپنی وفات سے تقریباً سات سال قبل تیار کرائی تھی۔ اس مہرکی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ان کی دوسری تمام مہروں کی بہ نسبت کافی مختصر ہے یعنی اس پر صرف ان کا تخلص (غالب) اور تیاری کا سنہ (1278ھ) کندہ ہے۔ اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مالک رام صاحب لکھتے ہیں:

“جو لوگ نفسیات سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ نفسِ انسانی میں ”انا“ کے ارتقا کا انتہائی مقام یہ ہے کہ انسان کسی غیر معمولی کامیابی کے بعد اپنے تعارف کے لیے مختصر ”علَم“ کا استعمال کرنے لگتا ہے۔“(ص88)

          غالب کی اس نفسیاتی کیفیت کو انہوں نے جن دو غیر معمولی کامیابیوں کا نتیجہ قرار دیاہے، ان میں سے پہلی ”قاطعِ برہان“ کی اشاعت ہے جو ان کے بقول ”ہندوستان کے فارسی دانوں کے خلاف ساری عمر کے جہاد“ کا ایک عملی ثبوت بھی تھی اور ”علی الاعلان عام دعوتِ مبارزت بھی“۔ یہ کتاب 20 رمضان المبارک 1278ھ مطابق 22مارچ 1862ء کو اس زمانے کے سب سے مشہور و ممتاز طباعتی ادارے مطبعِ منشی نول کشور، لکھنو میں چھپ کر شائع ہوئی تھی۔ دوسری بڑی کامیابی یہ تھی کہ اسی سال مطبعِ نول کشور میں ان کے کلیاتِ فارسی کی طباعت شروع ہوئی جو اگلے سال یعنی 1863ء میں مکمل ہوگئی۔ اس سلسلے کی تمام ضروری تفصیلات قلمبند کرنے کے بعد محترم محقق اس نتیجے پر پہنچے ہیں:

“1862ع۔ 1863ء میرزا کی زندگی میں نہایت اہم سال ہیں۔ ”قاطعِ برہان“ اگر دوسروں کی شکست کا اعلان تھاتو کلیات ان کی فتح مندی کا ثبوت۔ اسی سال ان کا اپنے نگیں پر ”غالب“ کندہ کرانا اسی حقیقت کا ایک اور پیراے میں اظہارہے۔ اب گویا انہوں نے اس دعوے پر مہر لگادی کہ فارسی علم و زبان کے لحاظ سے میں ”علیٰ کلٍّ غالب“ ہوں۔“(ص90-91)

          کسی بھی معروف طباعتی و اشاعتی ادارے سے بہ یک وقت دو کتابوں کی اشاعت کسی بھی مصنف کے لیے فخر و مباہات کا باعث ہوسکتی ہے۔ غالب کو بھی اس سے مستثنٰی نہیںکیا جاسکتا۔لیکن یہ اتنی بڑی کامیابی یقینا نہیںکہ غالب جیسا یگانہ روزگار فن کار اس کی علامت کے طورپر ایک مہر تیار کراکے اسے یادگار بنادے۔ دنیا میں ہزاروں کام ایسے ہیں جن کی انجام پذیری میں وقت کا تعین کوئی اہمیت نہیں رکھتا، مگرجب وہ انجام پاجاتے ہیں تو وقت کے ساتھ ان کے تعلق کی متعدد توجیہات و تاویلات کی جاسکتی ہیں اور حسبِ اتفاق ان میں سے کوئی توجیہہ یا تاویل واقعے کے عین مطابق بھی ہوسکتی ہے۔ اس مہر کے سلسلے میں مالک رام صاحب قبلہ کے ارشادات بھی اسی ضمن میں آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غالب کو بیس پچیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنی انفرادیت کا بہ خوبی ادراک و احساس ہوگیاتھا۔ کلکتے میں قیام کے دوران قتیل کی زبان دانی پر ان کے اعتراضات کو بجاطورپر ہندوستانی فارسی دانوں کے خلاف ان کے مبیّنہ جہاد کا نقطہ آغاز کہا جاسکتاہے۔ اس وقت اپنے بیان کردہ سالِ ولادت (1212ھ) کی رو سے وہ عمر کی بتّیسویں منزل میں اور ہماری تحقیق کے مطابق چھتیسویں سال میں تھے۔ اس کے بعد انانیت کی یہ لے متواتر تیز ہوتی رہی۔ حتّی کہ نصف صدی پوری کرتے کرتے انہیں وہ مقام حاصل ہوگیاجہاں شہرت کے پرِ پرواز لگاکر اڑنے والے کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں رہتے۔ چنانچہ 1260ھ 1844ء میں انہوں نے نواب وزیرالدولہ والیِ ٹونک کی خدمت میں جو قصیدہ مدحیہ ارسال کیاتھا، اس کے ایک شعر میں یہ واضح اعلان موجود تھا:

نامم بہ سخن غالب و رشن ترم از روز

بے ہودہ چرا جلوہ دہم اسم و علم را

          تقریباً اسی زمانے میں (پنج آہنگ کی اشاعت سے قبل) انہوں نے میاں نوروز علی خاں کو پہلی بار خط لکھاتو جواب کے لےے پتے میں صرف ”بہ دہلی بہ اسد الہ برسد“ کو کافی قرار دیا۔22 مارچ 1858ء کے خط میں مرزا تفتہ کو بھی اسی مختصر پتے پر اکتفا کی ہدایت کی گئی ہے۔ان دونوں خطوط کے اقتباسات گزشتہ صفحات میں پیش کےے جاچکے ہیں۔ ایک اور خط مرزا حاتم علی مہر کے نام ہے جو 1861ء میں لکھا گیا تھا، اس میں لکھتے ہیں:

“آپ کو معلوم رہے کہ میرے خط کے سرنامے پر محّلے کا نام لکھنا ضروری نہیں۔شہر کا نام اور میرا نام، قصہ تمام”

          اسی ہدایت کا اعادہ چار برس کے بعد مولوی عبدالرزّاق شاکر کے نام کے ایک خط میں بھی کیا گیا ہے۔ یہ خط مرزا صاحب نے ستمبر 1865ء میں رام پور کے سفر پرروانگی سے قبل تحریر فرمایاتھا۔ مکتوب الیہ موصوف کو مطلع فرماتے ہیں:

          “اب کوئی خط آپ بھیجیں تو رام پور بھیجیں۔ مکان کا پتا لکھنا ضروری نہیں۔ شہر کا نام اور میرا نام کافی ہے۔”

          پیش کردہ مثالو ںمیں سے تین مثالیں 1278ھ 1862ء سے قبل کے زمانے سے متعلق ہیں۔ چوتھی اور آخری مثال اگرچہ 1278ھ سے بعد کی ہے لیکن اس اعتبار سے بے حد اہم ہے کہ یہ برونِ دہلی یعنی رام پور کے عارضی قیام کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان سبھی مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ غالب اپنی شخصیت کی یکتائی سے بہ خوبی واقف تھے اور اپنے وقار کے تحفظ اور انا کی سربلندی کے لیے ہمہ وقت سرگرم و فکرمند رہتے تھے۔ ”ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے“ کسی شہر کی تخصیص کے بغیر ایک ایسا سوال تھاجس کا جواب ان کے تصور کے مطابق ”نہیں“ کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ ایک اتفاقی امر ہے کہ ان کی یہ آخری مہر جس پر صرف ان کا تخلص کندہ ہے، 1278ھ میں تیارہوئی، ورنہ اس سے مالک رام صاحب کے بقول جس نفسیاتی کیفیت کا اظہارہوتاہے، وہ اس سے اٹھارہ برس قبل 1260ھ میں کہے ہوے ان کے اس شعر سے بھی ظاہر ہے جس میں ”اسم و علم“ سے بے نیازی اور صرف تخلص کے حوالے سے اَبَین مِنَ الامس(روشن تراز روز) ہونے کادعویٰ کیا گیاہے۔ ہا ںیہ امر بھی قابلِ لحاظ ہے کہ انہو ںنے اپنی بعض تحریروں میں شعروادب کے تناظر میں صرف تخلص کے حوالے سے اور مراسلت و مکاتبت کی حالت میں نام کی مختصر ترین شکل ”اسد اللہ“ کے ذریعے روشناسِ خلق ہونے پر جو اصرار کیاہے،وہ کسی داخلی مغائرت یا تضادکا مظہر نہیں۔ تعارف کی یہ دونوں صورتیں ”ہرسخن وقتے و ہر نکتہ مکانے دارد“ کے بہ مصداق ایک ہی باطنی کیفیت کی نشان دہی کرتی ہیں۔

          غالب کی جن مہروں کے نقوش اہلِ علم کی دسترس میں ہیں،ان میں یہ آخری مہر وہ واحد مہر ہے جس کے خط کی ناپختگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ بدرالدین کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ غالب کے کسی دوست یا شاگرد نے یہ سوچ کرکہ شاعر کی حیثیت سے غیر معمولی شہرت و ناموری کے باوجود انہوں نے اپنے تخلص کے ساتھ کوئی مہر کندہ نہیں کرائی، یہ مہر بہ طورِ خود کسی معمولی مہر ساز سے تیار کراکے ان کی خدمت میں پیش کردی ہو اور انہوں نے اس دوست یا شاگرد کے پاسِ خاطر کی بناپر اسے رد کردینا مناسب نہ سمجھا ہو۔ اس سوال کا کہ ان کی نفاست پسندی کیوں کر اس کی متحمل ہوئی، اس کے علاوہ کوئی اور جواب سمجھ میں نہیں آتا۔

          مفصّلہ بالا تجزےے سے ظاہر ہے کہ مالک رام صاحب نے ان مہروں کی تیاری کے سلسلے میں جو تاویلات پیش فرمائیں ہیں، ان میں سے بیشتر قابلِ قبول نہیں۔ لیکن ان کے اس بنیادی موقف سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ ان میں سے ہر مہر اپنا ایک نفسیاتی، مذہبی یا تاریخی پس منطر رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے غالب کی پر پیچ شخصیت اور ذہن و مزاج کی تفہیم میں دوسرے خارجی وسائل کے ساتھ ان مہروں کا کردار بھی مناسب توجہ کا مستحق ہے۔ یہی ایک بات ان کے بارے میں تحقیق و تنقید کا جواز فراہم کرتی ہے۔

حواشی:

1۔ غالب شناس مالک رام، از ڈاکٹر گیان چند، غالب اکیڈمی،نئی دہلی، 1996، ص67

2۔ فسانہ غالب، از مالک رام، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، 1977، ص81۔ آئندہ تمام مقامات پر اقتباسات کے آخر میں قوسین کے اندر صفحات کے حوالے دے دےے گئے ہیں۔

3۔ نامہ ہاے فارسیِ غالب، مربتہ سید اکبر علی ترمذی، غالب اکیڈمی، نئی دہلی، 1969، ص117۔ غالب کی خاندانی نشن اور دیگر امور، نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹر، مقتدرہ قومی زبان پاکستان، اسلام آباد، 1997، ص39

4۔ فسانہ غالب،ص115

5۔ نامہ ہاے فارسیِ غالب، ص103

6۔ غالب کی خاندانی پنشن،ص49

7۔ ایضاً،ص53

8۔ متفرقاتِ غالب، مرتبہ پروفیسر مسعود حسن رضوی، طبعِ ثانی، لکھنو1969، ص126

9۔ دیوانِ غالب، مرتبہ نظامی بدایونی، طبعِ ثانی، بدایوں، 1918، صفحہ ماقبلِ متن

10۔ احوالِ غالب، مربتہ پروفیسر مختارالدین احمد، طبعِ ثانی، دہلی، 1968،ص34

11۔ بہ حوالہ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ جنوری 1989، ص215-16

12۔ گلشنِ بے خار، از نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ، طبعِ اول، دہلی، 1837، ص185

13۔ بہ حوالہ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ مذکور الصدر، ص173

14۔ فسانہ غالب،ص49

15۔ احوالِ غالب، ص142۔143

16۔ مکاتیبِ غالب، مربتہ مولانا امتیاز علی عرشی، طبعِ دوم، رام پور، 1943، حاشیہ ص41

17۔ یادگارِ غالب(عکسی ایڈیشن)یو۔پی۔اردو اکاڈمی، لکھنو1986، ص9

18۔ نامہ ہائے فارسیِ غالب،ص103

19۔ پنج آہنگ، طبعِ ثانی، دہلی، 1853، ص334

20۔ دیوانِ غالب بہ خطِ غالب، مرتبہ اکبر علی خاں عرشی زادہ، رام پور، 1969،ص16

21۔ گلِ رعنا، مرتبہ مالک رام، دہلی، 1970، ص35

22۔ غالب کے خطوط، مرتبہ خلیق انجم، جلد سوم، دہلی،ص1029۔ 30

23۔ پنج آہنگ، ص389

24۔ تجلیات، از مرزامحمد ہادی عزیز لکھنوی، ص197-98، بہ حوالہ ماہنامہ نیادور، لکھنو شمارہ جولائی 1980، ص12

25۔ غالب درونِ خانہ، از کالی داس گپتا رضا، ساکار پبلشرز، بمبئی، 1989، ص43

26۔ پنج آہنگ، ص113

27۔ غالب نامہ، نئی دہلی، شمارہ جنوری 1996، ص164

28۔ باغِ دو در، مرتبہ سید وزیرالحسن عابدی، لاہور، 1970، ص120

29۔ گنجینہ غالب، پبلی کیشنز ڈویژن، نئی دہلی، 1995،ص168 تا ص170

30۔ غالب اور حیدرآباد، از ڈاکٹر ضیا ءالدین شکیب، نئی دہلی، 1969، ص223

31۔ آئینہ دلدار، از ابرار علی صدیقی، کراچی، 1956، ص93

مرزا دبیر عہد اور شعری کائنات

اردو کے دو بڑے مرثیہ نگاروں میں دبیر کا نام آتا ہے کسی نے انھیں انیس سے بڑا مرثیہ نگار ثابت کرنے میں زور صرف کیا تو اکثر نے انہیں انیس سے کمتر شاعر قرار دیا۔ انیس و دبیر میں بڑا شاعر کون ہے یہ اپنے اپنے ذوق و معیار شاعری کا معاملہ ہے۔ لیکن مرثیہ تنقید کا مطالعہ یہ بھی احساس کراتا ہے کہ ہم نے انیس کے مقابلے دبیر کا مطالعہ کم کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے محاسن کلام ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہو سکے ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داران نے اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے ایک قومی سمینار بعنوان ‘مرزا دبیر: عہد اور شعری کائنات’ 2-3 نومبر 2019 کو ایوان غالب میں منعقد کیا۔ اس سمینار کا کلیدی خطبہ اردو کے معروف نقاد و دانشور پروفیسر انیس اشفاق نے پیش کیا تھا۔ زیر نظر کتاب اس سمینار کے مقالات پر مشتمل ہے۔

غالب کی شاعری

غلام رسول مہر

غالب کی شاعری

(غوروفکر کے بعض نئے پہلو)

شعرِغالب نبود وحی و نگوئیم ولے

تو ویزداں نتواں گفت کہ الہامے ہست

          مرزاغالب کی زندگی اور شاعری کے متعلق اتنی کتابیں، رسالے اور مقالے لکھے جاچکے ہیں کہ اردو اور فارسی کے شاعروں میں سے شاید ہی کسی کے ساتھ اتنا اعتنا کیا گیا ہو، ایک علامہ اقبال کو غالباً مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم میں سمجھتاہوں کہ اب بھی مرزا کی شاعری کے بعض پہلو مزید غوروتوجہ کے محتاج ہیں اور جس حد تک مجھے علم ہے بے تکلّف اعتراف کر لینا چاہیے کہ وہ بہت محدود ہے۔ کہہ سکتا ہوں کہ ان پر اگر کچھ لکھا گیا ہے تو وہ بہت کم ہے۔

          ان میں سے ایک پہلو کا ذکر میں نے”ماہِ نو“ کے گزشتہ ”غالب نمبر“ میں سرسری طورپر کیا تھا۔ یعنی مرزا غالب کے جو شعر پیشتر کے اساتذہ سے استفادے یا ”توارد“ کے تحت آتے ہیں، ان کی چھان بین کی جائے اور جائزہ لیا جائے کہ آیا مرزا نے سابقہ مضامین میں کوئی خاص اضافہ کیا، جس سے ان کا حسن پوری طرح نکھر گیا؟ خواہ وہ اضافہ نفسِ مضمون میں ہو یا بیان میں۔ میں نے چند مثالیں بھی دی تھیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اصل معاملے کا دامن زیادہ وسیع ہے اور مرزا کے کلام سے شغف رکھنے والوں کی خدمت میں مودبانہ التماس ہے کہ وہ اس سلسلے میں غوروتحقیق کا قدم آگے بڑھائیں۔

          ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جومضامین و مطالب کلیاتِ فارسی اور دیوانِ اردو دونوں میں موجود ہیں، ان کاموازنہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کیا فارسی کے مضامین اردو میں یا اردو کے مضامین فارسی میں بعینہ لے لئے یا ان میںکچھ اضافہ کیا؟ ایک دوسرے کا ترجمہ ہے یا کسی ایک میں زیادہ وضاحت،زیادہ حسن اور زیادہ دل آویزی پیدا کردی ہے؟ اس ضمن میں یہ اندازہ بھی کیا جاسکتاہے کہ اصل مضمون کے لئے فارسی کا قالب زیادہ موزوں رہا یا اردو کا؟

          خود اردو میں بعض اشعار بہ لحاظِ نفس مضمون مترادف ہیں، اگرچہ اسلوب بیان ایک نہیں۔ ان پر الگ غور کرنا چاہیے۔ مثلاً:

۱۔

دریائے معاصی تنگ آبی سے ہوا خشک

میرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

۲۔

بقدر حسرت دل چاہیے ذوقِ معاصی بھی

بھروں یک گوشہ دامن گر آبِ ہفت دریا ہو

یا

۱۔

وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو

کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو

۲۔

قطع کیجے نہ تعلق ہم سے

کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

۳۔

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤ

جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

مرزاکی شاعری کے اس پہلو پرغور وتدبّر یقینی منفعت بخش ہوگا۔

          ایک پہلویہ بھی ہے کہ مرزا کے بعض اشعار پرایک سرسری سی نظر ڈالتے ہوئے ایسا تاثر قبول کرلیا گیا جو صحیح نہ تھا یا کم از کم اس کا دوسرا پہلو بالکل نظرانداز کردیا گیا۔ مثلاً مرزا کا ایک مشہور شعرہے:

خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سوبار ابر آئے

سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو

یہ شعر عموماً مرزاکی قنوطیت کے ثبوت میں پیش کیا جاتاہے۔ اگرمزیدغور کیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزانے اس میں قنوطیت کااظہارنہیں کیا، بلکہ ایک معاملے کے دو پہلو پیش کیے ہیں تاکہ اہلِ نظر دونوں کوسامنے رکھیں۔ ابرکے دامن میں وہ پانی بھی ہوتا ہے جو کھیتوں، فصلوں اور باغوں کے لئے آبِ حیات ہے، بجلی بھی ہوتی ہے، جو سب کچھ جلا کر راکھ بنا دیتی ہے۔ اسی طرح یہاں کی مختلف چیزوں کے دوہی پہلو ہیں، جو متضاد نظر آتے ہیں۔ حقیقت شناس وہ ہے، جو دونوں پہلووں کویکساں پیشِ نظر رکھے۔ نہ ابرکی آب رسانی کے جوشِ شادمانی میں بجلی کی تباہ کاری سے اعراض کرے اور نہ بجلی کی دہشت انگیزی سے ہراس زدہ ہوکر ابرکے فیضان سے استفادے کا رشتہ کاٹ دے۔ اسے چاہیے کہ خیرسے فائدہ اٹھائے اور شر سے محفوظ رہنے کے لئے تمام ممکن تدبیروں پر عمل پیرا رہے۔

          ہم کیوں سمجھیں کہ مرزا نے یہاں قنوطیت کا اظہار کیا ہے اور ان کی نظراچھی چیزوں میں بھی بُرے پہلو ہی پررہتی ہے؟ کیوں یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے دنیا کو بصیرت کی دعوت دی ہے؟ یعنی انسانوں کوصرف اچھے پہلو ہی پر قانع نہ رہنا چاہیے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس اچھی چیز سے برائی ظہورکرےگی تو امیدو رجائیت کی پوری متاع برباد ہوجائے گی۔ ضروری ہے کہ بُراپہلو بھی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوتاکہ پہلے ہی اس کا انسداد کرلیا جائے۔

          ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مرزا نے ”رشک“ کی طرح بعض دوسرے مضامین میںبھی حیرت انگیز نکتہ آفرینیاں کی ہیں،مثلاً ”شراب“۔ میرے اندازے کے مطابق ”شراب“ کے متعلق سیکڑوں شعرکہے۔ہر شعر میںاس موضوع کے متعلق نئی بات کہی اور کوئی بھی بات ایسی نہ کہی جو اس دائرے میں حقیقت و واقعیت کی صحیح تصویر نہ ہو۔ مضامین شراب میں اتنا تنوع حافظ اور خیام کے ہاں بھی نہ ملے گا،جو خمریات، میں امام مانے جاتے ہیں۔ ایسے مضامین بھی بے شمارہیں، ن کے متعلق بے تکلف کہا جاسکتاہے کہ:

ہرچند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

          بعض اور پہلو بھی ہیں، لیکن میں اس گفتگو کو پھیلانا نہیں چاہتا اور جو کچھ اور پیش کرچکا ہوں، اس کی چند ملی جلی مثالیں عرض کروں گا۔

          مرزا کا ایک فارسی شعر ہے:

تا نیفتد ہرکہ تن پرور بود

خوش بود گر دانہ نبود دام را

پرندے پکڑنے کے لئے پھندا لگاتے ہیں تو اس پردانے بکھیر دیتے ہیں تاکہ پرندے دانے کے لالچ میں درختوں سے زمین پر اتریں اور پھنس جائیں۔ مرزا کہتے ہیں کہ دانے کی خاطر اترنا ”تن پروری“ ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ جال بچھاتے وقت اس پر دانے نہ بکھیرے جاتے تاکہ تن پروری کاذوق پرندوں کے لئے گرفتاری کا موجب نہ ہوتا۔

          یہی مضمون طاعت و عبادت کے سلسلے میں ذرا کھول کربیان کیاتو فرمایا:

طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ

دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

          جو لوگ خداکی عبادت کرتے ہیں، اس کے حکموں کے پابند رہتے ہیں، ان میں سے اکثر کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اعمال حسنہ کی جزا پائیں گے اور بہشت میں جائیں گے، جہاں شہد کی نہر بھی ہوگی، شراب طہور بھی ملے گی اور دوسری نعمتوں سے بھی مستفید ہوں گے۔ مرزا فرماتے ہیں کہ یہ طاعت خالصتہً خدا کے لئے نہ رہی بلکہ بہشت اور اس کی نعمتوں کے لئے ہوگئی۔ مرزا کے نزدیک حقیقی اور خالص طاعت وہ ہے، جو غیر اللہ کی تمام خواہشوں سے بالکل پاک ہو۔

          پھر فرماے ہیں:

کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی

پاداشِ عمل کی طمع خام بہت ہے

یعنی زہد اگر ریا سے پاک بھی ہوتومیں اس کا معتقد کیوں کر ہوسکتاہوں۔ آخراپنے اعمال کی جزا کا معاملہ توساتھ ساتھ چلاجارہاہے۔ جب تک اس طمع خام سے زہد پاک نہ ہو، وہ ایسا زہد کیوں کر بن سکتا ہے جسے میں قابلِ احترام مانوں؟

          اب فارسی اور اردو کے متعدد ہم معنی اشعار پرایک نظر ڈال لیجیے جنہیں میں نے سرسری نظرمیں چُناہے۔ دقتِ نظرسے کام لیا جائے تو اور بہت سے اشعار مل جائیں گے:

۱۔

گریہ کرد از فریب وزارم کُشت

نگہ از تیغ آبدار تراست

کرے ہے قتل لگاوٹ میں تیرا رو دینا

تری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے

۲۔

ہفت آسماں بہ گردش و ما درمیانہ ایم

غالب و گرمپرس کہ برماچہ مے رود

رات دن گردش میں ہیں ہفت آسماں

ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

۳۔

ہر رشحہ بہ اندازہ ہر ہر حوصلہ دادند

مے خانہ توفیق خم و جام نہ دارد

توفیق بہ اندازہ ہمّت ہے ازل سے

آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

گرتی تھی ہم پہ برقِ تجلی، نہ طورپر

دیتے ہیں بادہ،ظرفِ قدح خوار دیکھ کر

۴۔

لالہ و گل ومداز طرفِ مزارش پسِ مرگ

تا چہا در دلِ غالب ہوسِ روئے تو بود

مشہدِ عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا

کس قدر یارب ہلاکِ حسرتِ پابوس تھا

۵۔

رمز بشناس کہ ہر نکتہ ادائے دارد

محرم آن است کہ رہ جز بہ اشارت نہ رود

چاک مت کر جیب بے ایّام گُل

کچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہےے

۶۔

فغاں کہ نیست سرد برگ دہن افشانی

بہ بند خویش فرد ماندہ ام بہ عریانی

دیکھ کر درپردہ گرمِ دامن افشانی مجھے

کر گئی وابستہ تن میری عریانی مجھے

۷۔

ناکس زتنومندی ظاہر نہ شود کس

چوں سنگِ سرِ رہ کہ گران است و گراں نیست

قدر سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوں

سخت ارزاں ہے گرانی میری

۸۔

ناداں حریف مستیِ غالب مشوکہ او

دردی کش پیالہ جمشید بودہ است

صاف دُردی کشِ پیمانہ جم ہیں ہم لوگ

وائے وہ بادہ کہ افشردہ انگور نہیں

۹۔

از جوئے شیر و عشرتِ خسرو نشاں نہ ماند

غیرت ہنوز طعنہ بہ فرہاد می زند

عشق و مزدوریِ عشرت گہ خسرو؟ کیا خوب

ہم کو تسلیم نکو نامیِ فرہاد نہیں

10۔

فرصت از کف مدہ و وقت غنیمت پندار

نیست گر صبح بہارے، شب ماہے دریاب

غالب چھٹی شراب،پر اب بھی کبھی کبھی

پیتا ہوں روز ابر و شبِ ماہتاب میں

پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراب

اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے

          مرزاکاایک خاص مضمون یہ ہے کہ گناہوں کی پرسش میں انہیں اپنی حسرتیں یادآجاتی ہیں۔ اس سلسلے میں فارسی کاایک نہایت عمدہ شعرہے:

اندر آں روز کہ پرسشش رود ام ہرچہ گزشت

کاش باما سخن از حسرت ما نیز کنند

پھر یہی مضمون ایک رباعی میں یوں پیش کیا ہے:

اے آنکہ وہی مایہ کم و خواہش بیش

آں روز کہ وقت باز پرس آید پیش

بگزار مرا کہ من خیالے دارم

با حسرت عیشہائے ناکردہ خویش

          مثنوی ”ابرگہربار“ کی مناجات کے آخرمیں کم و بیش اَسّی شعر صرف اس موضوع پر کہے ہیں اور ایسا انداز اختیار کیاہے کہ وہ شعر پڑھتے وقت دل ہل جاتاہے۔

          دیوان اردو میں بھی دو شعر اس مضمون کے موجود ہیں:

۱۔

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد

یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

۳۔

آتا ہے داغ حسرتِ دل کا شمار یاد

مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ

          آخر میں اتنااور عرض کرنا چاہتاہوں کہ مختلف اصحاب نے مرزاکے بعض اردو اشعار کو کسی نہ کسی فارسی شعر کے ہم مطلب قرار دے لیااور اس حقیقت پر غور نہ کیاکہ دونوں میں حقیقتہً کتنافر ق ہے۔ مثلاً بیگی دختر علی حیدرکایہ شعر ملاحظہ فرمائیے:

من اگر توبہ زمے کردہ ام اے سردِ سہی

تو خود ایں توبہ نہ کردی کہ مرا مے نہ دہی

یعنی اے سروِ سہی! اگر میں نے شراب سے توبہ کرلی تو تونے کب توبہ کی تھی کہ مجھے شراب نہ دے گا؟ کہا گیاہے کہ مرزاکا مندرجہ ذیل شعراسی سے ماخوذ ہے:

میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آوں؟

گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟

          بلاشبہ شراب سے توبہ کرنے اور ساقی کی طرف سے شراب نہ ملنے کاذکر دونوں میں موجود ہے، مگر بیتی کا شعر محض ذکر پر ختم ہوگیااور شراب کے سلسلے میں ساقی یا محبوب کو ”سروِ سہی“ کہنا کچھ لطف نہیں رکھتا۔اورآپ مرزا کے شعرکی معنویت پر غور فرمائیے:

۱۔”میں اور“ سے ظاہرہوتاہے،میکش اتنا پینے والاہے کہ ساقی اور رند سب اس سے بخوبی آگا ہیں۔ اسی لئے”میں“ پرخاص زور دیااور صرف ”میں“ کہہ کریہ پوری حقیقت واضح کردی۔

          ۲۔ پھر شراب نہ ملنے سے جو تکلیف ہوئی، وہ محتاج بیان نہیں۔ علاوہ بریں میکش کو اس بات پربھی سخت غصّہ ہے کہ عرق نوشی میں درجہ کمال حاصل کرلینے کے باوصف ساقی نے قدرنہ پہچانی۔

          ۳۔ بے شک شراب سے توبہ کرلی تھی،مگر بزم مے میں جانے سے صاف ظاہرہوگیاتھاکہ توبہ کچھ ایسی پختہ واستوارنہیں کہ ٹوٹنے نہ پائے یا شراب پیش کردی جائے تو اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ ہو۔

          ۴۔”بزم مے“ سے روشن ہے کہ شراب نہ ملنے کاواقعہ خلوت میں پیش نہ آیا،جسے طوراً و کرہاً برداشت کیا جاسکتاتھا،بلکہ بھری محفل میں پیش آیا، جہاں حریفوں کا پورا گروہ موجود تھا۔ گویا سبکی اور بے عزتی رندوں کے مجمع میں ہوئی جس سے میکش کے غصّے کی آگ برابر تیز ہورہی ہے۔

          ۵۔ ”یوں تشنہ کام آوں“ سے پتا چلتاہے کہ رفعِ خمار کی بڑی امیدیں اور آرزوئیں لے کر بزمِ مے میں شریک ہواتھا،مگر ساقی نے آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھااور دور شروع ہواتو اسے تشنہ کام و نامراد لوٹا دیا۔

          ۶۔پھر کہتے ہیں اچھا بھئی مانا، میں نے توبہ کرلی تھی۔آخر ساقی کو تو خیال ہونا چاہےے تھاکہ توبہ محض نمائشی اور ریائی ہے، کیونکہ وہ تو عمربھرسے میکشی کو دیکھ رہاتھا، توبہ کامعاملہ تو ایک معمولی معاملہ تھا، یہ معمولی معاملہ یاد رکھااوراسی کو معیار سلوک بنالیا۔عمر بھر کی ہم مشربی یک قلم فراموش کردی۔

          ۷۔ سب سے آخر میں کہتے ہیں کہ”ساقی کو کیاہواتھا؟“ یعنی میں نے توبہ کرلی تھی تو اس نے کیوں یہ ناقابلِ تصوّر و تیرہ اختیار کرلیا؟

          پھر لطف یہ کہ کوئی معین بات نہیںبتاتے،”کیاہواتھا“ کہہ کر معاملہ ختم کردیا،جس کی بیسیوں تعبیریں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً:

          ا۔ کیاوہ اس پر ناراض تھاکہ میں نے توبہ کیوں کی؟

          ب۔ کیاحریفوں نے اسے مختلف باتیں کہہ کہہ کر میرے خلاف برانگیختہ کردیاتھا؟

          ج۔کیاوہ ہوش میں نہ تھااور اس نے مجھے پہچانا نہیں تھا؟

          د۔ کیاوہ چاہتاتھاکہ یوں مجھ سے بھری محفل میں توبہ کابدلہ لے؟

          ہ۔ کیااس کے سے دیرینہ رند کے ساتھ ایسا برتاو مناسب تھا۔

          و۔ کیابیگی کے قول کے مطابق اس نے مجھے شراب دینے سے توبہ کرلی تھی؟

          غرض سوچتے جائےے اور مختلف پہلو نکلتے آئیں گے،بیگی کے شعر میں معنویت کے اتنے پہلو کہاں موجود ہیں؟

          غرض میری گزارشات کامدّعایہ ہے کہ مرزاغالب کی شاعری کے ان پہلووں پربھی اربابِ ذوق کو خاص توجہ فرمانی چاہےے اور مجھے یقین ہے کہ یہ توجہ بہرحال سودمند ہوگی، اغلب ہے کئی ایسے نکتے روشنی میں آجائیں جواب تک عام نظروں کی گرفت سے باہر رہے۔

غالب کی شاعری میں محبوب کا تصور

فراق گورکھپوری

غالب کی شاعری میں محبوب کا تصور

          کہتے ہیں کہ پاربتی جی نے ایک بار شیوجی سے پوچھا کہ میں تمہیں کیسی لگتی ہوں۔ شیوجی نے جواب دیا کہ ”تم مجھے ایسی لگتی ہوجیسے آدھا سنا گانا یا وہ راگ جو کچھ سنائی پڑے اور کچھ نہ سنائی پڑے“، انگریزی شاعر کیٹس نے اپنی محبوبہ کوایک خط میں لکھا کہ میں تمہیں ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے آنکھ اوجھل پاتاہوں، کتنے حسین، لطیف اور نازک تصوّر ان روایتوں میں پیش کےے گئے ہیں۔ مخصوص انفرادی لذّات یا احساسات کی مصوری الفاظ میں ناممکن ہے۔ ہر تجربے میںایک نرالاپن ہوتاہے۔ ہراحساس میں ایک اچھوتاپن ہوتاہے۔ ہر تصورکی ایک انفرادیت ہوتی ہے۔ الفاظ کے ذریعہ سے شاعر یا ادیب ہمیں اس نرالے پن، اچھوتے پن اور انفرادیت کے قریب کردیتاہے لیکن بات جہاں کی تہاں رہ جاتی ہے، اگر وہ شخص ایک ہی معشوق کے عاشق ہوں تو بھی اس کے حسن وجمال کا جو عکس دونوں کے دلوں میں پڑے گاوہ یکساں نہیں ہوگا۔ انفرادیت دنیا کے اہم ترین رازوں میں سے ایک رازہے لیکن انفرادیت میں ایک آفاقی اور عالمگیر صفت بھی ہوتی ہے، جب ہی تو ہم شاعروں کے مخصوص اور اچھوتے تصورات سے مانوس اور ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔

          غالب کی عشقیہ شاعری میں محبوب کے تصور کا اندازہ لگاتے وقت ہمیں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ غالب کا یہ تصور مسلسل نظموں میں نہیں پیش کیا گیاہے بلکہ غزلوں میں پیش کیا گیاہے اور غالب کی غزلوں میں، جن سے کہیں زیادہ عشق اور زندگی اور کائنات کی مصوری کی گئی ہے۔ بجائے اس کے حُسن کیا ہے اور کیسا ہے ہمیں زیادہ تریہ بتایا گیا ہے کہ حسن نے عشق کے ساتھ کیا کیا اور حسن کے ہاتھوں عشق پر کیا گزری، بقول اصغرگونڈوی’کچھ فتنے اُٹھے حُسن سے کچھ حُسن نظر سے‘ لیکن پھر بھی جب ہم دیوان غالب کی سیر کرتے ہیں تو حُسن کی متعدد جھلکیاں اورمعشوق کے مزاج اور کردار کی کئی تصویریں ہمارے سامنے سے گزرتی ہیں۔ ان اشعار سے ہم کافی حد تک اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ غالب کی شاعری میں حسن کا تصور کیا ہے اور کیسا ہے، پہلے معشوق کے قد کو لیجیے۔ لمبے قد کا آدمی کس قد و قامت پر عاشق ہوگا؟ اس کے معشوق کا قد بوٹا سا ہو گا یا لمبا اور چھریرا تو اسے ماہر حسنیات ہی بتائیں۔ لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اُردو شاعروں میں غالب خود بہت لمبے قد کے آدمی تھے۔ ایک شعر میں غالب نے معشوق کے درازی قدکاذکرکیاہے،کہتے ہیں:

بھرم کھُل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا

اگر اس طرہ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

          غالب کا معشوق ،یاغالب کے معشوق، میانہ قدر، بوٹا سا قد یا لمبے قد کے تھے۔ ہمیں اس کا کوئی تاریخی علم نہیں لیکن جو شعر ابھی آپ نے سُنا ہے اس سے یہ پتا ضرور چلتا ہے کہ سرو قد معشوق کے حُسن کا احساس اور شدید احساس غالب کو تھا۔

          غالب کا معشوق نرم گام یا آہستہ خرام نہیں ہے۔ معشوق کی چال کی تصویر غالب نے یوں کھینچی ہے:

چال جیسے کڑی کمان کا تیر

دل میں ایسے کے جا کرے کوئی

بجلی کی تیزی اور تیر کی جست محبوب غالب کی چال میں ہے،ایک جگہ اور کہتے ہیں:

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پر خونِ خلق

لرزے ہے موج مَے تری رفتار دیکھ کر

          یہاں بھی چال کے جمالی پہلو کو جلالی شان و انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ معشوق کی شوخ چال کی ایک اور تصویر دیکھیے:

دیکھو تو دل فریبی  انداز نقشِ پا

موجِ خرام یار بھی کیا گل کتر گئی

اس شعرمیں بجلی کی سی چال کا ذکرنہیں پھر بھی چال ہے نہایت شوخ

زلف سے متعلق بھی غالب نے دو تین ہی شعر کہے ہیں لیکن کیا شعر ہیں:

نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں

تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہوگئیں

          زلف کی درازی کا کچھ اندازہ تو غالب کے اس شعر سے ہم کو ہوجاتا ہے جسے قامت کی درازی کے سلسلے میں پیش کرچکے ہیں:

اگر اس طرہ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

          زلف کی رمزیت پر ایک شعر کہہ کے غالب نے کیا کچھ نہیں کہہ دیا

کٹے تو شب کہیں، کاٹے تو سانپ کہلاوے

کوئی بتاو


¿ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے

اوریہ شعر تونہ جانے ہمیں کہاں لےے جارہاہے:

تو اور آرائش خم کا کل

میں اور اندیشہ ہائے دور و دراز

          گورا دمکتا ہوا چہرہ دیکھ کر کبھی نگاہیں تڑپ جاتی ہیں اور کبھی شاداب ہوجاتی ہیں۔ معشوق کے چہرے کا تصور غالب یوں کرتے ہیں اور اسے یوں دیکھنا چاہتے ہیں:

اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ

چہرہ فروغ مے سے گلستاں کےے ہوئے

اس شعر میں بھی معشوق کے چہرے کی جگمگاہٹ دیکھےے:

کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے

کرے جو پرتوِ خورشید عالم شبنمستاں کا

معشوق کی نگاہ کا کتنا لطیف احساس و تصوّر غالب کو تھا۔

بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی

وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے

          غالب کے ہاں محبوب کا جوتصور ہمیں ملتاہے وہ نہایت دھاردار،نوک دار، چنچل اور شوخ ہے۔ اس تصورمیں ایرانی کلچرکی رنگینیاں،لطافتیں اور نزاکتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں، غالب کے تصورکا کوئی خط دھندلایا مبہم نہیںہے۔ اس کے تصورکی ہر سنہری لکیر میں اُپی ہوئی تلوار کی دھار ہے۔اس کے احساس حُسن میں ایک ارتکاز وہم آہنگی ہے۔ اس کا معشوق بہت شوخ اور طرار ہے، ا س کی باتیں تک برق رفتاری کی مثالیں ہیں۔ ٹھہراوتو کہیں ہے ہی نہیں۔ معشوق کیسے باتیں کرتا ہے؟

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا

بات کرتے کہ میں لبِ تشنہ تقریر بھی تھا

          معشوق کی بے پناہ شوخیاں ان اشعار میں دیکھیے:

نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سُنائے نہ بنے

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی

سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یوں

معشوق کا نہ آنا ہی نہیں بلکہ اس کا آنا اور ملنا بھی فتنوں سے خالی نہیں

وہ آئیں گے مرے گھر، وعدہ کیسا، دیکھنا غالب

نئے فتنوں میں اب چرخِ کہن کی آزمائش ہے

خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے

آئی شب ہجراں کی تمنّا میرے آگے

میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں

وہ ستمگر مرے مرنے پہ راضی نہ ہوا

          عموماً شوخ و شنگ معشوق عاشِق کو مٹاتا اور رقیب کو نوازتا رہتاہے، لیکن غالب کے معشوق میں نہ عاشق کے لیے سپردگی و ہمدردی ہے نہ رقیب کے لیے۔ بہت نازک اور حسّاس لہجے میں غالب نے اس تکلیف دہ حقیقت کا اظہار کیا ہے۔

تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا

اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

          معشوق کی جفا کاری اور ستم گاری، اس کی شرارتیں اور چھیڑیں، اس کی حیا میں بھی جھلک رہی ہیں۔

کبھی نیکی بھی اُس کے دل میں گرآجائے ہے مجھ سے

جفائیں کرکے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا

کہتے ہیں ہم تجھ کو منہہ دکھلائیں کیا

معشوق ظلم و ستم سے توبہ بھی کرتاہے تو کب کرتا ہے۔

کی مرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

کبھی کبھی معشوق کی ستمگاری سے غالب کو فائدہ بھی پہنچ جاتاہے۔

ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں

غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں

گرچہ ہے کس کس بُرائی سے ولے بہ ایں ہمہ

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

غالب اپنے معشوق میں پاتے تو ہیں انتہائی شوخی لیکن چاہتے ہیں اس میں سادگی۔

سادگی پر اس کی مر جانے ک حسرت دل میں ہے

بس نہیں چلتا، کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

لیکن معشوق کی سادگی بھی قیامت ڈھاتی ہے:

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوا ر بھی نہیں

اور جب معشوق ایک ہی ساتھ سادگی و شوخی کاملاطفہ ہے تو اور بھی جان پر بن جاتی ہے:

سادگی و پُرکاری، بے خودی و ہُشیاری

حُسن کو تغافل میں جرات آزما پایا

          معشوق کی شوخی کا شکایت آمیز بیان جیسا غالب کے ہاں ملتا ہے اس کی مثالیں کسی اور شاعر کے ہاں نظر نہیں آتیں اس بیان اور اس شکایت میں نہ تو میر کی دل گرفتگی و خستگی ہے نہ بہت سے اور شاعروں کی طرح سطحیت ور چھچھوراپن، غالب معشوق کی شوخیوں سے تنگ آکر بھی بالکل مٹ نہیں جاتا وہ اپنی آن بان قائم رکھتاہے اور اسی خودداری کے سبب سے وہ معشوق کی شوخی اور جفا کاری کو بہت رچا کے اور سنوار کے پیش کرتاہے۔ مثلاً معشوق عاشق کے خطوں کا جواب نہیں دیتا یا نہایت بے حسی او ربے دردی سے جواب لکھتا ہے، غالب نے کسی طنزیہ لہجے میں اس کا ذکر کیا ہے۔

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

یہ جانتا ہوں کہ تو،اور پاسخ مکتوب

مگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا

          لیکن ان تمام اشعار سے غالب کے تصور محبوب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ نامکمل ہوگی،اگر ہم غالب کے کچھ اور اشعار پربھی نظرنہ ڈالیں جن میں معشوق کی فطرت کی نرمی یا اس کی عاشِق نوازی دکھائی گئی ہے۔ معشوق خطوں میں ہمیشہ جلی کٹی نہیں لکھتا، پیاربھرے خط بھی لکھتا ہے۔

پھر چاہتا ہوں نامہ دلدار کھولنا

جان نذرِ دلفریبی عنواں کیے ہوئے

معشوق محض رُلاتا ہی نہیں، کبھی کبھی اس کی آنکھیں بھی ڈبڈبا آتی ہیں، کیا شعر کہا ہے:

نہیں معلوم کِس کِس کا لہو پانی ہوا ہوگا

قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

          غالب کے ہاں محبوب کے تصور میں بلکہ حُسن و عشق اور زندگی ہی کے تصور میں رشک کا عنصر بہت تیز ہے، غالب کے مزاج میں خود غرضی تھی، کِس کے مزاج میں نہیں ہوتی اور یہ خودغرضی بہت تیز تھی۔ لیکن ان کی فطری مصلحت شناسی، رشک کے جذبے کوبھی بہت حسین بنا دیتی ہے۔

رات کے وقت مے پیئے، ساتھ رقیب کو لیے

آئے وہ یوں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یوں

          رقیب تو درکنار غالب کو خود اپنے آپ پر رشک آجاتاہے۔

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آجائے ہے

میں اُسے دیکھوں بھلاکب مجھ سے دیکھا جائے ہے

          لیکن مجبوری سب کچھ کراتی ہے، باوجود رشک کے غالب یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو

مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

          لیکن اگر کسی ایک غزل میں غالب نے محبوب کا معیاری تصور پیش کیا ہے تو اُس غزل میں جویوں شروع ہوتی ہے:

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے

کیا ہوئی ظالم تِری غفلت شعاری ہائے ہائے

          یہ پوری غزل معشوق کا مرثیہ ہے اور غالب کے مغموم تصور کا مرقع۔

غالب اور نظیراکبرآبادی

کاظم علی خاں

غالب اور نظیراکبرآبادی

          مرزا غالب اور نظیراکبرآبادی پر بات کرتے وقت یہ امر ملحوظ رہنا چاہیے کہ غالب سن و سال میں نظیر سے کم و بیش 62 بانسٹھ سال چھوٹے تھے لیکن ہم سن نہ ہوکر بھی یہ دونوں شاعر اپنے مولد و مدفن کے اعتبار سے ایک خاص ربط رکھتے تھے۔ ان دونوں شاعروں میں سے ایک مولد دوسرے کا مدفن ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ غالب اس دہلی میں دفن ہیں جو نظیر کا مولد ہے اور نظیر اس اکبرآباد یعنی آگرے میں مدفون ہیں جو غالب کا مولد رہا ہے جیسا کہ تذکرہ ماہ و سال کے درجِ ذیل اندراجات سے ظاہر ہوتاہے۔ (1)

          غالب: ولادت آگرہ 27 دسمبر 1797۔ وفات دہلی 15 فروری 1869

          نظیر:۔ولادت دہلی تقریباً 1735 وفات آگرہ16 اگست1830

          غالب اور نظیر کی داستانِ حیات بتاتی ہے کہ غالب جس قدر سرکارودربار سے وابستگی کے شوق بے پایاں کے اسیر تھے نظیر اسی قدر سرکارو دربار سے دوری برقرار رکھنے کے عادی تھے۔ دہلی میں مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر کا دربار ہویا فرماں روایان اودھ و رام پورکی سرکاریں غالب نے ہر جگہ سے جتنا ہوسکاخوب فائدہ اٹھایا۔ نظیر اکبرآبادی نے اس کے برخلاف زندگی میں زیادہ تر یاتو معلّمی کاپیشہ اختیار کیا ہے یا فقیری اور قلندری کی ہے(2)۔

           غالب اور نظیر کی داستانِ حیات میں کئی ایسی قابلِ ذکر باتیں ملتی ہیں جن کا بیان دل چسپی سے خالی نہ ہوگا۔ کاروبارِ شعر وسخن میں نظیر اکبرآبادی کے کسی استاد کا نام نہیں ملتا اورغالب کے مستند سوانح نگا ربھی شاعری میں اُن کے کسی استاد کانام نہیں بتاتے۔ تذکرہ گلستان بے خزاں کی یہ روایت کہ شاعری میں غالب نظیر کے شاگرد تھے اب مشکوک مانی جاتی ہے۔(3)

          لسانی اعتبارسے غالب فارسی اور اردو صرف دو زبانوں میں نظم و نثر لکھنے پر قادر تھے اس کے برعکس نظیر اکبرآبادی کو جن متعدد زبانوں میں شاعری کرنے کی قدرت حاصل تھی۔ ان کی تفصیل آگے اپنے مقام پر آئے گی۔

          یہاں اس با ت کی نشان دہی بھی بے محل نہ ہوگی کہ غالب اور نظیر دونوں کا کلام مقبولیت کے اعتبار سے زمانے کے نشیب و فراز سے دوچار رہ چکا ہے۔ غالب کو تو اپنے کلام کی ناقدری پر جیتے جی یہ کہنا پڑاتھا:

شہرتِ شعرم بہ گیتی بعدِ من خواہشد شدن(4)

          اب رہا نظیر اکبرآبادی کا معاملہ تو یہ حقیقت اہلِ نظرسے مخفی نہیں کہ کلامِ نظیربرسوں کسادبازاری سے دوچار رہ کر دورِ حاضر میں شہرت و مقبولیت سے ہم کنار ہوا۔

          یہ درست ہے کہ دونوں شاعروں کی موت کا زمانہ و مقام الگ الگ رہا یعنی غالب نے 15 فروری 1869 کو دہلی میں وفات پائی اور نظیر16 اگست 1830 کو آگرے میں فوت ہوئے تھے لیکن یہ بھی غلط

نہیں کہ دونوں شاعرو ںکی وفات بہ عارضہ فالج ہوئی تھی۔ (5)

          غالب و نظیر کی اولاد و اخلا ف کے باب میں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ غالب کے یہاں متعدد بچے ہوئے مگر بدقسمتی سے کوئی نہ بچ سکا اور غالب کو بے اولاد ہی دنیا سے سفرکرناپڑا، البتہ نظیراولاد کی نعمت سے مرحوم نہ رہے۔(6)

          ادبی آثار کی طباعت کے اعتبار سے بھی دونوں شاعروں کی قسمت ایک سی نہ تھی۔ غالب کے متعدد ادبی آثار اُن کی زندگی ہی میں چھپ گئے تھے اس کے برخلاف نظیر کے ادبی آثار (بیش تر) ان کی موت کے بعد نہ صرف چھپے تھے بلکہ ان کے جمع ہونے کا کام بھی قابلِ لحاظ حد تک اُن کی موت کے بعد ہی انجام دیا گیا تھا۔ نظیر کی وفات اگست 1830 میں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ اس زمانے میں اردو کتابوں کے چھپنے کا چلن ہوگا ہی نہیں۔ دیکھئے:1۔ توقیتِ غالب: کاظم علی خاں باب نمبر11 2۔  نظیر اکبرآبادی: ڈاکٹر طلعت نقوی)

          غالب اور نظیراپنے دینی عقائد کے اعتبار سے بھی ایک جیسے تھے۔ دونوں شاعروں نے اپنے آبائی عقائد چھوڑکرشیعی مسلک اختیار کرلیاتھا۔ (7)

          غالب شناس اس بات سے باخبر ہیں کہ دہلی میں غالب ایک ڈومنی کے عشق میں گرفتار رہے ہیں اور ایک عرصے تک اُس ڈومنی کی یادوں کی کسک غالب کے دل میں باقی رہی ہے(توقیتِ غالب: ڈاکٹر کاظم علی خاں،ص19 ) تلاش کرنے پر پتاچلاکہ نظیر اکبرآبادی کی داستانِ زندگی بھی ان کی حیاتِ معاشقہ سے خالی نہیں اور ہم نظیر کی اُن معشوقہ کے نام سے بھی باخبرہیں۔ اس عورت کانام ”موتی“ ملتا ہے۔ (8)

          مال و دولت سے غالب کا غیر معمولی لگاؤ کوئی ڈھکی چھپی

 بات نہیں اگر کہیں سے غالب کو کچھ بھی ملنے کی امید ہوتی تو وہ اس کے حصول میں کسی تکلّف سے کام نہ لیتے جب کہ اس سلسلے میں نظیر خاصے محتاط رہتے تھے۔ (نظیر اکبرآبادی طلعت حسین نقوی، ص38۔ تا39) ظرافت غالب ونظیر دونوں کے مزاج کامشترک وصف نظر آتی ہے۔ دونوں شاعروں نے محرومیوں اور مایوسیوں سے گھری اپنی دکھ بھری زندگی کو ہنس کھیل کر گزارنے کا گُر سیکھ لیاتھا۔ دونوں شاعر آلامِ زندگی کو مردانہ وار جھیل جانے کے ہنر سے باخبر تھے۔

          غالب کایہ مشہور شعر ان کے اسی وصف کا غمّاز ہے:

قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے، آدمی غم سے نجات پائے کیوں

نظیر نے بھی نشاطیہ اور رجائی لہجے کو اپنایا۔

          تصوف کی جلوہ گری غالب اور نظیر دونوں کے کلام میں ملتی ہے مگر غالب تصوف سے شغف رکھنے کے باوجود خود صوفی نہ تھے جب کہ نظیر کے تصوف میں جابجا توکل کی جھلک ملتی ہے گویا نظیر صحیح معنوں میں فقیری اور قلندری کی راہوں پر گام زن رہنے کے عادی تھے۔

          غالب کے مزاج میں قناعت کی کارفرمائی دور دور تک نہیں ملتی، نظیر کے یہاں قناعت کی کمی نہیں۔

          کلام غالب و نظیر کے بہ غور مطالعے سے پتا چلتاہے کہ غالب مشکل زبان میں پیچیدہ خیال والے شاعر تھے لیکن نظیر کی شاعری میں عوامی زبان کی کوئی کمی نہیں بلکہ کہیں کہیں وہ بازاری زبان بھی استعمال کرجاتے ہیں۔ شاہی اور درباری دور میں بازاری زبان ان کی شاعری کو عوام سے قریب کرتی ہے۔ شاہی دور کی شاعری میں عوامی لب و لہجہ نظیر کی شاعری کو بے فصل کا میوہ بنا دیتا ہے۔ اور نظیر کا کلام جاڑوں والا ایسا آم معلوم ہوتا ہے جو بے مزہ ہونے کے باوجود قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

          نظیراکبرآبادی کے کلام میں ہندستانی عناصر کی جلوہ گری بھی نہایت اہم وصف ہے۔ ہندستان کے موسم ہوں یا ہندستان کے میلے ٹھیلے، یہ تمام عناصر عوام میں میل جول بڑھاتے ہیں دور حاضر میں نظیر کی شاعری کایہ پہلو بھی خاصی معنویت رکھتاہے۔ کلام غالب میں بھی یہ تمام پہلو تلاش کرنے پر مل جاتے ہیں۔ مگر انہیں کلام نظیر میں قدم قدم پر پایا جاتاہے۔

          وسیع النظری، بے تعصبی اور رواداری نظیر کی شاعری کاوہ جاندار حصہ ہے جو آج بھی ہمارے لیے کام کی شے ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لیے دورِ حاضر میں کلامِ نظیرکی معنویت کے منکر نہیں۔ کلامِ نظیرکا اہم ترین پہلو اس ہندومسلم میل ملاپ کی تلقین ہے جس کی ضرورت سے آج بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تلاش کرنے پر ہمیں کلامِ غالب میں بھی یہ پہلو مل سکتے ہیں مگر نظیر کی شاعری میں ان کی ’بہتات‘ہے۔

          مذہبی میل ملاپ کے ساتھ ساتھ کلامِ نظیر میں ایک طرح کی لسانی روادری کی بھی جھلکیاں ملتی ہیں۔ نظیر کی شاعری ایک ایسا بوقلموں (رنگ برنگی) نگار خانہ نظر آتی ہے۔ جہاں دوچار نہیں آٹھ آٹھ زبانوں کی جلوہ گری ملتی ہے۔ نظیر کی شاعری میں ہمیں عربی، فارسی، پنجابی، ’بھاشا‘ مارواڑی، پوربی، ہندی اور اردو زبانوں کی جھلکیاں نظر آتی ہیں جبکہ لسانی اعتبار سے غالب صرف اردو اور فارسی نظم و نثر لکھنے پر قادر تھے۔ (بہ حوالہ نظیر اکبرآبادی: ڈاکٹر طلعت حسین،ص24)

          کلام نظیر میں آدمی اور دنیا کی بے ثباتی کے بھی سبق آموز حصّے موجود ہیں مگر یہاں اِس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ میاں نظیر کے کلام کی اصل شہرت ان کی غزلوں سے زیادہ نظموں کے باعث ہے اس کے برعکس غالب کے کلام میں نظم سے زیادہ غزلوں پر زور ملتا ہے۔

          نظیر نے بہترین شہر آشوب بھی لکھے ہیں جن میں جزئیات نگاری کے اچھے نمونے ملتے ہیں۔ غالب کے یہاں اس صنف کی کمی ہے۔

          نظیر کے کلام میں متعدد ایسے موضوعات پر بھی نظمیں ملتی ہیں جو عام طورپر شاعری کے دائرے سے خارج رکھے جاتے ہیں۔ مثلاً کلامِ نظیر میں اژدھے کا بچہ، گلہری کی بچہ، تربوز، تل کے لڈو، کورا برتن جیسے موضوعات پر دل چسپ نظمیں موجود ہیں، غالب کا جو کلام کاٹ چھانٹ سے بچ کر ہم تک آیاہے اس میں اس طرح کی نظمیں نہیں ملتی ہیں۔

          نظیراکبرآبادی کی مشہور اور مقبول نظموں کی تعداد اچھی خاصی ہے اور ان سے مثالیں پیش کرنا آسان نہیں، روٹیاں اور آدمی نامہ نظیر کی شاہ کارنظموں میں شامل ہیں۔ غالب کے ادبی آثار میں نظم کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی نثر کے بھی نمونے ملتے ہیں جو چھپ کر مقبول ہوچکے ہیں۔ نظیر کی نثرکا ذکر نظیرشناسوں تک محدود ملتا ہے غالب کی طرح نظیر کی نثر نہ تومشہور ہوسکی ہے اور نہ مقبول ہوئی ہے۔ غالب اور نظیر نے اپنی طویل ادبی زندگی میں کسی استاد کی شاگردی تو نہیں کی مگر یہ دونوں شاعر درجنوں شاگردوں کے استاد ضرور رہے تھے۔ غالب کے شاگردوں کی تعداد تو اتنی زیادہ تھی کہ ان کے ذکرپر مشتمل مالک رام ‘تلامذہ غالب’ کے نام سے ایک اچھی خاصی ضخیم کتاب چھپوا چکے ہیں جو ایک سے زیادہ بار چھپ چکی ہے(تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب توقیتِ غالب، ص74 تا 85) نظیر کے شاگردوں کی فہرست بھی تقریباً ایک درجن شاعروں کے نام پر مشتمل ہے۔ (10)

          مقالے کے اختتام میں غالب اور نظیر کے مزاروں پر بھی بات کرنا نامناسب نہ ہوگا۔ غالب نے دوشنبہ 15 فروری 1869 کو دوپہر ڈھلے دہلی میں وفات پائی تھی۔ ہجری تقویم کی رو سے ان کی تاریخ وفات ۲ ذی قعدہ 1285ھ ہے سببِ وفات دماغ پر فالج گرنا تھا۔ غالب کی تدفین اسی روز بستی نظام الدین دہلی میں واقع خاندانِ لوہارو کے قبرستان میں ہوئی تھی۔ (توقیتِ غالب،ص55)، گردشِ زمانہ کے باعث مزارغالب کی تعمیر متعدد بار ہوتی رہی ہے۔ ایک عرصے تک مزارکی حفاظت کا نا کافی انتظام رہاہے جس کی وجہ سے جواریوں وغیرہ جیسے ناپسندیدہ عناصر کی بے روک ٹوک آمدورفت کے باعث غالب شناسوں کی پریشانی اور الجھن کا سبب رہاہے۔ مزارِ غالب پر پھولوں کی چادر وغیرہ کو کھانے بکریوں کی بھی آمدورفت رہاکرتی تھی۔ مگر خداکاشکر ہے کہ اب غالب شناسوں کی توجہ سے مزار کی چوحدی میں مقفل دروازے کا انتظام ہوگیا ہے۔

          نظیراکبرآبادی 98 سال کی طویل عمرپاکر اگست 1830 مطابق 1246ھ میں بہ مقام آگرہ فوت ہوئے تھے اور آگرہ ہی میں اُن کا مدفن  ہے۔ مزارِ نظیر محلہ تاج گنج آگرہ میں واقع ہے۔

حواشی:

1۔  تذکرہ ماہ و سال:مالک رام نئی دہلی،نومبر1991،ص286،نیزص293

2۔ ملاحظہ ہوں:(1)توقیت غالب: ڈاکٹر کاظم علی خاں۔ انجمن ترقی اردو(ہند) نئی دہلی ابواب نمبر15۔16، نیز 17(2) نظیر اکبرآبادی الخ:ڈاکٹر سید طلعت حسین نقوی فیض آباد(ٹانڈہ)طبع فروری 1990، 27، 30 تا 40

 3۔ توقیتِ غالب،ص18

4۔ کلیاتِ غالب(فارسی نظم) مطبع نول کشور 1863، 514

5۔ برائے تفصیل؛دیکھےے تذکرہ ماہ و سال:مالک رام طبع نومبر 1991، ص286، نیزص 393

6۔ برائے تفصیل دیکھیے:(1)ذکرغالب:مالک رام(2) نظیر اکبرآبادی: طلعت نقوی،ص30 تا31

7۔ ملاحظہ ہوں:(1)دیوان غالب کامل نسخہ گپتا رضا: کالی داس گپتا رضا۔ ممبئی مطبوعہ 1990، ص26 نیز،ص 445 تا 447

 (2) نظیر اکبرآبادیڈاکٹر سید طلعت حسین نقوی،ص46

8۔ دیکھے:(1) نظیر اکبرآبادی کے کلام کا تنقیدی مطالعہ،ص22 (2)زندگانیِ بے نظیر:عبدالغفور شہباز؛نئی دہلی 1981، ص79 تا81

9۔ دیوان غالب(نسخہ عرشی)طبع 1982، نئی دہلی ص241 (نوائے سروش)

10۔ شاگردانِ نظیر کے لےے دیکھیے نظیر اکبرآبادی ڈاکٹر طلعت حسین۔ فروری 1990، ص 48 تا49