دارالمصنفین،معارف اور غالب

پروفیسر خالد محمود

دارالمصنفین سے میری غائبانہ واقفیت کاآغاز طالب علمی کے زمانے میں ہوا تھا۔ آغاز میں نے اس لیے کہا کہ دارالمصنفین ایسا ادارہ نہیں جسے کوئی طالب علم یا استاد

بھی ایک ہی مرحلے میں سمجھنے کا دعویٰ کر سکے۔دوران تعلیم ہم طلبا آہستہ آہستہ اس سے واقف ہوتے گئے اور جس رفتار سے واقف ہوتے گئے اسی رفتار سے ہل من مزید کی صدا ہمارے سمند شوق کو مہمیز کرتی رہی۔ میری خوش بختی کہیے کہ بھوپال کے جس کالج میں نے اعلیٰ تعلیم کی ابتدا کی تھی اور جس کا نام نامی سیفیہ کالج ہے اس میں اقبال ، سرسید، آزاد ، حالی اور شبلی کے عاشق زار اور سید سلیمان ندوی کے ہم وطن استاد محترم پروفیسر عبدالقوی دسنوی صاحب اردو طلبا کے لیے روشنی کا مینار بنے ہوئے تھے انھیں اردو اور اردو کے طلبا سے عشق تھا انھیں سے میں نے دارالمصنفین اور ارباب دارالمصنفین کی کہانیاں سنی تھیں۔ استاد محترم ان ہستیوں کا جن میں شبلی اور سید سلیمان ندوی کے علاوہ مولانا عبدالماجد دریاآبادی، مولانا حمید الدین فراہی، شاہ معین الدین ندوی، سید صباح الدین عبدالرحمن، مولانا مسعود علی ندوی، مولانا عبدالسلام ندوی، پروفیسر نجیب اشرف ندوی، سید ابو ظفر ندوی، مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی، مولانا ضیاالدین اصلاحی، سید شہاب الدین دسنوی، مولانا مجیب اللہ ندوی، مولانا ضیاالدین اصلاحی اور مولانا ابوالکلام وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل تھے موقع و محل کی مناسبت سے اور کبھی اس کے برخلاف بھی اتنی محبت سے ذکر کرتے کہ ہم سبھی کو ان سے محبت ہوگئی تھی۔ دارالمصنفین کے توسط سے ہم اعظم گڑھ سے واقف ہوئے ۔ انھیں دنوں سیفیہ کالج کے شعبۂ اردو کی لائبیریری میںرسالہ ’’معارف‘‘ سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کیا دیدار و درشن کہہ لیجیے۔ مگر اس کے سادے سے سرورق نے کچھ زیادہ متاثر نہیں کیا۔ میں نے اسے دیکھا ، اٹھایا، ورق گردانی کی اور احترام سے رکھ دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہم طلبااختر شیرانی کی ریشمی نظموں اور جوش ملیح آبادی کی گرج دار رومانی شاعری کے حصار میں تھے۔ تعجب ہوتا ہے کہ غالب نے اس نوعمری میں نسخۂ حمیدیہ جیسی بالائے فہم غزلیں جنھوں نے بہت سے عالموں اور فاضلوں کو خوف زدہ اور غضب ناک کرکے رکھ دیا کیسے کہی ہوں گیکچھ عرصے کے بعد معارف کو دوبارہ دیکھا تو اندر سے بھی دیکھا اس وقت میں ایم۔اے کر رہا تھا اور شاید اس کو سمجھنے کے لائق ہوچکا تھا۔ چنانچہ جب میں نے اس کو پڑھا تو اس نے مجھے شیشے میں اتار لیا۔ مجھے اعتراف ہے کہ علم و ادب کی جو تھوڑی بہت سوجھ بوجھ میرے حصے میںآئی اس میں اور تاریخ اسلام کی شُد بُد کے حصول میں دارالمصنفین کی تصانیف و رسالہ معارف نے میری بڑی رہنمائی کی ہے ۔ دارالمصنفین کی علمی اور ادبی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ فلسفۂ تاریخ و تحقیق کے قدیم وسائل اور عصری مسائل کے حوالے سے اس نے جو معرکے سر کیے ہیں ان پر اب بہت کام ہوچکا ہے اور ساری علمی دنیا اس کا اعتراف کرچکی ہے۔ اس کی دو سو سے زیادہ گراں قدر تصنیفات اور تالیفات اردو دوستوں خصوصاً اہل ایمان کے قلوب کی روشنی، حافظے کی دولت اور آنکھوں کا سرمہ ہیں۔ مولانا کلیم صفات اصلاحی نے اپنی کتاب ’’دارالمصنفین کے سو سال‘‘ میں بالکل صحیح لکھا ہے کہ :

’’دارالمصنفین علامہ شبلی نعمانی کی سب سے آخری اور مہتم بالشان یادگار ہے اور یسا عظیم کارنامہ ہے جس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ اپنی علمی شناخت اور منفرد طرز و انداز کے سبب یہ ملک وملت کے لیے مایۂ ناز علمی و تحقیقی ادارے کی حیثیت سے نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں مشہور معروف ہے بلکہ اپنی بلند پایہ علمی خدمات کی وجہ سے اس کی شہرت و ناموری کا دائرہ دنیائے مغرب کے بیشتر ممالک تک وسیع ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جنوبی افریقہ، اسکاٹ لینڈ، آسٹریلیا، ترکی وغیرہ جیسے ممالک میں بھی اس ادارے سے واقف ہونے والوں کی اچھی خاصی تعداد موجود اور اس کے اہم کارناموں کی معروف و قدرداں ہے۔‘‘

دارالمصنفین کے اشاعتی سرمائے میں کتابوں کی محض تعداد ہی قابلِ ذکر نہیں ۔ تعداد کے لحاظ سے تو دوسرے ادارے بھی اس کی ہمسری کا دعوا کرسکتے ہیں۔ بعض مطابع اور اداروں نے اس سے زیادہ کتب شائع کی ہوں گی۔ دارالمصنفین کی اشاعتی سرگرمیوں کا امتیاز یہ ہے کہ اس ادارے نے جو کتابیں شائع کی ہیں وہ موضوع، مواد، معیار، اہمیت ، افادیت اور تحقیق و تدوین کے مستند حوالوں کی روشنی میں اس پائے کی ہیں کہ اگر کسی اور نے اس معیار کی دس بیس کتابیں بھی شائع کی ہوں تو اسے بھی اپنے اس کارنامے پر فخر کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

اسلامی نقطۂ نظر سے دارالمصنفین کی مطبوعات اور معارف کے مشمولات کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے مولانا سید سلیمان ندوی نے ایک دلچپ واقعہ بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

’’میں نے سفر افغانستان کے دوران ایک دن علامہ اقبال سے کہا کہ جب تک آپ کی شاعری زندہ رہے گی ہندوستان میں اسلام باقی رہے گا۔ علامہ نے فرمایا نہیں جب تک دارالمصنفین کی تصنیفات باقی رہیں گی ہندوستان میں اسلام باقی رہے گا۔ سرراس مسعود بھی شریک بزم تھے انھوں نے کہا کہ اسے یوں کہہ لیجیے کہ جب تک اقبال کی شاعری اور دارالمصنفین باقی ہیں ہندوستان میں اسلام باقی رہے گا۔ اسی طرح علامہ نے ایک دوسرے موقع پر معارف کے تعلق سے فرمایا تھا کہ یہی ایک رسالہ ہے جس کے پڑھنے سے حرارت ایمانی میں ترقی ہوتی ہے۔‘‘  ۱؎

یہی رسالہ ’معارف‘اور غالب ہے جو گزشتہ سو سال سے دارالمصنفین کی ترجمانی کا حق ادا کررہا ہے۔ دارالمصنفین کی طرح اس کے ترجمان ’’معارف ‘‘نے بھی اردو رسائل کی دنیا میں جو سر بلندی اور نیک نامی حاصل کی ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہ آسکی۔ یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ اردو جیسی مظلوم زبان میں جسے خود اردو والوں کی اکثریت عرصہ ہوا کہ اپنے گھروں میں ممنوع قرار دے چکی ہے ۔ کسی بیرونی امداد کے بغیر یہ رسالہ سو سال تک نہ صرف زندہ رہا (الحمداللہ آج بھی زندہ ہے) بلکہ اس نے بحیثیت مجموعی اپنی پالیسی اور معیار و مقاصد سے بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

معارف کے آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر شباب الدین لکھتے ہیں:

’’۱۸؍نومبر ۱۹۱۴ کو علامہ شبلی اپنے بہت سے کاموں کو ادھورا چھوڑ کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے ان کے انتقال کے بعد ان کے شاگردوں نے ’’اخوان الصفا‘‘ کے نام سے ایک جماعت بنائی جس کے ارکان حسب ذیل تھے:

۱۔  مولانا حمیدالدین فراہی     (صدر) (م ۱۹۳۰)

۲۔  مولانا سید سلیمان ندوی(ناظم)      (م ۱۹۵۳)

۳۔  مولانا عبدالسلام ندوی     (رکن)  (م ۱۹۵۶)

۴۔  مولوی مسعود علی ندوی    (رکن)  (م ۱۹۶۷)

۵۔  مولوی شبلی متکلم ندوی     (رکن)  (م ۱۹۷۳)

اس ’’اخوان الصفا‘‘ نے علامہ شبلی کے خوابوں کے مطابق اعظم گڑھ میں دارالمصنفین کے باقاعدہ کاموں کا بیڑا اٹھایا اور جولائی ۱۹۱۵ئ میں اس کی رجسٹری بھی کرائی گئی۔ جب دارالمصنیفن کا کام ذرا چل نکلا تو اس کے ترجمان کی ضرورت محسوس ہوئی چنانچہ یہ طے پایا کہ ’’معارف‘‘ کے نام سے اس کا ماہانہ ترجمان شائع کیا جائے۔ جب دارالمصنفین کے اپنے پریس نے معارف پریس کے نام سے کام کرنا شروع کیا تو جولائی ۱۹۱۶ میں معارف کا پہلا شمارہ منظر عام پر آیا۔‘‘ پہلے مدیر اعلیٰ سید سلیمان ندوی تھے۔‘‘

یہاں یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ شبلی نے دارالمصنفین اور معارف کا محض خواب ہی نہیں دیکھا تھا بلکہ اپنے خواب کو روبہ عمل لانے کا آغاز کرتے ہوئے اپنی زندگی ہی میں ایک خاکہ بھی تیار کرلیا تھا جس میں ایک علمی رسالے کا اجرا شامل تھا اور انھوں نے خود اس کا نام معارف تجویز کیا تھا۔ علامہ شبلی کی ایک قلمی یادداشت کے مطابق:

’’ رسالے کا نام معارف چیف ایڈیٹر شبلی، اسٹاف: مولوی سیدسلیمان (یعنی سید سلیمان ندوی ) مولوی عبدالماجد دریابادی، مسٹر حفیظ، مولوی عبدالسلام، تعداد صفحات تقطیع و کاغذ ۲۰x۲۹ ضخامت ۴۰صفحے، قیمت ۳ ؍روپے ، تنوعات مضامین فلسفۂ تاریخ و قدیم و جدید، سائنس، ادبیات، شعر ، اردو شاعری کی تاریخ اور اسالیب ، اقتباسات ، مجلات علمیہ یوروپ ، مصر وبیروت ، فن تعلیم کتب نادرہ کا ذکر اور ان کے اقتباسات یا ان پر اظہار رائے۔کتب یا معلوم قدیمہ پر تنقید۔‘‘  ۲؎

افسوس کہ شبلی کی حیات میں ان کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ ان کے انتقال کے تقریباً دو برس بعد جولائی ۱۹۱۶ میں معارف کا پہلا شمارہ منظر عام پر آیا۔معارف کی اشاعت سے قبل متعدد رسائل شائع ہوچکے تھے مگر معارف نے اپنی پالیسی الگ بنائی اور منزل مقصود بھی علیحدہ متعین کی۔ دراصل معارف کو اس کے موسسین جدید و قدیم علوم کا سنگم اور فلسفۂ تاریخ و تحقیق کا مستحکم رسالہ بنانا چاہتے تھے اور انھوں نے اپنے ان مقاصد کی وضاحت ابتدا ہی میں کردی تھی ۔ چنانچہ معارف جولائی ۱۹۱۶ میں سید سلیمان ندوی رقم طراز ہیں:

’’فلسفۂ حال کے اصول اور اس کا معتد بہ حصہ پبلک میں لایا جائے۔ عقائد اسلام کو دلائل عقلی سے ثابت کیا جائے۔ علوم قدیمہ کو جدید طرز پر از سرنو ترتیب دیا جائے۔ علوم اسلامی کی تاریخ لکھی جائے اور بتایا جائے کہ اصل حصہ کہاں تک تھا اور مسلمانوں نے اس پر کیا اضافہ کیا۔ علوم مذہبی کی تدوین اور اس کے عہد بہ عہد ترقیوں کی تاریخ تریب دی جائے۔ اکابر سلف کی سوانح عمریاں لکھی جائیں جن میں زیادہ تر ان کے مجتہدات اور ایجادات سے بحث ہو۔ عربی زبان کی نادر الفن اور کمیاب کتابوں پرریویو لکھا جائے اور دیکھا جائے کہ ان خزانوں میں ہمارے اسلاف نے کیا کیا زرو جواہر امانت رکھے ہیں اور سب سے آخر لیکن سب سے اول قرآن مجید کے متعلق عقلی، ادبی، تاریخی ، تمدنی اور اخلاقی مباحث جو پیدا ہوگئے ہیں ان پر محققانہ مضامین شائع کیے جائیں۔ ‘‘

ڈاکٹر شباب الدین کے مطابق سید سلیمان ندوی کے زمانۂ ادارت میں معارف اپنے قائم کردہ معیار پر قائم رہا ان کے بعد آنے والے مدیران تھوڑی بہت کتر بیونت کرتے رہے مگر معارف کے بنیادی مزاج اور عقائد میں کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ کلیم صفات اصلاحی نے اپنی کتاب ’’دارالمصنفین کے سو سال‘‘ میں صفحہ نمبر ۴۰۴ پر یہ معلومات بھی فراہم کی ہیں :

’’رسائل کی دنیا میں معارف پہلا رسالہ ہے جس نے مضامین کو مختلف ابواب ، کالم، عناوین کے تحت شائع کرنے کا آغاز کیا۔ شروع کے ابواب میں شذرات، مقالات، تقریظ و انتقاد، آثار علمیہ وتاریخیہ و ادبیہ مسائل فتاوی اور ادبیات اور مطبوعات تھے۔‘‘

کلیم صفات اصلاحی نے معارف کے مستقل کالموں کا تعارف بھی پیش کیا ہے یہاں اشارتاً ان کے صرف عنوانات نقل کیے جاتے ہیں تاکہ معارف کی ندرت و انفرادیت کا علم ہوسکے۔

۱۔  اخبار علمیہ:               اس کالم کا آغاز ۱۹۱۹ سے کیا گیا ۔

۲۔  ادبیات:                 یہ کالم اولین شمارے سے جاری ہے۔

۳۔  استفسار:                 اس کی ابتدا ۱۹۳۱ سے ہوئی اس کے تحت علمی سوالوں کے

جوابات دیے جاتے تھے۔

۴۔  باب المراسلہ والمناظرہ:   اس عنوان کے تحت مطبوعہ مقالوں کی خامیوں کی نشاندہی کی

جاتی ہے۔

۵۔  تلخیص و تبصرہ:           اس کے تحت انگریزی اور عربی کے اہم علمی و ادبی مقالوں

کی تلخیص کی جاتی ہے۔

۶۔  شذرات:                یہ مدیر کا کالم ہے۔ اس کی ابتدا اولین شمارے سے ہوئی اور اس میں کبھی ناغہ نہیں ہوا۔

۷۔  ترجمات:    اس کے تحت مقالات کی تلخیص یا ترجمے کیے جاتے ہیں۔

یہ کالم ۱۹۱۷ میں شروع ہوااور ۱۹۲۴  میں بند ہوگیا۔

۸۔  معارف کی ڈاک:     اس کے تحت معارف کے نام وہ خطوط شائع کیے جاتے ہیں

جن میں کسی غلطی کی جانب توجہ دلائی گئی ہو۔

۹۔  مطبوعات جدیدہ:                   اس کالم کے تحت مختلف کتابوں یا رسالوں کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔

۱۰۔  وفیات:        اس عنوان کے تحت عالم وادیب و شاعر کی وفات کی تاریخ و تعارف پیش کیاجاتا ہے۔

ان عناوین کے توسط سے ہمیں معارف کے ادبی سروکار سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اور یہ سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے کہ معارف کے پالیسی سازوں نے اصناف ادب کی اشاعت کے سلسلے میں رد و قبول کے کون سے معیارات قائم کیے ہیں اور ادب کے تعلق سے ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ اس پہلو سے معارف کا مطالعہ کرنے اور اس کے اراکین کے بیانات سے اشاعتوں کا تقابل و تجزیہ کرنے کے بعد ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی کے ان نتائج سے پورا اتفاق کرنا ہوگا:

’’معارف کا تصور ادب اسلامی، اخلاقی اور افادی ہے۔ تخلیقی نثر اور نقد و نظر کے جدید رجحانات کی اس میں کوئی گنجائش نہیں یہی وجہ ہے کہ ناول افسانہ اور ڈراموں وغیرہ کی شمولیت سے گریز کیا گیا ہے۔شعر و سخن کے اسی حصے کو اس کی اشاعتوں میں جگہ ملی ہے جس میں اسلامی اخلاقی اور افادی اصولوں کی پاسداری کی گئی ہو۔ معارف کا بنیادی مزاج تحقیقی ہے اس لیے اس میں شامل درجنوں تحقیقی مقالے تازہ انکشافات پر مبنی ہیں ان مقالات سے محققین برابر استفادہ کرتے رہے۔ چنانچہ سیکڑوں مضامین و کتب میں ان کے حوالے ملتے ہیں۔ اس جریدے نے اپنے مقصد سے کبھی روگردانی نہیں کی۔ نظری تنقید کے شعبے میں معارف کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں البتہ شعرا کے حوالے سے عملی تنقید کے چند نمونے موجود ہیں۔ اس کی ادبی جہتیںوحدت تاثر کی حامل ہیں۔ خالص ادبی جریدہ نہ ہونے کے باوجود معارف نے ایک تسلسل اور استقامت کے ساتھ اپنی جہت کو قائم رکھا  اور کبھی اپنے بنیادی مقاصد سے انحراف نہیں کیا۔ سادگی اس کی ایک اہم خصوصیت ہے اور یہ رسالہ آج بھی اپنی قدیم وضع پر قائم ہے۔‘‘

معارف کو جن اہم لکھنے والوں کا قلمی تعاون حاصل رہا ان میں سے چند نام یہ ہیں۔

اکبر الہ آبادی، علامہ اقبال، حامد حسن قادری، اثر لکھنوی، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں ، احمد میاں اختر جونا گڑھی، پروفیسر محمد دین تاثیر، پیر حسام الدین راشدی، حبیب الرحمن خاں شیروانی، جگن ناتھ آزاد، محمد ابراہیم ڈار، ابوالحسن علی ندوی، ابواللیث صدیقی، خواجہ احمد فاروقی، احمد علی شوق، پروفیسر اکبر حیدری کشمیری، پروفیسر اکبر حمانی ، امتیاز علی خاں عرشی، امیر حسن عابدی، پروفیسر نذیر احمد، ڈاکٹر ایوب قادری، تحسین سروری، تمکین کاظمی، حامد اللہ ندوی، سید حسن، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، خلیق احمد نظامی، رشید احمد صدیقی، رفیع الدین ہاشمی، سخاوت مرزا، پروفیسر محمد سلیم، شاد عظیم آبادی، شبیر احمد خاں غوری، شرف الدین اصلاحی، ڈاکٹر شریف حسین قاسمی، ڈاکٹر محمد حمید، ڈاکٹر شوکت سبزواری، ضیا الدین احمد، ضیا الدین برنی، عابد رضا بیدار، ڈاکٹر عبدالمغنی، عبدالباری ندوی، خواجہ عبدالحمید یزدانی، عبدالحئی ندوی، عبدالرحمن ندوی نگرامی، عبداللہ چغتائی، عبدالماجد دریاآبادی، ڈاکٹر عطش درانی، علی جواد زیدی، غلام رسول مہر، خواجہ غلام السیدین، صوفی غلام مصطفی تبسم، کالی داس گپتا رضا، کبیر احمد جائسی، کلب علی خاں، گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر لطیف حسین ادیب، مالک رام، مولوی محفوظ الحق، حافظ نجیب اللہ ندوی، محمد علی اثر رامپوری، مختار الدین احمد آرزو، پروفیسرمسعود احمد، پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب، مسعود عالم ندوی، ڈاکٹر معین الدین عقیل، سید مقبول احمد ہمدانی، مولانا مناظر حسن گیلانی، مولانا عبدالعزیز میمنی، نجیف اشرف ندوی، حافظ نذیر احمد ، نصیر الدین ہاشمی، ڈاکٹرنورالحسن ہاشمی، سید وحیداشرف ندوی، سید وقار عظیم، سید ہاشمی فرید آبادی۔

دارالمصنفین اور معارف کے خصوصی مقاصد عمومی تعارف کے ساتھ جب ہم ادب اور معارف کے رشتوں کی نوعیت پر غور کرتے ہیں تو اس کے پہلے ہی شمارے جولائی ۱۹۱۶ میں مدیر اوّل  سید سلیمان ندوی کی یہ تحریری وضاحت ہماری بڑی رہنمائی کرتی ہے۔ سید صاحب معارف کے علمی مقاصد بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’اگر صرف انھیں پیش نظر مقاصد کی تکمیل پر قناعت کرلیں تو بھی ہمارے نزدیک بہت بڑا کام ہے۔ لیکن چوں کہ یہ مضامین قدرتاً روکھے پھیکے اور بے مزہ ہوں گے اس لیے مذاق عام کی رعایت کے خیال سے ادبیات، مباحث حاضرہ، انتقادو تقریظ ، استفسارات علمیہ، مطبوعات جدیدہ وغیرہ کے دلچسپ عنوانات کے تحت مضامین شائع کر کے ان کی تلخی دور کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

اس اقتباس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ معارف میں ادب کی حیثیت ثانوی ہے اور چوں کہ معارف دارالمصنفین کا ترجمان ہے، جس کی پالیسی اظہر من الشمس ہے۔ اس لیے فطری طور پر اسلامی اقدار و روایات کا حامل ادب ہی اس کے مشمولات میں جگہ پانے کا حقدار ہوگا۔اس حقیقت کے باوجود کہ معارف میں ادب بنیادی حیثیت کا حامل نہیں۔ معارف نے اردو ادب کو روز اوّل سے اپنا رفیق سفر بنایا ہے اور شعر و ادب کے تعلق سے کئی تحقیقی انکشافات بھی کیے ہیں۔ ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی نے اپنے تحقیقی مقالے رسالہ معارف کی اردو ادبی خدمات میں اولیات معارف کے تحت ان مضامین کو قدرے تفصیل سے متعارف کرایا ہے۔یہاں بطور نمونہ چند کا ذکر مختصراً کیا جاتا ہے۔

۱۔  کلیات بالک جی نایک ذرہ ۔ ایک گمنام شاعر کا غیر مطبوعہ کلام مکتوبہ ۱۱۹۲ (معارف جلد۔۱، شمارہ۔۲۲)

۲۔  کلات عشق عظیم آبادی ، سودا کے معاصر کا غیر مطبوعہ کلام (معارف ، جلد۔۵، شمارہ ۔۳۳)

۳۔  غلام ہمدانی مصحفی کے دیوان پنجم کے حوالے سے قاضی عبدالودود کی تحریر (معارف، جلد۔ ۱،شمارہ ۔۴۰)

۴۔  حبیب گنج میں موجود قلمی دیوان خاکی کا تعارف بقلم ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں اولاً معارف، جلد۔۳، شمارہ۔۴۹ میں شائع ہوا۔

۵۔  اشرف علی خاں فغاں کا قلمی دیوان (معارف، جلد۔ ۳۔۲۔۱، شمارہ۔۶۱)

۶۔  مولانا حالی کی غیر مطبوعہ خودنوشت سوانح عمری (معارف جلد۔ ۵، شمارہ۔۱۹)

۷۔  محمد حسین آزاد اور علامہ شبلی کی دو نادر تحریریں (معارف، جلد۔۶، شمارہ۔ ۸۹)

۸۔  روہیلکھنڈ کے نواب حافظ رحمت خاں کے فرزند محبت خاں کی زندگی اور شاعری پر مقالہ (معارف، جلد۔۶۔۵، شمارہ۔۹۳)

۹۔ مرزا محمد رفیع سودا اور مرزا فاخرمکیں کی معرکہ آرائیوں کے بارے میں اہم انکشافات (معارف، جلد۔ ۲، شمارہ۔۱۳۱)

۱۰۔  قلمی تذکرۂ ریخۃ گویاں مکتوبہ ۱۱۷۳ھ پر مقالہ (معارف، جلد۔ ۲، شمارہ۔۲۱)

معارف میں تقریباً پچاس سے زائد مقالے  ہیں جو اس کی تحقیقی ترجیحات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ ان مقالوں میں نادر و نایاب مطبوعات ، مخطوطات ، ادیبوں اور شاعروں کے احوال اور اردو شعرا کے تذکروں سے متعلق مضامین کا طویل سلسلہ ہے جو معارف کے اوراق کی زینت بنا۔ ان مختلف النوع تحقیقی مقالوں کے علاوہ غالب اور اقبال دو ایسی ادبی شخصیات ہیں جن پر معارف نے خصوصی توجہ صرف کی ہے۔ اقبال چوں کہ معارف اور دبستان شبلی سے فکری وابستگی رکھتے تھے اس لیے معارف کے تحقیقی اور تنقیدی سرمائے کا بڑا حصہ اقبالیات پر مشتمل ہے۔ یہ ذخیرہ علمی اور ادبی لحاظ سے نہایت قابل قدر اور اردو ادب کے سرمائے میں اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹرعتیق احمد لکھتے ہیں:

’’معارف نے اقبال کی زندگی ہی مین ان کے فلسفے اور شاعری پر مقالوں کی اشاعت کا آغاز کردیا تھا۔ یہ مضامین و مقالات اقبال کی تفہیم اور اقبالیات کے تشکیل میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ علامہ کی شخصیت اور فنی حیثیت کے مقابلے میں معارف نے ان کی فکر اور فلسفے پر زیادہ توجہ دی ہے۔‘‘

اقبال کے بعد معارف کے سرمایہ ادب میں غالب کا نمبر آتا ہے۔ غالب اردو کے سب سے بڑے شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ بااستثنائے چند سبھی نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ ان کی زندگی خواہ وہ نجی ہو یا ادبی دو انتہائوں کے درمیان گزری اور مرنے کے بعد بھی ان کی عظمت کا سفر دو انتہائوں کے درمیان گزرتا رہا۔ ایک طرف معترفین ہیں ۔ دوسری جانب معترضین اور دونوں سمتوں میں کچھ ایسے افراد ہیں جن کی انتہا پسندانہ طبیعتوں نے غالب کے شعری اور ذاتی کردار کوہمیشہ نزاعی بنا ئے رکھا۔ اردو شعر و ادب کی دنیا میں غالب کے کلام اور کردار پر جس قدر اور جتنے سخت اعتراضات وارد ہوتے رہے ہیں اتنے شاید کسی پر نہیں ہوئے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام اعتراضات کے باوجود ان کی شہرت اور مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ اگر شخصی طور پر غالب کو دروغ گو، خود غرض، موقع پرست، خوشامدی، چاپلوس، مے خوار، مفاد پرست، انگریزدوست، مصلحت پسند اور پکا دنیا دار کہا گیا تو ان کے مداحوں نے انھیں وسیع القلب، دوست نواز، انسانیت پرست، خود دار، وضعدار، فیاض، غریب پرور اور صوفی منش ثابت کرنے کی کوشش کی۔ دونوں اپنے اپنے ثبوتوں اور حوالوں سے لیس ہیں۔ کسی نے انھیں صوفی و صافی کہا اور کسی نے شیطانی صفات سے متصف قرار دیا۔ انسان سمجھنے والوں کی تعداد سب سے کم رہی۔ کلام غالب کے نکتہ چینوں کا ذکر کرتے ہوئے نظیر صدیقی اپنے مضمون ’’کلام غالب کے نکتہ چین‘‘ مطبوعہ ’’انتخاب مقالاتِ غالب نامہ ’’تنقیدات‘‘ مرتبہ نذیر احمد غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی میں لکھتے ہیں:

’’آغا جان سے لے کر سلیم احمد تک غالب کے نکتہ چینوں کی طویل فہرست ہے۔ جس میں محمد حسین آزاد، نظم طباطبائی، آسی لکھنوی، بیخود موہانی، سہا رام پوری، یگانہ چنگیزی، نیاز فتح پوری، اثر لکھنوی، پروفیسر عبداللطیف، پروفیسر کلیم الدین احمد، ڈاکٹرآفاق احمد، ہنس راج رہبر اور حسن عسکری جیسے ماہرین فن ، سخن شناس اور تنقید نگار آتے ہیں۔‘‘  (اقتباس ختم)

تاہم آغا جان عیش نے غالب کی زندگی میں جو ہجویہ شعر کہا تھا   ؎

کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے

مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے

وہ بھی غالب کے نام پر شہرت دوام حاصل کرچکا ہے۔

گویا غالب کی شہرت و مقبولیت کے عروج کی انتہا یہ ہے کہ ان پر اعتراضات کے جو تیر چلائے گئے تھے وہ بھی شہرت پاچکے ہیں۔ جس غالب کو عبدالرحمن بجنوری نے ’’رب النوع‘‘ کہا تھا اور جس کے دیوان کو سر تا سر الہام قرار دیاتھا اسی کوکم علم ، سارق اور چٹکلے باز مسخرا تک کہہ دیا گیا۔ نظیر صدیقی نے غالب بیزاروں کی اس ٹولی میں ایک ایسے نکتہ چیں کا ذکر بھی کیا ہے جو غالب کا نام سنتے ہی چیں بہ جبیں ہوگئے تھے۔ نظیر صدیقی کے مطابق پروفیسر مسعود حسن رضوی نے اپنے ایک مضمون ’’غالب تب اور اب‘‘ میں لکھا ہے:

’’جب میں یونیورسٹی میں ملازم ہوا تو ایک دن شعبہ مشرقی علوم کے فاضل استاد مولانا اصغر علی صاحب جو میرے بھی استاد رہ چکے تھے ۔ ان کے دریافت کرنے پرمیں نے اردو کے بڑے بڑے شاعروں کے نام لینا شروع کیے۔ میر،انیس ، غالب ۔ نام سنتے ہی مولانا کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور بگڑ کر بولے یہ میر و انیس کے ساتھ غالب کا کیا جوڑ۔ نہ اس کو اردو پر عبور تھا نہ فارسی پر۔‘‘

اس طرح کی دلچسپ باتیں غالب کے معترضین میں عام ہیں۔ غالب کے بعض مخالفین تو ان کی مخالفت میں اخلاقیات  کی سطح سے بھی نیچے اترآتے ہیں۔جیسا کہ ہنس راج رہبرؔ کا یہ جملہ ’’ایسا لگتا ہے غالب نے اپنے جن شعروں میں نمرود ، خضر اور جنت سے آدم کو نکلنے تک کی جو تلمیحات استعمال کی ہیں وہ بھی ان کی خباثت نفس کا نتیجہ ہیں۔‘‘

غالب کو مہمل گو یا مشکل پسند بہت کہا گیا ہے۔ حالاں کہ جرمنی کے جس عظیم شاعر گوئٹے سے غالب کو مماثل کیا جاتا ہے جب اس سے ان مشکلات کی بابت استفسار کیا گیا تو اس کا جواب تھا:

’’یہی تاریکی ہی تو ہے جس پر لوگ فریفتہ ہیں لوگ ان مقامات پر لایخل مسائل کی مثال غور کرتے ہیں اور اپنی ناکامی سے نہیں اکتاتے ۔ انسانی طلب کی انتہا تحیرہے۔ اگر کسی فعل سے حیرت پیدا ہو تو وہ کمال فن ہے۔‘‘

(بحوالہ تفہیم غالب کے مدارج، ڈاکٹر شمس بدایونی)

غالب بھی اپنے کلام سے قاری کو حیران کردیتے ہیں۔ حالی اور بجنوری نے غالب کی مشکل پسندی کو کمال فن قرار دیا ہے اور بے شمار لوگ ان کے ہم خیال ہیں۔ پروفیسر مسعود حسین خاں اپنے مضمون ’’غالب کے نکتہ چیں۔ نظم طباطبائی ‘‘میں دوٹوک کہتے ہیں :

’’ہر چند غالب اپنے سہل ممتنع کا ذکر کرتے ہیں لیکن یہ ان کے انداز بیان کا طرۂ امتیاز نہیں مشکل گوئی اور مشکل پسندی سے ان کا کلام تہ دار بنتا ہے۔ اس سے ان کا وہ منفرد اسلوب شعر ترتیب پاتا ہے جس کی وجہ سے اردو غزل میں غلبۂ غالب آج تک قائم ہے۔‘‘

لطف کی بات یہ ہے کہ صرف  ان مخالفین کوچھوڑ کر جنھیں غالب سے للّہی بغض ہے تقریباً تمام نکتہ چیں غالب کی شعری عظمت کے قائل ہیں یا کم از کم ان کو بڑا شاعر ضرور مانتے ہیں۔ ان میں یگانہ چنگیزی بھی شامل ہیں۔ جو اپنے آپ کو غالب شکن کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں :

’’ایشیائی شاعری میں غزل گوئی کی صنف سب سے مشکل ، سب سے زیادہ آسان، سب سے زیادہ بکار آمد، سب سے زیادہ فضول بھی ہے۔ اب یہ شاعر کی استعدا د پر موقوف ہے کہ وہ غزل کو ذلیل کردے یا معراج پر پہنچا دے ۔ غالب نے غزل کو ذلیل بھی کیا ہے اور اس کے معیار کو بلند بھی کیا ہے۔‘‘

یہی وہ غالب ہیں جنھیں معارف نے اپنے تحقیقی حصے میں اقبال کے بعد سب سے نمایاں جگہ دی ہے اور اس باب میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہوسکتا کہ غالب اس کے مستحق بھی تھے۔ غالب سے متعلق معارف میں جو تحقیقی اور تنقیدی مضامین و مقالے شائع ہوئے ہیں ان میں غالب کی سوانح، شاعری، ان کے تلامذہ اور غالب پر شائع ہونے والی کتابوں پر تبصرے سبھی کچھ شامل ہے۔ مضامین کے علاوہ شذرات میں بھی غالب کا ذکر آیا ہے۔ چنانچہ معارف کی ابتدا (جولائی ۱۹۱۶) کے صرف دو برس بعد ستمبر ۱۹۱۸ کے شذرات میں سید سلیمان ندوی نسخۂ حمیدیہ کی بابت یہ اہم اطلاع فراہم کرتے ہیں :

’’ہمارے دوست مولانا عبدالسلام ندوی شعرالہند کی خاطر آج کل کتب خانوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ بھوپال بھی پہنچے۔ وہاں کے کتب خانۂ حمیدیہ میں انھیں ایک انمول جواہر ملا یعنی مرزا غالب کا ایک مکمل اردو دیوان بلاحذف و انتخاب جو موجودہ دیوان سے ضخامت میں دونا ہے۔ نہایت عمدہ مطلّا نسخہ ہے کسی خوش خط کے ہاتھ وہ پڑا تھا اس نے ان غزلوں کا مطبوعہ غزلوں سے مقابلہ کر کے اختلاف نسخ بھی لکھ دیا ہے۔ یہ نسخہ ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری مشیر تعلیمات بھوپال کے مطالعہ میں ہے۔ موصوف آج کل دیوان غالب کی خدمت گزاری میں مصروف ہیں اور عنقریب ان کے نتائج فکر ترقیٔ اردو کے ذریعے سے منظر عام پر آئیں گے۔‘‘

واضح ہو کہ یہ وہی نسخۂ حمیدیہ ہے جس نے اردو تحقیق و تنقید کی دنیا میں ایک ہنگامہ برپا کردیا تھا۔ جو کئی برس جاری رہا۔ نسخۂ حمیدیہ کی اس ہنگامہ خیز دریافت کے بعد اردو کے تقریباً سبھی صف اول کے محققین اور ناقدین نے بقدر توفیق و استعداد اس کے مباحث میں حصہ لیا۔ معارف کی مذکورہ تحریر کے دوماہ بعد ہی ۷؍نومبر ۱۹۱۸ کو عبدالرحمن بجنوری کا انتقال ہوگیا اور یہ پروجیکٹ ادھورا رہ گیا۔ عبدالرحمن بجنوری کے مقدمہ ’’محاسن کلام غالب‘ ‘کی اولین اشاعت کا قضیہ بعد از خوابیٔ بسیار ڈاکٹر حدیقہ بیگم کی کتاب ’’نقد بجنوری‘‘ کے حوالے سے ان نتائج کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ بجنوری کا زیربحث مقدمہ ’’محاسن کلام غالب‘‘ کے عنوان سے پہلے پہل ’’رسالہ اردو‘‘ اورنگ آباد کے پہلے شمارے جنوری ۱۹۲۱ کی اشاعت میں شامل ہوا۔ بعد میں انجمن ترقی اردو نے اسے کتابی صورت میں اسی نام سے شائع کیا۔ اور اسی سال یعنی ۱۹۲۱ میں مفتی محمد انوار الحق کے مرتبہ دیوان غالب جدید المعروف بہ نسخۂ حمیدیہ مطبوعہ مفید عام اسٹیم پریس آگرہ میں شائع ہوا۔

کتب خانۂ بھوپال کے بارے میں دسمبر ۱۹۳۶ کے معارف میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے جس میں مفتی انوارالحق کے مرتبہ ’’دیوان غالب جدید پر تبصرہ کرتے ہوئے سید صباح الدین عبدالرحمن نے اس کی اشاعت کے جواز پر سوال اٹھائے تھے لکھتے ہیں:

’’غالب نے جن اشعار کو منتشر اور پراگندہ سمجھ کر اپنے دیوان سے نکال دیا تھا اور ان کو ان کی طرف منسوب نہ کرنے کی التجا بھی کی تھی تو پھران کو ان کے کلام کے ساتھ شائع کرنا کہاں تک درست ہے۔ ممکن ہے آگے چل کر اہل نظر ان کو یا تو ایک غلط قسم کی ذہنی عیاشی قرار دیں یا نہیں تو کار بے کاراں‘‘

ہمیں اس سلسلے میں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ ممکن ہے کوئی ایسا برا وقت آجائے جب مذکورہ بالا خدشات درست ثابت ہوں فی الحال تو غالب کے قلم زدہ اشعار کی ایک بڑی تعداد کو اہل نظر نے حرز جاں بنا لیا ہے۔ ہمارے خیال میں  اگر غالب نے غیر متداول کلام کے صرف یہی اشعار کہے ہوتے جنھیں سخن شناسوں نے دوبارہ متداول دیوان میں بطور ضمیمہ شامل کرلیا ہے تو بھی غالب بڑے شاعر تسلیم کیے جاتے۔ غالب ہمیشہ اپنے کلام میں وحشت کی باتیں کرتے رہے۔ نہ جانے ان کی وحشت کا وہ کون سا لمحہ تھا جس میں انھوں نے خس و خاشاک کے ساتھ ہیرے جواہرات بھی خاک دان کی نذر کر دیے۔ ذرا یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ کیا انھیں کوئی نظر انداز کرسکتا ہے۔

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب

ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

تماشائے گلشن تمنائے چیدن

بہار آفرینا! گنہگار ہیں ہم

مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے

میں مدعا ہوں طپش نامۂ تمنا کا

ملی نہ وسعتِ جولانِ یک جنوں ہم کو

عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا

کس کا خیال آئینۂ انتظار تھا

ہر برگِ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا

ربط یک شہرازۂ وحشت ہیں اجزائے بہار

سبزہ بے گانہ، صبا آوارہ، گل نا آشنا

اسدؔ سودائے سر سبزی سے ہے تسلیم رنگیں تر

کہ کشتِ خشک اس کا ابرِ بے پروا خرام اس کا

عشق میں ہم نے ہی ابرام سے پرہیز کیا

ورنہ جو چاہیے اسبابِ تمنا سب تھا

دیوانگی اسدؔ کی حسرتِ کش طرب ہے

سر میں ہوائے گلشن دل میں غبارِ صحرا

پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے

رنگ اڑتا ہے گلستاں کے ہوا داروں کا

ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے

روٹھا جو بے گناہ تو بے عذر من گیا

ہم نے سو زخمِ جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی

گل ہوا ہے ایک زخم سینہ پر خواہان داد

تیغ در کف، کف بہ لب آتا ہے قاتل اس طرف

مژدہ باد اے آرزوئے مرگِ غالب مژدہ باد

تو پست فطرت اور خیالِ بسا بلند

اے طفلِ خود معاملہ قد سے عصا بلند

اے اسد ہم خود اسیرِ رنگ و بوئے باغ ہیں

ظاہرا صیادِ ناداں ہے گرفتارِ ہوس

گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی

سر خوشِ خواب ہے وہ نرگسِ مخمور ہنوز

کون آیا جو چمن بے تابِ استقبال ہے

جنبشِ موج صبا ہے شوخیٔ رفتارِ باغ

دیر و حرم آئینۂ تکرارِ تمنا

داماندگیٔ شوق تراشے ہے پناہیں

ہوں گرمئی نشاط تصور سے نغمہ سنج

میں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں

ہے تماشا گاہِ سوزِ ناز ہریک عضوِ تن

جوں چراغانِ دوالی صف بہ صف چلتا ہوں میں

جنون فرقتِ یارانِ رفتہ ہے غالب

بسان دشت دلِ پر غبار رکھتے ہیں

فلکِ سفلہ بے محابہ ہے

اس ستم گر کو انفعال کہاں

کوئی آگاہ نہیں باطن ہم دیگر سے

ہے ہر اک فرد جہاں میں ورق ناخواندہ

بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار

یعنی یہ ہر ورق، ورقِ انتخاب ہے

اسد اٹھنا قیامت قامتوں کا وقتِ آرائش

لباسِ نظم میں بالیدنِ مضمونِ عالی ہے

اسد بند قبائے یار ہے فردوس کا غنچہ

اگر وا ہو تو دکھلادوں کہ یک عالم گلستاں ہے

تمثالِ جلوہ عرض کراے حسن کب تلک

آئینۂ خیال کو دیکھا کرے کوئی

یارب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو!

یہ محشرِ خیال کہ دنیا کہیں جسے

رشک ہے آسائشِ اربابِ غفلت پر اسدؔ

پیچ و تابِ دل نصیبِ خاطرِ آگاہ ہے

توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا

آسماں سے بادۂ گلفام گر برسا کرے

کثرتِ انشائے مضمونِ تحیّر سے اسد

ہر سرِ انگشت  نوکِ خامۂ فرسودہ ہے

عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر

دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیے

لالہ و گل بہم آئینۂ اخلاقِ بہار

ہوں میں وہ داغ کے پھولوں میں بسایا ہے مجھے

جامِ ہر ذرہ ہے سرشارِ تمنا مجھ سے

کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے

کمال حسن اگر موقوفِ انداز تغافل ہو

تکلف بر طرف تجھ سے تری تصویر بہتر ہے

جو چاہیے نہیں وہ مری قدر و منزلت

میں یوسفِ بہ قیمتِ اول خریدہ ہوں

نہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کا

خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے

مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے

یہ بندۂ کمینہ ہم سایۂ خدا ہے

غیر سے دیکھیے کیا خوب نبھائی اس نے

نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی

غالب کے ساتھ تنازعات کا بڑا گہر ا تعلق رہا ہے کچھ تو وہ خود بھی لوگوں کو اپنے خلاف کرنے میںکم نہ تھے کچھ ان کے حاسدوں کی کرم فرمائیاں تھیں اور کچھ ایسی مجبوریاں جن میں ان کی مروت ، وضع داری، شرافت نفسی کا دخل ہوتا ۔ کبھی معاش و مذہب اور مقام و مرتبے کے معاملات بھی انھیں کسی نہ کسی قضیے میں گرفتار کردیتے ۔ سہرے کا مقطع ہو یا کوتوال دہلی سے رنجش، قمار بازی کے شوق میں سیر زنداں ہو یا مختلف مقدمات میں ہزیمت کا سامنا، سب کا دامن ان کی زندگی کے کیل کانٹوں میں الجھا ہوا ہے۔ اسی قسم کے ایک اور معاملے میں غالب کا پیر پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔ اس معاملے کا تعلق ایک مثنوی سے ہے جو بہادر شاہ ظفر نے غالب سے لکھوائی تھی۔ معارف اپریل ۱۹۲۲ئ اور مئی ۱۹۲۲ئ میں حافظ احمد علی خاں، ناظر کتب خانۂ رام پور کا ایک مقالہ بعنوان ’’سراج الدین ظفر شاہ دہلی اور مرزا غالب کی زندگی کا ایک گم شدہ ورق‘‘دو قسطوں میں شائع ہوا ہے۔اس مقالے کے ذریعے انھوں نے غالب کی زندگی کے ایک اہم اور نازک پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ معلومات فراہم کی ہیں ۔

’’دلی کے انحطاط اور لکھنؤ کے دور عروج میں دلی کے چند شہزادوں نے لکھنؤ پہنچ کر مشہور کردیا تھا کہ بہادر شاہ ظفر نے شیعہ مذہب اختیار کرلیا ہے۔ یہ خبر جب دہلی پہنچی تو دہلی کے اعیان وا کابرین میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ بادشاہ نے اس افواہ کی اعلانیہ تردید کی اور غالب سے اس کی تردید میں ایک فارسی مثنوی لکھوائی۔ اہل لکھنؤ کو جب اس مثنوی کے مصنف کا علم ہوا تو وہ غالب سے خفا ہو بیٹھے۔اس واقعے کے تقریباً نو ماہ بعد غالب نے بطور تلافی اپنا ایک قصیدہ دربار لکھنؤ بھیجا۔‘‘

غالب کی الجھن یہ تھی کہ وہ ایک کوخوش کرتے ہیں تو دوسرا خفا ہوجاتا ہے اور غالب کے لیے دونوں کو خوش رکھنا ضروری، لیکن خاصا مشکل کام تھا۔ معارف نے غالب کی اہمیت کے خیال سے اس واقعے کو اپنے دوشماروں میں جگہ دی ہے۔

غالب سے متعلق معارف کے تحقیقی مضامین میں جو نئے انکشافات ہوئے ہیںاور بعد میں جن کے حوالے سے ماہرین غالب نے اپنی تحقیق کو وسعت دی ہے ان میں سے چند یہ ہیں۔

۱۔    ڈاکٹر خلیق انجم کے مرتب کردہ خطوط غالب (جلد اول) مطبوعہ غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی کے صفحہ ۲۴۵ پر غالب کا ایک خط علائوالدین خاں علائی کے نام ہے۔ یہ خط معارف کے شمارہ نمبر ۴، جلد۔۱۰ مورخہ دسمبر ۱۹۲۲ میں ’’آثار علمیہ‘‘ کے تحت پہلی مرتبہ شائع ہوا تھا۔ ڈاکٹر خلیق انجم مرحوم نے اسے معارف ہی کے حوالے سے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔

غالب کے دوسرے خطوط کی طرح یہ بھی ایک دلچسپ خط ہے۔ اس میں نواب علاوالدین خاں علائی کی لوہارو آنے کی دعوت کے جواب میں غالب یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ وہاں آم کہاں ملیں گے جو میرے سفر کا سبب بن سکیںجواباً علائی نے بھی انھیں منظوم خط لکھا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہاں غالب کی ہر فرمائش پوری کی جائے گی۔ غالب کے قطعات دو ہیں ایک اردو میں دوسرا فارسی میں۔ یہاں اردو قطعہ پیش ہے:

خوشی ہے یہ آنے کی برسات کی

پیئں بادۂ ناب اور آم کھائیں

سر آغازِ موسم میں اندھے ہیں ہم

کے دلی کو چھوڑیں لوہارو کو جائیں

سوا ناج کے جو ہے مقلوب جاں

نہ واں آم پائیں نہ انگور پائیں

ہوا حکم باورچیوں کو کہ ہاں

ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں

وہ کھٹے کہاں پائیں املی کے پھول

وہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں

فقط گوشت سو بھیڑ کا ریشے دار

کہو، اس کو کیا، کھا کے ہم حظ اٹھائیں

۲۔    معارف مئی ۱۹۲۶ میں حافظ نذیر احمد کا ایک مضمون بعنوان ’’مرزا غالب کے بچپن کی ایک تحریر‘‘ موجود ہے۔ اس مضمون کے مطابق:

’’یہ تحریر مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی کے کتب خانۂ حبیب گنج (علی گڑھ) میں محفوظ ہے۔ یہ ایک قسم کی دستاویز ہے جس کو ۱۲۹۱ھ مطابق ۱۸۰۴ میں غالب مرحوم نے خدا داد خاں ولی داد خاں کے پاس اپنا مکان گروی رکھ کر جو روپیہ لیا تھا اس کے عوض میں لکھ کر ان کے حوالے کیا۔‘‘

معارف کے اس مضمون کی اہمیت یہ ہے کہ ہم اس کے ذریعے نہ صرف غالب کی ایک نو دریافت تحریر سے واقف ہوتے ہیںبلکہ  اسی خط کے ذریعے ہمیں پہلی بار علم ہواکہ غالب کی والدہ کا نام عزت النسا بیگم تھا۔

۳۔    معارف مارچ ۱۹۲۸ئ میں مولوی ضیاالدین احمد برنی کاایک مضمون ’’غالب و صہبائی کے خطوط‘‘ شائع ہوا۔ اس مضمون میں تمہید و تعارف کے ساتھ غالب اور امام بخش صہبائی کاایک ایک خط نقل کیا گیا ہے۔ غالب کا خط مولوی ضیالدین خاں کے نام ہے۔ اس خط میں غالب نے فارسی اور عربی زبان کی وسعت کا تقابل کیا ہے اور فارسی کی بہ نسبت عربی زبان کو زیادہ وسیع قرار دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’مولوی صاحب جمیل المناقب ۔ مولوی ضیاالدین احمد خاں کی خدمت میں بعد سلام عرض کیا جاتا ہے کہ میں عالم نہیں مگر شرف اور فضیلت علما میرے دل میں نقش ہے اور علم کو زبان عربی میں منحصر جانتا ہوں۔ اللہ اللہ علم عربی کی وسعت، صرف ، نحو، منطق ، فلسفہ، تفسیر، حدیث ، فقہ پانچ سات برس تک آدمی اس کو تحصیل کرسکتا ہے۔یعنی طب و نجوم و ہیئت و ہندسہ و ریاضی اور اس کے سوا اور علوم سب عربی زبان میں ہیں ۔ فارسی زبان بعد تباہ ہونے یزدجرد کی سلطنت کے مٹتی گئی یہاں تک کہ بہ قدر ایک بولی کے رہ گئی۔‘‘

مولوی ضیا الدین احمد خاں کے نام غالب کے جو دوسرے خطوط ہیں جن کا ذکر اس مضمون میں نہیں ان میں غالب نے اردو فارسی کی لغت و قواعد کی بحث اٹھائی ہے اور مرزا قتیل، غیاث الدین رام پوری اور روشن جونپوری پر چھینٹا کشی کی ہے۔ دراصل یہ ’’برہان قاطع ‘‘ کے قضیہ کا تسلسل ہے۔

۴۔   معارف جلد ۔۲۹، شمارہ۔۳ مورخہ ۱۹۳۲  میں پروفیسر شیخ عبدالقادر سرفراز کے انگریزی مضمون برائے انگلش میگزین ’’رائل ایشیاٹک سوسائٹی‘‘ بمبئی جنوری ۱۹۲۸ئ کا اردو ترجمہ بعنوان ’’بمبئی یونیورسٹی کے چند فارسی مخطوطات‘‘ مترجم محمد علی شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کے مطابق گجرات کے ریختہ گویوں کا ایک فارسی تذکرہ ’’مخزن الشعرا‘‘ مصنفہ قاضی نورالدین فائق کی تصنیف ہے۔ یہ تذکرہ بغرض تصحیح  وتبصرہ غالب کی خدمت میں ارسال کیا گیا تھا ۔ غالب نے کلمات خیر اور ان الفاظ کے ساتھ کہ ’’مجھ کو یہ پایہ نہیں کہ آپ کی نثر میں دخل دوں۔‘‘ مرحبا اور آفریں سے نوازا ہے غالب کی اس رائے پر جولائی ۱۸۷۲ئ کی تاریخ رقم ہے۔ تذکرے کے صفحۂ آخر کے حاشیے پر غالب کی رائے کے ساتھ یہ نوٹ بھی شامل کیا گیا ہے :

’’عبارت کہ جناب مرزا اسد اللہ خاں غالب صاحب بعد مطالعۂ این اوراق و اصلاح آن تحریر فرمود برائے یادگار تحریر نمود۔‘‘

معارف جلد۔ ۷۷، شمارہ۔ ۳ ا مارچ ۱۹۵۶ میں خواجہ احمد فاروقی کا مقالہ بعنوان ’’خوب چند ذکا اور مرزا غالب‘‘ شائع ہوا۔ مقالہ نگار نے خوب چند ذکا کے تذکرے ’’عیار الشعرا‘‘ کی عبارت سے یہ نتائج اخذ کیے ہیں کہ ’’عیارالشعرا ‘‘ کی تالیف کے وقت غالب آگرہ ہی میں تھے اور ذکا نے جو اشعار نمونتاً نقل کیے ہیں وہ بھی آگرہ ہی کی تخلیق ہیں۔ ان میں چار ایسے شعر بھی شامل ہیں جو نسخہ حمیدیہ سمیت دیگر مروجہ دواوین میں نہیں تھے۔

۶۔    معارف جلد۔ ۸۲، شمارہ۔ ۵،نومبر ۱۹۵۸، جلد۔ ۸۳، شمارہ۔۲، فروری ۱۹۵۹ئ، جلد۔ ۸۳، شمارہ۔۵، مئی ۱۹۵۲ اور جلد۔ ۸۴، شمارہ۔۲، اگست ۱۹۵۹ئ کی چار اشاعتوں میں ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے بعد بہادر شاہ ظفر کی شنہشاہی کے اعلان کے ساتھ سکّۂ شعرکے تنازعہ پر اردو کے دونامور ادیبوں خواجہ احمد فاروقی اور مالک رام کے دو دو معرکۃ الآرا مقالے شائع ہوئے۔ مذکورہ بحث کا آغاز خواجہ احمد فاروقی کے مقالے ’’غالب کا سکّۂ شعر‘‘ سے ہوتا ہے۔ اس میں انھوں نے غالب کے ایک مکتوب بنام حسین مرزا جون ۱۹۵۹ کے حوالے سے یہ ثابت کر نے کی کوشش کی ہے کہ ایک سرکاری جاسوس گوری شنکر کی مخبری سے غالب پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ بادشاہ کا یہ سکہ غالب کی تصنیف ہے۔

بہ زر زد سکۂ کشور ستانی

سراج الدیں بہادر شاہ ثانی

جب کہ غالب اس الزام سے اپنی برات کا اظہار کرتے رہے۔ خواجہ احمد فاروقی غالب کے اس خیال کی تائید کرتے ہیں کہ مذکورہ سکہ غالب کا نہیں مگر وہ ایک دوسرے سکے کو فکر غالب کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جو یہ ہے   ؎

بر زر آفتاب و نقرۂ ماہ

سکہ زد درجہاں بہادر شاہ

اور کہتے ہیں:

’’یہ شعر پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کا مصنف غالب کے سوا دوسرا نہیں۔‘‘

اپنے اس خیال کو تقویت پہنچانے کی غرض سے وہ معین الدین حسن خاں کی تصنیف ’’خدنگ غدر‘‘ اور جیون لال کے روزنامچے کا حوالہ دیتے ہیں:

اس مضمون کے جواب میں مالک رام کا مقالہ ’’ غالب پر سکہ کا الزام اور اس کی حقیقت‘‘ شا ئع ہوا۔ مالک رام کی تحقیق کے مطابق  گوری شنکر نے جوسکہ غالب سے منسوب کیا تھا اور جسے غالب، ذوق کا سمجھ رہے تھے ۔ وہ دراصل ذوق کے شاگرد حافظ غلام رسول ویراں کا تھا۔ غالب اس الزام کی تردید کے لیے ’’اردو اخبار‘‘کے متلاشی رہے ۔ مگر یہ سکہ ’’صادق الاخبار‘‘ دہلی ۱۳؍ ذی قعدہ ۱۲۷۳ھ کے صفحۂ اول پر شائع ہوا تھا۔

خواجہ احمد فاروقی نے دوسرا مضمون لکھا اور اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جس سکہ کو وہ غالب کا سمجھتے ہیں ان کے نزدیک وہ غالب ہی کا ہے اور وہ اس بابت اب بھی اپنی رائے پر قائم ہیں۔ خواجہ احمد فاروقی کے اس مضمون کے تین ماہ بعد مالک رام کا ایک اور مضمون ’’غالب سے منسوب دوسرا سکہ اور اس کی حقیقت‘‘ شائع ہوا۔ اپنے اس مضمون میں مالک رام نے دوسرے سکے کے راوی منشی جیون لعل کو ناقابل اعتبار ثابت کیا اور ان کے بیان کی صحت سے صاف انکار کردیا۔

۷۔    معارف دسمبر ۱۹۵۶ میں ’’نگارستان سخن‘‘ از عطاالرحمن کاکوی کے ایک نایاب نسخے کا تعارف شامل ہے۔ یہ کتاب مطبع احمدی شاہدرہ دہلی سے شائع ہوئی۔ اس میں ذوق مومن اور غالب کا انتخاب یکجا کیا گیا ہے۔ ۱۷۶ صفحات پر مشتمل اس مجموعے کا ہر صفحہ تین کالمی ہے۔ ہر کالم میں علی الترتیب ذوق غالب اور مومن کا کلام شامل کیا گیا ہے۔ ذوق اور مومن کا کلام تو انتخاب ہے مگر غالب کا کلام جو متداول نسخوں میں پایا جاتا ہے سب کا سب اس میں موجود ہیں۔ عطا کاکوی لکھتے ہیں:

’’اب تک جو یہ سمجھا جاتا تھاکہ غالب کے اردو دیوان کے کل پانچ ایڈیشن خود ان کی حیات میں چھپے ، یہ غلط ہے۔ ان میں ایک اوراضافہ ہوا اور اب ان کی ترتیب بھی بدل گئی جو پانچواں ایڈیشن تھا وہ چھٹا ہوگیا اور پانچویں کی جگہ ’’نگارستان سخن‘‘ نے لے لی۔ اب ان کی ترتیب یہ ہے

پہلا ایڈیشن مطبوعہ چھاپا خانہ سید محمد خان، دہلی، اکتوبر ۱۸۴۱

دوسرا ایڈیشن مطبوعہ دارالسلام حوض قاضی ،دہلی، ۱۸۴۷

تیسرا یڈیشن مطبوعہ مطبع احمدی شاہدرہ ،دہلی، جولائی ۱۸۱۶

چوتھا ایڈیشن مطبوعہ نظامی پریس، کانپور، ۱۸۶۲

پانچواں ایڈیشن مطبوعہ مطبع احمدی شاہدرہ، دہلی بہ نام ’’نگارستان سخن‘‘ بہ شمول کلام ذوق و مومن اگست ۱۸۶۲

چھٹا ایڈیشن مطبوعہ مطبع مفید خلائق، آگرہ، ۱۸۶۳

۸۔   معارف مئی ۱۹۶۱ئ میں پروفیسر محمد مسعود احمد کا ایک مقالہ بعنوان ’’حضرت غمگین اور مرزا غالب کے جواب میں ان کا ایک غیر مطبوعہ مکتوب‘‘ شامل ہے۔ اس مقالے میں میر سید علی غمگین کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے اور مرزا غالب سے ان کے تعلق خاطر اور دونوں کے درمیان فارسی مراسلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ غمگین غالب کے محسنوں میں تھے۔ غالب ان کی بہت عزت کرتے اور غمگین غالب پر شفقت فرماتے تھے۔

۹۔    معارف نومبر ۲۰۰۴ئ میں اکبر حیدری کشمیری کی ایک دلچسپ تحریر بعنوان ’’بیاض غالب بخط غالب‘‘ شائع ہوئی تھی جس میں کلام غالب میں جعل سازی اورا لحاق کی پوری تاریخ یک جا کردی گئی ہے ۔ ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی نے اپنے مقالے ’’رسالہ معارف کی اردو ادبی خدمات‘‘میں جن پہلوئوں کی نشاندہی کی ہے وہ یہ ہیں:

الف۔   ’’بیاض غالب بخط غالب‘‘ (غالب نمبر دو) مرتبہ نثار احمد فاروقی نسخہ لاہور ، مطبوعہ اکتوبر

۱۹۲۹جعلی ہے۔

ب۔    مذکورہ بالا نسخہ ’’دیوان غالب بخط غالب‘‘ (نسخۂ عرشی زادہ) کے نام سے بھی شائع ہوا۔

مولانا امتیاز علی خاں عرشی اور پروفسیر آل احمد سرور نے اپنے مضامین میں اسے مستند قرار دیا۔

ج۔     مجمع الاشعار (کان پور نولکشور ۱۸۷۲) میں صفحہ ۴۴ اور صفحہ۸۳ پر غالب کی دو غزلیں ہیں۔ پہلی غزل مکرم الدولہ غالب کی ہے اور دوسری بھی الحاقی ہے۔

د۔           ’’چمن بے نظیر‘‘ (بمبئی مطبع محمدی فروری ۱۸۹۲ میں صفحہ ۵۶ اور صفحہ ۲۴۶ پر شائع شدہ دونوں غزلیں جعلی ہیں۔

ہ۔        ’’مخزن‘‘ لاہور کے ابتدائی پرچوں میں غالب کا الحاقی کلام شامل کیا گیا ہے۔

و۔         ’’الہلال‘‘ کلکتہ یکم جولائی اور ۲۲؍جولائی ۱۹۴۱ میں غالب کا الحاقی کلام موجود ہے۔

ز۔         مولانا عبدالباری آسی نے غالب کا کلام ’’بنانا‘‘ شروع کردیا جسے نیاز فتح پوری نے

’’نگار‘‘ لکھنؤ،(فروری ۱۹۳۱ ، شمارہ ۔۲۰) میں اپنے مضمون کے ساتھ شائع کیا۔ مجنوں گورکھپوری بھی یہ غزلیں دیکھ کر دھوکا کھا گئے۔

ح۔      آسی نے مکمل شرح غالب اور غالب کا غیر مطبوعہ کلام ، غالب کی ایک رنگین فرضی تصویر کے ساتھ۱۹۳۱ میں صدیق بک ڈپو لکھنؤ سے شائع کیا۔ اس کام میں انھیں نیاز فتح پوری اور وصل بلگرامی کا تعاون حاصل تھا۔

ط۔         مذکورہ جعلی کلام دیوان غالب نسخہ عرشی (دہلی انجمن ترقی اردو ۱۹۵۸) میں بعنوان ’’یادگار نالہ‘‘

شامل ہے۔

ی۔        محمد ابراہیم خلیل کی ’’اپریل فول‘‘ والی غزل جو پہلے گوہر تعلیم بھوپال (اپریل ۱۹۳۷) اور پھر ’’ہمایوں‘‘ لاہور (اپریل ۱۹۳۹) میں چھپی تھی دیوان غالب نسخۂ عرشی اور نسخۂ مالک رام میں شامل ہے۔

ک۔   صاحب مضمون کی نظر میں نسخۂ حمیدیہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

میرے خیال سے مذکورہ باتیں غالب کی عظمت کی دلیل ہیں اور ان کے غیر معمولی اعتراف کے ذیل میں آتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات جن کا ذکر کیا گیا ہے ایک ایسے شخص یا شخصیت کے وجود کا احساس دلاتے ہیں جو شعوری اور غیر شعوری طور پر لوگوں کے دل و دماغ پر چھا گیا ہو اور جس نے کائنات ادب کو تسخیر کرلیا ہو۔ غالب کے جعلی کلام کے شرارت آمیز ادبی کھیل اور اس کے نتیجے میں بعض سنجیدہ نقادوں کے دھوکا کھا جانے کا اثر یہ ہوا کہ بعض  محقق اور نقاد اس حد تک محتاط بلکہ خوف زدہ ہوگئے کہ انھیں سچ پر بھی جھوٹ کا گمان گزرنے لگا۔ نسخۂ حمیدیہ کو جعلی قرار دینا خوف کی اسی نفسیات کا نتیجہ ہے۔

ل۔        معارف جنوری ۱۹۲۲ میں مولوی عبدالماجد دریاآبادی کا ایک مضمون بعنوان ’’مرزا غالب کا ایک فرنگی شاگرد آزاد فرانسیسی‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس مقالے میں عبدالماجد دریابادی نے الیگزینڈر ہیدرلے آزاد (Elexender Heatherly Azad) کا تعارف ان کے مطبوعہ دیوان کے حوالے سے کرا یا ہے۔ ان کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق یہ نسخہ رام پور کے سرکاری کتب خانے میں موجود ہے۔

م۔     معارف اپریل ۱۹۵۶ میں محمد علی خاں اثر رامپوری کا مضمون فتح یاب خاں اخگر مینائی شاگرد غالب شامل اشاعت ہے۔ امیر مینائی کے تذکرہ ’’انتخاب یادگار‘‘ میں ان کے حالات کے تحت صرف دو سطریں اور چار شعر شامل کیے گئے ہیں۔ البتہ اثر رام پوری کے مضمون میں شخصی تعارف کے بعد یہ اطلاع بہم پہنچتی ہے کہ اخگر کا بیشتر کلام تلف ہوچکا ہے بطور یادگار غزلوں کے بیس شعر ایک رباعی اور مرثیے کے چھ بند شامل مضمون ہیں۔ رہوار امام عالی مقام کی تعریف میں اخگر کے دو بندوں کا تقابل میر انیس سے کیا گیا ہے اور حق یہ ہے کہ تشبیہات کی ندرت ، خیال کی بہجت، ذہن شاعری کی بلند پروازی میں یہ بند ہندی کے مقولے ’’جہاں نہ پہنچے روی وہاں پہنچے کوی‘‘ کی یاد تازہ کردیتے ہیں۔ بند یہ ہیں جن کے ایک مصرع پر عجب نہیں کفر کا فتویٰ بھی صادر کردیا گیا ہو۔ خود شاعر بھی اپنی اس جسارت پر معذرت خواہ ہے۔

رکھیں معاف طعن سے گر مجھ کو اہل دیں

لکھوں میں اس کے حق میں یہ مضمون دلنشیں

ممکن اگرچہ روئے عقیدت سے یہ نہیں

پر اس کی جست و خیز سے ہوتا ہے یہ یقیں

اک جست میں احاطۂ علم خدا سے وہ

جاتا نکل احاطۂ علم خدا سے وہ

کس سے بیاں ہو تیز روی اس سمند کی

کیا اصل برق و باد و چرند و پرند کی

چستی پہ دال وضع ہوئی بند بند کی

چال اس کی دشمنوں نے بھی دل سے پسند کی

جس وقت کوئی جلد خدا اس سے کام لے

سرعت کو اس سے شہپر جبریل وام لے

ن۔       معارف فروری ۱۹۶۹ میں ڈاکٹر سید لطیف حسین ادیب کامقالہ ’’بریلی میں غالب کے تلامذہ‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس مقالے کے مطابق ۱۸۵۷کے آس پاس بریلی کے دو خاندانوں کو شعر و ادب سے گہری وابستگی تھی ان میں سے ایک خاندان نوابین روہیلہ کا تھا اور دوسرا مفتیان کا۔ روہیلہ، دبستانِ لکھنؤ سے زیادہ متاثر تھے اور خاندان مفتیان کے شعرا غالب کے شاگرد ہوئے۔ اس مقالے میں غالب کے چھ بریلوی تلامذہ کا احوال درج ہے۔ جن کے اسمائے گرامی ہیں : (۱) مفتی سلطان خاں احسن (۲) مفتی سید احمد خاں سید  (۳) قاضی عبدالجیل جنوں (۴) قاضی عبدالرحمن وحشی (۵)غلام بسم اللہ سجل (۶) محمد حسین حاجب۔ ان تلامذہ میں اولین چار شعرا کا تعلق خاندان مفتیان سے ہے۔

س۔    معارف اکتوبر ۱۹۳۰ میں سید مقبول حسین احمد پوری کا تنقیدی مضمون ’’عیش مایوسی‘‘ شریک اشاعت ہے۔ اس میں فکر غالب کے ان اساسی پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جنھیں ان کے تصورات شعر میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ مضمون نگار کے خیال میں:

’’مرزا صاحب ناکامی میں کامیابی کے جویا ہیں۔ شکست میں ان کو فتح نظرآتا ہے۔ رنج وغم سے ان کو فرح حاصل ہوتی ہے اور منتہائے مایوسی ان کے نزدیک عیش و عشرت کی منزل ہے۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس کو افادیت کے تحت ’’عیش مایوسی‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہے۔‘‘

ع۔       معارف اکتوبر ۱۹۶۳ میں جنا ب عبدالمغنی  کا مضمون ’’موازنۂ اقبال و غالب‘‘ شامل ہے۔ اس میں صاحب مضمون نے یہ تاثر پیش کیا ہے کہ اقبال اردو کے شعرا میں سب سے زیادہ غالب سے متاثر ہیں۔ اس تاثر کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے دونوں کے درمیان شوخیٔ اندیشہ ، رفعت خیال، ندرت فکر، شوکت اسلوب اور آتش نوائی جیسی مماثلتوں کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔ مگر جب وہ دونوں کا فکری موازنہ کرتے ہیں تو انھیں اقبال کی فکر میں تسلسل اور فکر غالب میں انتشار ، رطب و یابس اور تضاد کا احساس ہوتا ہے ۔ چنانچہ ان کا خیال ہے کہ:

’’غالب اپنی فکری توانائیوں کے باوجود زندگی کا کوئی واضح تصور نہیں رکھتے ان کا شعور اجتماعی درد سے خالی تھا۔ سنجیدہ اور ہموار تفکر ان کے یہاں نہیں ملتا ۔ ان کے کلام میں تحریک عمل مفقود ہے۔‘‘

مضمون نگار کے خیال میں فکر وفلسفہ کی مختلف جہتوں اور شعری محاسن کے لحاظ سے غالب پر اقبال کو فوقیت حاصل ہے۔صاحب مضمون کی ان دونوں آرا پر کہ غالب کے کلام میں تحریک عمل مفقود ہے اور شعری محاسن کے حوالے سے اقبال کو فوقیت حاصل ہے خاصی گفتگو ہوچکی ہے اور ماہرین نے عموماً ان خیالات سے اختلاف کیا ہے۔

ف۔     معارف اکتوبر ۱۹۹۴ میں ڈاکٹر محمدحسین فطرت کا مضمون ’’غالب کا مذاق اجتہاد‘‘ خاصے کی چیز ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ :

’’غالب کے اجتہادی ذہن کو لکیرکا فقیر بننا گوارہ نہ تھا۔ ان کی پرواز تخیل نے شاعری کے ہر موڑ پر فکر و استدلال اور بصیرت و فراست کے رنگ برنگ پھول کھلائے ہیں روایتی مضامین کا اعادہ غالب کے مجتہدانہ ذہن کے شایان شان نہ تھا ۔ ان کی پوری شاعری مروجہ روایتی شاعری کے خلاف ایک صدائے احتجاج کے مترادف ہے۔‘‘

ص۔    معارف: ۱۵/۱۲۱۔ مئی ۱۹۷۸  میں صوفی نذیر احمد کاشمیری کا ایک مضمون بعنوان ’’اقبال کے مداح اور نقاد‘‘ شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون بظاہر تو اقبال پر ہے مگر اس میں دل کا غبار غالب پر نکالا گیاہے اور طنز و تعریض کے جتنے تیر تھے بلکہ طنز و تعریض ہی کیوں؟ لعنت ، ملامت، تلخی، ترشی اور حقارت کے بھی جتنے تیر تھے ان سب کا نشانہ غالب بنے ہیں۔ غالب کے بارے میں ان کے خیالات انھیں کی زبانی سنیے ۔ فرماتے ہیں:

’’ساری دنیا کے اباحیت پسندوں کے محبوب ترین شاعر غالب کے دیوان کو اخلاق کی کسوٹی پرپرکھیں تو انھیں نشااللہ ندامت سے سرجھکا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے گا۔ غالب کی شاعری کا بہت بڑا حصہ تمسخر اور عوامی واہ واہ حاصل کرنے کے چٹکلوں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس شخص کی شاعری کا بڑا حصہ اسی مسخرہ پن پر مشتمل ہے۔‘‘

صوفی صاحب نے اسی پربس نہیں کیا ابھی شاید ان کے دل کا غبارپوری طرح نہیں نکلا تھا یا شاید غالب کی شان میں اپنے سابقہ الفاظ انھیں ہلکے او رکم مایہ محسوس ہوئے تھے ۔ اس لیے مضمون کے آخر میں رومی، ٹیگور اور غالب کا اقبال سے موازنہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر وہ غالب پر حملہ آور ہونے کا موقع نکال لیتے ہیں اور غالب کی شاعری اور شخصیت پر یوں اظہار خیال کرتے  ہیں:

’’غالب ایک بڑی بھاری اور نہایت ٹوٹی ہوئی تہذیب کے کھنڈرات کا نام ہے جہاں سانپ، بچھو، چوہے، چھپکلی، الّو، شہباز، چڑیا، کبوتر سبھی نے اپنے اپنے گھونسلے بنا رکھے ہیں۔ مگران کھنڈرات کی اور وہاں رہائش کرنے والوں کی انسانی دنیا کے لیے کوئی افادیت نہیں۔ غالب کے یہاں زندگی کے کردار و گفتگو کو کسی آئین و ضبط کا پابند کرنا بے جا رکھ رکھائو اور رسوم پر ستی ہے۔ وہ تو ایک پاگل کی سڑی ہوئی لاش ہے جو کھلے ہوئے میدان میں پڑی ہے اور جس میں ابھی کچھ رمق حیات موجود ہے۔ لہٰذا کبھی تو اس سے مجنونانہ ہنسی اور کبھی تکلیف دہ کراہنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ مگر زیادہ بے معنی ہوں ہاں کا سماں رہتا ہے۔ بے مقصد یاس اور لا اخلاقیت کے تین حیات کش عناصر سے غالب خستہ تن کی لاش بنی ہے اور یہ تینوں چیزیں انسانی معاشرے کے لیے پیام مرگ کا حکم رکھتی ہیں۔‘‘

مدیر معارف سید صباح الدین عبدالرحمن کا ایک وضاحتی نوٹ بھی اس مضمون کے ساتھ شامل اشاعت ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ :

’’اس مقالے میں فاضل مقالہ نگار کا لہجہ ان کااپنا ہے جو معارف کے روایتی لب ولہجے سے مختلف ہے ۔ مگرا ن کے احترام میں اس میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ غالب کے متعلق انھوں نے جو کچھ فرمایا ہے اس سے معارف کو پورا اتفاق نہیں مگر غالب کی مدح کے ساتھ ان کی قدح بھی بہت کی گئی ہے۔ ان کی قدح کا ایک نمونہ اور بھی سامنے آئے گا۔‘‘

ہمارے نزدیک یہ وضاحتی نوٹ عذر گناہ بدتراز گناہ کے مترادف ہے۔ اگر یہ مضمون اور اس کا لب و لہجہ معارف کے مزاج سے مختلف بلکہ متصادم تھا تو کسی دوسرے کے احترام پر معارف کے احترام کو قربان کرنا کسی طرح مناسب نہ تھا۔ معلوم نہیں کہ مدیر معارف کو قدح کا یہ نمونہ اتنا کیوں پسند آیا۔

ق۔       معارف جلد ۱۰۳ ، شمارہ۔۲،۳،۴ اور ۵ (فروری، مارچ، اپریل، مئی ۱۹۶۹) کے چار شماروں میں مدیر معارف سید صباح الدین عبدالرحمن کا ایک طویل مقالہ ’’غالب مدح و قدح کی روشنی میں‘‘ قسط وار شائع ہوا۔ بعد ازاں ترمیمات و اضافوں کے ساتھ یہی مقالہ ۱۹۷۷ میں بصورتِ کتاب منظر عام پرآیا۔ یہ کتاب دارالمصنفین کے سلسلہ مطبوعات کے تحت معارف پریس سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں غالب پر لکھی جانے والی مخالفانہ اور موافقانہ تحریروں کا ذاتی اور انفرادی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے۔ بطور نمونہ ’’محاسن کلام غالب‘‘ پر ان کا نظریہ اور طرز استدلال پیش ہیں۔ لکھتے ہیں:

’’ تحریر کی اس قسم کی آن بان سے پڑھنے والا دبتا چلا جاتا ہے اور اس کو غور کرنے کا موقع نہیں ملتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ وہ اسی میں کھو یا رہتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کس شان و شکوہ سے کہہ رہے ہیں ، لیکن جب وہ ٹھہر کر غور کرتا ہے تو پھران کی پرشکوہ تحریروں کے بار سے ہلکا ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کی بعض باتوں میں حقیقت سے زیادہ عقیدت کو دخل ہے۔‘‘

ان بلند پایہ تحقیقی اور تنقیدی مقالات کے علاوہ معارف نے غالبیات سے متعلق تقریباً سو سے زیادہ کتابوں پر تبصرے اور جائزے شائع کیے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

Categories Uncategorized

غالب نے اردو میں خط و کتابت کب سے شروع کی؟

قاضی عبدالودود

غالب نے اردو میں خط و کتابت کب سے شروع کی؟

       غالب نے اردو میں خط و کتابت کب سے شروع کی؟ اس سوال کاجواب سب سے پہلے حالی کی یادگار غالب میں تلاش :کرناچاہیے۔ حالی لکھتے ہیں

”معلوم ہوتاہے کہ مرزا1850  تک ہمیشہ فارسی میں خط و کتابت کرتے تھے مگر سنہ مذکور میں جب کہ وہ تاریخ نویسی کی خدمت پر مامور کیے گئے اور ہمہ تن مہر نیم روز کے لکھنے میں مصروف ہوگئے۔اس وقت بہ ضرورت ان کو اردو میں خط وکتابت کرنی پڑی ہوگی۔ وہ فارسی نثریں اور اکثر فارسی خطوط جن میں قوت متخیلہ کا عمل اور شاعری کاعنصر نظم سے بھی کسی قدر غالب معلوم ہوتاہے، نہایت کاوش سے لکھتے تھے۔ پس جب ان کی ہمت مہر نیم روز کی ترتیب و انشا میں مصروف تھی، ضرورہے کہ اس وقت ان کو فارسی زبان میں خط و کتابت کرنی اور وہ یہی اپنی طرز خاص میں شاق ہوئی ہوگی۔ اس لیے قیاس چاہتا ہے کہ انہوں نے غالباً 50 ءکے بعد سے اردو زبان میں خط لکھنے شروع کیے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک خط میں لکھتے ہیں کہ ”زبان فارسی میں خطوں کا لکھنا پہلے سے متروک ہے۔پیرانہ سری اور ضعف کے صدموں سے منت پژوہی اور جگرکاوی کی قوت مجھ میں نہ رہی۔”

       حالی نے غالب(۱) کا جو قول نقل کیاوہ غدر کے بعدکاہے اور اس سے صرف اسی قدر ثابت ہوتاہے کہ ضعف پیری کی وجہ سے غالب نے فارسی میں خط لکھنا ترک کردیاتھا۔ اردومیں پہلے پہل کب خط لکھااور کیوں لکھااس کے متعلق کسی نتیجے پرپہنچنے میں اس سے مطلق مدد نہیں ملتی۔ حالی کایہ دعویٰ کہ اردومیں خط لکھناشروع کیا،جب مہرنیم روز کی تصنیف میں مصروف تھے، محض قیاس پر مبنی ہے اور کوئی ایسی روایت اس کے موید ہو، موجود نہیں۔ اس سے قطع نظر یہ سمجھ میں نہیں آتاکہ جب بہ ظاہر مہر نیم روز کی تصنیف اواسط(۲) 50 ءسے شروع ہوئی تو حالی نے یہ کیوں لکھاکہ غالب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 50 ءتک غالب نے کبھی اردو میں خط لکھا ہی نہیں۔یا  ان کا یہ مطلب ہے کہ عموماً فارسی میں لیکن کبھی کبھی اردومیں بھی لکھا کرتے تھے۔ حالی نے یادگار غالب  میں ایک جگہ ہمیشہ کو عموماً(۳) کے معنی میں استعمال کیاہے لیکن اس سے لازمی طورپر نتیجہ نہیں نکلتاکہ اس موقع پربھی ان کایہی مطلب ہے۔ایک بات اور بھی قابل توجہ ہے۔اقتباس بالا میں شاید ہی کوئی بات حالی نے قطعی طورپر کہی ہو۔ معلوم ہوتاہے کہ غالباً قیاس چاہتاہے اور اس قسم کے دوسرے الفاظ جابجا ملتے ہیں۔

       غلام رسول صاحب مہر کی رائے (۵) میں ”غالب 1850 سے قبل اردو میں خط و کتابت شروع کرچکے تھے۔لیکن چونکہ اس زمانہ میں اردونثر کو اہل قلم بلند پایہ نہیں دیتے تھے اس لیے وہ خطوط محفوظ نہ رہ سکے لیکن جیسے جیسے اردو کا رواج بڑھتاگیااور فارسی کا رواج کم ہوتاگیا، غالب کی خط و کتابت فارسی کے بجائے اردومیں زیادہ ہوگئی۔ (غالب طبع اول صفحہ 308)۔ انہوں نے اردو کے ایک خط کا بھی ذکرکیاہے جو ان کے نزدیک یکم دسمبر 1845 کے کچھ بعد لکھا گیاہے۔ مہر صاحب حالی کے اس نظریے کو مہر نیم روز کی تصنیف میں مصروفیت اور خط و کتابت شروع کرنے کا باعث ہو کوئی تسلیم نہیں کرتے۔مہرنیم روز کوئی ضخیم کتاب نہیں اور کئی سال کی مدت میں لکھی گئی ہے۔ غالب کے فارسی خطوط اردو کے خطوط کی طرح تکلفات سے عموماً  آزاد ہیں اور ان کے لکھنے میں زیادہ کاوش نہیں کی گئی۔ اس کتاب کی تصنیف غالب سے ”قادرالکلام اور مشاق نثر نگار“کو فارسی خط لکھنے سے مانع نہیں ہوسکتی۔صفحہ 307(308)

       امتیاز علی خاں صاحب عرشی اسے ناممکن نہیں سمجھتے کہ غالب نے 50ءسے قبل بھی اردو میں مراسلت کی ہو،لیکن وہ اس کے قائل نہیں کہ اس سنہ سے قبل کاکئی اردو خط موجود ہے۔ یہ امکان بھی محض فلسفیانہ امکان ہے، ورنہ اس کا اصلی خیال(۶) یہ معلوم ہوتاہے کہ غالب نے 50ءسے پہلے اردو میں کوئی خط لکھاہی نہیں۔ مہر نیم روز کے معاملہ میں وہ حالی کے ہمنوا ہیں۔ (دیباچہ مکاتب غالب طبع ثانی صفحہ 138و145)

       مہیش پرشاد صاحب نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی لیکن غالب کی زندگی کو تین ادوا رمیں تقسیم کرنا مناسب ہوگا۔

        1۔ تقریباً 1850 تک

       غالب نے دوجگہ(۷) فخریہ یہ لکھ دیاہے کہ میری زبان فارسی ہے مگر یہ ان کا اصلی خیال نہیں، فارسی سے ان کا تعلق کس قسم کا ہے اس کے بارے میں ان کی حقیقی رائے قاطع برہان میں ملتی ہے

”نیاز مے آرم پوزش مے گسترم تا مردم نہ گویند کہ خود ہندستان زابودن و ہندستان زایان دیگر رامسلم نہ داشت و خود علم پندار زباں دانی افراشن چہ معنی دارد۔ گویم مے گویم کہ نیائے من ازماوراءالنہر بود و پدرم دردہلی پیکر پذیرفت و من در آگرہ منشور ہستی یافتم، حاشا کہ خود را از اہل زبان گیرم زبان دانی من بہ فرہ سہ فروزدہ فدا آفریدوسہ گوہر ازل آوردست۔“ (قاطع طبع ثانی ،ص۱۳۱)

       فارسی غالب کی مادری زبان نہ تھی۔اسے انہوں نے استاد ہی سے سیکھا تھا۔ اپنی تعلیم کے ابتدائی زمانے میں وہ لکھنا پڑھنا جاننے پر بھی فارسی سے ناوقف رہے ہوں گے اور ایسا زمانہ بھی یہی ہوگاجب وہ فارسی اتنی کم جانتے ہوں کہ اس زبان میں خط نہ لکھ سکتے ہوں۔ اس زمانہ کا کوئی خط موجود نہیں اور نہ اس کی شہادت پیش کی جاسکتی ہے کہ کسی کو خط لکھا۔لیکن قیاس چاہتا ہے کہ خود لکھے ہوں اور وہ اردو میں ہوں۔ غالب نے شعر بھی پہلے اردو میں کہے ہیں ، پھر فارسی میں۔

       1۔ اواسط 50ءتک

       اس دور میں غالب نے رفتہ رفتہ فارسی پر قدرت حاصل کی، اور کچھ مدت کی مشق کے بعد صاحب طرز انشاپرداز قرار پائے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہےے کہ اس دورکے آخرمیں غالب کی عمر 50سے اوپر تھی اور ان کے قوائے جسمانی کا انحطاط شروع ہوچکاتھا۔ زمانے کی روش کے مطابق غالب نے عموماً فارسی میں خط لکھے ہوں گے۔لیکن کبھی کبھی اردو میں لکھنے کی بھی ضرورت پیش آئی ہوگی۔ اس کی دو وجہیں ہیں

       (1) غالب سے سروکار رکھنے والوںمیں ایسے لوگ جو لکھنا پڑھنا جاننے کے باوجود فارسی سے بالکل ناواقف ہوں یااس سے کافی واقفیت نہ رکھتے ہوں، ضرور ہوں گے۔ اور وقتاً  فوقتاً  ایسے لوگوں سے مراسلت بھی ہوئی ہوگی۔ انہیں فارسی میں خط لکھنے کے معنی یہ ہوئے کہ خواہ مخواہ ترجمہ کرانے کی زحمت دی جائے۔ناچار اردو ہی میں خط لکھناپڑاہوگا۔ اس طرح کبھی کبھی ناخواندہ لوگوں کو بھی خط لکھنے کی ضرورت پڑی ہوگی اور انہیں بھی فارسی کی جگہ اردومیں خط لکھاہوگا۔ غالب کی زوجہ امراو


بیگم (۸) ، گمان غالب ہے کہ ناخواندہ ہوں، بنارس و کلکتہ سے جو خط غالب نے انہیں بھیجے تھے اور جن کاذکر چھج مل (۹) کے نام کے خطوط  میں ہے،وہ کس زبان میں ہوں گے؟

(۲)   پنج آہنگ کے ڈیڑھ دوسو خطوں میں بہت کم خط ایسے ہیں جن میں غالب نے انشاپردازی کا کمال دکھانے کی کوشش نہ کی ہو۔ایسے خط ”محنت پژوہی اور جگرکاوی“ کے بغیر نہیں لکھے جاسکتے۔ کم از کم غالب کے لیے یہ ممکن نہ تھااور اس کا خود انہیں اعتراف ہے۔ (خط بنام شاکر) ان کی زندگی میں ایسے لمحات جب وہ محنت سے گھبراتے ہوں، ضرور ہوں گے۔ایسی صورت میں اگر مراسلت کی ضرورت پیش آئی ہوتو اس کے سوا چارہ نہ تھاکہ یاتو”سرسری“ اور عامیانہ(10)فارسی میں خط لکھیں یا اردو کو نوازیں۔ پنج آہنگ میں ایسے (۱۱) خط جن میں شاعری کا عنصر کم یا وہی مفقود ہیں ضرور۔لیکن ایسے خط نہیں جو ”قلم سنبھال کر“ نہ لکھے گئے ہوں۔ ”سرسری“ اور عامیانہ فارسی پر غالب کا اردو ترجیح دنیا بالکل قرین قیاس ہے اس لیے کہ معمولی فارسی لکھنا ان کے ادبی شکوہ کے منافی تھااو راردو ایسی زبان ہی نہ تھی جس میں کسی کو یہ امید ہوکہ غالب یا کوئی اور شخص انشاپردازی کا کمال دکھا سکے گا۔ غالب حسام الدین حیدرخاں نامی کو لکھتے ہیں:

“جواب ایں نامہ سرسری باید نہ پہلوی دوری، واگر خواہم کہ روش بہ گردانم ہر آئینہ ناموس سخن دری مرازیاں دارد امید کہ ملازمان(؟)بندہ خود را دریں کشاکش نہ پسندند ”پنج آہنگ“ صفحہ 114و115 )

       اردو خطوں اور اردو زبان کے متعلق غالب کی رائے ”کوئی رقعہ ایسا ہوگاجومیں نے قلم سنبھال کر اور دل لگاکر لکھاہو“ (خطوط غالب صفحہ 30) میں اردومیں اپنا کمال کیاظاہر کرسکتاہوں؟ اس میں گنجائش عبارت آرائی کی کہاں ہے؟ (خطوط ، صفحہ 391)

       اس دور کے اواخرمیں انحطاط قویٰ کی وجہ سے اردو خطوں کی تعداد بڑھ گئی ہوگی۔اس زمانے کے کم از کم دو خط موجود بھی ہیں۔پہلا خط اردوئے معلی میں ہے مگر اس پر تاریخ ثبت نہیں ہے۔ تبصرہ خطوط غالب میں جو معاصر نے شائع کیاتھامیں نے اس کے متعلق لکھا تھا”غالب نے دیوان تفتہ کا دیباچہ تحریر کیاتھا۔ تفتہ کواپنی تعریف امید سے کم نظر آئی۔ غالب سے شکایت کی تو غالب نے دیباچے کاایک فقرہ بدل دیا۔ خط میں اسی کی اطلاع ہے۔اس کا زمانہ مرتب نے اسعدالاخبار آگرہ کے20 اگست کے پرچے سے متعین کیاہے۔“ اس لےے کہ اس میں غالب کی تقریظ 13)کاذکر ہے“ دیل میں اسعدالاخبار کے دواقتباس اور عرشی صاحب کے خط کا ایک ٹکڑا نقل کیا جاتاہے۔ان سے جو نتائج نکلتے ہیں ان سے مرتب کے بتائے ہوئے زمانے کی قطعی طورپر تغلیط ہوتی ہے۔

(۱)دیوان (14)تفتہ جو اس مطبع میں چھپاہے ربع سے زیادہ چھپ چکاہے،وہ بھی اس موسم سرمامیں انشاءاللہ تعالیٰ تمام ہوگا۔ اس کی ضخامت ۵۴جزوکے قریب ہے اور قیمت چار روپے بعد اختتام کے پانچ ہوجائیں گے۔اکثر شائقانِ سخن نے اس کی درخواست مع زرثمن داخلِ مطبع کی ہے کیونکہ وہ دیوان عجب فصاحت خیز اور لطف انگیز ہے۔ اکثر اشخاص اس کے طبع ہونے کی خبرسن کر بہت خوش ہوئے ہیں۔ خصوصاً اسداللہ خاں غالب دہلوی تواس کے بہت ثناخواں ہیں۔ (اسعدالاخبار 20اگست 1849ءمطابق 29رمضان 1265ھ)۔

(۲)ان دنوں میں دیوان تفتہ سکندرآبادی اس مطبع میں چھپنا شروع ہواہے او ریہ وہی دیوان ہے جس کا اشتہار اخبار ہذامیں اواخر 1847ءمیں دیاگیاتھا۔یہ سبب عدیم الفرصتی کے اب تک ملتوی رہا۔اب اس کی تدبیر کی گئی ہے۔ (اسعدالاخبار 18دسمبر1848ءمطابق ۱۲محرم 1265ھ)۔

(۳)تفتہ کے دو دیوان ہیں (15)۔ان میں سے پہلے کے شروع میں میرزا صاحب کی تقریظ ہے۔اس کا چھاپا اواخر 1265ھ میں شروع ہوااور اوائل 1268ھ میں انجام کو پہنچا۔ تقریظ میں تاریخ نہیں دی۔جس صفحے پر یہ ختم ہوتی ہے اس کی باقیماندہ جگہ میں ”حقیر کا قطعہ آغاز طباعت ہے جس سے 1265ھ برآمد ہوتے ہیں۔

       ان اقتباسات سے حسب ذیل نتائج نکلتے ہیں:

       1۔ دیوان اور اس کی تقریظ غالباً اواخر ۷۴ءہی میں صاحب مطبع کے پاس پہنچ گئی تھی۔اگر یہ قیاس صحیح ہے تو تقریظ 47ءیا اس سے بھی قبل کی لکھی ہوئی ہے۔

       2۔ دیوان تفتہ کا چھاپا اوائل 1265ھ (اواخر 48ء ) میں شروع ہوگیاتھا (جناب عرشی(16) نے اواخر سہواً لکھا ہے)

       203۔ اگست1849ءتک 12جز کے قریب چھپ چکاتھا۔

       4۔ تقریظ آغاز دیوان میں ہے اور اس کے آخری صفحے میں حقیرکاقطعہ تاریخ، اس لیے دیوان کایہ حصہ سب سے پہلے چھپا،اور اس کا زمانہ انطباع اواخر 48ءہے۔

       یہ متحقق ہوجانے کے بعد کہ تقریظ کا زمانہ اطباع اواخر48ءہے۔ یہ قطعی طورپر معلوم ہوگیاکہ غالب نے اسے اواخر 48ءسے پیشتر لکھاہوگا۔اس کے بعد یہ تسلیم کرناناممکن ہے کہ خط اگست 49ءمیں تحریر ہوا۔

       عرشی صاحب نے دیباچہ مکاتیب غالب طبع ثانی میں (ص141تاص143میرے بیان پر ناقدانہ نظر ڈالی ہے اور خط زیربحث کے زمانہ کتابت کے متعلق بالکل مختلف رائے ظاہر کی ہے۔ عرشی صاحب کی تنقیدکا خلاصہ یہ ہے:

       1۔ تقریظ سرورق کے دوسرے رخ سے شروع ہوتی ہے اور سرورق پر مہتمم مطبع نے لکھا ہے:

       ایں نسخہ دیوان تفتہ در مطبع اسعد الاخبار بہ اواخر 1265ھ شروع گردیدہ باوصف انواع موانع و عوائق در اوائل 1267ھ بہ اختتام رسید۔

       2۔ 20 اگست کے بعد اسعدالاخبار میں بظاہر تقریظ ہی کی طرف اشارہ ہے۔چونکہ غالب نے پسندیدگی کاذکر پہلی بار اواسط 49ءمیں ہوا، لازماً اس کااظہار اسی زمانہ میں کیاگیاہوگا۔ (یعنی یہ تقریظ اسی زمانے کی لکھی ہوئی ہے۔

3۔ غالب نے 10فروری 49ءاو ر20اگست 50ءمذکور ہی کی درمیانی مدت میں یہ تقریظ لکھی ہے اس لیے کہ 10فروری کو فارسی خط میں غالب نے تفتہ کو لکھاہے:

ازاں دوہزار بیت کہ نوشتہ اند کہ دراکبر آباد گفتہ ام، ماہم دراوراق اخبار اکبر آبادی شاہدہ کردم ایم، خوش گفتہ اندوبہ راہے کہ مامے خواستیم رفتہ اند،

       10فروری تک غالب نے دوہزار اشعار دیکھے تھے۔ غالب اظہار رائے میں بڑے محتاط تھے۔ تفتہ نے ان اشعار کی اصلاح کے بعد تقریظ کی درخواست کی ہوگی۔

       4۔ تقریظ کی ترمیم اواخر 1850ءمیں تقریظ کے چھاپے جانے سے کچھ قبل ہوئی۔ غالب اس زمانہ میں زیادہ تر اردو میں خط لکھنے لگے تھے۔ ترمیم کی اطلاع اردو خط کے ذریعہ دی۔

       میری گزارش حسب ذیل ہے:

       1۔ عرشی صاحب نے دیوان تفتہ کے متعلق جو خط مجھے لکھا تھااس میں سرورق کا حال نہ تھا۔ ورنہ میں کبھی یہ دعویٰ نہ کرتاکہ تقریظ دیوان سے پہلے اواخر 48ءمیں چھپی تھی۔ سرورق کی عبارت سے صرف یہ نتیجہ نکلتاہے کہ تقریظ اواخر 50ءمیں طبع ہوئی اور اس میں ترمیم اس سے قبل ہوچکی تھی۔کس قدر قبل؟ اس پر یہ عبارت مطلق روشنی نہیں ڈالتی۔

       2۔ دیوان تفتہ کااشتہاراسعدالاخبار میں پہلی بار اواخر 48ءمیں چھپا تھا۔ میری نظر سے ۱۱دسمبر 48ءسے قبل کے پرچے نہیں گزرے۔اس لےے مجھے علم نہیں کہ اشتہار اول میں غالب کے متعلق کچھ تھایانہیں۔ عرشی صاحب 20اگست 49ءپرچہ میں جو اشتہارہے اس کی بنا پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے پہلے تقریظ کی طرف اشارہ ہواہی نہیں۔ مزید تحقیق سے ثابت بھی ہوجائے جب بھی یہ لازم نہیں کہ تقریظ کے دیکھتے ہی صاحب مطبع نے اس کا ذکر کردیاہو۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتاہے کہ صاحب مطبع کو تقریظ کا علم 20اگست 49ءکویا اس سے پہلے ہوچکاتھا۔یہ تقریظ اصلی تھی یا ترمیم شدہ، اشتہار اس کے بارے میں ساکت ہے۔ یہ بھی قطعی نہیں کہ تقریظ ہی کی طرف اشارہ ہے مگر قیاس یہی چاہتاہے۔)

3۔ اواخر 47ءمیں دیوان کا اشتہارچھپا تھامگر دیوان اس وقت کس شکل میں تھااس کا مطلق علم نہیں۔ قیاس چاہتا ہے کہ مکمل ہواور اس میں زیادہ(17)ردوبدل کی گنجائش نہ ہو۔ اس صورت میں یہ دوہزار اشعار دیوان دوم میں داخل ہوئے ہوں گے۔اس کے خلاف بھی ہوتو تقریظ ایسی نہیں کہ اس کے لکھنے سے قبل کل کلام کامطالعہ ضروری ہو۔ تفتہ غالب کے شاگرد تھے اور غالب اس سے واقف تھے کہ شاعری میں تفتہ کا کیا پایہ ہے۔ تقریظ کے لےے یہ بالکل کافی تھا۔ذیل میں تقریظ کی وہ عبارت جس کاتعلق کلام تفتہ سے ہے، نقل کی جاتی ہے:

”رہ رو را بہ رہ گزارے مرغزارے در نظر آوردہ و دربیابانے بہ خیابانے در آوردہ اند کہ دراں تماشاگاہ بہ پویہ نیم گام زند موج سبزہ را بیند تا بہ کمر رسیدہ و گوشہ دستار را نگر واز گرانی بار گل خمیدہ ہمانا رہ گزارے کہ بہ سبزہ زارے انگشت نماشدہ و پیا بانے کہ بہ خیابانے روشناس آمدہ ہمیں غالیہ اندودہ سواد مردمک مرادوہمیں ریحاں رقم صحیفہ مشکیں سواد است کہ در نظر داشتہ ایم دنی(؟) بے نوا را بہ دیباچہ نگاری آن گماشتہ یارب ابن سخن پیونددنش مند در فن فرزانگی یگانہ و درآئیں یگانگی فرزانہ آسمان سخن را ماہ دو ہفتہ، منشی ہرگوپال تفتہ کہ ایں فہرست گنج خانہ راز راقم کردہ اوست وایں مجموعہ سوزوگداز فراہم آوردہ او، چہ ماہ دیدہ و دل باہم آمیختہ باشد تا ایں نقش بدیع انگیختہ باشد۔ سخن عشق و عشق سخن کلام حسن و حسن کلام را بہ یک وگر سرشتد تاچار آخیشج ہستی شیوابیانی سرانجام یافت کہ ازگرمی نفس و تشنگی جگر کہ درخسن بہ سخنداشت بہ مناسبت برستگی حسن گفتار تفتہ نام یافت، داد شناساں شناسند و اندازہ داناں وانند کہ باآں کہ خامہ در کف سخن دراز فراوانی آزروزش سخن لاابالی پوئے و بے پرداخرام است، سخن بہ نغزی و خوبی در داتی در نفس خویش تمام است لاجرم با چنیں دم گرم کہ ہیچ گہ دلش را از گفتار سردنہ داروسیہ مست مے سخن تفتہ از خود رفتہ در سخن ہائے آمدہ ہم آوردنہ دارد زیں پس گزاردن حق ستائش خوبی سخن بہ دیدہ وراں مے گزارم۔“ (پنج آہنگ صفحہ 39،40)

       تعریف یاتوبہت عام لفظوں میں ہے یاایسی ہے کہ تفتہ کا کلام اس کا بالکل مستحق نہیں۔ غالب یہی الفاظ ہراس شاعرکے لیے جسے وہ ناراض نہ کرنا چاہتے ہو استعمال کرسکتے تھے۔ اظہار رائے میں بڑے محتاط ہونے سے اگر عرشی صاحب کایہ مطلب ہے کہ غالب جچی تلی، بے لاگ رائے ظاہر کیاکرتے تھے تو اس سے اختلاف کی بہت کچھ گنجائش ہے جہاں تک معاصرین کا تعلق ہے ان کی ناقدانہ رائیں زیادہ تر مصلحت وقت کی تابع نظر آتی ہیں۔مثالیں بہت دی جاسکتی ہیں مگر طوالت کے خوف سے صرف چند پر اکتفاکیا جاتاہے۔

       حیا کے متعلق لکھا ہے:

سخنش رائے زندگی سیمائے کلام الملوک الکلام است وکمرش را از رخشندگی فروغ جوہر الہام’ پنج آہنگ ‘ صفحہ 38)

میر حسن خاں بسمل کو خاقانی پایہ کہہ کر مخاطب کیا ہے، پنج آہنگ صفحہ ۹۹قلق کی شاعری کے متعلق لکھاہے:

امیر خسرووسعدی وجامی کی روش کو سرحد کمال کو پہنچایاہے۔“ (خطوط غالب،صفحہ 152)

       شفق، ہاشمی اور عسکری کی شاعری، متاخرین یعنی صائب و کلیم و قدسی کے انداز کو آسمان پر لے گئے ہیں۔ (خطوط غالب ،صفحہ 152)

       4۔ عرشی صاحب کی رائے میں تقریظ کی ترمیم اواخر ۰۵ءمیں تقریظ کے چھاپے جانے سے کچھ قبل ہوئی ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ تقریظ اگست 1849ءمیں یا اس سے بھی کچھ پہلے تفتہ کے پاس پہنچ گئی۔ اور باوجود اس کے کہ وہ اس سے مطمئن نہ تھے، انہوں نے اسے بعض اصحاب کو دکھابھی دیا۔ لیکن غالب سے ترمیم کی درخواست برس ڈیڑھ برس کے بعد کی، عرشی صاحب کے پاس اس کا ثبوت اس کے سوااور کچھ نہیں کہ خط جس میں ترمیم کا ذکر ہے،اردو میں ہے۔ یہ رائے کہ غالب 1850ءسے قبل اردو میں خط نہیں لکھتے تھے پہلے ہی قائم کرلی گئی تھی۔خط زیر بحث کا زمانہ تحریر 1850ءسے قبل قرار نہ دینا ناگزیر تھا۔ ترمیم جیسا کہ خود غالب نے لکھا ہے کہ بہت کم تھی۔ غالب نے صرف ایک فقرہ بدل دیاتھا۔میرے لےے یہ باور کرنا بہت مشکل ہے کہ تقریظ کی ترمیم اس کی تصنیف کے برس ڈیڑھ برس بعد ہوئی۔ میری رائے میں تقریظ کی ترمیم اس کی تصنیف کے کچھ ہی بعدہوئی، اوراس زمانہ میں خط بھی لکھا گیا۔ یہ زمانہ 20اگست 49ءسے قبل ہے لیکن یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتاکہ کس قدر قبل ہے۔(18)

       دوسرا خط جواہر سنگھ جوہر خلف لالہ چھج مل کے نام کا ہے۔ خطوط غالب میں جو ہر کے نام سے جو تین خط ہیں ان میں یہ پہلاہے۔خط یہ ہے:

خط تمہارا پہنچا قطعے جو تم کو مطلوب تھے اس (کذا) کے حصول میں جو کوشش ہیراسنگھ نے کی ہے میں تم سے نہیں کہہ سکتا پانچ پانچ اور چار چار روپے اور دو روپے کو قطعے محل لےے اور بنوائے دوڑتاپھرا۔ کلیم صاحب کے پاس کئی بار جاکر حضوروالا کا قطعہ لایا۔ اب دوڑرہاہے۔ ولی عہد بہادر کے قطعے کے واسطے یقین ہے کہ دوچار دن میں وہ بھی ہاتھ آئے اور بعد اس قطعے کے آنے کے وہ سب کو یکجا کرکے تمہارے پاس بھیج دے گا۔ مدد  میں بھی اس کی کررہاہوں لیکن اس نے بڑی مشقت کی کیوں صاحب وہ ہماری لنگی اب تک کیوں نہیں آئی؟ بہت دن ہوئے جب تم نے لکھا تھااسی ہفتے میں بھیجوں گا۔

مہر صاحب نے کے ایک فارسی خط کی مدد سے اس خط کا زمانہ کتابت 1845ءکے لگ بھگ مقررکیاہے۔وہ لکھتے ہیں:

”فارسی مکاتیب میں ایک خط جوہر کے نام ہے جس میں لنگی کی فرمائش کی ہے۔اس خط کے آخرمیں مطبوعہ پنج آہنگ میں یکم دسمبر 1848ءمطابق چہارم محرم 1251ھ ثبت ہے۔ ہجری اور عیسوی تاریخ میں مطابقت نہیں ہوتی کم از کم ایک تاریخ ضرور غلط ہے اگر تاریخ ہجری کو 1251ھ کے بجائے 1261ھ رکھا جائے تو عیسوی تاریخ 1841 ءہونی چاہےے۔ میرا خیال ہے کہ یہی صحیح ہے۔ ان کے اردوئے معلیٰ کے ایک خط میں بھی لنگی کا تقاضہ موجود ہے یہ دونوں خطوط لازماً ایک دوسرے سے قریب کے زمانے میں لکھے گئے ہوں۔“ (غالب طبع اول،صفحہ 308)

       پنج آہنگ غدر سے قبل دوبار طبع ہوئی تھی لیکن غدر کے بعد کلیات نثر میں شامل کرلی گئی۔ کلیات پہلی بارغالب کی زندگی ہی میں شائع ہواتھا۔اس کی پہلی اشاعت میں ”آدینہ یکم دسمبر 1848ءچہارم محرم 1215ھ مرقوم ہے۔ 1215ھ دراصل 1665ھ ہے اور اس طرح عیسوی اور ہجری تاریخوں اور سنین میں مطابقت ہوجاتی ہے۔ مہر صاحب نے 1251ھ کلیات کی تیسری اشاعت میں دیکھا ہوگا۔ دونوں سنین کو بدلنے کی مطلق ضرورت نہ تھی۔ان کا یہ قول کہ فارسی اور اردو خط لازماً ایک دوسرے سے قریب قریب زمانے میں لکھے گئے ہیں البتہ قابل قبول ہے۔

       عرشی صاحب کی رائے میں خط زیربحث کا زمانہ تحریر کیاہے،اس کا ٹھیک پتا نہیں ملتا۔ ان کا بیان حسب  ذیل ہے:

”پنج آہنگ اور اردوئے معلیٰ میں چھ خط جوہر کے نام پائے جاتے ہیں(اس کے بعد خطوں کی فہرست دی ہے) ان میں سے پہلے اور تیسرے خط میں ساڑھے تین سال چوتھے اور پانچویں میں آٹھ مہینے اور پانچویں اور چھٹے میں دس سال سے زیادہ کافرق ہی کم تر مدت تیسرے اور چوتھے مکتوب کے درمیان ہے جو تین ماہ ہوتی ہے۔اب محولہ بالا مکتوب کی اصل عبارت ملاحظہ ہو کیوں صاحب وہ ہماری لنگی اب تک کیوں نہیں آئی؟ بہت دن ہوئے جب تم نے لکھاتھاکہ اس ہفتے بھیجوں گا“ اس عبارت کا جملہ ”بہت دن ہوئے“ غورطلب ہے۔ چونکہ میرزا صاحب کے فارسی خطوط نمبری ۲ اور ۴میں یہ شکایت کی گئی ہے کہ بہت دنوں سے تمہارا خط نہیں آیا؟جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جوہر خطوں کے جواب میں بے حد سست تھے اور ان کے نام کے خطوط کے درمیانی وقفے ہمیں معلوم ہیں۔ لہٰذا کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے لنگی بھیجنے میں ڈیڑھ دو برس گزار دےے ہوں۔ یہا ںایک اور امرقابل بیان ہے کہ جہاں تک میں نے جستجو کی ہے بہ استثنائے نواب فردوس مکان ایسا کوئی مکتوب الیہ نہیں ہے جس کو میرزا صاحب فارسی میں خط لکھتے ہوں اور پھر فارسی مراسلت کے درمیان میں کوئی اور خط اسے لکھا ہو۔جب وہ کسی سے اردو میں مراسلت شروع کردیتے ہیں تو اس کے بعد اس کو فارسی خط نہیں لکھتے۔ جوہر کے نام 48ءمیں ایک اور اس کے بعد 52ءدوفارسی خط لکھے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتاکہ یہ درمیان میں اردو کاخط کیوں تحریر کیاگیا۔

       اس خط میں میرزا صاحب نے یہ بھی لکھاہے کہ ہیراسنگھ نے بڑی کوشش سے بادشاہ کے ہاتھ کے قطعے مہیا کرلےے ہیں۔اب ولی عہد کے دستحظی قطعا ت کی فکر میں ہے۔ میں بھی اس کی مدد کر رہاہوں۔میرے نزدیک ولی عہد سے مراد میرزافتح الملک ہیں جو1849ءمیں دارابخت کے انتقال کے بعد ولی عہد اور 1845ءمیں میرزاصاحب کے شاگرد ہوئے تھے۔ اس لےے ان کے دستحظی قطعوں کی تحصیل میں مرزاصاحب نے مدد دی ہے۔ان وجوہ کی بناپر لنگی کے تقاضے والے اردو خط کو فارسی کے خط مورخہ اگست 1852ءکے بعدکا مانتاہوں اور ایک دواور تقاضائی خطوں کو گمشدہ تصور کرتاہوں۔“(دیباچہ صفحہ 138 تا صفحہ 140)

       میں عرض کرچکاہوں کہ خط زیربحث کے زمانہ تحریرکے متعلق عرشی صاحب کی اصلی رائے کاپتا نہیں ملتا۔اس اجمال کی تفصیل ملاحظہ ہو:

       عرشی صاحب فرماتے ہیں کہ جوہرنے لنگی بھیجنے میں ڈیڑھ دوبرس گزار دےے ہوں گے۔ فارسی خط کی تاریخ تحریر یکم دسمبر 48ءہے۔عرشی صاحب کے بتائے ہوئے حساب سے اردو خط کی آخری تاریخ تحریر 21مئی 50ءہوسکتی ہے۔ گواس کابھی امکان رہتاہے کہ اس سے مہینوں قبل لکھا گیاہو۔ان کے اس قول سے کہ غالب اردو خط لکھنے کے بعد فارسی خط نہیں لکھتے۔یہ نتیجہ نکلتاہے اور خودانہوں نے نکالا بھی ہے کہ اردو خط اگست 53ءوالے فارسی خط کے بعدکاہے۔ آخرمیں انہوں نے بتایاہے کہ خط اس زمانہ کاہے جب غالب میرزا فتح الملک کے نوکر ہوچکے تھے۔یہ مسلم ہے کہ ملازمت کا زمانہ 1854ءتا 1856ءہے۔ خط کے زمانہ کتابت کے متعلق اس سے جو نتیجہ نکلتاہے، ظاہر ہے۔ گوخود انہوں نے صراحتاً لکھاکہ اس حساب سے خط کا زمانہ تحریر کیاہے۔

       خطوں کے درمیانی وقفے اور جوہر کی کاہل قلمی کی نسبت عرشی صاحب نے لکھاہے کہ اس کے متعلق میں یہ کہنا چاہتاہوںکہ خطوں کے درمیانی وقفے محض مطبوعہ خطوں کی مدد سے ثابت نہیں کےے جاسکتے۔مطبوعہ مجموعوںمیں جو خط ملتے ہیں، وہ ان خطوط کے مقابلے میں جوشائع نہ ہوسکے بہت کم ہیں۔ جوہرکے والد غالب کے دوست، خود جوہر(19) ان کے ”عزیز شاگرد“ اور مخصوصین میں تھے (یادگار صفحہ 107،113) اور مدتوں دلی سے باہر بھی رہے۔ غالب نے انہیں ۶سے بہت زیادہ خط لکھے ہوں گے۔ 1848ءتا 1846ءکے کل خط ہیں کہاں کے خطوں کے درمیانی وقفوں کا صحیح علم ہوسکے،اور اس سے کوئی نتیجہ نکالا جاسکے؟ عرشی صاحب کا قول ہے کہ دو خطوں میں بہت دنوں سے خط نہ آنے کی شکایت ہے۔ذیل میں دونوں خطوں کی ضروری عبارتیںدرج کی جاتی ہیں:

1۔ دریراست کہ مارا یاد نہ کردہ اند و ماجگر تشنہ خود را بہ زلال خیرے کہ از کنا رنامہ موسومہ رائے چھج مل ترا دو تسکین مے دہیم (پنج آہنگ،صفحہ 120)

       2۔ نامہ شما دیر است تا بہ من رسیدہ است، پاسخ جونہ بود، ورنہ دریں روز سیاہ نیز بنشستن نامہ دریغ نہ داشتمے (ہنج آہنگ صفحہ 120،121)

       پہلے خط میں جوہرکی شکایت ہے لیکن دوسرے میں معاملہ برعکس ہے۔ غالب نے خود جواب نہ دینے کی معذرت پیش کی ہے۔ صرف اس بناپر کہ ایک خط میں غالب نے دیرسے یاد نہ کرنے کی شکایت کی ہے۔عرشی صاحب یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ ”جوہر جواب میں بے حد سست تھے“ غالب نے اپنے لےے بھی وہی دیرکا لفظ استعمال کیاہے،کیایہی حکم غالب پر بھی لگایا جاسکتاہے؟غالب اس کے زیادہ مستحق ہیں اس لےے کہ غالب جواب نہ دینے کے معترف ہیں اور جوہر کے بارے میں صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ خط لکھنے میں سبقت نہ کی۔ مزید یہ کہ اگر ایک خط میں یاد نہ کرنے کی شکایت ہے تو ایک میں جوہرکے متواتر خطوں کاذکر ہے:

“نامہ ہائے شما پیہم رسیدہ، پاسخ آں ہا(20) نیز پے ہم بہ پدر بزرگوار شماسپردہ شد۔ ایں نامہ کہ امروزمی نگارم ومے خواہم کہ بہ سبیل ڈاک رواں دارم بہ پاسخ دو صحیفہ بازپشین است نگاشتہ، 22نومبر و رقم زدہ 26نومبرکہ ہردوبہ ہنگام خویش بہ من رسیدہ نحستین چوں شوقیہ بود جواب نہ خواہد دو میں را پاسخ ازیں است (پنج آہنگ صفحہ 120)

       بہت دن ہوئے چند دنوں کے لےے بھی مستعمل ہوسکتاہے، چند مہینو ں کے لےے بھی۔ اور چند برسوں کے لےے بھی مجروح کے نام ایک خط ہے جس میں غالب نے اپنااور میرن صاحب کااصلی یا فرضی مکالمہ نقل کیاہے، اس میں یہ الفاظ محض چند دنو ں کے لےے آئے ہیں“ اس کے (مجروح کے) خط کو آئے ہوئے بہت دن ہوئے ہیں وہ خفا ہواہوگاجواب لکھنا ضرور ہے‘ حضرت،وہ آپ کے فرزند ہیں، خفاکیا ہوں گے؟ (خطوط صفحہ 269)

       خط زیربحث میں کس مدت کے واسطے استعمال ہواہے اس کے فیصلے میں وہ خط جس میں لنگی کی فرمائش کی تھی مدد دے سکتاہے۔ضروری عبارت یہ ہے:

کلمے از پوست برہ داشتنم، حالیا آں راکرم خود سرم بے کلاہ ماند۔اگرچہ کلہ نہ مے جویم اتالنگ ابریشمی چناں کہ در پشاور و ملتان سازند داعیان آں قلم روبہ سر پچند و غالب کہ دراں و یار ایں چنیں متاع زودو و آساں بہ دست آیدبہ جویند و بہم رسانند و سوئے من در ڈاک رواں دارند و قیمت آں برنگارند۔ تابہانہ خواہند نوشت نہ خوافرست درفرستادن لنگ و رنگ و نگاشتن قیمت تکلف نہ کنند ۰پنج آہنگ صفحہ 120)

       غالب کو لنگی کی ضرورت فوری استعمال کے لےے ہے،اسی لےے وہ ایک جگہ یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ جلد مل جائے گی اور دوسری جگہ جلد بھیجنے کی تاکید کرتے ہیں۔ لنگی کوئی نایاب چیز نہیں۔ غالب قیمت ادا کرنے کو تیار بلکہ اس پرمصر،غالب اور جوہر کے تعلقات بزرگانہ اور خودارانہ۔ یقین ہے کہ غالب کا خط ملتے ہی جوہر نے لکھاہوگاکہ اسی ہفتے بھیجوں گا۔ کسی سبب سے وعدہ وفانہ ہواتو غالب نے یاد دہانی کی۔ میرے لےے یہ باور کرنابہت مشکل ہے کہ فرمائش اور یاددہانی کے درمیان، برس ڈیڑھ برس کا وقفہ ہے، چند ہفتے بہت ہیں۔

       عرشی صاحب کایہ نظریہ کہ غالب کسی شخص سے اردو میں خط و کتابت شروع کرنے کے بعد اسے فارسی خط نہیں لکھتے تھے، غالب کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے قابل قبول نہیں۔ اس قسم کے خودساختہ قاعدوں کی سختی کے ساتھ پابندی ان سے بعید ہے۔ یوں بھی بے شمار فارسی خط غائب ہیں۔ غالب کے عمل کا پتا کیونکر چلے؟ اس کا اعتراف خود عرشی صاحب کو ہے کہ اس کلےے کااستثنا موجود ہے۔ جہاں ایک مستثنی ہے وہاں ایک اور سہی! غالب جب یوسف علی خاں کو اردو میں خط لکھنے کے بعد فارسی خط لکھ سکتے تھے تو جوہر سے اس طرح مراسلت میں کونسا امر مانع ہوسکتاتھا؟

       اب رہا معا ملہ قطعوں کا،عرشی صاحب کے پاس کون سا ثبوت اس دعوے کاہے کہ ولی عہدسے مرزافتح الملک ہی مراد ہیں۔ دارابخت دارا بھی خطاط تھے (خم خانہ جاوید جلد ۳ صفحہ ۱۰۱) ممکن ہے کہ انہی کے قطعے کی تلاش ہو۔ مرزا فتح الملک ہوں جب بھی، یہ کیونکر معلوم ہوسکتاہے کہ قطعے کی تلاش غالب کی نوکری کے بعد کا واقعہ ہے۔ میرے نزدیک تو غالب کی اعانت کو کسی خاص قطعے کی تلاش پر محدود کردیناہی صحیح نہیں۔ غالب نے اپنی مدد کاذکرکیاہے،اس کی تصریح نہیں کی کہ کسی خاص قطعے کے حصول میں مدد دے رہے ہیں۔

       میری رائے میں جوہرکے نام کا اردوخط ان کے نام کے فارسی خط مورخہ یکم دسمبر 1848ءکے چند ہفتے بعدکاہے۔اس کا امکان ہے کہ چند مہینے بعدکاہو،لیکن میرے لےے یہ باور کرناکہ لنگی کی فرمائش یاجوہرکے وعدے اور غالب کی یاددہانی میں پانچ چھ (21) برس کاو قفہ ہے،مشکل نہیں، ناممکن ہے۔

3۔تیسرا دور بادشاہ کی ملازمت

       یعنی جولائی 50ءسے شروع ہوتاہے۔مہرنیمروزکی تصنیف کاآغازاس کے بعدہی ہواہوگا۔ اس کی عبارت میں ”قوت متخیلہ“ کاعمل بہت زیادہ ہے اور اس کی تصنیف میں مصروفیت ضرور ہے کہ اردو خطوں کی تعداد میں معتدبہ اضافے کاباعث ہوئی ہو۔رفتہ رفتہ کس طرح فارسی کم اور اردو زیادہ ہوتی گئی اورآخر میں صرف اردو پر انحصار رہ گیا۔اس کی تفصیلات کے لےے مکاتیب غالب طبع ثانی کا دیباچہ (ص143تا صفحہ 145) ملاحظہ ہو۔اس مبحث پر اس بہتر بیان میری نظر سے نہیں گزرا۔خلاصہ بحث یہ ہے:

       1۔ قیاس چاہتا ہے کہ غالب نے فارسی سے پہلے اردو میں خط لکھے ہوں۔

       2۔ غالب جس زمانے میں بالعموم فارسی میں مراسلت کرتے تھے، کبھی کبھی اردو میں بھی خط لکھا کرتے تھے۔

       3۔ کم از کم دوخط 1850ءسے قبل کے موجود ہیں۔

حواشی:

۱۔غالب کا قول ایک خط سے ماخوذ ہے جوشاکر کے نام عودہندی میں ہے۔اس خط پرکوئی تاریخ ثبت نہیں لیکن شاکر غالباً غدرکے بعد غالب کے شاگرد ہوئے ہیں۔ ”شدت نسیاں“ اور جان کنی کے خیالات کاذکرہے۔ یہ باتیں غدر کے بعدکی ہیں۔

۲۔مہرنیم روز۔کلیات نثر غالب،طبع اول صفحہ 132

۳۔ان کے گھرمیں کتاب کا کہیں نشان نہ تھا۔ ہمیشہ کرائے کی کتابیں منگوالیتے تھے اور ان کو دیکھ کر واپس کردیتے تھے۔ ”یادگار غالب،شائع کردہ دائرہ ادبیہ صفحہ 68، اسی کتاب میں صفحہ 19پر ”کبھی کوئی کتاب نہیں خریدتے تھے۔الاماشاءاللہ)۔

۴۔نادر خطوط غالب مرتبہ جناب رساہمدانی میں مرتب کے پردادا کرامت کے نام کاایک خط ہے۔جناب رسامقدمہ نادر خطوط صفحہ 13تا15میں مدعی ہیں کہ یہ پہلا خط اردوکاہے (یہ اور کرامت کے نام کے دوسرے خط جعلی ہیں۔ تبصرہ نادر خطوط نوشتہ راقم جنوری 1943ء) کے معاصر ”ندیم“ میں ملاحظہ ہو)بعد کواپنے ایک مضمون میں جواپریل ۴۴ءکے ”ندیم‘ میں چھپاہے، بغیرکسی ثبوت کے انہوں نے یہ لکھاہے کہ یہ خط جویکم جنوری 1851ءکاہے۔ حالی کی نظر سے گزراتھا،اور حالی نے اسی کودیکھ کر یادگار غالب میں تحریرکیاتھاکہ اردو خط میں خط و کتابت 50ءکے بعد سے شروع ہوئی۔

۵۔طبع ثانی میں مہرصاحب نے اپنی رائے میں ترمیم کی ہے۔

۶۔دیباچہ صفحہ 145۔1850ءتک میرزا صاحب تقریباً اسی زبان (یعنی فارسی) میں خامہ فرسائی کرتے رہے۔ ”تقریباً سے عرشی صاحب کی کیا مراد ہے؟

۷۔تقریظ گلشن بے خار و نامہ غالب۔

۸۔ایسی شریف خواتین جوبالکل پڑھی لکھی نہیں یاصرف قرآن مجید پڑھ سکتی ہیں اب بھی موجود ہیں اور غالب کے زمانے میں آج کل کی بہ نسبت بہت زیادہ ہوں گی۔ غالب رامپور سے غلام نجف خاں کو لکھتے ہیں”یہ تم کیا لکھتے ہوکہ گھرمیں خط جلد جلد لکھاکرو تم کو جو خط لکھتاہوں گویا تمہاری استانی جی کو لکھتاہوں۔ کیا تم سے اتنا نہیں ہوتاکہ جاو


 اور پڑھ کر سناؤ (خط نمبر13) خط پڑھ کر سنادینے کی ہدایت خط نمبر۱۱،۹۱ میں بھی ہے، ثاقب کے نام کے خط ۹ میں بھی یہی لکھا ہے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ غالب کا یہ عام انداز تھا۔ خط 18بنام غلام نجف خاں میں یہ عبارت ہے”لڑکے بہ خیروعافیت ہیں۔ اپنی استانی سے کہہ دینا۔ میرزاشہاب الدین خاں کو دعا۔نواب ضیاءالدین خاں کو سلام۔ میرا رقعہ ان دونوں صاحبوں کو پڑھا دینا۔ ”امراوبیگم اگر خط پڑھ سکتیں توان کے بارے میں بھی یہ ہوتاکہ خط پڑھوا دیتا۔ امراو


 بیگم کے خطوط بنام کلب علی خاں خود امراو


 بیگم کے لکھے ہوئے نہیں۔ (عرشی صاحب کا خط بنام راقم)۔

9۔پنج آہنگ صفحہ 74

10۔ عود ہندی، الہ آباد۔

11۔شفاءالملک حکیم حبیب الرحمن صاحب کے ایک خط سے معلوم ہوتاہے کہ ان کے پا س غالب کے چند غیر مطبوعہ فارسی خطوط ہیں جن کی عبارت بالکل معمولی ہے۔

12۔نامی غالب سے فارسی میں ایک خط کا جواب لکھوانا چاہتے تھے۔ غالب کی طبیعت شاعرانہ نثر لکھنے پراس وقت مائل نہ تھی۔ انہوں نے بہانہ کردیاکہ خط اس کا مستحق نہیں کہ اس کا جواب ”پہلوی و دری میں دیاجائے نثرکے بدلے ۴ رباعیاں بھیجتاہوں۔اپنی طرز خاص نثرلکھنے سے رباعیاں لکھنے میں زیادہ سہولت نظر آئی ہوگی۔(عود ہندی،صفحہ 223)

13۔خط میں دیباچے کاذکر ہے اور پنج آہنگ میںبھی دیباچہ لکھا ہے۔دیوان میں یہ دیباچہ تقریظ کے نام سے چھپاہے۔اس طرف اشارہ کردیا جاتا تو بہتر تھا۔

14۔اقتباس مرتب نے نقل نہیں کےا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس میں تقریظ کاذکر ہی نہیں۔

15۔دونہیں،تین دیوان ہیں۔

16۔سہو دراصل کارپردازان مطبع کاہے، رمضان 65ھ تک ایک ربع چھپ چکاتھا۔یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ اس کا چھاپا اواخر 65ھ میں شروع ہوا؟ تقطیع بڑی تھی، ۴ صفحوں سے زیادہ ایک پتھر میں نہیں آتے ہوں گے۔ایک ربع ۱ ۱جزہی ہوں تو ۴۴پتھر کی ضرورت ہوئی ہوگی۔

17۔متفرقات سے بحث نہیں۔

18۔تفتہ کے نام کے خط ۲(خطوط صفحہ 302) کازمانہ تحریر مہیش پرشاد صاحب نے اگست 50ءلکھا ہے۔میں نے غالب کے ان الفاظ کی بناپر کہ ”جب تمہارا دیوان چھاپاجائے گایہ قطعہ بھی چھپ جائے گا“ یہ رائے ظاہر کی تھی کہ عجب نہیں یہ خط 50ءسے پہلے کا ہو۔ عرشی صاحب لکھتے ہیں کہ وہ قطعہ جس کاذکراس خط میں ہے دیوان تفتہ موجود ہے اور 50ءکا لکھاہواہے۔ ظاہر ہے کہ مہیش پرشاد صاحب کے قول صحت میں مشتبہ میں نے ظاہر کیاتھا،اس کے لیے کوئی سبب نہیں۔

19۔جوہر اور مے کش کے حق میں غالب کی رباعی کلیات نظم میں ہے، یادگا رمیں بھی نقل ہوئی ہے

تانے کش و جوہر دو سخن در داریم

شان دگر و شوکت دیگر داریم

در میکدہ پیریم کہ مے کش ام ماست

در معرکہ تیغیم کہ جوہر داریم

20۔یہ خط پنج آہنگ میں کہاں ہیں۔

21۔ بہ شرط ضرورت معاصرین کی شہادت پیش کی جاسکتی ہے۔

Categories Uncategorized

مرزا دبیر: عہد اور شعری کائنات

مرزا سلامت علی دبیر عموماً اردو کے دوسرے سب سے بڑے شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں، لیکن ان کے کلام کی معنوی گہرائی پر نظر کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی تفہیم و تعبیر خاطر خواہ نہیں ہو سکی۔ اس احساس نارسائی کو کم کرنے لے لیے غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے 2۔3 نومبر 2019 کو ایک پر وقار سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر مرحوم نے اس سمینار کے انعقاد میں خاص اہتمام کیا تھا۔ تمام مقالہ نگاروں نے اپنے موضوع پر معلوماتی مقالے پیش کیے، خصوصاً پروفیسر انیس اشفاق کے کلیدی خطبے نے اہل علم سے خراج تحسین پیش کیا۔ زیر نظر کتاب انھیں مقالات کا مجموعہ ہے۔  

غالب کی شاعری میں ہمہ زمانی معانی

انیس اشفاق 

 غالب کی شاعری میں ہمہ زمانی معانی

بڑا شاعر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ اس کی نگاہ میں اپنا زمانہ ہی نہیں آنے والا زمانہ بھی ہوتا ہے، اسی لیے اس کے شعروں میں یک عہدی نہیں، ہمہ زمانی معنویت ہوتی ہے۔ میر اور غالب ایسے ہی شاعر ہیں اور غالب تو ایک ایسا نابغہ لے کر پیدا ہوئے تھے جس کی آنکھ وہاں تک جارہی تھی جہاں تک کسی اور کی آنکھ کا جانا آسان نہ تھا۔ غالب نے کہا تو یہ تھا:

ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب

ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

لیکن ان کی شاعری میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے اس شعر کے مفہوم پر نظر کیجیے: ‘دشت’ یہاں وسعت کے باوجود تنگی کا مفہوم ادا کررہا ہے اور ‘تمنّا’ اسرارِ وجود کو حل کرنے یعنی خدا اور کائنات کو سمجھنے کی تمنّا ہے۔ اس تمنّا میں ہم محوِ سفر ہیں اور اس سفر میں یہ پورا دشتِ امکاں ہمارا صرف ایک نقشِ قدم ہے۔ اصلاً یہ شعر علم اور لاعلمی کا مرکب ہے یعنی ہمارا سارا علم اس کائنات تک محدود ہے اور ماورائے کائنات کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ یہاں ماورائے کائنات کے بارے میں کچھ نہ جاننے کی بات کہہ کر غالب دراصل ہم کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری میں عدم یعنی ماورائے کائنات کا ذکر اتنی بار آیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ معدوم زمانوں اور مکانوں کا بھی گہرا علم رکھتے ہیں۔

نقل کیے ہوئے شعر میں ہم سے مراد دراصل ہم اور آپ ہیں، غالب نہیں۔ اپنے غیر معمولی وجدان و ادراک کی بنا پر غالب کی نگاہ اِس دشتِ امکاں کے دوسرے نقشِ پا کو بھی دیکھ رہی تھی اور ’غیب‘ سے جو مضامین ان پر نازل ہورہے تھے وہ اسی دوسرے نقشِ پا کے الگ الگ جادوں کو روشن کررہے تھے جنہیں دیکھ کر ہمارا مبتلائے حیرت ہوجانا یقینی ہے۔ غالب کے معاملے میں ہمیں دو طرح کی حیرتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک حیرت تو وہ ہے جو ان کے بند شعروں کے معنی نہ کھل پانے کی وجہ سے ہم پر طاری ہوتی ہے۔ معنی خواہی کی خواہش میں جب ہم ان کے شعر کے سب دروازوں پر دستک دے کر کسی جواب کے بغیر لوٹتے ہیں تو جھنجھلاہٹ میں یہ سوچنے لگتے ہیں کہ آخر یہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ اور جب ہمارے بار بار کے سر ٹکرانے کے بعد اُن دروازوں کی درزوں سے معنی کی کوئی کرن پھوٹتی ہے تو دیر تک ہم اس حیرت میں مبتلا رہتے ہیں کہ اِس نے کیا کہہ دیا۔ یہ معنی تو دور دور تک ہمارے ذہن میں نہیں تھے۔ لائقِ رشک نابغے کے ساتھ ساتھ خلاّقی بھی غالب کو ایسی ملی جو کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ مشکل سے مشکل موضوع کو ذہن میں لانا اور پھر اسے ایسے پیرائے میں بیان کرنا کہ جتنی بار شعر کو پڑھیے اس کی نئی پرتیں کھلتی چلی جائیں۔

یہ تو ہم شروع سے سنتے آرہے ہیں کہ غالب کا ذہن عام شاعروں کا سا ذہن نہیں تھا۔ ازحالی تا شمس الرحمن فاروقی ہمارے غالب شناسوں نے غالب کو مشکل بتانے میں بہت زیادہ وقت صرف کیا۔ یعنی ہمیں ان سے ملایا کم گیا ڈرایا زیادہ گیا۔ اور یہی خوف غالب اور ہمارے درمیان دوری کا سبب بننے لگا۔ غالب کے مشکل ہونے کا سبب دراصل ان کی نگاہ کی وہ تیزی اور نیرنگی ہے جو اشیا و مظاہر کے ایک رخ کو دیکھنے کے بجائے سب رخوں کو دیکھ لیتی ہے۔ یعنی ہماری اور آپ کی آنکھ سےچھپی رہنے والی اشیا کی ماہیتیں اور معنویتیں غالب کے حلقۂ

 نگاہ میں خورشیدِ جہاںتاب کی مانند روشن رہتی ہیں۔ یہ جو انہوں نے اپنے بارے میں کہا ہے:

گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھئے

جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے

اس شعر میں ہر لفظ کے گنجینۂ معنی کے طلسم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ شعرِ غالب کے خزینے میں داخل ہوں گے تو ہر لفظ آپ کو اس طلسم کی طرف لے جائے گا جہاں کائنات اور ماورائے کائنات کی مختلف صورتیں اپنے مختلف رنگوں میں نظر آئیں گی۔ اپنی فارسی شاعری میں غالب نے اپنے ذہن کی پیچیدگی، اپنی فکر کی بلندی، اپنے معانی کی نیرنگی اور اپنے حلقۂ نگاہ کی وسعت کا بار بار ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ میں ایک پیچیدہ، حیرت آور اور طلسم آسا ذہن لے کر پیدا ہوا ہوں، اسی لیے میں ان زمانوں پر بھی حاوی ہوں جو ظاہری زمانوں سے پرے ہیں اور وہ معانی بھی میری گرفت میں ہیں جن تک کسی نگاہ کا پہنچنا محال ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

ما ہمائے گرم پروازیم فیض از ما مجوئے

سایہ ہمچو دود بالا می رود از بالِ ما

اس شعر میں گرم پروازِ ہما سے ذہن ایک عالی فکر اور عالی دماغ ہستی کی طرف منتقل ہوتا ہے اور پرواز کی گرمی فکر کی وہ بلندی ہے جس تک عام آدمی کی رسائی آسانی سے نہیں ہوتی۔ اس مفہوم کا اطلاق خود غالب پر ہوتا ہے کہ میرے افکار اتنے بلند اور اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان سے (عام آدمی کے) مستفیض ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔

دوسرا شعر:

پایۂ من جزبہ چشمِ من نیاید در نظر

از بلندی اخترم روشن نیاید در نظر

میرا مرتبہ میرے سوا کسی اور کی نظر میں نہیں آسکتا۔ اس لیے کہ میرا ستارہ اتنی بلندی پر ہے کہ وہ میرے سوا کسی کو صاف نظر نہیں آتا۔

تیسرا شعر:

دیدہ ور آں کہ تا نہد دل بہ شمارِ دلبری

دردلِ سنگ بنگرد رقصِ بتانِ آذری

دیدہ ور وہ ہے کہ اگر دلبری (کے مظاہر) کا شمار کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو اس کو پتھر کے دل کے اندر آذری بتوں کا رقص نظر آنے لگتا ہے۔

آخری شعر:

در دام بہرِ دانہ نیفتم مگر قفس

چنداں کنی بلند کہ تا آشیاں رسد

شعر کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ میں دانے کے لیے دام میں نہیں آؤں گا بلکہ قفس کو اتنا اونچا کرو کہ وہ میرے آشیاں تک پہنچ جائے۔ باطنی مفہوم یہ ہے کہ اگر مجھ کو سمجھنا چاہتے ہو تو وہ دانش اور ذکاوت پیدا کرو جس کا مطالبہ میرے شعروں کے معنی کرتے ہیں۔

فارسی کے یہ شعر اور ان کے مفاہیم اس لیے نقل کیے گئے ہیں کہ جو کچھ غالب کے نابغے، ان کے ذہنِ رسا اور ان کی ذکاوت کے بارے میں اوپر کہا گیا ہے اس کی توثیق ہوسکے۔

غالب کے غیر معمولی ذہن، بلا کی قوتِ پرواز، ان کی ہمہ دانی، ان کے معانی کی پیچیدگی اور تہہ داری کی بنا پر نکتہ شناسانِ شعر کو شعرِ غالب کی شرحیں لکھنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ شارحین کی ان شرحوں سے غالب کا اشکال کم ہوا اور ان کے شعروں کا ظاہری مفہوم بھی بڑی حد تک ہم پر ظاہر ہوگیا لیکن کلامِ غالب کے لامحدود معنوی امکانات تک رسائی کا راستہ پھر بھی پوری طرح نہ کھل سکا۔ اس کے لیے نیرمسعود، پروفیسر گیان چند جین، شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر گوپی چند نارنگ وغیرہ کو آگے آنا پڑا اور نئے زمانوں کی معنویتوں کے اعتبار سے غالب کو سمجھانا پڑا۔

درج بالا معروضات میں ہمارا اصل نکتہ یہ ہے کہ مفاہیم کی نیرنگی اور معانی کی کثرت کی بنا پر غالب کی شاعری کسی ایک زمانے کی اسیر نہیں ہے۔ وہ جی تورہے تھے انیسویں صدی میں لیکن ان کی نگاہ آئندہ کے زمانوں کو بھی دیکھ رہی تھی اسی لیے ہمیں ان کے یہاں آئندہ زمانوں کے معنی بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم مثالوں کے ذریعے اکیسویں صدی میں غالب کی معنویت کا محاکمہ کریں یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ وقت اور نوعیت کے اعتبار سے موضوعات ومسائل کی شکلیں کیا ہیں۔ بظاہر ان کی چار شکلیں ہمارے سامنے ہیں:

          1۔ ازلی اور آفاقی موضوعات و مسائل : یہ حدود اور نفوس کے امتیاز کے بغیر ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔

          2۔ یک عہدی یا عصری موضوعات : یہ ایک ہی زمانے اور بیشتر ایک ہی جگہ سے مخصوص ہوتے ہےں۔

          3۔ ہمہ زمانی موضوعات : یہ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں اور حدود و نفوس کے امتیاز کے بغیر ان کا تجربہ ہر زمین پر ہر شخص کو کم و بیش ایک ہی طرح سے ہوتا ہے۔

          4۔ انفرادی موضوعات : ان کا تعلق ایک مخصوص فرد، ایک مخصوص قوم اور ایک مخصوص علاقے سے ہوتا ہے۔ لیکن یہ انفرادی موضوعات بعض حالتوں میں انفرادی نہ رہ کر اجتماعی ہوجاتے ہیں۔

موضوعات (مسائل) کی یہ شکلیں بتانے کے بعد ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ ایک تخلیق کار اپنی تخلیق میں انہیں موضوعات سے معنی کشید کرتا ہے۔ یعنی تخلیق سے باہر جو چیز موضوع کی شکل میں نظر آتی ہے تخلیق کے اندر وہی شے معنویت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

ان معنویتوں/ موضوعوں کی شکلیں بتانے کے بعد یہیں پر ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ غالب کی شاعری میں ہماری تقسیم والی چاروں معنویتیں موجود ہیں۔ غالب کے ساتھ اکیسویں صدی میں قدم رکھنے سے قبل اب ذرا یہ بھی دیکھ لیجیے کہ جن مختلف معنویتوں کی شکلیں ہم نے آپ کے سامنے پیش کی ہیں وہ اصلاً ہیں کیا۔ سب سے پہلے دائمی یا آفاقی یا ازلی معنویتوں یا مسئلوں کو دیکھےے۔ یہ معنویتیں اس طرح ہیں:

ذات اور کائنات کا طلسم، وجود کے تئیں ہمارا استفہام، دنیا میں ہمارے خلق ہونے کی غرض و غایت، موت کی ناگزیری، دنیا کی بے ثباتی، زندگی کا جبر، زیاں کا احساس، خوفِ مرگ، رنجِ رائیگاں، عدمِ تحفظ، تنہائی، مایوسی، بے یقینی، ذات کا انتشار، باطن کی پیکار، ہونے کا آزار، نہ ہونے کا وہم وغیرہ۔ یہ دائمی اور آفاقی مسائل ہیں اور یہ آج سے دو سو برس بعد یعنی تئیسویں صدی میں بھی اسی طرح موجود رہیں گے۔ یہ ضرور ہے کہ ان میں سے بعض کی حالتوں اور کیفیتوں میں بہ اعتبارِ وقت تبدیلی واقع ہوتی رہے گی۔ مثلاً مایوسی، بے یقینی، عدمِ تحفظ، عدم حوصلگی اور زیاں کا جو احساس ہمیں 1857 کے غدر یا پہلی جنگ عظیم میں ہوا تھا، اس سے کہیں زیادہ دوسری عالمگیر جنگ میں ہوا۔ جب تقسیم اور اس کے بعد فسادات کے المناک واقعات رونما ہوئے تو اس احساس میں پھر تیزی آئی اور بیسویں صدی کے آخری اور اکیسویں صدی کے پہلے دہے میں ایک عبادت گاہ کی مسماری اور بہ رضائے ریاست ایک صوبے میں ایک مخصوص جمیعت کی صف کُشی کے دل دہلادینے والے مناظر سامنے آئے تو ہم ایک نئے طرح کے آزار و اضطراب میں مبتلا ہوئے اور عدمِ تحفظ کے احساس نے ہمیں لرزہ براندام کردیا۔ اور آج اکیسویں صدی کے دوسرے دہے کا منظرنامہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ ایک مخصوص طبقہ پھر نشانے پر ہے۔ اس طبقے کو جس نوع کے انفرادی اور اجتماعی تشدد کا شکار ہونا پڑرہا ہے اور جس طرح ایک خاص خطے کے حدود کو بندی خانوں میں بدل کر محصور لوگوں کی زبانوں کو بند کردیا گیا ہے اس نے ہمیں ہونے اور نہ ہونے کے وہم میں مبتلا کردیا ہے۔

درج بالا بیان کے ذریعے ہم جس نکتے کو زیادہ نمایاں کرنا چاہ رہے ہیں وہ یہ کہ دائمی اور آفاقی مسئلوں یا معنویتوں کی حالتیں یا کیفیتیں تو بدل سکتی ہیں لیکن ان کی اصل میں کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ مثلاً مایوسی، بے یقینی، تنہائی اور غم کی حالت ہر شخص پر طاری ہوتی ہے اور ہر زمانے میں طاری ہوتی ہے۔ مخصوص حالتوں میں کسی کو اس کا زیادہ احساس ہوتا ہے کسی کو کم۔ جب غالب یہ کہتے ہیں:

کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہلِ بزم

ہو غم ہی جاں گداز تو غمخوار کیا کریں

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا غم بہ اعتبارِ حالت کم ہوتا ہے اورکسی کا جان کو گھلا دینے والا۔ دائمی اور آفاقی حالتوں یا معنویتوں کا ذکر کرنے کے بعد اب آئیے فوری، یک عہدی یا وقتی موضوعوں یا معنویتوں کی طرف۔ یہ معنویتیں عارضی اور مخصوص حالتوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا زمانہ کبھی بہت مختصر ہوتا ہے اور کبھی ان کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے۔ مثلاً بیسویں صدی کے آخری دہے میں بنیادپرستی اور مذہب زدگی میں شدت پیدا ہوگئی تھی، اقلیتوں کی وفاداری پر سوالیہ نشان قائم کئے جانے لگے تھے۔ قومی وقار و افتخار کی نئی تعریفیں وضع کی جانے لگی تھیں۔ نیز مذہب شناسی کے نام پر منافرت کو ہوا دی جارہی تھی۔ ذات پرست اور مذہب اساس سیاست کا کھیل کھیلا جانے لگا تھا۔ اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں اقتدار میں آنے کے لیے انہیں موضوعوں/ مسئلوں کو اور ہوا دی گئی اور اس ہوا کے تیز تھپیڑوں کو ہم آج بھی محسوس کررہے ہیں۔ لیکن یہاں ہم آپ کو ایک باریک فرق بھی بتاتے چلیں کہ فوری اور وقتی معنویتیں بعض صورتوں میں ہمہ زمانی بھی ہوجاتی ہیں مثلاً بیسویں صدی کے آخری دہے میں پیدا ہونے والے مسائل پر اگر کسی نے کوئی شعر کہا ہے اور اُس شعر میں زمانے کے تعین کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے تو چونکہ یہ حالتیں اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں بھی موجود ہیں اس لیے اس زمانے میں کہے جانے والے شعر کا اطلاق 2021 کے بعد کے زمانے پر بھی کیا جاسکتا ہے اور اس طرح وہ شعر وقتی نہ رہ کر ہمہ زمانی ہوجائے گا۔ مشہور ترقی پسند شاعر سردار جعفری کے دو شعروں سے یہ بات زیادہ واضح ہوجائے گی۔

شعر یہ ہیں:

کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا

راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا

تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہوں شاہد

بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا

یہ شعر غالباً 1950 سے پہلے کسی مخصوص اور ہنگامی حالت کے نتیجے میں کہے گئے تھے۔ لیکن جب ایمرجنسی کے زمانے میں دہلی کے ایک بڑے مشاعرے میں سردار جعفری نے ان شعروں کو بقول شخصے حال ہی میں کہے ہوئے شعروں کے طور پر پڑھا تو مشاعرے کی چھتیں اڑ گئیں۔ اس کے برعکس غالب کا مشہور قطعہ : ’بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج….، اس میں انگلستاں اور دہلی کے لفظوں کے آجانے کی وجہ سے یہ قطعہ جگہ اور زمانے سے مخصوص ہوگیا ہے اور یہ اکہری اور وقتی معنویت سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

موضوعوں اور معنویتوں کی اس تقسیم و تخصیص کے بعد اب آئیے دیکھیں کہ غالب کے شعروں میں یہ موضوع یا معنویتیں کس طرح نظر آتی ہیں۔ سب سے پہلے آفاقی معنویتوں کی طرف آتے ہیں اور ان میں بھی پہلے فنا، زوال اور دنیا کی بے ثباتی کا موضوع لیتے ہیں اور اس کے لیے اس شعر کے مفہوم کو غور سے ملاحظہ کیجیے:

کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہلِ بزم

ہو غم ہی جاں گداز تو غمخوار کیا کریں

بظاہر شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اہلِ بزم شمع کے خیرخواہ تو ہیں لیکن شمع کا غم ہی ایسا ہے جو لاعلاج ہے اس لیے اہلِ محفل بہی خواہی کے جذبے کے باوجود شمع کا غم دور نہیں کرسکتے۔

یعنی شمع کا کام اور اس کا انجام ہی یہ ہے کہ وہ پگھلتے پگھلتے ختم ہوجائے۔ ایسی صورت میں اس سے ہمدردی تو کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لوازمِ ذاتی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ شمع کا وجود عبارت ہے جلنے سے اور جل کر ختم ہوجانے سے۔ اس لیے ایسی شے کی غمخواری جس کا غم جاں گداز ہو حقیقتاً ممکن نہیں۔ شمع کی جاں گدازی کو ختم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ شمع کو بجھادیا جائے لیکن اس طرح شمع کی موت ہوجائے گی اس لیے کہ شمع کی زندگی اپنی شمعیّت (روشن رہنے) کی وجہ سے ہے۔ اسے گل کردینے سے یہ شمعیّت ختم ہوجائے گی یعنی شمع کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس طرح دونوںصورتوں میں شمع کی موت یقینی ہے۔ پہلی صورت میں جلتے جلتے ختم ہونا اس کا فنا ہونا ہے اور دوسری صورت میں اِس فنا کے سلسلے کو روک دینا دراصل اسے (شمع کو) مار ڈالنا ہے۔

غالب نے اپنے ایک شعر میں، جسے اوپر نقل کیا جاچکا ہے، اپنے ہر لفظ کو گنجینۂ معنی کا طلسم کہا تھا سو اس شعر میں بھی ہر لفظ معنی سے معمور ہے۔ اس کی مثال لفظ غمخواری ہے جس نے شعر کے مفہوم کو متحرک کردیا ہے۔

غمخواری کا مطلب ہے کسی کے غم میں شرکت کرنا یعنی اسے اپنا لینا۔ اس طرح اہلِ بزم کا شمع کی غمخواری کرنا خود بھی جاں گدازی کے مرحلے سے گزرنا ہے۔ چونکہ شمع کی جاں گدازی اس کے روشن ہونے کی بنا پر ہے اور شمع کا روشن ہونا بزم کے وجود یعنی اہلِ بزم کا موجب ہے۔ اگر شمع کے غم کی جاں گدازی ختم کردی جائے تو بزم باقی نہیں رہے گی اور اگر شمع کی غمخواری کی جائے تو اہلِ بزم خود اس کا شکار ہوجائیں گے اور اس طرح بھی بزم کا باقی رہنا مشکل ہے۔ یعنی جس المیہ نظام سے شمع دوچار ہے اسی نظام میں اہلِ بزم بھی مبتلا ہیں۔ اس لیے نہ صرف شمع بلکہ اہلِ بزم اور بزم کے تمام لوازم فنا کا شکار ہیں۔ اس طرح غالب کا یہ شعر اس پورے نظامِ کائنات کو ظاہر کرتا ہے جہاں ہر شے فنا میں مبتلا ہے۔

فنا اور بے ثباتی کا یہ المیہ نظام تئیسویں صدی بلکہ تیسرے ہزارے کے بعد بھی قائم رہے گا اور غالب اس وقت بھی بامعنی رہیں گے۔ غالب کو بامعنی بتانے میں میں بہت دور تک چلا گیا۔ چھوڑیے اتنے آگے کے زمانے کو۔ اس شعر میں جاں گدازی اور غمخواری کے الفاظ کو بالکل تازہ مفہوم تک لاتے ہیں۔ غالب کے اس شعر کی شمع وقت اورزمانہ بدل کر کوئی پینتالیس دن سے جاں سوزی اور جاں گدازی کے عالم میں ہے۔ اس شمع کی طرف آپ کا ذہن منتقل ہوا؟ اگر نہیں تو ہم بتاتے ہیں۔ یہ شمع ہری بھری وادیوں کے فانوس میں روشن ہے اور اس کی لَو کی نیلاہٹ روز بہ روز کم ہورہی ہے۔ ہم سب اس شمع کے غمخوار ہیں۔ اس شمع کی جاں سوزی ایک شب کی نہیں بلکہ ہزاروں شبوں کی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم اس کے غم میں شریک ہوتے ہیں تو موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ ہمیں بھی جاں گدازی کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا بلکہ ہماری جاں گدازی شمع کی جاں گدازی سے زیادہ بڑھ جائے گی۔ دوسری طرف وہ لوگ جو شمع کی جاں گدازی کو ختم یعنی اس کے دکھ کو دور کرنے کے بہانے اسے بجھادینے کے درپے ہیں، وہ شمع کو اس کی شمعیّت یعنی اس کی شناخت سے محروم کردینا چاہتے ہیں۔ یہ کھلے ہوئے اشارے آپ نے یقینا سمجھ لیے ہوں گے۔ تو دیکھیے انیسویں صدی میں کہا ہوا شعر اکیسویں صدی کے دوسرے دہے کی تازہ ترین صورتحال پر کس طرح منطبق ہوتا ہے۔

وجود و عدم کے مسائل فارسی میں بیدل اور اردو میں غالب کے یہاں سب سے زیادہ بیان کئے گئے ہیں۔ وجود کی بوالعجبیوں اور نیرنگیوں کی تفسیریں ہر عہد میں کی جاتی رہی ہیں۔ چنانچہ بیسویں صدی کے ربعِ ثالث میں فرانسیسی مفکر ژاں پال سارتر نے اپنی دانست میں وجود کی نئی تفسیر اس مشہور فقرے کے ذریعے کی: ”آزادی ہی انسان کی قید ہے۔“ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ سارتر کے اس وجودی فقرے کے معنی کیا ہیں۔ ابھی ہم اس فقرے پر غور کرہی رہے تھے کہ ہماری نگاہ غالب کے اس شعر پر ٹھہری:

کشاکش ہائے ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادی

ہوئی زنجیر موجِ آب کو فرصت روانی کی

یہ شعر پڑھ کر ہمیں معاً یہ محسوس ہوا جیسے ہم نے سارتر کے اس کلیدی فقرے کے مفہوم کو سمجھ لیا ہو۔ اب شعر کا مفہوم ملاحظہ کیجیے:

یہ دنیا سمندر ہے۔ ہم اس میں ایک موج کی مانند ہیں۔ جس طرح موج کو سمندر میں ہمیشہ بہتے رہنا ہے یعنی کشاکش سے گزرتے رہنا ہے اور جس طرح اب کنارہ اس کے مقدر میں نہیں ہے اسی طرح ہمیں بھی دنیا کی کشاکش سے آزادی نہیں مل سکتی ہے درحالیکہ ہم آزاد ہیں۔ جس طرح روانی کی فرصت موج کے لیے زنجیر بن گئی ہے اسی طرح اس دنیا میں آزادی ہمارے لیے زنجیر بن گئی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ اپنے زمانے میں کہے ہوئے شعر کے ذریعے غالب نے بیسویں صدی کے سب سے نمایاں فلسفی کے وجودی فقرے کو کتنی آسانی سے سمجھا دیا۔ اب اگر ہم فرانسیسیوں سے کہیں کہ وجود کی اس نوع کی تفسیر میں زمانی فضیلت غالب کو حاصل ہے تو کیا انہیں آسانی سے یقین آئے گا۔

انسانی ذہن میں جس دن سے ذکاوت پیدا ہوئی ہے، اسی دن سے کائنات کے اسباب و علل کو سمجھنے کی کوشش شروع ہوگئی ہے۔ غالب کے یہاں ان اسباب و علل کو سمجھنے کی سعی جگہ جگہ موجود ہے۔ یہ شعر ملاحظہ کیجیے:

شوق اُس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں

جادہ غیر از نگہہِ دیدۂ تصویر نہیں

اس شعر میں غالب نے جادہ کو غیر از نگہہِ دیدہ تصویر کہہ کر مفہوم کو بالکل منفرد کردیا ہے۔ تصویر اگر سامنے دیکھتی ہے تو اس کی نگاہ جدھر سے بھی دیکھیے اپنی طرف معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ تصویر کسی اور رخ کو دیکھ رہی ہے تو اس رخ کی طرف کھسکتے جائیے، نگاہ بھی کھسکتی جائے گی۔ تصویر کی نگاہ کسی نہ کسی طرف جاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً کسی بھی طرف نہیں جاتی۔ یہی حال دشت کا ہے جہاں راستہ مسدود نہ ہونے کی وجہ سے جس طرف دیکھیے راہ کھلی ہوئی نظر آتی ہے یعنی ہر طرف جادہ نظر آتا ہے مگر جادہ کہیں نہیں ہے۔

یعنی میں اس دشت میں دوڑ رہا ہوں جہاں راستے کا تعین بھی نہیں ہے اور جہاں مجھ سے پہلے کسی اور شخص کا گزر نہیں ہوا ہے، اگر مجھ سے پہلے کوئی شخص گزرا ہوتا تو یہاں جادہ ضرور بن جاتا اس لیے کہ جادہ انسان کے قدموں ہی سے بنتا ہے۔

اب اس جادے سے خالی دشت میں دوڑنے کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ میں شوق کے ہاتھوں سعیِ رائیگاں میں مبتلا ہوں اور دوسرے یہ کہ اس شوق نے مجھے سرگرمِ عمل کردیا کہ جہاں جادہ نہیں ہے اس دشت کو بھی چھانتا پھر رہا ہوں۔

یہ شعر ہمارے اس ذہنی اور مابعد الطبیعییاتی تجربے کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم اس پوری کائنات کے اسباب و علل کو سمجھنے کے شوق میں مبتلا ہیں لیکن جس کا نتیجہ فقط حیرانی ہے۔ یہ مابعدالطبیعییاتی تجسس (Metaphysical curiosity) آپ کو افلاطون سے لے کر اسٹیفن ہاکنگ تک ہر جگہ نظر آئے گا۔ غالب کے ایسے شعروں کا سفر کیجیے تو ذہنی اور مابعدالطبیعییاتی مسائل سے ان کی پیکار و آویزش آئندہ زمانوں کو حیران کردینے والی ہے۔

اب چلتے ہیں ایک اور دلچسپ نکتے کی طرف۔ یہ بات کہ ”انسانی وجود اور کائنات کی پیچیدہ حقیقت کا احاطہ کرنے میں عقل ناکام ہے۔“ دنیا کے مشہور فلسفیوں پاسکل، کرکے گار، نطشے، یاسپرس، ہزرل، ہائیڈیگر اور سارتر وغیرہ میں مشترک ہے۔ لیکن اسی بات کو غالب ان فلسفیوں سے بہت پہلے اپنے بیسیوں شعروں میں بیان کرچکے ہیں۔

حیرت اور استفہام میں ڈوبے ہوئے یہ شعر تو آپ کی زبان پر فوراً آجاتے ہیں:

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود

پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

یہ اور ایسے بہت سے شعر بتاتے ہیں کہ غالب کا نابغہ زمان و مکان کے حدود و قیود سے آزاد ہے۔

 آفاقی معنویتوں میں وجودیت کا ذکر ابھی کیا جاچکا ہے۔ اب آئیے ایسی ہی کچھ اور معنویتوں کی طرف۔ یہ ہیں: اجنبیت، معدومیت اور مہملیت۔

معدومیت کی اصطلاح روس میں انیسویں صدی کے دوسرے ربع میں ایواں ترگینیو کے ناول

Fathers And Sons(1860)

کے وسیلے سے سامنے آئی۔ اس ناول کا مرکزی کردار بازاروف خود کو معدومیت پسند کہتا تھا۔ یہ ذہنی معدومیت تھی اور اس زمانے کی مخصوص حالتوں کے نتیجے میں سامنے آئی تھی۔ یہی معدومیت غالب کے یہاں بھی ہے لیکن غالب کے یہاں یہ معدومیت ذہنی بھی ہے اور روحانی بھی۔ اس معدومیت کے ضمن میں ہوسکتا ہے غالب کا یہ مشہور شعر مجھ سے پہلے آپ کے ذہن میں آگیا ہو:

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

خود ہماری خبر نہیں آتی

سہلِ ممتنع کے سے انداز میں کہے جانے والے اس شعر کا ظاہری مفہوم تو آپ نے سمجھ ہی لیا ہوگا لیکن باطنی مفہوم میں سوال یہ ہے کہ ہم کہاں ہیں جہاں سے ہم کو ہماری خبر نہیں مل رہی ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہم عدم میں ہیں یعنی ہم نہیں ہیں۔ تو جو نہیں ہے اسے ’ہے‘ والی شے کی خبر کیونکر مل سکتی ہے۔ یعنی معدوم کو موجود کی خبر ملنا محال ہے اور موجود بھی وہ جو قیاسی، موہوم اور اعتباری ہے۔ اس کے لیے خود غالب کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے:

ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد

عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے

یا میر کا یہ شعر:

یہ توہم کا کارخانہ ہے

یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

سارتر نے

 (Being and Nothingness)

 کے مسائل پر عالمانہ انداز میں بہت بعد میں غور کرنا شروع کیا لیکن غالب ”ہونے اور نہ ہونے“ کے معاملات کو بہت پہلے اپنے شعروں میں بیان کرچکے تھے۔

‘بیگانہ’ کے سے شہرۂ آفاق ناول کے خالق البیئر کامیو نے لغویت اور مہملیت

(Absurdity and Nihilism)

کے بارے میں بتایا ہے کہ اس کا احساس درج ذیل چار صورتوں میں ہوتا ہے:

          1۔ اس بات پر غور کرنا کہ ہمارے وجود کی غرض و غایت کیا ہے۔

          2۔ اس بات کا خاطر نشین ہوجانا کہ وقت ایک تخریبی قوت ہے۔

          3۔ اس بیگانہ دنیا میں لاکر چھوڑ دیے جانے کا احساس۔

          4۔ دوسروں سے بے تعلقی کا احساس۔

ان چاروں صورتوں کو غالب نے اپنے کلام میں بہ ہزار صورت بیان کیا ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

جب کہ تجھ بِن نہیں کوئی موجود

پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم

لغو ہے آئینۂ فرقِ جنون و تمکیں

بیگانگیِ خلق سے بے دل نہ ہو غالب

کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے

ان شعروں کے مفاہیم بیان کرنے میں بڑا وقت لگ جائے گا۔ شعروں کو سن کر آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ کامیو کی بتائی ہوئی چاروں صورتیں یہاں موجود ہیں اور بہت سے معنوی ارتعاشات کے ساتھ موجود ہیں۔

لغویت اور مہملیت کی وضاحت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کے شدید احساس کی بنا پر انسان شدید ذہنی تنہائی

(Loneliness)

میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس تنہائی کا احساس غالب کے یہاں دیکھیے

وحشتِ آتشِ دل سے شبِ تنہائی میں

صورتِ دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق

بیکسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

اور ”کوئی نہ ہو“ ردیف والے وہ تین شعر تو ہم سب کی زبانوں پر ہیں جن میں غالب نے دنیا سے اپنی بے تعلقی، بے دلی اور بیزاری کا ذکر کیا ہے۔

اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اسے سننے کے بعد اب آپ خود فیصلہ کیجیے کہ ان دقیق، پیچیدہ اور مشکل موضوعات کے بیان میں زمانی سبقت کسے حاصل ہے۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ اردو کے بعض مغرب زدہ نقاد اپنے علمی دبدبے کو ظاہر کرنے کے لیے مغربی فلسفیوں اور نقادوں کا ذکر کےے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ مقامِ افسوس ہے کہ ہم اپنے خزانوں کو کھنگالنے کے بجائے دوسروں کے دفینوں پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔

ہماری اب تک کی گفتگو غالب کے یہاں موجود آفاقی اور ہمہ زمانی موضوعات سے متعلق تھی۔ اب آئےے یک عہدی یعنی عصری اور انفرادی معنویتوںکی طرف لیکن اس سے پہلے کہ ہم ان معنویتوں کو ظاہر کریں، آپ کو بتادیں کہ غالب کے شعروں میں چونکہ زمانی اور مقامی تعین ہے ہی نہیں اس لیے اگر ان کے یہاں کوئی عصری یا مقامی موضوع ہوتا بھی ہے تو معنویت اس کی ہمہ زمانی ہوجاتی ہے۔ اب اسی شعر کو دیکھیے:

گلشن میں بندوبست برنگِ دگر ہے آج

قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج

قیاس کہتا ہے کہ غالب نے یہ شعر مغلیہ سلطنت کے زوال پر کہا ہوگا لیکن اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں یہ شعر پڑھیے تو ایسا لگتا ہے کہ غالب نے حال ہی کے ایک واقعے (5 اگست 2020) کو نگاہ میں رکھ کر یہ شعر کہا ہے۔ خیر پہلے شعر کے مرکزی مفہوم پر نظر کیجیے۔ اس مرکزی مفہوم تک حلقۂ بیرونِ در کی تشریح کے بغیر نہیں پہنچا جاسکتا۔ قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در کا استعارہ ہے۔ حلقۂ بیرون در دروازے کے باہر کی زنجیر کا حلقہ ہے جسے کھٹکھٹاکر آمد کی اطلاع دی جاتی ہے اور داخلے کی اجازت طلب کی جاتی ہے۔

حلقۂ  بیرونِ در مکان سے بظاہر غیر متعلق ہونے کے باوجود متعلق ہوتا ہے۔ یعنی مکان میں داخل ہونے کے لیے پہلا وسیلہ ہی حلقہ  بیرونِ در ہے۔ یہ حلقہ قمری اور باغ کے درمیان قدرِ مشترک ہے۔ قمری کے گلے کا حلقہ باغ کے اندر ہوتا ہے یعنی وہ باغ کا لازمہ ہے اور وہ حلقہ جو دستک دینے کے کام آتا ہے، باغ کے باہر ہوتا ہے۔ لیکن نئے بندوبست میں یہ دونوں حلقے ایک ہوگئے ہیں۔ یعنی پہلے قمری باغ کے اندر تھی اور اب (نئے بندوبست میں) باغ کے باہر ہے۔

یہاں قمری کے طوق کو باغ میں رہنے یا باغ پر متصرف ہونے کی علامت بنادیا گیا ہے۔

دوسری طرف قمری کا طوق یعنی حلقۂ بیرونِ در بیک وقت آزادی، محرومی اور زوال کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے۔ آزادی یہ کہ قمری جو عشقِ گل میں گرفتار تھی اب باغ سے باہر گو آزاد ہے مگر اس کی محرومی اور زوال یہ ہے کہ وہ باغ کا معزز اور ممتاز پرندہ اور عاشقِ گل تھی لیکن باغ سے باہر ہونے کی وجہ سے ایک طرف وہ عشقِ گل سے محروم ہوگئی اور دوسری طرف وہ اپنے اعزاز و امتیاز سے۔

اب محرومی اور زوال کے مفہوم کو سامنے رکھیے تو یہ شعر اس خطے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں کے رہنے والوں کو حال ہی میں ان کی روایتی سہولتوں سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور اگر آزادی کے مفہوم کو ملحوظ رکھیے تو شعر کی علامتی جہت یہ ہوگی کہ دوسروں کے زیرِانتظام آجانے کے بعد اگرچہ وہاں کے باشندے صوبائی امور کی تمام الجھنوں سے آزاد ہوجائیں گے لیکن یہ آزادی غلامی سے بدتر اور غلامی ہی کی ایک شکل ہوگی۔

درج بالا سطور میں ہم نے بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل کے اِن مشترک مسائل کا ذکر کیا تھا:

 ‘بنیادپرستی اور مذہب زدگی، قومی وقار و افتخار کی نئی تعریفوں کا وضع کیا جانا، مذہب شناسی کے نام پر منافرت کو ہوا دیا جانا، وفاداریوں پر سوالیہ نشان کا قائم کیا جانا، تاریخ اور ثقافت کی نئی تعبیر کے لیے تعلیم کو ایک مخصوص نظریے کا ترجمان بنایا جانا نیز انفرادی اور اجتماعی تشدد وغیرہ۔’

پچھلے پچاس ساٹھ برس کی تاریخ کے ورق الٹیے تو حکومتوں کی تخصیص و تفریق کے بغیر ایک مخصوص طبقہ ان مسائل کا شکار ہوتا رہا ہے۔ اب غالب کے اس شعر میں اس مخصوص طبقے کی فریاد سنیے:

خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو

وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے

عام طور پر بال و پر کا ماتم فصلِ گل میں ہوتا ہے لیکن غالب نے خزاں کو شامل کرکے مفہوم میں ندرت پیدا کردی ہے۔ فصلِ گل میں اڑنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے اسی لیے بال و پر کے نہ ہونے کا ماتم اسی فصل میں کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو اسیری بلکہ دائمی اسیری ہے اس لیے ہم خزاں میں بھی وہی ماتم کررہے ہیں۔ یعنی زمانے کے سرد و گرم ہمارے لیے ایک سے ہیں۔

علامتی مفہوم یہ ہے کہ نظامِ حکومت کوئی بھی ہو محرومی اور ستم آزاری ہمارا مقدر ہے۔ اور ’ہمارا‘ سے مراد ایک مخصوص طبقہ ہے۔

یہاں تک آتے آتے منتخب مثالوں کے ذریعے ہم نے غالب کے یہاں قریب قریب ان تمام موضوعوں اور معنویتوں کا احاطہ کرلیا ہے جن کی ابتداً ہم نے درجہ بندی کی تھی۔

میں نے اپنے کسی مضمون میں لکھا ہے کہ جو منظم ادبی اور سماجی فلسفے ظہور میں آتے ہیں وہ غیر منظم شکل میں ہمارے بڑے فنکاروں کی تخلیقوں میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ تو غالب کے ساتھ ہم ایک ایسے ہی ادبی نظریے کی طرف چلتے ہیں جو بیسویں صدی کے اواخر میں باہر سے ہمارے یہاں لایا گیا اور ایک انوکھے ادبی نظریے کے طور پر اس کا خوب گُن گایا گیا۔

ژاک دریدا کا نام کوئی پینتیس چھتیس برس پہلے میں نے لکھنؤ کی برٹش کاؤنسل لائبریری میں بیٹھ کر اخبار ’گارجین‘ میں پڑھا تھا۔ اس وقت تک دریدا اردو میں پوری طرح نمودار نہیں ہوئے تھے۔ ’گارجین‘ نے دریدا کو پورا ایک صفحہ اس لیے دیا تھا کہ اس وقت کیمبرج یونیورسٹی کی انتظامیہ میں دریدا کی اعزازی رکنیت کے معاملے میں تنازعہ چھڑا ہوا تھا۔ دریدا پر ’گارجین‘ نے

Text Detective

 (مُفتّشِ متن) کے نام سے ایک مضمون شائع کیا تھا اور اسے اپنے عہد کا نابغہ قرار دیا تھا۔ اس وقت اس مضمون میں

Deconstruction

کا لفظ میری سمجھ میں نہ آیا اور سچ پوچھیے تو ابھی بھی میں اسے براہِ راست سمجھنے سے قاصر ہوں۔ بس اردو کے بعض بہت دانا اور زیرک نقادوں کے ذریعے جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہ یہ کہ متن کو جتنی بار کھنگالیے، الٹیے، برہم کیجیے، جتنی بار اس کے وقفوں، درزوں اور جھروکوں میں جھانکیے ہر بار اس کے اندر نئے معنی بلکہ اصل معنی کے برعکس معنی نکلتے ہیں۔ کچھ دیر پہلے ہم نے سارتر کی وجودیت کی اصل کو غالب کے یہاں ڈھونڈ نکالا تھا۔ اب اس شعر میں دریدائی طریقۂ کار کو منکشف ہوتا ہوا دیکھیے۔ یہ بھی بتادیں کہ غالب کی تعبیروں میں اس طریقے کو سب سے پہلے طباطبائی نے رسمی طور پر اور نیرمسعود نے باقاعدہ اختیار کیا۔ شعر یہ ہے:

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے

یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے

یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ متحرک معنویت غالب کے اشعار کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اس شعر میں بھی غالب نے مفہوم کو متحرک کردیا ہے۔ دیکھیے کیسے۔

چونکہ دل غم کھانے میں بہت بودا ہے اس لیے شراب کی ضرورت ہے۔ لیکن جتنا غم ہے اس کے بقدر شراب نہیں ہے۔ مقابلتاً شراب کی اس کمی کے احساس کی وجہ سے رنج میں اور اضافہ ہورہا ہے اور رنج میں اس اضافے کے ساتھ شراب کی کمی اور زیادہ محسوس ہورہی ہے۔ اس طرح رنج برابر بڑھتا جارہا ہے اور شراب کی مقدار اس کے تناسب سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اب متن کو برہم کیجیے تو متخالف

(Paradoxical)

 معنی بھی سامنے آئیں گے۔  یعنی یہاں حوصلہ بھی ہے اور عدمِ حوصلہ بھی۔ عدمِ حوصلہ یہ کہ غم کھانے میں دلِ ناکام بہت کمزور ہے اور حوصلہ یہ کہ مئے گلفام بہت کم ہے، اسے بقدرِ ظرف یعنی میرے غم کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔

آپ نے دیکھا کہ متن کو برہم کرنے کے بعد شعر میں برعکس اور متخالف معنی موجود نظر آنے لگے اور یہ معنی اس لیے نظر آنے لگے کہ غالب نے تخالف اور تقلیب کی منطق ہی سے اس شعر کی تخلیق کی ہے۔

دریدا یہی تو کہتا ہے کہ متن جو دکھاتا ہے، بتاتا اس کے برعکس ہے۔ یہی بات غالب نے عملاً اپنے شعروں کے ذریعے بتادی۔ غالب کے یہاں دریدا کے نکتے کی وضاحت میں ہم نے بظاہر سامنے کا ایک سادہ شعر لیا ہے لیکن غالب کے مشکل اور پیچیدہ شعروں کی طرف جائیے تو متن کے اندر سے معنی کو منکشف کرنے کا دریدائی مطالبہ ہر طرح سے پورا ہوتا ہوا نظر آئے گا۔

اگر میں شعروں کی تشریح کے ذریعے اکیسویں صدی میں غالب کی معنویت کو روشن کرنا شروع کروں گا تو یہ مقالہ پھیلتا چلا جائے گا سو اس حرف دراز خامے کو گرفت میں رکھتے ہوئے آپ کو اپنے اس احساس میں شریک کرنا چاہتا ہوں کہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ہم بہت سنگین اور جاں سوز مراحل سے گزر رہے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم اور تقسیم کے المیے کے بعد ہم میر کی پناہ میں چلے گئے تھے۔ موجودہ صدی کے دوسرے دہے کے لیے ہمیں غالب کی طرف دیکھنا پڑرہا ہے۔ جو کچھ اس دہائی میں یا اس سے پہلے ہوا اس کا ذکر ہم سطور بالا میں کرچکے ہیں۔ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بعض زمانی مسائل کو نگاہ میں رکھ کر شعر نقل کرکے ان کی معنویتیں بتادی جائیں۔

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے

کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

ایک مخصوص طبقے کی وفاداری پر سوالیہ نشان اٹھائے جانے پر اس طبقے کا ردِّ عمل۔

 آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے

کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا

ایک حکمراں کا حکومت قائم کرتے وقت سب کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنے کا وعدہ کرنا اور اس پر عمل نہ کرنا۔

کام اس سے آپڑا ہے کہ جس کا جہان میں

لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر

 ‘جنت نظیر’ خطے میں بہ حالتِ مجبوری نظریاتی سطح پر ایک دوسرے کی ضد سمجھی جانے والی جماعتوں کی یکجائی کے وقت کی بے بسی۔

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر

ہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہوجائے گا

معنویت اپنے ہی باغ سے نکالے جانے والے کو اسی باغ میں سبزباغ دکھا کر لے جانے پر اصرار کے وقت نکالے جانے والے کا ردِّعمل۔

 ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں

ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور

معنویت اُن طاقتوں کے سامنے شدید اور مسلسل مزاحمت جن کا زور کسی طرح کم ہوتا ہوا نظر نہےں آتا۔

 روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے

کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے

 ایک مخصوص طبقے کے لیے منفی مقاصد کو نگاہ میں رکھ کر نافذ کیے جانے والے احکام۔

شعروں کے مقابل ان کی عصری معنویتیں رکھ دینے کے بعد عرض کرتا چلوں کہ ایسا میں نے اپنے موضوع کی مجبوری کی بنا پر کیا ہے ورنہ اپنے طریقۂ کار کے مطابق میں شعروں کو اکہرے مفاہیم میں نہیں باندھتا۔ نقل کیے ہوئے شعر اپنے معنوی امکانات کی وجہ سے متعدد موضوعات پر منطبق ہوسکتے ہیں۔

آخراً جو کچھ کہتے آئے ہیں اس کے ماحصل کے لیے یہ دو جوہر دار شعر اور ملاحظہ کرلیجیے:

کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید نہ پوچھ

برنگِ خار مرے آئینے سے جوہر کھینچ

عرض کیجیے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں

کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

پہلا شعر:

 کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید نہ پوچھ

برنگِ خار مرے آئینے سے جوہر کھینچ

آئینہ اپنے جوہر کے ذریعے اشیا کو منعکس کرتا ہے۔ یعنی آئینے سے یہ جوہر نکل جانے سے اشیا کا انعکاس نہیں ہوسکتا۔

اشیا کا بہت زیادہ انعکاس آئینے کو حیرانی یعنی اذیت میں مبتلا کردیتا ہے۔ جس طرح (جسم سے) کانٹا نکل جانے کے بعد تکلیف ختم ہوجاتی ہے اسی طرح آئینے سے اس کا جوہر نکل جانے سے مشاہدے کی اذیت ختم ہوجاتی ہے۔

غالب نے اس شعر میں ایک ایسے شخص (سمجھ لیجےے کہ خود غالب) کی صورتحال کو پیش کیا ہے جو زیادہ سے زیادہ اشیا کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہے اور چونکہ یہ مشاہدہ اس کے لیے تکلیف دہ بھی ہے اس لیے وہ چاہتا ہے کہ تکلیف ختم ہوجائے۔ بتادیں کہ غالب کے یہاں مشاہدے کی یہ اذیت ہرجگہ موجود ہے۔ کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید دراصل مشاہدے کی وہ بے پناہی ہے جو انسان کو بالآخر پراگندہ

 (confuse)

 کرد یتی ہے اور پھر وہ اس پراگندگی سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے۔

کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید کا اطلاق، بتایا جاچکا ہے، خود غالب پر ہوتا ہے۔ ان کا مشاہدہ بے پناہ بلکہ لازمانی ہے۔ ان کی آنکھ کئی زمانوں کی فصیلوں کے اُس طرف دیکھ لیتی ہے اور جو کچھ انہیں دکھائی دیتا ہے اس کی پراگندگی کا سبب یہ ہے کہ جو انہیں دکھائی دے رہا ہے وہ دوسروں کو کیوں نہیں دکھائی دیتا۔

دوسرا شعر:

عرض کیجیے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں

کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

اس شعر کے مصرعہ اولیٰ میں لفظ ’کہاں‘ پر غور کیجیے:

وحشت کو بروئے کار لانے کی جگہ صحرا ہے اور صحرا میری وحشت کے تصور ہی سے جل گیا۔ تو اب (اس عالمِ امکان میں) کون سی جگہ ہے جہاں میں اپنی وحشت کو لے جاکر سماؤں یعنی جس کی گرمیِ فکر کا یہ عالم ہو کہ وہ عملِ تصور ہی میں صحرا (کائنات) کو جلادے اسے موجودات میں ہر شے ناقص اور نامکمل نظر آئے گی اور یہ ظرفِ کائنات ایسی فکر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اور یہ ظرفِ کائنات جس فکر کا متحمل نہیں ہوسکتا وہ دراصل غالب کی فکر ہے۔  ان کے دائرۂ  دانش میں ناموجود مکانوں اور غیر مرئی زمانوں کی ایسی ایسی نیرنگیاں اور بوالعجبیاں ہیں کہ ان کی معنی کشائی کے لیے غالب کی سی ہی دیدہ وری کی ضرورت ہے۔

اپنی گفتگو کے قطعی اور آخری مرحلے تک آتے آتے ہم نے معانی سے بھرے ہوئے غالب کے ذہن کی وسعت، ان کے شعروں میں خلق ہوتی ہوئی دور کے زمانوں کی دنیاوں، ان دنیاوں کے طلسم اور ان کی حیرت آوری کو بہ حدِّ بساط نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذیل میں یہ دیکھ لیجیے کہ آئندہ یعنی اکیسویں صدی اور اس سے آگے کے زمانوں میں کیا ہوگا اور ہم غالب کے آئینۂ کلام میں اس کی تمثالیں کس طرح دیکھ سکیں گے۔

          1۔ ازلی اور آفاقی معنویتیں ایک سی تھیں، ایک سی ہیں اور دنیا کے فنا ہونے تک ایک سی رہیں گی۔

          2۔ کائنات اور ماورائے کائنات کا استفہام و تجسس اسی طرح قائم رہے گا۔

          جبلتوں 3۔

(instincts)

سے آزادی حاصل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں تاوقتیکہ ہمارے گوشت پوست والے جسم کو

Robotic

 نہ بنادیا جائے۔ سو اِن جبلتوں کا اظہار آئندہ زمانوں میں بھی اسی طرح ہوتا رہے گا۔

4۔ نئی روشنی انسانی ذہن کو منور کرتی رہے گی۔ نئے فلسفے اور نظریے وجود میں آتے رہیں گے اور پرانے فلسفوں اور نظریوں سے بھی رہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی۔

5۔ کمپیوٹر نے اگر ہمارے دل اور دماغ کو اپنے اختیار میں نہیں لیا تو ہم اپنے بنیادی جذبوں، حسن، عشق اورغم سے محروم نہیں ہوں گے۔

6۔ دو سو برس بعد بفرضِ محال سارے نظاموں کو ضم کرکے ایک عالمی نظام قائم کردیا جائے تب بھی مابینِ حدود و نفوس پیکار و آویزش کا سلسلہ قائم رہے گا کہ یہ انسان کی جبلت میں شامل ہے۔

          7۔ جب تک جسم جسم کی صورت میں قائم رہے گا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز نہیں کرے گی، جہانِ باطن کے اسرار ہمیں پریشان کرتے رہیں گے۔

اورجب تک آئندہ زمانوں میں یہ سب ہوتا رہے گا غالب ہمارے آگے آگے چلتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے:

شمع ہوں لیکن بہ پا در رفتہ خارِ جستجو

مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔

m

انیس اشفاق 

 غالب کی شاعری میں ہمہ زمانی معانی

بڑا شاعر زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ اس کی نگاہ میں اپنا زمانہ ہی نہیں آنے والا زمانہ بھی ہوتا ہے، اسی لیے اس کے شعروں میں یک عہدی نہیں، ہمہ زمانی معنویت ہوتی ہے۔ میر اور غالب ایسے ہی شاعر ہیں اور غالب تو ایک ایسا نابغہ لے کر پیدا ہوئے تھے جس کی آنکھ وہاں تک جارہی تھی جہاں تک کسی اور کی آنکھ کا جانا آسان نہ تھا۔ غالب نے کہا تو یہ تھا:

ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب

ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

لیکن ان کی شاعری میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے اس شعر کے مفہوم پر نظر کیجیے: ‘دشت’ یہاں وسعت کے باوجود تنگی کا مفہوم ادا کررہا ہے اور ‘تمنّا’ اسرارِ وجود کو حل کرنے یعنی خدا اور کائنات کو سمجھنے کی تمنّا ہے۔ اس تمنّا میں ہم محوِ سفر ہیں اور اس سفر میں یہ پورا دشتِ امکاں ہمارا صرف ایک نقشِ قدم ہے۔ اصلاً یہ شعر علم اور لاعلمی کا مرکب ہے یعنی ہمارا سارا علم اس کائنات تک محدود ہے اور ماورائے کائنات کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ یہاں ماورائے کائنات کے بارے میں کچھ نہ جاننے کی بات کہہ کر غالب دراصل ہم کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری میں عدم یعنی ماورائے کائنات کا ذکر اتنی بار آیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ معدوم زمانوں اور مکانوں کا بھی گہرا علم رکھتے ہیں۔

نقل کیے ہوئے شعر میں ہم سے مراد دراصل ہم اور آپ ہیں، غالب نہیں۔ اپنے غیر معمولی وجدان و ادراک کی بنا پر غالب کی نگاہ اِس دشتِ امکاں کے دوسرے نقشِ پا کو بھی دیکھ رہی تھی اور ’غیب‘ سے جو مضامین ان پر نازل ہورہے تھے وہ اسی دوسرے نقشِ پا کے الگ الگ جادوں کو روشن کررہے تھے جنہیں دیکھ کر ہمارا مبتلائے حیرت ہوجانا یقینی ہے۔ غالب کے معاملے میں ہمیں دو طرح کی حیرتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک حیرت تو وہ ہے جو ان کے بند شعروں کے معنی نہ کھل پانے کی وجہ سے ہم پر طاری ہوتی ہے۔ معنی خواہی کی خواہش میں جب ہم ان کے شعر کے سب دروازوں پر دستک دے کر کسی جواب کے بغیر لوٹتے ہیں تو جھنجھلاہٹ میں یہ سوچنے لگتے ہیں کہ آخر یہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ اور جب ہمارے بار بار کے سر ٹکرانے کے بعد اُن دروازوں کی درزوں سے معنی کی کوئی کرن پھوٹتی ہے تو دیر تک ہم اس حیرت میں مبتلا رہتے ہیں کہ اِس نے کیا کہہ دیا۔ یہ معنی تو دور دور تک ہمارے ذہن میں نہیں تھے۔ لائقِ رشک نابغے کے ساتھ ساتھ خلاّقی بھی غالب کو ایسی ملی جو کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ مشکل سے مشکل موضوع کو ذہن میں لانا اور پھر اسے ایسے پیرائے میں بیان کرنا کہ جتنی بار شعر کو پڑھیے اس کی نئی پرتیں کھلتی چلی جائیں۔

یہ تو ہم شروع سے سنتے آرہے ہیں کہ غالب کا ذہن عام شاعروں کا سا ذہن نہیں تھا۔ ازحالی تا شمس الرحمن فاروقی ہمارے غالب شناسوں نے غالب کو مشکل بتانے میں بہت زیادہ وقت صرف کیا۔ یعنی ہمیں ان سے ملایا کم گیا ڈرایا زیادہ گیا۔ اور یہی خوف غالب اور ہمارے درمیان دوری کا سبب بننے لگا۔ غالب کے مشکل ہونے کا سبب دراصل ان کی نگاہ کی وہ تیزی اور نیرنگی ہے جو اشیا و مظاہر کے ایک رخ کو دیکھنے کے بجائے سب رخوں کو دیکھ لیتی ہے۔ یعنی ہماری اور آپ کی آنکھ سےچھپی رہنے والی اشیا کی ماہیتیں اور معنویتیں غالب کے حلقۂ

 نگاہ میں خورشیدِ جہاںتاب کی مانند روشن رہتی ہیں۔ یہ جو انہوں نے اپنے بارے میں کہا ہے:

گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھئے

جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے

اس شعر میں ہر لفظ کے گنجینۂ معنی کے طلسم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ شعرِ غالب کے خزینے میں داخل ہوں گے تو ہر لفظ آپ کو اس طلسم کی طرف لے جائے گا جہاں کائنات اور ماورائے کائنات کی مختلف صورتیں اپنے مختلف رنگوں میں نظر آئیں گی۔ اپنی فارسی شاعری میں غالب نے اپنے ذہن کی پیچیدگی، اپنی فکر کی بلندی، اپنے معانی کی نیرنگی اور اپنے حلقۂ نگاہ کی وسعت کا بار بار ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ میں ایک پیچیدہ، حیرت آور اور طلسم آسا ذہن لے کر پیدا ہوا ہوں، اسی لیے میں ان زمانوں پر بھی حاوی ہوں جو ظاہری زمانوں سے پرے ہیں اور وہ معانی بھی میری گرفت میں ہیں جن تک کسی نگاہ کا پہنچنا محال ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

ما ہمائے گرم پروازیم فیض از ما مجوئے

سایہ ہمچو دود بالا می رود از بالِ ما

اس شعر میں گرم پروازِ ہما سے ذہن ایک عالی فکر اور عالی دماغ ہستی کی طرف منتقل ہوتا ہے اور پرواز کی گرمی فکر کی وہ بلندی ہے جس تک عام آدمی کی رسائی آسانی سے نہیں ہوتی۔ اس مفہوم کا اطلاق خود غالب پر ہوتا ہے کہ میرے افکار اتنے بلند اور اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان سے (عام آدمی کے) مستفیض ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔

دوسرا شعر:

پایۂ من جزبہ چشمِ من نیاید در نظر

از بلندی اخترم روشن نیاید در نظر

میرا مرتبہ میرے سوا کسی اور کی نظر میں نہیں آسکتا۔ اس لیے کہ میرا ستارہ اتنی بلندی پر ہے کہ وہ میرے سوا کسی کو صاف نظر نہیں آتا۔

تیسرا شعر:

دیدہ ور آں کہ تا نہد دل بہ شمارِ دلبری

دردلِ سنگ بنگرد رقصِ بتانِ آذری

دیدہ ور وہ ہے کہ اگر دلبری (کے مظاہر) کا شمار کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو اس کو پتھر کے دل کے اندر آذری بتوں کا رقص نظر آنے لگتا ہے۔

آخری شعر:

در دام بہرِ دانہ نیفتم مگر قفس

چنداں کنی بلند کہ تا آشیاں رسد

شعر کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ میں دانے کے لیے دام میں نہیں آؤں گا بلکہ قفس کو اتنا اونچا کرو کہ وہ میرے آشیاں تک پہنچ جائے۔ باطنی مفہوم یہ ہے کہ اگر مجھ کو سمجھنا چاہتے ہو تو وہ دانش اور ذکاوت پیدا کرو جس کا مطالبہ میرے شعروں کے معنی کرتے ہیں۔

فارسی کے یہ شعر اور ان کے مفاہیم اس لیے نقل کیے گئے ہیں کہ جو کچھ غالب کے نابغے، ان کے ذہنِ رسا اور ان کی ذکاوت کے بارے میں اوپر کہا گیا ہے اس کی توثیق ہوسکے۔

غالب کے غیر معمولی ذہن، بلا کی قوتِ پرواز، ان کی ہمہ دانی، ان کے معانی کی پیچیدگی اور تہہ داری کی بنا پر نکتہ شناسانِ شعر کو شعرِ غالب کی شرحیں لکھنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ شارحین کی ان شرحوں سے غالب کا اشکال کم ہوا اور ان کے شعروں کا ظاہری مفہوم بھی بڑی حد تک ہم پر ظاہر ہوگیا لیکن کلامِ غالب کے لامحدود معنوی امکانات تک رسائی کا راستہ پھر بھی پوری طرح نہ کھل سکا۔ اس کے لیے نیرمسعود، پروفیسر گیان چند جین، شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر گوپی چند نارنگ وغیرہ کو آگے آنا پڑا اور نئے زمانوں کی معنویتوں کے اعتبار سے غالب کو سمجھانا پڑا۔

درج بالا معروضات میں ہمارا اصل نکتہ یہ ہے کہ مفاہیم کی نیرنگی اور معانی کی کثرت کی بنا پر غالب کی شاعری کسی ایک زمانے کی اسیر نہیں ہے۔ وہ جی تورہے تھے انیسویں صدی میں لیکن ان کی نگاہ آئندہ کے زمانوں کو بھی دیکھ رہی تھی اسی لیے ہمیں ان کے یہاں آئندہ زمانوں کے معنی بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم مثالوں کے ذریعے اکیسویں صدی میں غالب کی معنویت کا محاکمہ کریں یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ وقت اور نوعیت کے اعتبار سے موضوعات ومسائل کی شکلیں کیا ہیں۔ بظاہر ان کی چار شکلیں ہمارے سامنے ہیں:

          1۔ ازلی اور آفاقی موضوعات و مسائل : یہ حدود اور نفوس کے امتیاز کے بغیر ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔

          2۔ یک عہدی یا عصری موضوعات : یہ ایک ہی زمانے اور بیشتر ایک ہی جگہ سے مخصوص ہوتے ہےں۔

          3۔ ہمہ زمانی موضوعات : یہ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں اور حدود و نفوس کے امتیاز کے بغیر ان کا تجربہ ہر زمین پر ہر شخص کو کم و بیش ایک ہی طرح سے ہوتا ہے۔

          4۔ انفرادی موضوعات : ان کا تعلق ایک مخصوص فرد، ایک مخصوص قوم اور ایک مخصوص علاقے سے ہوتا ہے۔ لیکن یہ انفرادی موضوعات بعض حالتوں میں انفرادی نہ رہ کر اجتماعی ہوجاتے ہیں۔

موضوعات (مسائل) کی یہ شکلیں بتانے کے بعد ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ ایک تخلیق کار اپنی تخلیق میں انہیں موضوعات سے معنی کشید کرتا ہے۔ یعنی تخلیق سے باہر جو چیز موضوع کی شکل میں نظر آتی ہے تخلیق کے اندر وہی شے معنویت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

ان معنویتوں/ موضوعوں کی شکلیں بتانے کے بعد یہیں پر ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ غالب کی شاعری میں ہماری تقسیم والی چاروں معنویتیں موجود ہیں۔ غالب کے ساتھ اکیسویں صدی میں قدم رکھنے سے قبل اب ذرا یہ بھی دیکھ لیجیے کہ جن مختلف معنویتوں کی شکلیں ہم نے آپ کے سامنے پیش کی ہیں وہ اصلاً ہیں کیا۔ سب سے پہلے دائمی یا آفاقی یا ازلی معنویتوں یا مسئلوں کو دیکھےے۔ یہ معنویتیں اس طرح ہیں:

ذات اور کائنات کا طلسم، وجود کے تئیں ہمارا استفہام، دنیا میں ہمارے خلق ہونے کی غرض و غایت، موت کی ناگزیری، دنیا کی بے ثباتی، زندگی کا جبر، زیاں کا احساس، خوفِ مرگ، رنجِ رائیگاں، عدمِ تحفظ، تنہائی، مایوسی، بے یقینی، ذات کا انتشار، باطن کی پیکار، ہونے کا آزار، نہ ہونے کا وہم وغیرہ۔ یہ دائمی اور آفاقی مسائل ہیں اور یہ آج سے دو سو برس بعد یعنی تئیسویں صدی میں بھی اسی طرح موجود رہیں گے۔ یہ ضرور ہے کہ ان میں سے بعض کی حالتوں اور کیفیتوں میں بہ اعتبارِ وقت تبدیلی واقع ہوتی رہے گی۔ مثلاً مایوسی، بے یقینی، عدمِ تحفظ، عدم حوصلگی اور زیاں کا جو احساس ہمیں 1857 کے غدر یا پہلی جنگ عظیم میں ہوا تھا، اس سے کہیں زیادہ دوسری عالمگیر جنگ میں ہوا۔ جب تقسیم اور اس کے بعد فسادات کے المناک واقعات رونما ہوئے تو اس احساس میں پھر تیزی آئی اور بیسویں صدی کے آخری اور اکیسویں صدی کے پہلے دہے میں ایک عبادت گاہ کی مسماری اور بہ رضائے ریاست ایک صوبے میں ایک مخصوص جمیعت کی صف کُشی کے دل دہلادینے والے مناظر سامنے آئے تو ہم ایک نئے طرح کے آزار و اضطراب میں مبتلا ہوئے اور عدمِ تحفظ کے احساس نے ہمیں لرزہ براندام کردیا۔ اور آج اکیسویں صدی کے دوسرے دہے کا منظرنامہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ ایک مخصوص طبقہ پھر نشانے پر ہے۔ اس طبقے کو جس نوع کے انفرادی اور اجتماعی تشدد کا شکار ہونا پڑرہا ہے اور جس طرح ایک خاص خطے کے حدود کو بندی خانوں میں بدل کر محصور لوگوں کی زبانوں کو بند کردیا گیا ہے اس نے ہمیں ہونے اور نہ ہونے کے وہم میں مبتلا کردیا ہے۔

درج بالا بیان کے ذریعے ہم جس نکتے کو زیادہ نمایاں کرنا چاہ رہے ہیں وہ یہ کہ دائمی اور آفاقی مسئلوں یا معنویتوں کی حالتیں یا کیفیتیں تو بدل سکتی ہیں لیکن ان کی اصل میں کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ مثلاً مایوسی، بے یقینی، تنہائی اور غم کی حالت ہر شخص پر طاری ہوتی ہے اور ہر زمانے میں طاری ہوتی ہے۔ مخصوص حالتوں میں کسی کو اس کا زیادہ احساس ہوتا ہے کسی کو کم۔ جب غالب یہ کہتے ہیں:

کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہلِ بزم

ہو غم ہی جاں گداز تو غمخوار کیا کریں

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا غم بہ اعتبارِ حالت کم ہوتا ہے اورکسی کا جان کو گھلا دینے والا۔ دائمی اور آفاقی حالتوں یا معنویتوں کا ذکر کرنے کے بعد اب آئیے فوری، یک عہدی یا وقتی موضوعوں یا معنویتوں کی طرف۔ یہ معنویتیں عارضی اور مخصوص حالتوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا زمانہ کبھی بہت مختصر ہوتا ہے اور کبھی ان کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے۔ مثلاً بیسویں صدی کے آخری دہے میں بنیادپرستی اور مذہب زدگی میں شدت پیدا ہوگئی تھی، اقلیتوں کی وفاداری پر سوالیہ نشان قائم کئے جانے لگے تھے۔ قومی وقار و افتخار کی نئی تعریفیں وضع کی جانے لگی تھیں۔ نیز مذہب شناسی کے نام پر منافرت کو ہوا دی جارہی تھی۔ ذات پرست اور مذہب اساس سیاست کا کھیل کھیلا جانے لگا تھا۔ اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں اقتدار میں آنے کے لیے انہیں موضوعوں/ مسئلوں کو اور ہوا دی گئی اور اس ہوا کے تیز تھپیڑوں کو ہم آج بھی محسوس کررہے ہیں۔ لیکن یہاں ہم آپ کو ایک باریک فرق بھی بتاتے چلیں کہ فوری اور وقتی معنویتیں بعض صورتوں میں ہمہ زمانی بھی ہوجاتی ہیں مثلاً بیسویں صدی کے آخری دہے میں پیدا ہونے والے مسائل پر اگر کسی نے کوئی شعر کہا ہے اور اُس شعر میں زمانے کے تعین کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے تو چونکہ یہ حالتیں اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں بھی موجود ہیں اس لیے اس زمانے میں کہے جانے والے شعر کا اطلاق 2021 کے بعد کے زمانے پر بھی کیا جاسکتا ہے اور اس طرح وہ شعر وقتی نہ رہ کر ہمہ زمانی ہوجائے گا۔ مشہور ترقی پسند شاعر سردار جعفری کے دو شعروں سے یہ بات زیادہ واضح ہوجائے گی۔

شعر یہ ہیں:

کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا

راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا

تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہوں شاہد

بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا

یہ شعر غالباً 1950 سے پہلے کسی مخصوص اور ہنگامی حالت کے نتیجے میں کہے گئے تھے۔ لیکن جب ایمرجنسی کے زمانے میں دہلی کے ایک بڑے مشاعرے میں سردار جعفری نے ان شعروں کو بقول شخصے حال ہی میں کہے ہوئے شعروں کے طور پر پڑھا تو مشاعرے کی چھتیں اڑ گئیں۔ اس کے برعکس غالب کا مشہور قطعہ : ’بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج….، اس میں انگلستاں اور دہلی کے لفظوں کے آجانے کی وجہ سے یہ قطعہ جگہ اور زمانے سے مخصوص ہوگیا ہے اور یہ اکہری اور وقتی معنویت سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

موضوعوں اور معنویتوں کی اس تقسیم و تخصیص کے بعد اب آئیے دیکھیں کہ غالب کے شعروں میں یہ موضوع یا معنویتیں کس طرح نظر آتی ہیں۔ سب سے پہلے آفاقی معنویتوں کی طرف آتے ہیں اور ان میں بھی پہلے فنا، زوال اور دنیا کی بے ثباتی کا موضوع لیتے ہیں اور اس کے لیے اس شعر کے مفہوم کو غور سے ملاحظہ کیجیے:

کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہلِ بزم

ہو غم ہی جاں گداز تو غمخوار کیا کریں

بظاہر شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اہلِ بزم شمع کے خیرخواہ تو ہیں لیکن شمع کا غم ہی ایسا ہے جو لاعلاج ہے اس لیے اہلِ محفل بہی خواہی کے جذبے کے باوجود شمع کا غم دور نہیں کرسکتے۔

یعنی شمع کا کام اور اس کا انجام ہی یہ ہے کہ وہ پگھلتے پگھلتے ختم ہوجائے۔ ایسی صورت میں اس سے ہمدردی تو کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لوازمِ ذاتی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ شمع کا وجود عبارت ہے جلنے سے اور جل کر ختم ہوجانے سے۔ اس لیے ایسی شے کی غمخواری جس کا غم جاں گداز ہو حقیقتاً ممکن نہیں۔ شمع کی جاں گدازی کو ختم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ شمع کو بجھادیا جائے لیکن اس طرح شمع کی موت ہوجائے گی اس لیے کہ شمع کی زندگی اپنی شمعیّت (روشن رہنے) کی وجہ سے ہے۔ اسے گل کردینے سے یہ شمعیّت ختم ہوجائے گی یعنی شمع کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس طرح دونوںصورتوں میں شمع کی موت یقینی ہے۔ پہلی صورت میں جلتے جلتے ختم ہونا اس کا فنا ہونا ہے اور دوسری صورت میں اِس فنا کے سلسلے کو روک دینا دراصل اسے (شمع کو) مار ڈالنا ہے۔

غالب نے اپنے ایک شعر میں، جسے اوپر نقل کیا جاچکا ہے، اپنے ہر لفظ کو گنجینۂ معنی کا طلسم کہا تھا سو اس شعر میں بھی ہر لفظ معنی سے معمور ہے۔ اس کی مثال لفظ غمخواری ہے جس نے شعر کے مفہوم کو متحرک کردیا ہے۔

غمخواری کا مطلب ہے کسی کے غم میں شرکت کرنا یعنی اسے اپنا لینا۔ اس طرح اہلِ بزم کا شمع کی غمخواری کرنا خود بھی جاں گدازی کے مرحلے سے گزرنا ہے۔ چونکہ شمع کی جاں گدازی اس کے روشن ہونے کی بنا پر ہے اور شمع کا روشن ہونا بزم کے وجود یعنی اہلِ بزم کا موجب ہے۔ اگر شمع کے غم کی جاں گدازی ختم کردی جائے تو بزم باقی نہیں رہے گی اور اگر شمع کی غمخواری کی جائے تو اہلِ بزم خود اس کا شکار ہوجائیں گے اور اس طرح بھی بزم کا باقی رہنا مشکل ہے۔ یعنی جس المیہ نظام سے شمع دوچار ہے اسی نظام میں اہلِ بزم بھی مبتلا ہیں۔ اس لیے نہ صرف شمع بلکہ اہلِ بزم اور بزم کے تمام لوازم فنا کا شکار ہیں۔ اس طرح غالب کا یہ شعر اس پورے نظامِ کائنات کو ظاہر کرتا ہے جہاں ہر شے فنا میں مبتلا ہے۔

فنا اور بے ثباتی کا یہ المیہ نظام تئیسویں صدی بلکہ تیسرے ہزارے کے بعد بھی قائم رہے گا اور غالب اس وقت بھی بامعنی رہیں گے۔ غالب کو بامعنی بتانے میں میں بہت دور تک چلا گیا۔ چھوڑیے اتنے آگے کے زمانے کو۔ اس شعر میں جاں گدازی اور غمخواری کے الفاظ کو بالکل تازہ مفہوم تک لاتے ہیں۔ غالب کے اس شعر کی شمع وقت اورزمانہ بدل کر کوئی پینتالیس دن سے جاں سوزی اور جاں گدازی کے عالم میں ہے۔ اس شمع کی طرف آپ کا ذہن منتقل ہوا؟ اگر نہیں تو ہم بتاتے ہیں۔ یہ شمع ہری بھری وادیوں کے فانوس میں روشن ہے اور اس کی لَو کی نیلاہٹ روز بہ روز کم ہورہی ہے۔ ہم سب اس شمع کے غمخوار ہیں۔ اس شمع کی جاں سوزی ایک شب کی نہیں بلکہ ہزاروں شبوں کی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم اس کے غم میں شریک ہوتے ہیں تو موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ ہمیں بھی جاں گدازی کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا بلکہ ہماری جاں گدازی شمع کی جاں گدازی سے زیادہ بڑھ جائے گی۔ دوسری طرف وہ لوگ جو شمع کی جاں گدازی کو ختم یعنی اس کے دکھ کو دور کرنے کے بہانے اسے بجھادینے کے درپے ہیں، وہ شمع کو اس کی شمعیّت یعنی اس کی شناخت سے محروم کردینا چاہتے ہیں۔ یہ کھلے ہوئے اشارے آپ نے یقینا سمجھ لیے ہوں گے۔ تو دیکھیے انیسویں صدی میں کہا ہوا شعر اکیسویں صدی کے دوسرے دہے کی تازہ ترین صورتحال پر کس طرح منطبق ہوتا ہے۔

وجود و عدم کے مسائل فارسی میں بیدل اور اردو میں غالب کے یہاں سب سے زیادہ بیان کئے گئے ہیں۔ وجود کی بوالعجبیوں اور نیرنگیوں کی تفسیریں ہر عہد میں کی جاتی رہی ہیں۔ چنانچہ بیسویں صدی کے ربعِ ثالث میں فرانسیسی مفکر ژاں پال سارتر نے اپنی دانست میں وجود کی نئی تفسیر اس مشہور فقرے کے ذریعے کی: ”آزادی ہی انسان کی قید ہے۔“ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ سارتر کے اس وجودی فقرے کے معنی کیا ہیں۔ ابھی ہم اس فقرے پر غور کرہی رہے تھے کہ ہماری نگاہ غالب کے اس شعر پر ٹھہری:

کشاکش ہائے ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادی

ہوئی زنجیر موجِ آب کو فرصت روانی کی

یہ شعر پڑھ کر ہمیں معاً یہ محسوس ہوا جیسے ہم نے سارتر کے اس کلیدی فقرے کے مفہوم کو سمجھ لیا ہو۔ اب شعر کا مفہوم ملاحظہ کیجیے:

یہ دنیا سمندر ہے۔ ہم اس میں ایک موج کی مانند ہیں۔ جس طرح موج کو سمندر میں ہمیشہ بہتے رہنا ہے یعنی کشاکش سے گزرتے رہنا ہے اور جس طرح اب کنارہ اس کے مقدر میں نہیں ہے اسی طرح ہمیں بھی دنیا کی کشاکش سے آزادی نہیں مل سکتی ہے درحالیکہ ہم آزاد ہیں۔ جس طرح روانی کی فرصت موج کے لیے زنجیر بن گئی ہے اسی طرح اس دنیا میں آزادی ہمارے لیے زنجیر بن گئی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ اپنے زمانے میں کہے ہوئے شعر کے ذریعے غالب نے بیسویں صدی کے سب سے نمایاں فلسفی کے وجودی فقرے کو کتنی آسانی سے سمجھا دیا۔ اب اگر ہم فرانسیسیوں سے کہیں کہ وجود کی اس نوع کی تفسیر میں زمانی فضیلت غالب کو حاصل ہے تو کیا انہیں آسانی سے یقین آئے گا۔

انسانی ذہن میں جس دن سے ذکاوت پیدا ہوئی ہے، اسی دن سے کائنات کے اسباب و علل کو سمجھنے کی کوشش شروع ہوگئی ہے۔ غالب کے یہاں ان اسباب و علل کو سمجھنے کی سعی جگہ جگہ موجود ہے۔ یہ شعر ملاحظہ کیجیے:

شوق اُس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو کہ جہاں

جادہ غیر از نگہہِ دیدۂ تصویر نہیں

اس شعر میں غالب نے جادہ کو غیر از نگہہِ دیدہ تصویر کہہ کر مفہوم کو بالکل منفرد کردیا ہے۔ تصویر اگر سامنے دیکھتی ہے تو اس کی نگاہ جدھر سے بھی دیکھیے اپنی طرف معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ تصویر کسی اور رخ کو دیکھ رہی ہے تو اس رخ کی طرف کھسکتے جائیے، نگاہ بھی کھسکتی جائے گی۔ تصویر کی نگاہ کسی نہ کسی طرف جاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً کسی بھی طرف نہیں جاتی۔ یہی حال دشت کا ہے جہاں راستہ مسدود نہ ہونے کی وجہ سے جس طرف دیکھیے راہ کھلی ہوئی نظر آتی ہے یعنی ہر طرف جادہ نظر آتا ہے مگر جادہ کہیں نہیں ہے۔

یعنی میں اس دشت میں دوڑ رہا ہوں جہاں راستے کا تعین بھی نہیں ہے اور جہاں مجھ سے پہلے کسی اور شخص کا گزر نہیں ہوا ہے، اگر مجھ سے پہلے کوئی شخص گزرا ہوتا تو یہاں جادہ ضرور بن جاتا اس لیے کہ جادہ انسان کے قدموں ہی سے بنتا ہے۔

اب اس جادے سے خالی دشت میں دوڑنے کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ میں شوق کے ہاتھوں سعیِ رائیگاں میں مبتلا ہوں اور دوسرے یہ کہ اس شوق نے مجھے سرگرمِ عمل کردیا کہ جہاں جادہ نہیں ہے اس دشت کو بھی چھانتا پھر رہا ہوں۔

یہ شعر ہمارے اس ذہنی اور مابعد الطبیعییاتی تجربے کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم اس پوری کائنات کے اسباب و علل کو سمجھنے کے شوق میں مبتلا ہیں لیکن جس کا نتیجہ فقط حیرانی ہے۔ یہ مابعدالطبیعییاتی تجسس (Metaphysical curiosity) آپ کو افلاطون سے لے کر اسٹیفن ہاکنگ تک ہر جگہ نظر آئے گا۔ غالب کے ایسے شعروں کا سفر کیجیے تو ذہنی اور مابعدالطبیعییاتی مسائل سے ان کی پیکار و آویزش آئندہ زمانوں کو حیران کردینے والی ہے۔

اب چلتے ہیں ایک اور دلچسپ نکتے کی طرف۔ یہ بات کہ ”انسانی وجود اور کائنات کی پیچیدہ حقیقت کا احاطہ کرنے میں عقل ناکام ہے۔“ دنیا کے مشہور فلسفیوں پاسکل، کرکے گار، نطشے، یاسپرس، ہزرل، ہائیڈیگر اور سارتر وغیرہ میں مشترک ہے۔ لیکن اسی بات کو غالب ان فلسفیوں سے بہت پہلے اپنے بیسیوں شعروں میں بیان کرچکے ہیں۔

حیرت اور استفہام میں ڈوبے ہوئے یہ شعر تو آپ کی زبان پر فوراً آجاتے ہیں:

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود

پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

یہ اور ایسے بہت سے شعر بتاتے ہیں کہ غالب کا نابغہ زمان و مکان کے حدود و قیود سے آزاد ہے۔

 آفاقی معنویتوں میں وجودیت کا ذکر ابھی کیا جاچکا ہے۔ اب آئیے ایسی ہی کچھ اور معنویتوں کی طرف۔ یہ ہیں: اجنبیت، معدومیت اور مہملیت۔

معدومیت کی اصطلاح روس میں انیسویں صدی کے دوسرے ربع میں ایواں ترگینیو کے ناول

Fathers And Sons(1860)

کے وسیلے سے سامنے آئی۔ اس ناول کا مرکزی کردار بازاروف خود کو معدومیت پسند کہتا تھا۔ یہ ذہنی معدومیت تھی اور اس زمانے کی مخصوص حالتوں کے نتیجے میں سامنے آئی تھی۔ یہی معدومیت غالب کے یہاں بھی ہے لیکن غالب کے یہاں یہ معدومیت ذہنی بھی ہے اور روحانی بھی۔ اس معدومیت کے ضمن میں ہوسکتا ہے غالب کا یہ مشہور شعر مجھ سے پہلے آپ کے ذہن میں آگیا ہو:

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

خود ہماری خبر نہیں آتی

سہلِ ممتنع کے سے انداز میں کہے جانے والے اس شعر کا ظاہری مفہوم تو آپ نے سمجھ ہی لیا ہوگا لیکن باطنی مفہوم میں سوال یہ ہے کہ ہم کہاں ہیں جہاں سے ہم کو ہماری خبر نہیں مل رہی ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہم عدم میں ہیں یعنی ہم نہیں ہیں۔ تو جو نہیں ہے اسے ’ہے‘ والی شے کی خبر کیونکر مل سکتی ہے۔ یعنی معدوم کو موجود کی خبر ملنا محال ہے اور موجود بھی وہ جو قیاسی، موہوم اور اعتباری ہے۔ اس کے لیے خود غالب کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے:

ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد

عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے

یا میر کا یہ شعر:

یہ توہم کا کارخانہ ہے

یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

سارتر نے

 (Being and Nothingness)

 کے مسائل پر عالمانہ انداز میں بہت بعد میں غور کرنا شروع کیا لیکن غالب ”ہونے اور نہ ہونے“ کے معاملات کو بہت پہلے اپنے شعروں میں بیان کرچکے تھے۔

‘بیگانہ’ کے سے شہرۂ آفاق ناول کے خالق البیئر کامیو نے لغویت اور مہملیت

(Absurdity and Nihilism)

کے بارے میں بتایا ہے کہ اس کا احساس درج ذیل چار صورتوں میں ہوتا ہے:

          1۔ اس بات پر غور کرنا کہ ہمارے وجود کی غرض و غایت کیا ہے۔

          2۔ اس بات کا خاطر نشین ہوجانا کہ وقت ایک تخریبی قوت ہے۔

          3۔ اس بیگانہ دنیا میں لاکر چھوڑ دیے جانے کا احساس۔

          4۔ دوسروں سے بے تعلقی کا احساس۔

ان چاروں صورتوں کو غالب نے اپنے کلام میں بہ ہزار صورت بیان کیا ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

جب کہ تجھ بِن نہیں کوئی موجود

پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم

لغو ہے آئینۂ فرقِ جنون و تمکیں

بیگانگیِ خلق سے بے دل نہ ہو غالب

کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے

ان شعروں کے مفاہیم بیان کرنے میں بڑا وقت لگ جائے گا۔ شعروں کو سن کر آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ کامیو کی بتائی ہوئی چاروں صورتیں یہاں موجود ہیں اور بہت سے معنوی ارتعاشات کے ساتھ موجود ہیں۔

لغویت اور مہملیت کی وضاحت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کے شدید احساس کی بنا پر انسان شدید ذہنی تنہائی

(Loneliness)

میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس تنہائی کا احساس غالب کے یہاں دیکھیے

وحشتِ آتشِ دل سے شبِ تنہائی میں

صورتِ دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق

بیکسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

اور ”کوئی نہ ہو“ ردیف والے وہ تین شعر تو ہم سب کی زبانوں پر ہیں جن میں غالب نے دنیا سے اپنی بے تعلقی، بے دلی اور بیزاری کا ذکر کیا ہے۔

اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اسے سننے کے بعد اب آپ خود فیصلہ کیجیے کہ ان دقیق، پیچیدہ اور مشکل موضوعات کے بیان میں زمانی سبقت کسے حاصل ہے۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ اردو کے بعض مغرب زدہ نقاد اپنے علمی دبدبے کو ظاہر کرنے کے لیے مغربی فلسفیوں اور نقادوں کا ذکر کےے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ مقامِ افسوس ہے کہ ہم اپنے خزانوں کو کھنگالنے کے بجائے دوسروں کے دفینوں پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔

ہماری اب تک کی گفتگو غالب کے یہاں موجود آفاقی اور ہمہ زمانی موضوعات سے متعلق تھی۔ اب آئےے یک عہدی یعنی عصری اور انفرادی معنویتوںکی طرف لیکن اس سے پہلے کہ ہم ان معنویتوں کو ظاہر کریں، آپ کو بتادیں کہ غالب کے شعروں میں چونکہ زمانی اور مقامی تعین ہے ہی نہیں اس لیے اگر ان کے یہاں کوئی عصری یا مقامی موضوع ہوتا بھی ہے تو معنویت اس کی ہمہ زمانی ہوجاتی ہے۔ اب اسی شعر کو دیکھیے:

گلشن میں بندوبست برنگِ دگر ہے آج

قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج

قیاس کہتا ہے کہ غالب نے یہ شعر مغلیہ سلطنت کے زوال پر کہا ہوگا لیکن اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں یہ شعر پڑھیے تو ایسا لگتا ہے کہ غالب نے حال ہی کے ایک واقعے (5 اگست 2020) کو نگاہ میں رکھ کر یہ شعر کہا ہے۔ خیر پہلے شعر کے مرکزی مفہوم پر نظر کیجیے۔ اس مرکزی مفہوم تک حلقۂ بیرونِ در کی تشریح کے بغیر نہیں پہنچا جاسکتا۔ قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در کا استعارہ ہے۔ حلقۂ بیرون در دروازے کے باہر کی زنجیر کا حلقہ ہے جسے کھٹکھٹاکر آمد کی اطلاع دی جاتی ہے اور داخلے کی اجازت طلب کی جاتی ہے۔

حلقۂ  بیرونِ در مکان سے بظاہر غیر متعلق ہونے کے باوجود متعلق ہوتا ہے۔ یعنی مکان میں داخل ہونے کے لیے پہلا وسیلہ ہی حلقہ  بیرونِ در ہے۔ یہ حلقہ قمری اور باغ کے درمیان قدرِ مشترک ہے۔ قمری کے گلے کا حلقہ باغ کے اندر ہوتا ہے یعنی وہ باغ کا لازمہ ہے اور وہ حلقہ جو دستک دینے کے کام آتا ہے، باغ کے باہر ہوتا ہے۔ لیکن نئے بندوبست میں یہ دونوں حلقے ایک ہوگئے ہیں۔ یعنی پہلے قمری باغ کے اندر تھی اور اب (نئے بندوبست میں) باغ کے باہر ہے۔

یہاں قمری کے طوق کو باغ میں رہنے یا باغ پر متصرف ہونے کی علامت بنادیا گیا ہے۔

دوسری طرف قمری کا طوق یعنی حلقۂ بیرونِ در بیک وقت آزادی، محرومی اور زوال کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے۔ آزادی یہ کہ قمری جو عشقِ گل میں گرفتار تھی اب باغ سے باہر گو آزاد ہے مگر اس کی محرومی اور زوال یہ ہے کہ وہ باغ کا معزز اور ممتاز پرندہ اور عاشقِ گل تھی لیکن باغ سے باہر ہونے کی وجہ سے ایک طرف وہ عشقِ گل سے محروم ہوگئی اور دوسری طرف وہ اپنے اعزاز و امتیاز سے۔

اب محرومی اور زوال کے مفہوم کو سامنے رکھیے تو یہ شعر اس خطے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں کے رہنے والوں کو حال ہی میں ان کی روایتی سہولتوں سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور اگر آزادی کے مفہوم کو ملحوظ رکھیے تو شعر کی علامتی جہت یہ ہوگی کہ دوسروں کے زیرِانتظام آجانے کے بعد اگرچہ وہاں کے باشندے صوبائی امور کی تمام الجھنوں سے آزاد ہوجائیں گے لیکن یہ آزادی غلامی سے بدتر اور غلامی ہی کی ایک شکل ہوگی۔

درج بالا سطور میں ہم نے بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل کے اِن مشترک مسائل کا ذکر کیا تھا:

 ‘بنیادپرستی اور مذہب زدگی، قومی وقار و افتخار کی نئی تعریفوں کا وضع کیا جانا، مذہب شناسی کے نام پر منافرت کو ہوا دیا جانا، وفاداریوں پر سوالیہ نشان کا قائم کیا جانا، تاریخ اور ثقافت کی نئی تعبیر کے لیے تعلیم کو ایک مخصوص نظریے کا ترجمان بنایا جانا نیز انفرادی اور اجتماعی تشدد وغیرہ۔’

پچھلے پچاس ساٹھ برس کی تاریخ کے ورق الٹیے تو حکومتوں کی تخصیص و تفریق کے بغیر ایک مخصوص طبقہ ان مسائل کا شکار ہوتا رہا ہے۔ اب غالب کے اس شعر میں اس مخصوص طبقے کی فریاد سنیے:

خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہو

وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے

عام طور پر بال و پر کا ماتم فصلِ گل میں ہوتا ہے لیکن غالب نے خزاں کو شامل کرکے مفہوم میں ندرت پیدا کردی ہے۔ فصلِ گل میں اڑنے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے اسی لیے بال و پر کے نہ ہونے کا ماتم اسی فصل میں کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو اسیری بلکہ دائمی اسیری ہے اس لیے ہم خزاں میں بھی وہی ماتم کررہے ہیں۔ یعنی زمانے کے سرد و گرم ہمارے لیے ایک سے ہیں۔

علامتی مفہوم یہ ہے کہ نظامِ حکومت کوئی بھی ہو محرومی اور ستم آزاری ہمارا مقدر ہے۔ اور ’ہمارا‘ سے مراد ایک مخصوص طبقہ ہے۔

یہاں تک آتے آتے منتخب مثالوں کے ذریعے ہم نے غالب کے یہاں قریب قریب ان تمام موضوعوں اور معنویتوں کا احاطہ کرلیا ہے جن کی ابتداً ہم نے درجہ بندی کی تھی۔

میں نے اپنے کسی مضمون میں لکھا ہے کہ جو منظم ادبی اور سماجی فلسفے ظہور میں آتے ہیں وہ غیر منظم شکل میں ہمارے بڑے فنکاروں کی تخلیقوں میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ تو غالب کے ساتھ ہم ایک ایسے ہی ادبی نظریے کی طرف چلتے ہیں جو بیسویں صدی کے اواخر میں باہر سے ہمارے یہاں لایا گیا اور ایک انوکھے ادبی نظریے کے طور پر اس کا خوب گُن گایا گیا۔

ژاک دریدا کا نام کوئی پینتیس چھتیس برس پہلے میں نے لکھنؤ کی برٹش کاؤنسل لائبریری میں بیٹھ کر اخبار ’گارجین‘ میں پڑھا تھا۔ اس وقت تک دریدا اردو میں پوری طرح نمودار نہیں ہوئے تھے۔ ’گارجین‘ نے دریدا کو پورا ایک صفحہ اس لیے دیا تھا کہ اس وقت کیمبرج یونیورسٹی کی انتظامیہ میں دریدا کی اعزازی رکنیت کے معاملے میں تنازعہ چھڑا ہوا تھا۔ دریدا پر ’گارجین‘ نے

Text Detective

 (مُفتّشِ متن) کے نام سے ایک مضمون شائع کیا تھا اور اسے اپنے عہد کا نابغہ قرار دیا تھا۔ اس وقت اس مضمون میں

Deconstruction

کا لفظ میری سمجھ میں نہ آیا اور سچ پوچھیے تو ابھی بھی میں اسے براہِ راست سمجھنے سے قاصر ہوں۔ بس اردو کے بعض بہت دانا اور زیرک نقادوں کے ذریعے جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہ یہ کہ متن کو جتنی بار کھنگالیے، الٹیے، برہم کیجیے، جتنی بار اس کے وقفوں، درزوں اور جھروکوں میں جھانکیے ہر بار اس کے اندر نئے معنی بلکہ اصل معنی کے برعکس معنی نکلتے ہیں۔ کچھ دیر پہلے ہم نے سارتر کی وجودیت کی اصل کو غالب کے یہاں ڈھونڈ نکالا تھا۔ اب اس شعر میں دریدائی طریقۂ کار کو منکشف ہوتا ہوا دیکھیے۔ یہ بھی بتادیں کہ غالب کی تعبیروں میں اس طریقے کو سب سے پہلے طباطبائی نے رسمی طور پر اور نیرمسعود نے باقاعدہ اختیار کیا۔ شعر یہ ہے:

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے

یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے

یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ متحرک معنویت غالب کے اشعار کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اس شعر میں بھی غالب نے مفہوم کو متحرک کردیا ہے۔ دیکھیے کیسے۔

چونکہ دل غم کھانے میں بہت بودا ہے اس لیے شراب کی ضرورت ہے۔ لیکن جتنا غم ہے اس کے بقدر شراب نہیں ہے۔ مقابلتاً شراب کی اس کمی کے احساس کی وجہ سے رنج میں اور اضافہ ہورہا ہے اور رنج میں اس اضافے کے ساتھ شراب کی کمی اور زیادہ محسوس ہورہی ہے۔ اس طرح رنج برابر بڑھتا جارہا ہے اور شراب کی مقدار اس کے تناسب سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اب متن کو برہم کیجیے تو متخالف

(Paradoxical)

 معنی بھی سامنے آئیں گے۔  یعنی یہاں حوصلہ بھی ہے اور عدمِ حوصلہ بھی۔ عدمِ حوصلہ یہ کہ غم کھانے میں دلِ ناکام بہت کمزور ہے اور حوصلہ یہ کہ مئے گلفام بہت کم ہے، اسے بقدرِ ظرف یعنی میرے غم کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔

آپ نے دیکھا کہ متن کو برہم کرنے کے بعد شعر میں برعکس اور متخالف معنی موجود نظر آنے لگے اور یہ معنی اس لیے نظر آنے لگے کہ غالب نے تخالف اور تقلیب کی منطق ہی سے اس شعر کی تخلیق کی ہے۔

دریدا یہی تو کہتا ہے کہ متن جو دکھاتا ہے، بتاتا اس کے برعکس ہے۔ یہی بات غالب نے عملاً اپنے شعروں کے ذریعے بتادی۔ غالب کے یہاں دریدا کے نکتے کی وضاحت میں ہم نے بظاہر سامنے کا ایک سادہ شعر لیا ہے لیکن غالب کے مشکل اور پیچیدہ شعروں کی طرف جائیے تو متن کے اندر سے معنی کو منکشف کرنے کا دریدائی مطالبہ ہر طرح سے پورا ہوتا ہوا نظر آئے گا۔

اگر میں شعروں کی تشریح کے ذریعے اکیسویں صدی میں غالب کی معنویت کو روشن کرنا شروع کروں گا تو یہ مقالہ پھیلتا چلا جائے گا سو اس حرف دراز خامے کو گرفت میں رکھتے ہوئے آپ کو اپنے اس احساس میں شریک کرنا چاہتا ہوں کہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ہم بہت سنگین اور جاں سوز مراحل سے گزر رہے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم اور تقسیم کے المیے کے بعد ہم میر کی پناہ میں چلے گئے تھے۔ موجودہ صدی کے دوسرے دہے کے لیے ہمیں غالب کی طرف دیکھنا پڑرہا ہے۔ جو کچھ اس دہائی میں یا اس سے پہلے ہوا اس کا ذکر ہم سطور بالا میں کرچکے ہیں۔ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بعض زمانی مسائل کو نگاہ میں رکھ کر شعر نقل کرکے ان کی معنویتیں بتادی جائیں۔

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے

کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

ایک مخصوص طبقے کی وفاداری پر سوالیہ نشان اٹھائے جانے پر اس طبقے کا ردِّ عمل۔

 آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے

کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا

ایک حکمراں کا حکومت قائم کرتے وقت سب کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنے کا وعدہ کرنا اور اس پر عمل نہ کرنا۔

کام اس سے آپڑا ہے کہ جس کا جہان میں

لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر

 ‘جنت نظیر’ خطے میں بہ حالتِ مجبوری نظریاتی سطح پر ایک دوسرے کی ضد سمجھی جانے والی جماعتوں کی یکجائی کے وقت کی بے بسی۔

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر

ہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہوجائے گا

معنویت اپنے ہی باغ سے نکالے جانے والے کو اسی باغ میں سبزباغ دکھا کر لے جانے پر اصرار کے وقت نکالے جانے والے کا ردِّعمل۔

 ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں

ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور

معنویت اُن طاقتوں کے سامنے شدید اور مسلسل مزاحمت جن کا زور کسی طرح کم ہوتا ہوا نظر نہےں آتا۔

 روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہے

کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے

 ایک مخصوص طبقے کے لیے منفی مقاصد کو نگاہ میں رکھ کر نافذ کیے جانے والے احکام۔

شعروں کے مقابل ان کی عصری معنویتیں رکھ دینے کے بعد عرض کرتا چلوں کہ ایسا میں نے اپنے موضوع کی مجبوری کی بنا پر کیا ہے ورنہ اپنے طریقۂ کار کے مطابق میں شعروں کو اکہرے مفاہیم میں نہیں باندھتا۔ نقل کیے ہوئے شعر اپنے معنوی امکانات کی وجہ سے متعدد موضوعات پر منطبق ہوسکتے ہیں۔

آخراً جو کچھ کہتے آئے ہیں اس کے ماحصل کے لیے یہ دو جوہر دار شعر اور ملاحظہ کرلیجیے:

کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید نہ پوچھ

برنگِ خار مرے آئینے سے جوہر کھینچ

عرض کیجیے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں

کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

پہلا شعر:

 کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید نہ پوچھ

برنگِ خار مرے آئینے سے جوہر کھینچ

آئینہ اپنے جوہر کے ذریعے اشیا کو منعکس کرتا ہے۔ یعنی آئینے سے یہ جوہر نکل جانے سے اشیا کا انعکاس نہیں ہوسکتا۔

اشیا کا بہت زیادہ انعکاس آئینے کو حیرانی یعنی اذیت میں مبتلا کردیتا ہے۔ جس طرح (جسم سے) کانٹا نکل جانے کے بعد تکلیف ختم ہوجاتی ہے اسی طرح آئینے سے اس کا جوہر نکل جانے سے مشاہدے کی اذیت ختم ہوجاتی ہے۔

غالب نے اس شعر میں ایک ایسے شخص (سمجھ لیجےے کہ خود غالب) کی صورتحال کو پیش کیا ہے جو زیادہ سے زیادہ اشیا کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہے اور چونکہ یہ مشاہدہ اس کے لیے تکلیف دہ بھی ہے اس لیے وہ چاہتا ہے کہ تکلیف ختم ہوجائے۔ بتادیں کہ غالب کے یہاں مشاہدے کی یہ اذیت ہرجگہ موجود ہے۔ کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید دراصل مشاہدے کی وہ بے پناہی ہے جو انسان کو بالآخر پراگندہ

 (confuse)

 کرد یتی ہے اور پھر وہ اس پراگندگی سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے۔

کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید کا اطلاق، بتایا جاچکا ہے، خود غالب پر ہوتا ہے۔ ان کا مشاہدہ بے پناہ بلکہ لازمانی ہے۔ ان کی آنکھ کئی زمانوں کی فصیلوں کے اُس طرف دیکھ لیتی ہے اور جو کچھ انہیں دکھائی دیتا ہے اس کی پراگندگی کا سبب یہ ہے کہ جو انہیں دکھائی دے رہا ہے وہ دوسروں کو کیوں نہیں دکھائی دیتا۔

دوسرا شعر:

عرض کیجیے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں

کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

اس شعر کے مصرعہ اولیٰ میں لفظ ’کہاں‘ پر غور کیجیے:

وحشت کو بروئے کار لانے کی جگہ صحرا ہے اور صحرا میری وحشت کے تصور ہی سے جل گیا۔ تو اب (اس عالمِ امکان میں) کون سی جگہ ہے جہاں میں اپنی وحشت کو لے جاکر سماؤں یعنی جس کی گرمیِ فکر کا یہ عالم ہو کہ وہ عملِ تصور ہی میں صحرا (کائنات) کو جلادے اسے موجودات میں ہر شے ناقص اور نامکمل نظر آئے گی اور یہ ظرفِ کائنات ایسی فکر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اور یہ ظرفِ کائنات جس فکر کا متحمل نہیں ہوسکتا وہ دراصل غالب کی فکر ہے۔  ان کے دائرۂ  دانش میں ناموجود مکانوں اور غیر مرئی زمانوں کی ایسی ایسی نیرنگیاں اور بوالعجبیاں ہیں کہ ان کی معنی کشائی کے لیے غالب کی سی ہی دیدہ وری کی ضرورت ہے۔

اپنی گفتگو کے قطعی اور آخری مرحلے تک آتے آتے ہم نے معانی سے بھرے ہوئے غالب کے ذہن کی وسعت، ان کے شعروں میں خلق ہوتی ہوئی دور کے زمانوں کی دنیاوں، ان دنیاوں کے طلسم اور ان کی حیرت آوری کو بہ حدِّ بساط نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذیل میں یہ دیکھ لیجیے کہ آئندہ یعنی اکیسویں صدی اور اس سے آگے کے زمانوں میں کیا ہوگا اور ہم غالب کے آئینۂ کلام میں اس کی تمثالیں کس طرح دیکھ سکیں گے۔

          1۔ ازلی اور آفاقی معنویتیں ایک سی تھیں، ایک سی ہیں اور دنیا کے فنا ہونے تک ایک سی رہیں گی۔

          2۔ کائنات اور ماورائے کائنات کا استفہام و تجسس اسی طرح قائم رہے گا۔

          جبلتوں 3۔

(instincts)

سے آزادی حاصل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں تاوقتیکہ ہمارے گوشت پوست والے جسم کو

Robotic

 نہ بنادیا جائے۔ سو اِن جبلتوں کا اظہار آئندہ زمانوں میں بھی اسی طرح ہوتا رہے گا۔

4۔ نئی روشنی انسانی ذہن کو منور کرتی رہے گی۔ نئے فلسفے اور نظریے وجود میں آتے رہیں گے اور پرانے فلسفوں اور نظریوں سے بھی رہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی۔

5۔ کمپیوٹر نے اگر ہمارے دل اور دماغ کو اپنے اختیار میں نہیں لیا تو ہم اپنے بنیادی جذبوں، حسن، عشق اورغم سے محروم نہیں ہوں گے۔

6۔ دو سو برس بعد بفرضِ محال سارے نظاموں کو ضم کرکے ایک عالمی نظام قائم کردیا جائے تب بھی مابینِ حدود و نفوس پیکار و آویزش کا سلسلہ قائم رہے گا کہ یہ انسان کی جبلت میں شامل ہے۔

          7۔ جب تک جسم جسم کی صورت میں قائم رہے گا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز نہیں کرے گی، جہانِ باطن کے اسرار ہمیں پریشان کرتے رہیں گے۔

اورجب تک آئندہ زمانوں میں یہ سب ہوتا رہے گا غالب ہمارے آگے آگے چلتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے:

شمع ہوں لیکن بہ پا در رفتہ خارِ جستجو

مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔

m

میرزا غالب کا کلام اردوو فارسی 

حافظ محمودشیرانی

         (مضمون ہذا رسالہ ‘غالب’، امرتسر کے جون 27، 1919 کے شمارے میں چھپا تھااور اپنے انداز تحریر کے لحاظ سے حافظ صاحب کے تمام مضامین میں انفرادی حیثیت رکھتاہے۔  وہ اپنے تحقیقی اور تنقیدی مضامین نہایت سادہ و سلیس نثر میں لکھا کرتے تھے لیکن یہ مضمون نثر رنگین میں ہے۔  ایسا معلوم ہوتاہے کہ ’غالب‘ کے مدیر کے تقاضوں کے تحت کیے گئے وعدے سے عہدہ براہونے کے لیے لکھاگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں گیرائی ہے، گہرائی نہیں۔ اسی مضمون میں ایک جگہ ذریعۂ تعلیم کے متعلق اپنی رائے کا اظہار بدیں الفاظ کیاہے:

”راقم اس گروہ سے تعلق رکھتاہے جس کا اعتقاد ہے کہ انسان کے لیے اپنے اظہار خیالات کا سب سے بہتر ذریعہ صرف اس کی اپنی مادری زبان ہوسکتی ہے۔ نیز یہ کہ اکتسابی زبان میں خواہ وہ کتناہی کمال کیوں نہ حاصل کرلے،  وہ بے تکلفی اور لطافت پیدا نہیں کرسکتاجو اپنی زبان میں کرسکتاہے۔”  

حافظ محمود شیرانی صاحب کایہ مضمون ان کے ’مقالات شیرانی‘ جلد سوم میں شامل ہے۔)

        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یادش بخیر میرزا غالب! جب یہ مغنی آتش نفس، غزل سرا ہوکر اپنے ترانوں سے بزم تماشا کو درہم برہم کرتاہے،  ا سکے موسیقا رسے دو قسم کے نغمے نکل کر ناخن زن دل و جگر ہوتے ہیں۔  پہلا مرحوم کا فارسی کلام جس نے آتش کدے کے زیرسایہ پرورش پائی ہے۔ دوسرا  اردو جو  بت خانے کی بہار آفریں آب و ہوا میں ہوش سنبھالتا ہے۔ اس لحاظ سے جہاں ایک طرف میرزا بت کدے میں جاکر پرستاران سومنات کو سرود برہمنی سناتے رہے، دوسری طرف مغوں کے حلقے میں داخل ہوکر قبلہ زردشت کے سامنے جبین سائی کرتے رہے۔ کمر میں زنار باندھی، گلے میں بت پہنا اور لباس برہمن میں کیش زردشتی کو تازہ فرماتے رہے

میرزاکایہ میکدہ بے خروش، یعنی ان کی بید خوانی و ژندخوانی، اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں ’جنّت نگاہ و فردوس گوش‘ ہے، کیوں کہ جو نالہ ان کے شور نفس نے موزوں کیا، آرائش چاک گریباں کی دعوت دیتاہے اور جو نغمہ ان کے پردہ ساز سے نکلا، چشم مشتاق تماشا کے لیے ’دامان باغبان و کف گل فروش‘ ہے۔ ان کے ہم نوا معاصرین نے جب کہ ان کے زردشتی زمزموں کے آگے سرتسلیم خم کیا، ان کے ریختہ کو وقف تاراج بے التفاتی چھوڑا بلکہ بعض حریفوں نے تو صاف صاف کہہ دیا:

مگر ان کا لکھا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے

خود میرزا کی روش اپنے ریختہ کے ساتھ بے مہرانہ ہے۔فرماتے ہیں:

نیست نقصان یک دو جزو  است از سواد ریختہ

کان دژم برگی ز نخلستان فرہنگ منست

فارسی بین تا بہ بینی نقش ہای رنگ رنگ

بگذر از مجموعۂ اردو۱ کہ بیرنگ منست

        لیکن فی زمانناان کی شہرت کو بال پرواز دینے والاان کا یہی اردو کلام ہے۔ اس کا مطالعہ ایک فیشن بن گیاہے۔ ملک کے بہترین دماغ اس کی تشریح میں سرگرم کارہیں۔ آئے دن رسالوں میں اس پر تبصرے ہوتے رہتے ہیں۔ شرحیں لکھی جاتی ہیں اور ہرسال ایک نہ ایک جدید شرح اضافہ ہوتی رہتی ہے۔اگریہی حالت رہی تو وہ دن دور نہیں جب ’غالبیات‘ ہمارے ادب کی ایک اہم اور گراں قدر شاخ بن جائے گی۔

        آخر یہی اردو دیوان جو خود مصنف کی رائے میں متاع قابل عرض نہ تھا اور ان کے ’نخلستان فرہنگ‘ کا ایک ’دژم برگ‘ تھا، آج ہماری نگاہ میں کیوں سرمہ بخش چشم قبول ہوا۔ اس کے جواب توبہت سے ہیں لیکن میں اپنے مضمون کے محتصر ظرف کو مدنظر رکھ کر صرف ایک جواب پر اکتفاکرتاہوں۔ وہ یہ ہے کہ ہم میں قدرتاً شوق دریافت کا مادہ موجود ہے اور غالب نے میرزا بیدل کی طرز کو اردو کے قالب میں منتقل کردینے سے ہماری اشتیاق انگیزی کی رگ کو جنبش دے کر ہمیں اپنا مسخر کرلیاہے۔ یہ ایک حقیقت مسلمّہ ہے کہ میرزا ہر میدان میں اپنی شان یک رنگی کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ میرا رنگ کسی سے نہ ملے اور میں سب سے مختلف نظر آوں۔ان ایام میں جو روش خاص اردو میں چمن طراز دامان قبول تھی، ان کو ایک آنکھ منظور نہ تھی۔ طبیعت تھی دشوار پسند، اس کی مناسبت سے مرزابیدل کی طرز کو رواج دیااو ربزم رنگ و بو میں اندازنو بروے کار لائے۔ فارسی زبان میں یہ استعداد موجود ہے کہ جب ایک مدعا ایک لفظ کے ذریعے سے منتقل نہیں ہوسکتا،دو لفظوں کے ترکیب دینے سے آسانی کے ساتھ ادا کیا جاسکتاہے اور ترکیبوں کے ذریعے مختلف مقاصداور جدید خیالات بلاکسی دقت کے ظاہر کےے جاسکتے ہیں۔ بایں ہمہ دیکھا جاتاہے کہ بیدل کے باد تندو تلخ کے لےے فارسی زبان کا ظرف ایک شیشۂ شکستہ سے زیادہ درخور وقعت نہیں اور ان کے کاوش جگر کی مخلوق یعنی اصنام خیالی، شہر بند الفاظ کے زندانی بننا نہیں چاہتے۔۔۔! شمیم گل جس طرح ریاحین کے ساغر تنک ظرف سے ابل پڑتی ہے، یہی حالت اردو کے میدان میں مرزا غالب کے ساتھ گذری ہے؛  انہیں اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہناتے وقت مجبوراً زیادہ تر فارسی تراکیب کا منت کش ہونا پڑا ہے۔ تاہم ہماری زبان اپنی تہی مائیگی کی وجہ سے ان کے عالی خیالات کا چربہ اتارنے سے قاصر رہی ہے۔ معانی اور الفاظ میں تصادم نظر آتاہے۔ کہنا کچھ چاہتے ہیں او رکہا کچھ ہے۔ ’دو اور دو‘کہہ دیےاور فرض کرلیے کہ مستمع سمجھ لے گا، چار ہوئے۔ ادراک اپنا ’دام شنیدن‘ خواہ کتناہی وسیع کیو ں نہ بچھائے لیکن ان کے ’عالم تقریر‘ کا مرغ زیرک یعنی مدعا،رشتہ برپاہونے سے گریز کرتاہے۔

        قصہ مختصر الفاظ و معانی کی اس کشمکش و کشاکش نے ایک ایسی ابتری و درہمی کا عالم پیدا کردیاہے کہ جلد باز اذہان نے جو کاوش و تلاش کے خوگر نہیں اور سہل نظری کے رفیق طریق ہیں، فتویٰ لگادیاہے کہ میرزاکا کلام مہمل ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ یہی نقائص ان کی شاعری کے سب سے زیادہ دلکش خط و خال ہیں۔ یہ انداز شاعری در حقیقت ساحری ہے او رمیرزا غالب کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہ ہماری حیرت کو حرکت دیتے ہیں اور ان نامعلوم اسرار کی دریافت کے لےے، جو ان کے الفاظ کے ایوان بے در میں مقفل ہیں، ہمارے اشتیاق کو گدگداتے ہیں۔ اسی بناپر دشوار پسند طبائع، جو ذوق سعی سے لذت یاب ہیں، ان کے کلام کے گرد پروانہ وار جمع ہوکر اپنے شوق جگر کاوی اور دماغ سوزی کی رہبری میں آشناے مقصود ہوتے رہیں گے۔ ان کے فارسی کلام میں اس قسم کا عنصر قریب قریب غیر حاضرہے اور غالباً اسی لےے وہ اس قدر ہمارا عناں گیر توجہ نہیں ہے۔

        اس خامی کے باوجود جس کا ذکر اوپر آچکاہے، جب میرزا کے دونوں کلاموں کو رو در رو رکھ کر مطالعہ کیا جاتاہے تو کوئی ایسا نمایاں فرق دامن گیر نظر نہیں ہوتا۔ میرزا کا فارسی کے لےے اس قدر توغل اور اردو سے صرف نظر کوئی قابل ذکر ممتاز نتیجہ پیدا نہیں کرتے۔ ہمیں یہی محسوس ہوتاہے کہ وہی بادہ سرجوش ہے جو ایک ہی خم سے نکالا گیاہے۔ جس کی تندی و تلخی میں کوئی فرق نہیں۔ ہاں البتہ ساقی نے اس کو دو مختلف رنگین پیمانوں میں بھردیاہے۔

بادہ صاف است مپندا رکہ رنگین شدہ است

ایں ز ہمرنگی جام است کہ شد سرخ و کبود

        لیکن یہ یاد رہے کہ راقم اس گروہ سے تعلق رکھتاہے جس کا اعتقاد ہے کہ انسان کے لےے اپنے اظہار خیالات کا سب سے بہتر ذریعہ صرف اس کی اپنی مادری زبان ہوسکتی ہے۔ نیز یہ کہ اکتسابی زبان میں خواہ وہ کتناہی کمال کیوں نہ حاصل کرلے، وہ بے تکلفی اور لطافت پیدا نہیں کرسکتاجو اپنی زبان میں کرسکتاہے۔ ایرانیوں نے ہماری فارسی کو باوجود آٹھ سو سال کے انہماک اور مزاولت کے، فارسی نہیں مانا۔  ہماری انگریزی دانی کی قابلیت کا راز کسی قدر ان قصوں سے منکشف ہوسکتاہے جو وقتاً فوقتاً انگریزی جرائد میں انگریزو ں کی خوش وقتی اور تفریح کا سامان مہیا کرنے کے لیے نقل کےے جاتے ہیں۔ ہماری عمر کا نصف بہتر حصہ ضائع کرنے کے بعد ہمارے معیار تحصیل کو ’بابوانگلش‘ کے ناقابل رشک خطاب سے یاد کیا جاتاہے۔ اگر غیر قوموں کے اس خیال میں راستی کا عنصر موجود ہے اور اس کو اہل زبان کی گزاف تسلیم نہ کی جائے، تو میں اس کی روشنی میں یہ عقیدہ ظاہر کروں گا کہ میرزا غالب اگر اس التفات کا نصف حصہ بھی اردو پر صرف کرتے جو انہوں نے فارسی کے لیے مخصوص کیاتھا، تو ان کی اردو ان کی فارسی سے بلاشبہ گوے سبقت لے جاتی۔ تاہم میں اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتاکہ میرے قلب پر جو وجدانی کیفیت ان کے اردو کلام سے طاری ہوتی وہی لذت ان کے میخانے کی شراب شیراز سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ عقیدہ ممکن ہے کہ ملحدانہ مانا جائے اور بہ نظر امعان بے بنیاد ثابت ہولیکن میں جانتاہوں ذوق و وجدان کے معاملات میں بحث کرناایک بے سود فعل ہے۔ اس لیے اس سے اجتناب کرکے میرزاکے ایسے فارسی اور اردو اشعار جو قریب المعنی اور ہم آہنگ ہیں اور سرسری نظر میں مجھ کو بغیر دقت تلاش دستیاب ہوسکے،ذیل میں حوالہ قلم کرتا ہوں:

ہر حجابی کہ دہد روی بہ ہنگامۂ شوق

پردۂ ساز بود زمزمہ سنجان ترا

محرم نہیں ہے تو ہی نواہاے راز کا

یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا

عہد و وفا ز سوی تو نا استوار بود

بشکستی و ترا بشکستن گزند نیست

تیری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا

کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

پیش ما دوزخ جاوید بہشت است بہشت

باد آباد دیاری کہ وفا خیزد ازو

وفاداری بشرط اُستواری اصل ایماں ہے

مرے بتخانہ میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو

اختلاط شبنم و خورشید تابان دیدہ ام

جراتی باید کہ عرض شوق دیدارش کنم

پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم

میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک

تاچند نشنوی تو و ما حسب حال خویش

افسانہ ہای غیر مکرر کنیم طرح

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک

ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا

ایمان اگر بخوف و رجا کردم استوار

اخلاص در نمود وفایم دو رو گرفت

طاعت میں تار ہے نہ مے و انگبیں کی لاگ

دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

حق شناس صحبت بے تابی پروانہ ایم

گرچہ مشق نالہ با مرغ غزلخوان کردہ ایم

کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں

بھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو

دہد بمجلسیان بادہ و بہ نوبت من

بمن نماید و در انجمن فرو ریزد

مجھ تک کب اس کی بزم میں آتا تھا دور جام

ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

کف خاکم از مابر نخیزد جز غبار آنجا

فزون از صرصری نبود قیامت خاکسار انرا

بجز پرواز شوق ناز کیا باقی رہا ہوگا

قیامت اک ہواے تند ہے خاک شہیداں پر

در آغوش تغافل عرض یکرنگی توان دادن

تہی تا  میکنی پہلو بما بنمودۂ جارا

تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے

اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے

بنازم سادگی طفل است و خونریزی نمی داند

بہ گلچیدن، ہمان ذوق شمار کشتگاں دارد

ہواے سیر گل، آئینہ بے مہری قاتل

کہ انداز بخوں غلطیدن بسمل پسند آیا

بسکہ لبریز است زاندوہ تو سرتاپای من

نالہ میروید چو خار ماہی از اعضای من

پر ہوں میں شکوہ سے یوں راگ سے جیسے باجہ

اک ذرا چھیڑےے پھر دیکھےے کیا ہوتا ہے

تا حسن بہ بے پردگی جلوہ صلازد

دیدیم کہ تاری ز نقابست نظر ہم

نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا

مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

مدتی ضبط شرر کردم بپاس غم ولی

خوں چکیدن دارد اکنون از رگ خارای من

رنگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا

جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

تا خود از بہر نثا رکیست می میرم ز رشک

خضر و چندین کوشش و عمر دراز آوردنش

وہ زندہ ہم ہیں کہیں روشناس خلق اے خضر

نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لےے

ننگ فرہادم بہ فرسنگ از وفا دور افگند

عشق کافر شغل جاندادن بمزدور افگنند

عشق و مزدوری عشرتگہ خسرو کیا خوب

ہم کو تسلیم نکونامی فرہاد نہیں

در آئینہ ما کہ ناساز بختیم

خط عکس طوطی بزنگار ماند

کیا بدگماں ہے مجھ سے کہ آئینہ میں مرے

طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

فغان کہ رحم بد آموز یار شد غالب

روا نداشت کہ بر من ستم روا دارد

نہ مارا جان کر بے جرم قاتل تیری گردن پر

رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا

با تغافل بر نیابد طاقتم لیک از ہوس

در تمنای نگاہ بی محابایم ہنوز

نگاہ بے محابا چاہتا ہوں

تغافل ہاے تمکیں آزما کیا

بنای خانہ ام ذوق خرابی داشت پنداری

کز آمد آمد سیلاب در رقص است دیوارش

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

ہیولا برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا

بہر کہ نوبت ساغر نمی رسد ساقی

خراب گردش چشمیست میتوان گردن

نفس موج محیط بے خودی ہے

تغافل ہاے ساقی کا گلہ کیا

تو داری دین و ایمانی بترس از دیو و نیرنگش

چو نبود توشۂ راہی چہ باک از رہزنم باشد

نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا

رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو

جنگ نکند چارۂ افسردگی دل

تعمیر باندازۂ ویرانی ما نیست

دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے

نشہ باندازۂ خمار نہیں ہے

گفتنی نیست کہ بر غالب ناکام چہ رفت

میتواں گفت کہ این بندہ خداوند نداشت

زندگی اپنی جب اس رنگ سے گزری غالب

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

۔۔۔۔